Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 29) 2nd Last Episode ( Part - 2)

280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 29) 2nd Last Episode ( Part - 2)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

داؤد نے اسے بند دروازے کے ساتھ لگایا اور خود اسکے سامنے دائیں بائیں ہاتھ رکھے کھڑا ہوگیا۔ داؤد کی نظریں مہر کے ایک ایک نقش کا طواف کر رہی تھیں۔

” آآ۔۔۔۔۔۔آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ؟ ” اسکی نظروں سے گھبراتے ہوئے بڑی مشکل سے کہہ پائی۔

” تمھے قریب سے دیکھنے کیلئے ” داؤد کا جواب تیار تھا۔

” مم۔۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی داؤد نے اسے چپ کروا دیا۔

” شششش ” اپنے ہاتھ مہر کے ہاتھ کی انگلیوں میں الجھاتے ہوئے داؤد نے اسکا ہاتھ اٹھا کر اپنے لبوں سے چھوا۔ مہر نے اسکے لمس پر اپنی آنکھیں موند لیں۔ داؤد نے اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکائی اور کتنی ہی دیر ایسے ہی کھڑا رہا۔

” داؤد !! ” تھوڑی دیر گزرنے کے بعد مہر نے اسے پکارا۔

” ہمممم !! ” داؤد کا بھاری گھمبیر لہجہ اسکی سماعتوں سے ٹکرایا۔

” کوئی آ جائے گا ” مہر منمنائی۔

” آنے دو ” داؤد نے جھک کر اسکے گال کو چھوا۔

” دادو۔۔۔۔۔۔ بلا رہی ہیں “

” بلانے دو۔۔۔۔۔۔ ” داؤد نے اب اسکے دوسرے گال کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔ مہر نے اپنی گھنی پلکوں کی باڑ اٹھا کر داؤد کی آنکھوں میں دیکھا جو اپنی محبت پاش نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ مہر کے گال سرخی مائل ہونے لگے۔ داؤد اسکے چہرے پر بکھرے رنگوں کو آنکھوں کے رستے دل میں اتارتے ہوئے ایک بار پھر جھکنے والا تھا کہ مہر کی اگلی بات سے ماحول کا فسوں ٹوٹا تھا۔

” مجھے واشروم جانا ہے ” مہر نے تیزی سے کہا۔

” واٹ؟؟؟ ” داؤد نے سر اٹھا کر اسے بے یقینی سے دیکھا۔

” ہاں وہ مجھے گرمی لگ رہی ہے۔۔۔۔ میں نے اپنا منہ دھونا ہے ” مہر نے جلدی سے بتایا۔

” تمھے پتا ہے نا تم دنیا میں ایک ہی پیس ہو ؟ “

” اچھا یہ چھوڑیں۔۔۔۔۔آپ بھی چلیں میرے ساتھ نیچے اور ڈانس کریں ” مہر نے مسکراتے ہوئے فرمائش کی۔

” میں اور ڈانس ؟ ” داؤد نے آئی برو اچکائی۔

” جی آپ اور ڈانس ” مہر نے اسکی نقل اتارتے ہوئے کہا۔

” میں فضول کام نہیں کرتا “

” ہاں میں تو بھول گئی تھی کہ کھڑوس کہاں کرتا ہوگا یہ سب ” مہر نے دانت چپاتے ہوئے دھیمے سے کہا تھا لیکن داؤد شاید سن چکا تھا۔

” مجھے آواز آگئی ہے ” داؤد نے اسے گھورا تھا۔

” میں تو بس ایسے ہی مذاک کر رہی تھی ” مہر نے ہنستے ہوئے کہا۔

*********************

اگلے دن بھی غازی ہاؤس میں ایسے ہی گہما گہمی تھی۔ آج داؤد اور مہر کا مایوں تھا اور اسکا انتظام بھی گھر کے لان میں ہی تھا۔ مہکتی دمکتی شام نے جب اپنے خوبصورت پر پھیلائے تو ہر چیز کھل اٹھی۔ سب مہمان آنا شروع ہو چکے تھے۔ مرد حضرات سب نے آج سفید کرتا پاجامہ پہنا تھا۔ داؤد بھی اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا سفید کرتا پاجامہ پہنے اپنے بال بنا رہا تھا۔ یہاں سے مہر کے کمرے میں جھانکے تو وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی چوڑیاں پہن رہی تھی، کندھے اور سر کے درمیان فون رکھے وہ بیا سے بات کر رہی تھی۔

” یار کہاں رہ گئی ہو تم دونوں ؟ فنکشن شروع ہونے والا ہے اور تم میں سے کوئی بھی نہیں آیا “

” یار بس نکل رہی تھی ” دوسری طرف سے بیا نے کہا۔

” اچھا جلدی سے پہنچو ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گی اور انعم کو بھی زرا کال کرکے پوچھو ” مہر نے جلدی سی کہہ کر فون رکھا جب رخسانہ بیگم اسکے کمرے میں آئیں۔

” مہر بیٹا تیار نہیں ہوئی سب مہمان آ چکے ہیں ” رخسانہ بیگم نے اندر آتے ہوئے کہا۔

” بس ماں ہو گئی ہوں، آپ بتائیں میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نا ؟ ” مہر بیڈ سے اٹھ کر ان کے سامنے آئی۔

گہرے گلابی رنگ کی قمیض اور نیچے نارنجی شرارا زیب تن کیے، بالوں کی ڈھیلی چوٹی بنانے ہلکا سا میک اپ کیے وہ آج بھی قیامت ڈھا رہی تھی۔

” ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی تو شہزادی لگ رہی ہے ” انھوں نے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ مہر نے مسکرا آگے بڑھ کر ان کا گال چوما۔

*********************

لان میں کھڑے علی کی نظریں کسی کی تلاش میں تھیں اور اسکا انتظار بھی شاید ختم ہو گیا تھا۔ سامنے سے سارہ ہرے رنگ کی قمیض اور ہم رنگ ہی شرارا پہنے جس پر سنہرے رنگ کا کام ہوا تھا، ہلکا میک اپ بال کھلے چھوڑے ایک طرف کیے تھے۔ علی کو سب سے منفرد اور دلکش لگی وہ بے اختیار اسے دیکھے گیا۔ سارہ تو کب سے وہاں سے جا چکی تھی لیکن علی ابھی بھی اس کے سحر میں جکڑا کہیں اور ہی کھویا ہوا تھا۔ فنکشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا سب ہی آ چکے تھے۔ لان میں پھولوں سے جھولا سجایا گیا تھا جہاں اس وقت داؤد کو عالیہ نے زبردستی بٹھا رکھا تھا۔

” ہاں تو دولہے راجہ میں تمھے ابٹن لگاؤں گی تو تم چپ چاپ لگواؤ گے ” عالیہ نے اسے تنبیہ کی۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔میں یہاں بیٹھا ہوں وہ ہی بہت ہے “

” داؤد باز آ جاؤ ابٹن تو تمھے لگوانا پڑے گا “

” ہاں سالے صاحب آج آپکی ایک نہیں چلے گی ” جنید مسکراتے ہوئے اس کے پاس ہی جھولے پر بیٹھ گیا۔ باقی سب بھی پاس ہی انکی گفتگو پر مسکرا رہے تھے۔

” اچھا تو یہ صرف مجھے ہی لگایا جائے گا ؟ ” داؤد نے پوچھا۔

” نہیں میرے بھائی تیری دولہن کو بھی لگائیں گے فکر ناٹ ” حمزہ نے بھی گفتگو میں حصہ ڈالا۔ تبھی مہر سارہ ہانیہ بیا اور انعم کے ہمراہ لان میں آئی۔ داؤد کی نظریں اس پر گئیں تو ہمیشہ کی طرح پلٹنے سے انکاری تھیں۔ ہوش میں تو تب آیا جب مہر کو اسکے پاس لا کر بٹھا دیا گیا۔ سب اب بھاری بھاری دونوں کا ابٹن لگا رہے تھے۔ داؤد بھی عالیہ کی ضد کے آگے ہار مان چکا تھا۔ ہر طرف خوشی کا منظر تھا۔ سارہ ایک طرف کھڑی تھی جب علی اس کے پاس ہی آ کر کھڑا ہو گیا۔

” تو پھر کیا سوچا آپ نے ؟ ” علی نے پوچھا۔

” کس بارے میں ؟ ” سارہ اسکی طرف رخ مڑے بولی۔

” دوستی کریں گی مجھ سے ؟ ” علی نے دلکش مسکان لبوں پر سجائے کہا۔

” میں اسکا جواب کل ہی دے چکی تھی۔۔۔۔۔ اس لیے آج آپکے دوبارہ پوچھنے پر میرا جواب بدل نہیں جائے گا “

” دوستی تو آپکو کرنی پڑے گی ” علی بضد تھا۔

” کوئی زبردستی ہے کیا ؟ ” سارہ کو اسکی ہٹ دھرمی پہ طیش آیا تھا۔

” بالکل ” اطمینان سے جواب آیا۔ سارہ غصے سے وہاں سے جانے لگی لیکن علی کی بات پر وہیں تھم گئی۔

” اچھی لگتی ہیں آپ مجھے “

” مجھے لگتا ہے آپکا دماغ خراب ہو چکا ہے ” سارہ نے شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

” مجھے لگتا ہے آپکو سب بھول کر اب آگے بڑھ جانا چاہیے ” علی کہہ کر اسکے پاس سے گزر گیا۔ جبکہ سارہ وہیں شل ہوتے دماغ کے ساتھ کھڑی رہ گئی۔

********************

” مہر !! ” داؤد نے ساتھ بیٹھی مہر کو پکارا۔ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

” مہر !! میں تم سے بات کر رہا ہوں ” داؤد نے ایک بار پھر سے اسے بلایا لیکن وہ ایسے ہی رہی۔

” مہر !!!!!! ” داؤد نے دانت پستے ہوئے پھر پکارا۔

” کیا ہے ؟ ” مہر نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔

” میں تمھے کب سے بلا رہا ہوں “

” ہاں تو “

” یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا ؟ ” داؤد نے سخت لہجے میں استفسار کیا۔

” میں ایسے ہی کروں گی کیونکہ میں ناراض ہوں “

” اور تم ناراض کیوں ہو ؟؟ “

کیونکہ آپ نے ڈانس نہیں کیا ” مہر نے خفت بھرے لہجے میں کہا۔

” مہر یہ فضول کی ضد میرے ساتھ مت کرو ” داؤد نے اب کی بار تھوڑا نرمی سے کہا۔

” کیوں ؟؟ سب کرتے ہیں اپنی شادی پر آپکو بھی کرنا پڑے گا “

” کیوں مانوں میں تمہاری بات ؟ تم کبھی مانتی ہو میری ؟ ” داؤد نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں سب مہمان کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ اسکی بات پر مہر خاموش ہی ہوگئی جانتی تھی اب بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تھوڑی دیر بعد مہر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تو داؤد کو غصہ آیا۔

********************

سارہ اندر لاونج میں بیٹھی تھی جب اپنے سر پر مہر کو کھڑے دیکھا۔ وہ ہاتھوں میں ابٹن لئے شریر نظروں سے سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ آسکو بات سمجھ آئی تھی تو فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

” مہر خبردار اگر تم نے مجھے یہ لگایا ” سارہ الٹے قدم پیچھے کی جانب لیتے ہوئے بولی۔

” کیوں بھئی سب نے مجھے تھوڑا تھوڑا لگایا اس کے بدلے میں نے سب کو بہت زیادہ لگایا ہے صرف تم بچ گئی ہو۔۔۔۔۔ اب تمہاری باری ہے ” مہر نے ہنستے ہوئے کہا۔

” مہر کی بچی پٹو گی میرے ہاتھوں ” سارہ نے اسے دھمکی دی۔

” منظور ہے۔۔۔۔۔۔۔” مہر اسکی طرف بڑھی تو سارہ وہاں سے بھاگی۔ مہر بھی اسکے پیچھے ہی کھلکھلاتے ہوئے بھاگی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ سارہ کو پکڑ چکی تھی اور ڈھیر سارا ابٹن اس کے چہرے پر لگا چکی تھی۔

” تمھے تو میں ابھی بتاتی ہوں پہلے یہ صاف کر آؤں ” سارہ کہتے ہوئے کچن میں منہ دھونے کی گرز سے چلی گئی۔ مہر واپس لان میں آئی تو ایک کونے میں علی کو کھڑے دیکھا جو فون استعمال کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر مہر کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجی۔ وہ ٹیبل کی طرف گئی وہاں ابٹن کے پڑے باؤل میں اپنے ہاتھ اچھی طرح ڈبوئے۔ اور پھر علی کی جانب بڑھ گئی۔ داؤد ایک طرف کھڑا سکندر صاحب سے باتیں کر رہا تھا جب اس نے مہر کو علی کی طرف جاتے دیکھا۔

” علی !!! ” مہر اپنے ہاتھ پیچھے چھپائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔

” ہے سنو وائٹ !! بہت پیاری لگ رہی ہو “

” تھینک یو ! یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہو ؟ “

” ویسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔کینیڈا میں ایک دوست کو میسج کر رہا تھا “

” اچھا وہ نا۔۔۔۔۔” مہر نے کہتے ہوئے تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے گال پر لگائے اور علی کیلئے اسکی حرکت غیر متوقع تھی۔ وہ منہ کھلے سامنے کھڑی مہر کو ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

” مہر !!! ” علی نے اسے گھورا تھا۔

” بالکل بندر لگ رہے ہو ” مہر نے اسکی شکل دیکھ کر قہقہ لگایا تھا۔ علی نے اپنے چہرے پر لگا ابٹن اپنے ہاتھوں میں لے کر مہر کی ناک پر لگائی۔

” تم بھی اب بندریا لگ رہی ہو ” علی نے بھی اب قہقہہ لگایا۔ اب دونوں ہی اس بات پر ایک ساتھ ہنسنے لگے۔ دور کھڑے داؤد کو یہ منظر دیکھ کر انتہائی غصہ آیا جسے بہت مشکل سے ضبط کیے وہ کھڑا تھا۔

*********************

تھوڑی دیر بعد سب مہمان واپس جا چکے تھے۔ سارہ ڈائننگ پر کھانا لگا رہی تھی کیونکہ گھر والوں میں سے کسی نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔

” مہر آ جاؤ تم بھی کھانا کھا لو ” سارہ نے اسے آواز دی جو ابھی تک ابٹن لگے چہرے کے ساتھ موسیٰ کے ساتھ تصویریں لے رہی تھی۔

” ہاں میں بس منہ دھو کر آتی ہوں ” مہر کہہ کر اوپر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ داؤد سب کے ساتھ لاونج میں موجود تھا اس نے مہر کو اوپر جاتے دیکھا تو وہاں سے نکلا۔

” کدھر ؟ ” عالیہ نے راستے میں ہی اسے پکڑ لیا۔

” میرا فون روم میں ہے، وہ ہی لینے جا رہا ہوں ” عالیہ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

” پاگل سمجھا ہے مجھے۔۔۔۔۔اچھی طرح پتا ہے تمہارا کہاں جانے کا ارادہ ہے “

” اگر پتا ہے تو ہٹو سامنے سے مجھے بھی اپنی بیوی کو ابٹن لگانا ہے ” اسکے اتنی آسانی سے مان جانے پر عالیہ حیران ہوئی۔

” اچھا تھوڑی دیر کوئی ہمارا پوچھے تو دیکھ لینا ” اسکے حیران تاثرات کو اگنور کرتے وہ کہہ کر تیزی سے سیڑھیاں عبور کرکے مہر کے کمرے کی طرف گیا۔

” لیکن ۔۔۔۔۔۔۔” پیچھے عالیہ اسے آواز دیتی رہ گئی۔

*********************

اپنے کمرے میں آکر مہر نے دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھا اور اب وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی چوڑیاں اور باقی زیور اتار رہی تھی جب کمرا لاک ہونے کی آواز پر مہر نے مڑ کر دیکھا تو داؤد اسکے کمرے کا دروازا لاک کر رہا تھا۔

” آپ ؟؟؟ ” مہر نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔

” ہاں میں ” داؤد سینے پر ہاتھ باندھے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *