280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 11)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

مہر کے جانے کہ بعد سے داؤد ویسے ہی کھڑا تھا۔ لیکن چہرے پر اب غصے کی بجائے ایک کرب تھا۔ دس سال کا تھا جب اس کے پیارے بابا اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ دن آج بھی اسے یاد تھا، ہفتے کی روز اس کے بابا بھوربن ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے گئے تھے۔ اس دن اسلام آباد میں بہت گرج چمک کے ساتھ بارش ہورہی تھی۔ ابراہیم صاحب اسلام آباد واپس پہنچ چکے تھے جب داؤد نے کال کر کے پوچھا تھا وہ کب تک واپس آئیں گے جس پر اونہوں نے کہا تھا وہ بس پانچ منٹ میں گھر ہوں گے لیکن اس نے اپنے بابا سے ضد کی تھی کہ اسے وہ پلے اسٹیشن آج ہی چائیے جو اس نے بابا کو دکھایا تھا۔ ابراہیم صاحب بیٹے کو ٹال نہیں سکے تھے اس لیے انہوں نے حامی بھر لی کر وہ لے کر آئیں گے اپنے بیٹے کیلئے جس پر داؤد تو بہت خوش ہوا تھا۔ لیکن داؤد جانتا نہیں تھا کے یہ وہ آخری بار ہے جب وہ اتنا خوش ہو رہا ہے۔ اس کے بعد کبھی چاہ کر بھی وہ خوشی جیسی نعمت سے خود کو سیراب نہیں کر پائے گا۔ ابراہیم صاحب جو گھر کی طرف آرہے تھے گاڑی واپس موڑ لی اور پھر ان کی گاڑی دوسری گاڑی سے بری طرح ٹکرا گئی کیونکہ بارش بے تحاشہ تھی جس سے ان کو ٹھیک سے دکھائی نہیں دیا اور وہ یوں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

یہ صدمہ غازی صاحب کی زندگی بھی لے گیا۔ اور یوں اس خاندان پر قیامت گزری۔

داؤد اپنے بابا کو کھو کر ٹوٹ سا گیا۔ اسے لگتا تھا اسکے بابا کی جان اس کی وجہ سے گئی ہے۔ وہ کتنے دن بیمار رہا تھا۔ دادا جان کے جانے کے بعد سے وہ مزید دکھی ہوگیا۔ اتنی کم عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس بات کا گمان بھی نہیں تھا داؤد کو کہ وہ بنا اپنے بابا کے زندگی گزارے گا۔

سکندر صاحب نے داؤد کو باپ کا پیار دیا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد سے داؤد سنجیدہ رہنے لگا، کھیلنا کودنا بھی چھوڑ دیا یوں وقت گزرتا گیا۔ جیسے جیسے داؤد بڑا ہوتا گیا اسے سب نے سمجھایا کے ابراہیم کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔ سب نے ایک نا ایک اس دنیا سے جانا ہے اس لیے وہ خود کو الزام مت دے۔ وہ سمجھتا تھا لیکن دل میں کہیں نہ کہیں کسک باقی تھی کہ کاش وہ اس دن بابا کو کال کرکے ضد نا کرتا تو شاید وہ آج ہمارے ساتھ ہوتے۔

سکول کالج پھر یونیورسٹی میں داؤد نے کھبی دوست نہیں بنائے۔ وہ اتنا خوبرو تھا کے لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی اس کی پرسنالٹی اور زہانت سے امپریس تھے لیکن داؤد نے کبھی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا۔ صرف ایک سارہ تھی جس سے داؤد بات کرلیا کرتا تھا۔

پڑھائی مکمل ہوئی تو داؤد نے خود کو بزنس میں مصروف کرلیا۔

ماضی سے حال میں لوٹا تو وہ ابھی بھی بالکونی میں کھڑا تھا۔ داؤد کو تھکن سی محسوس ہوئی نا جانے کب سے وہ کھڑا تھا۔ایک سرد آہ بڑھتا داؤد کمرے میں واپس آیا سلائیڈنگ ڈور بند کیا اور لائٹس اوف کرکے سونے کیلئے لیٹ گیا لیکن آنکھیں بند کرتے ہی دو آنسوؤں سی بھری آنکھیں داؤد کے ذہن کے پردے پر لہرائیں۔

********************

اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو داؤد اپنے کمرے سے نکل کر نیچے آیا۔ ڈارک بلیو کلر کا پینٹ کوٹ اندر آسمانی نیلے رنگ کی شرٹ پہنے ہوئے، بال نفاست سے بنے اور تازہ تازہ شیو بنی وہ ہمیشہ کی طرح مکمل مردانہ وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔

ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے سب ناشتہ کر رہے تھے۔

“اماں عالیہ کا فون آیا تھا کہہ رہی تھی اس جمعے کو ہم سب اس کی طرف کھانا کھائیں بار بی کیو پلان کیا ہوا عرفان نے” آمنہ بیگم نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔

“لو بھائی یہ بار بی کیو ویو میں میرا کیا کام؟ تم سب جانا میں گھر ہی روکوں گی” حفصہ بیگم نے انکار کیا۔

“ارے اماں آپ کیسے گھر رہیں گی اکیلے آپ بھی ساتھ چلیں گی ہمارے اور انجوائے کریں گی” سکندر صاحب نے مسکراتے اپنی ماں کے شفیق چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ باقی سب بھی مسکرائے تھے۔

“مہر کو پتا چلا تو وہ ابھی سے تیاریاں شروع کردی گی” حفصہ بیگم نے بات بدلتے ہوئے کہا۔ اور داؤد کو مہر کے ذکر پر کل رات یاد آئی۔ داؤد نے سر جھٹکا اور ناشتے سے ہاتھ کھینچ لیے۔

“مجھے آفس کیلئے دیر ہو رہی میں نکلتا ہوں” داؤد کہتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گیا۔

*********************

رات مہر کمرے میں آئی تو بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر کتنی دیر روتی رہی تھی۔ وہ اتنا سہم گئی تھی داؤد کے چلانے پر اور ایسے ہی وہ روتے روتے سو گئی تھی۔ اب مہر جاگی تو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی۔ رات داؤد کا رویہ یاد آیا تو خفگی سے منہ بنایا (خود کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے)۔

تھوڑی دیر بعد مہر نیچے سب کے ساتھ موجود تھی۔ رات جلد سونے کی وجہ سے آج وہ گیارہ بجے جاگ گئی تھی اور اب نہا دو کر تیار وہ نیچے سب کا سر کھا رہی تھی۔ فرزانہ کی بھی خوب کلاس لی کی اس نے داؤد کے سامنے اسکا نام کیوں لیا اگر وہ نا بتاتی تو اسکی اتنی شامت نا آتی۔ ٹائر پنکچر کرتے وقت مہر کو اندازہ تھا کے کیمرے لگے ہیں لیکن اس نے یہ نہیں سوچا تھا داؤد کو شک ہو جائے گا اور وہ خاص طور پر ریکارڈنگ نکال کر دیکھے گا۔(ظاہر ہے کوئی بھی عقل مند انسان جس کی گاڑی رات اچھی بھلی کھڑی تھی اور ایسے ہی پنکچر ہو جائے وہ بھی ایک نہیں دو دو ٹائر تو اسکو تو شک ہوگا ہی)۔

**********************

دوپہر ڈھلی تو داؤد گھر واپس آیا۔ ڈرائیو وے پر گاڑی کھڑی کرکے وہ باہر نکلا تو نظر لان کی طرف گئی۔جہاں مہر ہاتھ میں پائپ پکڑے پھولوں اور پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ داؤد رات بھر کروٹیں بدلتا رہا تھا لیکن مہر کی وہ پانی سی بھری آنکھوں نے اسے سونے نہیں دیا۔ آفس میں بھی داؤد اسی بارے میں سوچتا رہا اسے لگ رہا تھا وہ مہر کے ساتھ کچھ زیادہ ہی بری طرح پیش آیا تھا وہ معافی مانگنے ہی تو آئی تھی اور اگر اس نے بابا کے بارے میں بھی کوئی بات کرنی چاہی تو غلط کیا تھا وہ صحیح کہہ رہی تھی وہ اس کے بھی تایا تھے۔

انھی سوچوں میں داؤد کے قدم مہر کی جانب اٹھے وہ بالکل اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا۔ مہر جو بڑے مزے سے پودوں کو پانی دے رہی تھی ایک دم پلٹی تھی۔ اور اپنے پیچھے داؤد کو کھڑے دیکھ منہ کھول گیا۔ ہاتھ میں جو پائپ تھا وہ اب پودوں کی بجائے داؤد کو پانی سے بھگو رہا تھا اور مہر یک ٹک داؤد کو دیکھے جارہی تھی۔

داؤد پر پانی پڑا تو وہ آنکھیں بند کر گیا اب وہ سر دائیں بائیں ہلائے پانی جھٹک رہا تھا لیکن پانی مسلسل اسے بھگو رہا تھا۔ داؤد نے آنکھیں کھولیں تو نظریں مہر کی نظروں سی ملیں۔ مہر کو جب احساس ہوا تو فوراً پائپ کو ہاتھ سے پھینکا اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے۔ اسے لگ رہا تھا جو وہ کل بچ گئی تھی اس دیو کے ہاتھوں آج تو پکا گئی۔

“میں نے یہ نہیں۔۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔۔ قسم سے مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔۔۔” مہر ٹھہر ٹھہر کر بولی۔

داؤد اسے گھور رہا تھا انداز ایسا تھا کے اپنا غصہ ضبط کررہا ہے۔ یہ لڑکی ہمیشہ ہی اسکا ضبط آزماتی تھی۔ مہر اسے چپ کھڑا گھورتا دیکھ وہاں سے بھاگ نکلی۔

*********************

رات سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ سوائے مہر کے جو اپنی دادو کے کمرے میں موجود ان سے باتیں کررہی تھی۔ یہ اس کی روٹین میں شامل تھا کے وہ رات ضرور اپنا کچھ وقت دادو کے ساتھ گزارتی تھی۔ اسے اچھا لگتا اپنی دادو سے ان کے زمانے کی کہانیاں سننا۔ کھبی ان کے بالوں پر تیل سے مالش بھی کردیا کرتی اور کبھی ان کے پاؤں بھی دباتی۔ حفصہ بیگم اپنی پوتی کی اس خدمت پر صدقے واری جاتی تھیں۔

داؤد کو کافی کا من ہوا تو وہ خود کچن میں کافی بنانے چلا آیا۔ کافی بنا کر داؤد کچن سے نکلا تو مہر کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا وہ اس سے کل رات کے بارے میں بات کرنا چاہ رہا تھا اس لیے اس نے مہر کو آواز دی۔

“رکو مہر !”۔

مہر نے داؤد کی آواز سنی تو بالکل تھم گئی لیکن پلٹی نہیں۔ اسے لگا وہ اسے شام کو پانی سے بھگونے پر غصہ کرے گا۔ مہر کو اپنے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے داؤد کے قدموں کی آواز سنائی دی تو تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئی۔ داؤد کو اس کا رویہ عجیب لگا وہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے گیا اپنے کمرے کے پاس سے گزر کر مہر کے کمرے تک آیا۔

“مہر !” داؤد نے پھر اسے پکارا مگر وہ روکی نہیں اور اپنے کمرے کا دروازہ داؤد کے منہ پر بند کردیا۔

داؤد نے دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے ہاتھ بلند کیا لیکن پھر نیچے کردیا اور واپس مڑ گیا۔

مہر اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔ انگلیاں دانتوں میں دبائے وہ سوچ رہی تھی۔

“اوفف یہ جن کیوں میرے پیچھے پڑا ہے۔۔۔۔۔میں نے کہا بھی تھا بھائی میں جان کر نہیں کیا تم خود آئے تھے۔۔۔۔

ہائے اللّٰہ جی پلیز مجھے اس جلاد سے بچا لیں میں دو نفل پڑھوں گی”۔ مہر کا فون بجا تو وہ اپنے فون کی طرف متوجہ ہوگئی۔

*********************

اگلا دن بھی معمول کے مطابق گزرا۔ داؤد شام کو گھر آیا تھا تب سے اپنے کمرے میں بند تھا۔ مہر کا آج کا دن بھی گھر میں گزرا تھا۔ وہ اس وقت چھت پر کھڑی فون پر سارہ سے بات کررہی جو اسے بتا رہی تھی کے کل وہ حمزہ بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے جارہے ہیں۔

مہر تو بہت excited تھی۔ اس کی دوست کی بھی شادی تھی اور کزن کی بھی۔

کال بند ہوئی تو وہ نیچے آئی۔ پیلے رنگ کا شورٹ کرتا اور پیلے ہی رنگ کا ٹراؤزر پہننے جس پر بادامی رنگ کے پھولوں اور ہرے پتوں کا پرنٹ تھا اور شیفون کا دوپٹہ ایک کندھے پر تھا۔ بال کھلے ایک طرف کیے تھے۔ گورا شفاف رنگ وہ سادگی میں بھی کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی تھی۔ داؤد بھی اسی وقت کمرے سے نکلا تھا۔

اس نے مہر کو ایک بار پھر پکارا لیکن اس نے سنا ان سنا کردیا۔

داؤد کی آنکھوں میں برہمی در آئی۔ ایک تو وہ اس لڑکی سے excuse کرنا چاہ رہا تھا تو اوپر سے اس کے نکھرے ہی نہیں ختم ہورہے تھے۔

“مہر ! داؤد نے اب کی بار سرد مگر تیز آواز میں اسے پکارا۔ مہر رک گئی۔ مہر ڈرو نہیں نیچے سب موجود ہیں۔۔۔۔اس وقت تو یہ مجھ پر غصہ نہیں کرے گا اس لیے ہمت کرو اور بہادری سے اس دیو کا مقابلہ کرو۔۔۔۔ مہر نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور پھر وہ داؤد کی طرف پلٹی تھی۔ اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

” کل سے میں تم سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں اور تم مجھے اگنور کر رہی ہو” داؤد نے ایک دم غصے میں کہا تھا۔ مہر نے ہاتھ اٹھا کر داؤد کو آگے بولنے سے روکا تھا۔

“دیکھیں میں پھر سے کہہ رہی ہوں میں نے آپ پر کل جان کر پانی نہیں ڈالا تھا۔۔۔ آپکی غلطی تھی آپ خود آئے تھے وہاں۔۔۔بھلا مجھے خواب آنی تھی کے میرے پیچھے آپ ہوں گے۔۔۔۔ اور میں آئندہ آپکو بالکل کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔۔آپکو سب معاف کیا”۔

داؤد نے آنکھیں گھمائی وہ کیا بات کرنا چاہ رہا تھا اور وہ کیا بات کررہی تھی۔

“میں پرسوں رات کے بارے میں excuse کرنا چاہتا تھا” داؤد نے دانت پستے ہوئے کہا۔

“اوو لگتا ہے انھیں ڈر تھا کہیں میں کسی کو بتا نہ دوں اس لیے آئے ہیں معافی مانگنے ہونہہہ” مہر نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے سوچا۔

“ہاں تو کہیں میں سن رہی ہوں” سینے پر دونوں ہاتھ باندھنے وہ اب داؤد کی معافی کی منتظر تھی۔

“کیا؟” داؤد نے ابرو اٹھایا۔

“ارے معافی مانگیں نا۔۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے آپ مجھ پر اس طرح غصے سے چلائیں گے تو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔۔ ہونہہ غلط فہمی ہے آپکی۔۔۔۔۔میں سب کو بتاؤں گی اور پھر سب آپ کو سیدھا کریں گے۔۔۔۔ شاید آپکو پتا نہیں سب مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں۔۔۔۔میں سب سے چھوٹی ہوں اس گھر میں۔۔۔۔ اس لیے آپ سے زیادہ میری اہمیت ہے” مہر نے گردن اکڑا کر کہا۔

اور داؤد اسے دیکھے گیا انداز ایسا تھا کہ پوچھ رہا ہو سیریسلی؟

مہر ابھی بھی منتطر گردن اونچی کیے کھڑی تھی جیسے وہ مالکہ ہے کہیں کی۔

داؤد نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے پاس سے گزر گیا۔

“ہاااا !” مہر نے اسے جاتے دیکھا تو منہ سے نکلا۔

“رسی جل گئی لیکن بل نہیں گیا” غصے سے کہتے وہ بھی اس کے پیچھے ہی گئی۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *