280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 22)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

داؤد اپنے بیڈ پر لیٹا مہر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کیا وہ سب اپنے دل کی بات کہہ رہی تھی۔ اگر اسے مجھ سے محبت تھی تو وہ کیوں یہ سب کر رہی تھی یا اسے داؤد ابراہیم سے زیادہ سارہ جیند سے محبت تھی جو وہ اتنی بڑی قربانی دے رہی تھی۔ ایسی مختلف سوچیں دماغ میں آرہی تھیں۔ مہر نے جو اس کے ساتھ کیا وہ آج رات کے بعد وہ پھر بھول چکا تھا۔ اس کا دل ایک باد پھر موم ہو گیا تھا شاید اسے ہی محبت کہتے ہیں۔ محبوب آپکو چاہے جتنی مرضی تکلیف دے اسکا ہر ستم عاشق معاف کر دیتا ہے۔

********************

سارہ اپنے کمرے میں موجود صوفے پر ٹیک لگائے کوئی انگلش ناول پڑ رہی تھی۔ جب اس کے خیالوں میں وہ منظر رونما ہوا جب داؤد وہ ہی گانا گنگنا رہا تھا جو اس نے گایا تھا۔ سارہ کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ دوبارہ وہ کتاب کی طرف متوجہ ہوتی کہ وہ بول جو داؤد نے گائے تھے وہ یاد آئے۔ گیم کی تھیم تھی دل کی بات گا کر بتانی تھی پھر داؤد نے وہ بول کیوں گائے تھے؟ وہ کچھ اور یا کوئی اور گانا بھی گا سکتا تھا۔ کیا وہ داؤد کی دل کی بات تھی ؟ ایک دم سارہ گہری سوچ میں پڑ گئی۔

” میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں ” سارہ بڑبڑائی اور کتاب بند کرکے سونے کی تیاری کرنے لگی۔

*********************

مہر اپنے بیڈ پر گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔ دل میں ڈھیروں اداسی تھی وہ داؤد سے کب اتنی محبت کرنے لگی تھی اسے خود پتا نہیں چلا تھا۔ وہ یہ سب سارہ کی خوشی کیلئے کر رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی اسکا دل ٹوٹ جائے اور وہ بھی تو داؤد سے اتنی زیادہ محبت کرتی ہے شاید مجھ سے بھی زیادہ۔

” لیکن داؤد وہ تو سارہ سے محبت نہیں کرتے پھر تم کیوں اتنی تکلیف دے رہی ہو انھیں ” دل کے کسی کونے سے یہ آواز آئی۔

” مم۔۔۔۔۔۔۔میں انھیں کوئی تکلیف نہیں دے رہی۔۔۔۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں سارہ میرے لئے بہت خاص ہے اور میں اسے یہ دکھ کبھی سہنے نہیں دوں گی ” مہر نے اپنے دل کی آواز کو دبا دیا۔

*********************

~ خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے

پھولوں کے ہاتھ جل گئے کیسے یہ آفتاب تھے ~

اگلی صبح مطلع صاف تھا۔ سورج بھی مکمل روشن تھا۔ گیارہ بجے کے قریب مہر سو کر اٹھی تو فریش ہو کر وہ تیار ہوئی۔ آج اسے علی سے ملنے جانا تھا اتنے دنوں سے اس سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی اور یقیناً وہ بہت ناراض تھا تبھی اس دن کے بعد سے اس نے نا کوئی کال اور نا کوئی میسج کیا تھا۔ مہر نیچے آئی تو رخسانہ بیگم فرزانہ کے سر پر کھڑی اس سے کام کروا رہی تھیں۔

” ماں میرا ناشتہ ” مہر نے کہا تو وہ اسکی آواز پر مڑیں اور اسے دیکھ کر مسکرائیں۔

” میں خود اپنے ہاتھوں سے بناتی ہوں ناشتہ اپنی پری کیلئے ” انھوں نے اپنے لہجے میں ڈھیروں پیار سمو کر کہا تو مہر کو یقین نہیں آیا کیونکہ وہ ہمیشہ اسے ڈانٹتی تھیں کہ لیٹ سو کر اٹھتی ہو تو کم سے کم اپنا ناشتہ خود بنا کر کھا لیا کرو اور آج مہر تو حیران ہی رہ گئی۔

” کیا ہوا ماں یہ سورج آج کہاں سے نکلا ہے؟” مہر نے رخسانہ کو شانوں سے تھام کر پوچھا تو وہ ہنس دیں۔

” پگلی نا ہو تو، آؤ بیٹھو میں تمہارا ناشتہ لاتی ہوں “

” ہممم کچھ تو چکر ضرور ہے ” مہر نے رخسانہ بیگم کی پشت کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

*********************

” ہاں بولو مہر ” فون کان سے لگائے علی مہر سے بات کررہا تھا۔

” تم بدتمیز خود کو کیا سمجھتے ہو ہاں، کب سے کالز کر رہی ہوں ” مہر نے اسے ڈانٹنا چاہا۔

” ہاں تو جب میں کر رہا تھا تب تم بھی نہیں اٹھاتی تھی”

” تم ناراض ہو؟ “

” ہاں ہوں “

” اچھا چلو مجھے منانے کا موقع تو دو، میں گھر آرہی ہوں تم سے ملنے “

” گھر ابھی؟؟؟ میرا مطلب ہے آج ” علی نے حیرت سے پوچھا کیونکہ آج تو مام اور ڈیڈ مہر کا ہاتھ مانگنے جارہے تھے پھوپھو کی طرف۔

” کیوں آج کیا تکلیف ہے ؟”

” یار وہ۔۔۔۔۔۔آج تو ” علی کو سمجھ نہیں آیا کیسے کہے۔

” علی سیدھے سیدھے بولو گے ” مہر کو اب غصہ آنے لگا تھا۔

” آ آ ۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں، ایسا کرتے ہیں گھر پر نہیں کہیں باہر ملتے ہیں”

” چلو ٹھیک ہے میں میسج کرکے بتاتی ہوں کہ کہاں ملنا ہے ” مہر نے کہہ کر فون رکھا۔

********************

مہر بہت مشکلوں سے رخسانہ بیگم سے اجازت لے کر باہر نکلی تھی۔ ابھی وہ گاڑی میں بیٹھی خان بابا کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں جارہی تھی جب اسکا فون بجا۔ کال سارہ کی تھی مہر نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کال ریسیو کی تھی۔

” مہر کہاں ہو یار میں تمھے لینے آرہی ہوں ” سارہ نے فوراً سے کہا۔

” کیوں ؟” مہر نے پوچھا۔

” یار وہ ممانی کی کال آئی تھی وہ کہہ رہی تھیں میں خود اپنی پسند سے نکاح کا جوڑا لے آؤں۔۔۔۔۔۔او تمھے تو پتا ہے میں اکیلے شاپنگ کرنے جاتی نہیں اس لئے تم میرے ساتھ چلو ” مہر نکاح کا سن کر پھر سے دکھی ہوگئی۔

” سارہ میں آج زرا بیا سے ملنے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔شادی کے بعد سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، ہم پھر کبھی چلیں گے ” مہر نے بہانہ گھڑا۔

” مہر یہ کیا بات ہوئی پیچھے دن ہی کتنے رہ گئے ہیں ” سارہ افسردگی سے بولی۔

” ہاں میں جانتی ہوں دن کم ہیں۔۔۔۔لیکن آج ممکن نہیں تم پھوپھو کے ساتھ چلی جاؤ “

” اوکے ٹھیک ہے آج تو جانے دے رہی ہوں لیکن اگلی بار تم کوئی بہانہ نہیں بنا سکتی ” سارہ نے خبردار کیا۔

” میں آج بھی کوئی بہانہ نہیں بنا رہی ایسے اچھا نہیں لگتا میں نے اسے ملنے کیلئے بلا لیا ہے اور میں یہاں پہنچ بھی گئی ہوں۔۔۔۔۔ میں بعد میں کال کروں گی ” مہر جلدی سے کہہ کر فون رکھا اور پھر خان بابا سے مخاطب ہوئی۔

” خان بابا آپ رکیں واپس اگر میں نے آپ کے ساتھ جانا ہوگا تو آپکو بتا دوں گی “

” جی بیٹا جی آپ مجھے بتا دیجیے گا میں یہ ہی باہر گاڑی میں ہوں “

********************

” تم نے یہاں اپنی یہ اداس شکل دیکھانے کیلئے بلایا ہے ” علی نے اسکی اتری ہوئی شکل دیکھ کر شرارت سے کہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا وہ پریشان ہے۔

” نہیں الو !! تم ناراض تھے اس لئے تمھے منانے آئی ہوں ” مہر نے اپنے موڈ کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔

” چلو منانا ہی ہے تو اچھا سے کھانا کھلا دو کے اس مہنگے ریسوڑرنٹ میں پانی پی کر واپس جانے کا ارادہ ہے ” مہر اسکی بات سے ہلکا سی ہنسی تھی۔ پھر دونوں نے کھانا آرڈر کرنے لگے۔

*********************

داؤد اپنے کسی بزنس لنچ کیلئے آیا ہوا تھا۔ کلائنٹ کے ساتھ لنچ کرنے کے بعد جب وہ واپس جانے لگا تو اسکی نظر ایک ٹیبل پر پڑی جہاں مہر علی کے ساتھ موجود تھی۔ علی نے مہر کو ہنسانے کیلئے اپنا کوئی کینیڈا کا قصہ سنایا جسے سن کر مہر بے تحاشہ ہنسی تھی اور داؤد ابراہیم کو یہ منظر ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ علی نے مہر کے چہرے پر آئی لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑسا تو داؤد کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا شدت جذبات سے داؤد کا چہرہ سرخ ہوا اس نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس سے پہلے کے وہ انکی طرف بڑھتا داؤد کے ساتھ آئی اسکی سیکرٹری نے اسے مخاطب کیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی داؤد کو وہاں سے جانا پڑا لیکن جانے سے پہلے وہ مہر کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے اپنی انگارا برساتی آنکھوں سے گھورا تھا۔ مہر کی نظر جب داؤد پر پڑی تو پہلے تو اسے یہاں دیکھ کر چونک گئی لیکن پھر اسکی نظروں سے گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

” کیا ہوا؟ ” علی نے اس ایسے اچانک کھڑے دیکھ پوچھا تو وہ دوبارہ بیٹھ گئی لیکن اسکی نظروں نے تب تک داؤد کا پیچھا کیا تھا جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں گیا تھا۔

” انھیں کیا ہوا ” مہر خود سے بڑبڑائی۔

” ہیلو سنو وائٹ کدھر ؟ ” علی نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرا کر اسے ہوش دلانہ چاہا۔

” کچھ نہیں ” مہر نے خود کو ریلیکس کرنے کیلئے گلاس میں پڑا پانی اٹھا کر پیا۔

” وہ کون تھا جسے دیکھ رہی تھی ” علی نے بھی اس طرف دیکھا تھا جہاں مہر دیکھ رہی تھی کیونکہ داؤد کی پشت تھی اس لیے علی پہچان نہیں پایا۔

” کوئی بھی تو نہیں تھا، اچھا اب میں چلوں ” مہر نے اپنا فون اٹھایا اور کھڑی ہوئی۔

” سنو مجھے تمہے کچھ بتانا تھا ” علی کی بات مکمل ہونے سے پہلے مہر بول پڑی۔

” بہت دیر ہوگئی ہے علی مجھے ڈانٹ پڑ جائے گی، تم نے جو بھی بات کرنی ہے کال پر بتا دینا ” وہ جلدی میں کہہ کر باہر جانے کیلئے مڑی۔

” اچھا سنو میں ڈراپ کر دیتا ہوں راستے میں بات کر لوں گا ” اس نے اسکے پیچھے جاتے ہوئے کہا۔

” یار خان بابا ہیں باہر۔۔۔۔۔اوکے بائے ” مہر باہر نکلی تو غیر ارادی طور پر اس نے اسے تلاش کرنا چاہا لیکن وہ کب کا جا چکا تھا۔

********************

شام کو داؤد جب گھر پہنچا تو مہر کے ماموں ممانی آئے ہوئے تھے۔ داؤد وہان رکنا نہیں چاہتا تھا لیکن ایسا نا ممکن تھا ان سے سلام دعا کے بعد داؤد وہیں حفصہ بیگم کے پاس بیٹھ گیا۔ داؤد کا ارادہ تھوڑی دیر وہاں رک کر اپنے کمرے میں جانے کا تھا۔

” تو پھر بھائی صاحب مہر آج سے ہماری بیٹی ہوئی ” شگفتہ نے بیگم نے سکندر صاحب کو مخاطب کیا۔ داؤد کے آنے سے پہلے وہ یہ بات کر چکی تھیں۔ سکندر صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا باقی سب کو اس رشتے سے خوشی ہوئی تھی۔

” جی کیوں نہیں آپ ہی کی بیٹی ہے لیکن میں ایک بار مہر سے بھی پوچھنا چاہوں گا ” سکندر صاحب نے انکا مان بھی رکھا تھا اور اپنی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ داؤد نا سمجھی سے انکی گفتگو سن رہا تھا۔

” ہاں ضرور کیوں نہیں مہر کی رضامندی زیادہ ضروری ہے آخر زندگی ان دونوں نے گزارنی ہے، ہم تو علی سے پوچھ کر اسکی ہاں کے بعد ہی آئے ہیں ” شگفتہ بیگم نے دھیمی مسکراہٹ سے کہا۔

” اور مہر کی طرف سے بھی ہاں ہی ہوگی ہمیں اپنی بچی پر بھروسہ ہے ” جب حفصہ بیگم نے کہا تو داؤد کو بات سمجھ میں آئی اور ایک دم سے داؤد کو ہوا میں آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی اسے لگا اسے صحیح سے سانس نہیں آرہی۔ وہ وہاں سے اٹھا تھا اور تیزی سے وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا تھا۔ اپنے کمرے میں آکر داؤد نے ٹائی نکال کر پھینکی تھی۔ داؤد کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سب تہس نہس کردے۔ لیکن پھر دل نے کہا وہ ہاں نہیں کرے گی وہ انکار کردے گی۔ دل میں ایک امید جاگی تھی۔ داؤد نے خود کو ریلیکس کرنے کیلئے ایک لمبی سانس اندر کھینچی تھی۔ سب ٹھیک ہو سکتا ہے ابھی بھی وقت تھا اسے یقین تھا مہر ہاں نہیں کرے گی۔

*********************

رات کھانے کی میز پر سبھی گھر والے موجود تھے سوائے داؤد کے۔ مہر کے ماموں ممانی جا چکے تھے۔

” ارے یہ داؤد نہیں آیا کھانے پر ” سکندر صاحب نے پوچھا۔

” اس کے سر میں درد تھا کہہ رہا تھا ابھی صرف چائے لوں گا رات کو اگر بھوک لگے گی تو کھا لے گا ” آمنہ بیگم نے بتایا تو مہر کو ریسٹورنٹ میں اسکا اسے غصے سے دیکھنا یاد آیا۔ مہر نے جھرجھری لی اور دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوگئی۔

کھانا کھانے کے بعد مہر اپنے کمرے میں اپنا فون لئے بیٹھی تھی جب رخسانہ بیگم اس کے کمرے میں آئیں۔ وہ آکر اس کے پاس بیٹھیں تو مہر نے انکو دیکھ کر اپنا فون رکھ دیا پھر اپنا سر انکی گود میں رکھ کر لیٹ گئی۔ رخسانہ بیگم مسکرا کر اس کے بال سہلانے لگیں۔

” مہر کچھ مانگوں گی تم سے تو دو گی ” رخسانہ بیگم نے بڑے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔

” اچھا تو صبح سے اس لئے اتنا پیار نچھاور ہو رہا تھا مجھ پر ” مہر بند آنکھوں سے بولی۔

” جی نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ تم میری ایک لوتی اولاد ہو مجھے تم سے نہیں محبت ہوگی تو کس سے ہوگی ” انھوں نے اسکی بات پر خفگی سے کہا۔

” او ہو ماں جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں آپ صرف میری بھلائی کیلئے مجھے ڈانٹتی ہیں ” مہر نے ان کے خفا چہرے کو دیکھ کر فوراً اٹھ بیٹھی۔ انھوں نے اسکی پیشانی چومی تھی۔

” مہر تمہارے ماموں نے علی کیلئے تمہارا ہاتھ منگا ہے، تمہارے بابا کو اور مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن تماری رضامندی بہت معنی رکھتی ہے ” انھوں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا جہاں حیرت ہی حیرت تھی۔

” ماں میں اور علی ” مہر بے یقینی سے پھٹی آنکھوں سے بولی۔

” ہاں تم اور علی ” انھوں نے بھی دوبدو جواب دیا۔

” لیکن میں کیسے۔۔۔۔۔۔۔شادی۔۔۔۔۔ میں ” اسکی بات پوری بھی نا ہوئی تھی کہ وہ بیچ میں ہی بول پڑیں ۔

” مہر مجھے اس رشتے سے بہت تسلی رہے گی کہ تم اپنے ماموں کے گھر گئی ہو تماری طرف سے جو ایک فکر لاحق تھی مجھے وہ اب ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔ تمھے وہاں کبھی کوئی تنگی اور پریشانی نہیں رہے گی اور میرے لئے اس سے بڑی سکون کی کوئی بات نا ہوگی۔۔۔۔۔۔ پلیز مہر انکار مت کرنا ” انھوں نے التجا کی تھی۔

” ماں میرے لیے یہ مشکل ہے ” مہر کو ایک دم سب کچھ بوجھل لگنے لگا یہ اسکی زندگی میں کیا ہو رہا تھا۔ کچھ دن پہلے تک وہ کتنی خوش تھی اور اب۔

” مہر کیوں مشکل ہے ” انھوں نے اس کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھا۔ مہر اب گہری سوچ میں گھم لگتی تھی۔ پھر ایک منٹ بعد اس نے اپنی ماں کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ وہ اداسی سے مسکرائی۔

” جیسا آپ لوگ ٹھیک سمجھیں ” مہر نے انکے ہاتھ تھامتے ہوئے انکو شاید سب سے بڑی خوشی دی تھی۔

**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *