Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 30) Last Episode ( Part - 2)

280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 30) Last Episode ( Part - 2)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

” آ۔۔۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔۔غصہ تو نہیں ہوں گے ؟ ” مہر نے داؤد کے سینے پر ہاتھ رکھے استفسار کیا۔

” نہیں کروں گا غصہ میں اپنی جان پر ” داؤد نے شدت بھرے لہجے میں کہا۔

” آپ پلیز میرے لئے۔۔۔۔۔سارہ سے بھی شادی کرلیں ” مہر نے آنکھیں میچے کہا۔ لیکن داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا وہ ایسے ہی اسکا چہرہ تھامے کھڑا رہا۔ مہر نے اسکی طرف سے کوئی جواب نا آنے پر آنکھیں کھولے اسے دیکھا تو اسکا چہرہ بنا کسی تاثر کے پایا۔

” آپ اور میں تو ایک ہو ہی گئے ہیں نا تو اس میں کیا برائی ہے اگر آپ سارہ کو بھی اپنا لیں۔۔۔۔۔۔۔۔آج کل تو ہر کوئی دو شادیاں کرتا ہی ہے ” مہر نے آخری بات تھوڑی جھجھک سے کہی۔ داؤد نے اس کے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹا لئے۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کم سے کم اسے اب مہر سے کبھی اس بات کی امید نہیں تھی۔

” ہمیں گھر چلنا چاہیے دادو پریشان ہو رہی ہوں گی ” داؤد نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ آج کی اس حسین شام کے بعد وہ اپنا موڈ خراب کرے۔

” داؤد میری بات سنیں پلیز آپ سمجھ نہیں رہے کہ میں سارہ کو ایسے دیکھتی ہوں تو خود کو قصوروار سمجھتی ہوں، آپ اگر اسے اپنا لیں گے تو۔۔۔۔۔۔ ” داؤد جو اپنی بات کہہ کر وہاں سے جا رہا تھا مہر نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا۔

” میں تمہاری جان لے لوں گا ” اسکے روکنے پر وہ پلٹا تھا اور اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر تیز آواز میں چلایا تھا۔ مہر ایک دم اس کے چلانے پر سہم گئی۔

” کتنا سنگ دل تھا وہ کچھ پل پہلے تک اپنی جان دینے کی بات کررہا تھا اور اب اسکی جان لینے کی بات کررہا تھا ” مہر نے بے احتیار سوچا۔

” تم سمجھتی کیا ہو خود کو ؟ ہاں ؟ تمھے صرف اسکا احساس ہے میرا نہیں ہے ؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتی اس کی جان ؟ مذاک سمجھا ہوا تم نے شادی کو ؟ یہ کوئی وہ تمہاری تھرڈ کلاس ڈرامے اور فلمیں نہیں ہیں اصل زندگی ہے۔۔۔۔۔” داؤد اس پر غرایا تھا۔

” میں۔۔۔صرف اتنا کہہ رہی۔۔۔۔۔” مہر کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔ اسکی آنکھوں میں اتنا غیض و غضب دیکھ کر اسے خوف آیا۔

” تم کچھ نا کہا کرو مہر۔۔۔۔۔کیونکہ تم ہمیشہ مجھے درد دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی ” داؤد ایک دم رنجیدہ ہوا تھا۔ اسے لگ رہا تھا سامنے کھڑی یہ لڑکی جس میں اسکی جان بستی ہے اسے زرا بھی محبت نہیں اس سے۔

” آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔میرا مقصد صرف سارہ کو خوش دیکھنا ہے اور یقیناً اسکی خوشی آپ ہیں ” مہر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

” یا رائٹ صرف سارہ کی خوشی۔۔۔۔۔۔” داؤد طنزیہ ہنسا تھا اور اسے چھوڑ کر دور ہوا۔ داؤد اب اس سے رخ مڑے کھڑا تھا۔ ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ رکھیں تھیں۔ اسے اس وقت بے تحاشہ غصہ تھا اسکا دل چاہ رہا تھا سب کچھ تہس نہس کردے۔ مہر کو اب سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے منائے اسے؟ اسے اپنی بات کیسے سمجھائے؟ وہ آنکھوں میں آنسو لئے اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی۔ ایک دم داؤد پلٹ کر اس تک آیا تھا اور اسے سختی سے بازوں سے تھاما تھا۔ مہر کو اسکی سخت گرفت سے تکلیف ہوئی۔

” کیا سارہ نے کچھ کہا ہے تم سے ؟ ” داؤد نے سرد لہجے میں استفسار کیا۔

” نہیں ! اس نے کچھ نہیں کہا وہ میں۔۔۔۔۔۔”

” جسٹ شٹ اپ ! ” مہر کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی داؤد چلا اٹھا تھا۔

” تمھے میری ذرا بھی پروا نہیں ہے کیا ؟ مجھ سے محبت نہیں کرتی ہو ؟ میں اہم نہیں ہوں ؟ میں کیا چاہتا ہوں وہ اہم نہیں تمہاری نظر میں ؟ ” داؤد سوال در سوال کررہا تھا۔

” ایسا نہیں ہے آپ میری بات کیوں نہیں سمجھتے ” مہر ایک دم روتے ہوئے چیخی تھی۔ داؤد ایسے ہی شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔

” میں کیسے خوش رہ سکتی ہوں سارہ کی خوشیاں چھین کر ؟ “

” میرا کیا ہاں ؟ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو میرے ساتھ۔۔۔تم مجھے کیسے اتنی آسانی سے کہہ سکتی ہو کے میں اس محبت میں کسی اور کو بھی شریک کرلوں، مہر !!!! داؤد ابراہیم صرف تمھے چاہتا ہے صرف تمھے۔۔۔۔۔یہ محبت میں کسی اور کے ساتھ ہرگز نہیں بانٹ سکتا “

” داؤد ایک بار بس ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچیں ” مہر بضد ہوئی تو داؤد کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔

” یو نو واٹ ؟ مجھے آج احساس ہو رہا ہے کہ تم میری محبت کے قابل نہیں ہو، اگر تمھے مجھ سے ذرا سی بھی محبت ہوتی نا تو مجھے کسی اور کے حوالے نہیں کرتی۔۔۔تمہارے لئے صرف سارہ اہم ہے۔۔۔۔۔داؤد تو کہیں ہے ہی نہیں۔۔۔۔” اس نے گہری سانس خارج کی اور پھر مزید گویا ہوا۔

” میں سارہ کو تو کبھی نہیں اپنا سکتا لیکن ہاں تمہے ضرور چھوڑ سکتا ہوں ” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر سرد مہری سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ پیچھے کھڑی مہر کو اپنی قوت سماعت پر شبہ ہوا۔

” کیا وہ سچ میں یہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ دے گا ” مہر کو لگا سب ختم ہوچکا ہے۔ وہ اسے چھوڑ گیا ہے۔ وہ کیسے اتنی بڑی بات کر سکتا تھا۔ وہ اس کے پیچھے باہر بھاگی تھی۔

*********************

گاڑی گھر کے باہر رکی تو داؤد اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔ وہ سختی سے سٹیرنگ ویل تھامے ہوئے سامنے وینڈ سکرین کے پار دیکھ رہا تھا۔ مہر نے اسکی طرف رخ مڑ کے اسے دیکھا وہ پورا راستہ روتے ہوئے آئی تھی اور اب بھی یہ ہی کررہی تھی لیکن مقابل کو ذرا پروا نا تھی۔

” آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔” اسکی بات شروع ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا۔

” نکلو !! “

” میں آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔” مہر پھر سے اپنی بات کرتی کہ وہ زور سے چلایا تھا۔

” آئی سیڈ گیٹ آوٹ ” وہ سہم کر جلدی سے باہر نکلی تھی اور وہ گاڑی تیزی سے لئے نکل گیا۔

**********************

اپنے کمرے میں آکر وہ کتنی ہی دیر روتی رہی تھی۔

” وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔مجھے چھوڑنے کی بات بھی کیسے کی انھوں نے۔۔۔آئی ہیٹ ہیم۔۔۔۔۔” گھٹنوں پر اپنا سر رکھے وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔ تھوڑا وقت مزید گزرا تو اس نے اٹھ کر اپنے کپڑے تبدیل کئے۔ نائٹ سوٹ پہن کر وہ ساڑھی کو ہینگ کررہی تھی کہ آج شام کے سارے پل اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرف چلنے لگے۔ کتنے خوبصورت پل تھے وہ۔ ایک بار اسکی آنکھیں بھیگ گئیں۔

**********************

یہ منظر فارم ہاؤس کا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے تک جو چیزیں ترتیب سے رکھی تھیں اب وہ سب بکھری پڑی تھیں۔ داؤد نے یقیناً اپنا غصہ ان بے جان چیزوں پر اتارا تھا۔ صوفے پر بیٹھا دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ دفعتاً اسکی نظر سامنے بیڈ کی طرف اٹھی جہاں تھوڑی دیر پہلے تک وہ اس کے پاس تھی اس کے بے حد قریب۔ اسکی روتی ہوئی آنکھیں ذہن کے پردے پر اجاگر ہوئیں تو دل میں درد سا اٹھا۔

” نہیں مہر اس بار نہیں۔۔۔۔۔۔اتنی آسانی سے تمھے معاف نہیں کروں گا ” خود سے کہتا وہ وہاں سے اٹھ کر بیڈ پر جا کر نیم دراز ہو گیا۔ وہ تھوڑی دیر سونا چاہتا تھا لیکن ممکن نا تھا کہ دو آنسوؤں سے بھری آنکھیں اسے اتنی آسانی سے سونے دیں۔

***********************

اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو غازی ہاؤس میں رات ہونے والی مہندی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھیں۔ مہر اپنے کمرے میں بیٹھی داؤد کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

” وہ اسے سمجھتا کیوں نہیں تھا۔۔۔۔ایسی بھی کیا بات کہہ دی تھی اس نے کہ وہ اسے ہی چھوڑنے کیلئے تیار تھا۔۔۔جب مجھے کوئی مسلئہ نہیں انکی دوسری شادی سے تو انھیں کیا اعتراض ہے ؟ ” اپنے دماغ میں مختلف سوچوں میں گھری وہ اس مسئلے کا حل تلاش کررہی تھی۔ جب رخسانہ بیگم اسکے کمرے میں داخل ہوئیں۔

” شکر ہے تم جاگ رہی ہو۔۔۔اٹھو جلدی سے ناشتہ کرو مہندی لگانے والی آتی ہی ہوگی۔۔۔کل رات بھی اسے بلوایا تھا لیکن پتا نہیں کیا مصیبت تھی تمھے جو انکار کردیا ” رخسانہ بیگم نے اسے ڈانٹا تھا۔

” ماں !! مجھے نہیں لگوانی ” مہر نے چڑ کر کہا تھا۔

” کیوں کیا تکلیف ہے تمھے اب؟ “

” کیا بتاؤں آپکو کہ جس کے نام کی مہندی لگوانی ہے وہ تو مجھے چھوڑنے والے ہیں ” مہر دھیما سا بولی۔ چہرے پر دکھ کے آثار صاف ظاہر ہو رہے تھے۔

” مہر میرا دماغ آج کے دن کم سے کم مت خراب کرنا۔۔۔ٹائم زیادہ نہیں ہے تم نے پارلر بھی جانا ہے، اس لئے جلدی سے اٹھ جاو اب ” وہ اسکی الماری سے کپڑے نکالے کہہ رہی تھیں۔ مہر نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور پھر واشروم میں چلی گئی۔

” پارلر لے جانے والا سارا سامان میں نے رکھ دیا ہے تمہارا۔۔۔عالیہ تمہارے ساتھ جارہی ہے۔۔چار بجے تک تم وہاں ہو سمجھی ” وہ واشروم سے باہر نکلی تو وہ اسے ہدایت کرنے لگیں۔ مہر نے بس سر ہلانے میں اکتفا کیا۔

” اور ہاں مجھے یاد آیا وہ علی اور سارہ کی بات پکی ہوگئی ہے رات کو تمھے بتانا یاد نہیں رہا ” وہ کہہ کر جانے لگیں تھی کہ مہر کی چیخ سے پلٹی تھیں۔

” ماں یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ؟ “

” افف ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے جو اس طرح چیخ رہی ہو ؟ ” رخسانہ بیگم نے اسے گھورا تھا۔

” لیکن یہ کب کیسے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ ” مہر جتنا حیران ہوتی کم تھا۔

” بتا تو دیا ہے اور ویسے بھی ابھی کل تو بات پکی ہوئی ہے، علی کو سارہ پسند آئی تو اس نے بھائی صاحب اور بھابھی کو بتایا انھوں نے میرے ذریعے پیغام بھجوایا تو تمہاری پھوپھو اور پھوپھا مان گئے۔۔۔۔اب کپڑے بدلو اور نیچے آؤ فوراً ” وہ پوری بات کرکے اسکے کمرے سے نکل گئیں۔ جبکہ مہر پیچھے سوچ رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے سب۔ اس نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا باور علی کو کال ملائی۔ دوسری ہی بیل پر علی نے کال پک کی تھی اور مہر اسکے فون اٹھاتے ہی شروع چکی تھی۔

” علی کیا ہے یہ سب ؟ تم اور سارہ کب کیسے ؟”

” کیا پوچھنا چاہ رہی ہو ؟ “

” علی کے بچے تمھے نہیں پتا میں کیا پوچھ رہی ہوں ؟ “

” اچھا کیا پوچھ رہی ہو ؟ ” علی اب اسے تنگ کرنے لگا۔

” میں تمہارا منہ توڑ دوں گی وہاں آکر ” مہر نے دھمکی دی۔

” توبہ توبہ کوئی کہے گا کہ تم آج کی دولہن ہو، گنڈا گردی مچا رکھی ہے ” علی نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگائے تھے۔

” علی !!!!!!!!! ” مہر نے دانت پیستے ہوئے اسکا نام پکارا تھا۔

” اچھا اچھا میری ماں۔۔۔۔ مجھے اچھی لگی تمہاری کزن تو بس رشتہ بھجوا دیا اور تمہاری پھوپھو وغیرہ مان گئے “

” لیکن علی تم جانتے ہو نا سارہ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مہر بس اتنا کہہ کر چپ ہوگئی تھی۔

” ہاں جانتا ہوں سارہ اور داؤد کے بارے میں، اس میں کیا بُرائی ہے بھلا “

” ہیں سچ میں تمھے کوئی ایشو نہیں ؟ ” مہر چہکی تھی۔

” ہاں بھئی مجھے کوئی ایشو نہیں ” علی نے تو کہہ دیا لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا مہر کیا بات پوچھ رہی تھی اور وہ کیا سمجھ رہا تھا۔

” او مائے گاڈ علی میں بہت خوش ہوں ” مہر نے خوشی سے کہہ کر فون بند کردیا۔ اور اب وہ سارہ کو کال کر رہی تھی۔ اب وہ اسکی طرف سے بھی جاننا چاہتی تھی کہ وہ رضامند ہے اس رشتے سے۔ وہ کال ملا رہی تھی لیکن دوسری جانب سارہ اسکی کال نہیں اٹھا رہی تھی۔

” افف سارہ ” مہر جھنجھلائی۔ ابھی وہ دوبارہ کال کرتی کہ فرزانہ اسے بلانے کیلئے آگئی۔ اور مہر نے سارہ سے بعد میں بات کرنے کا سوچ کر جلدی سے نیچے بھاگی۔ اسے ابھی بہت کچھ ٹھیک کرنا تھا۔

*********************

لاونج پر صوفے ہر بیٹھی وہ اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا رہی تھی۔ چہرے پر اب چمک سی تھی۔ اسے لگا اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ابھی صبح تک وہ پریشان سی تھی اب قدرے پرسکوں تھی۔ عالیہ کان سے فون لگائے سامنے موجود صوفے ہر آ بیٹھی۔

” افف کیا مسئلہ ہو اس لڑکے کا ” عالیہ نے فون کان سے ہٹایا۔

” کیا ہوا آپی ؟ ” مہر نے پوچھا۔

” ہونا کیا ہے ؟ داؤد کال نہیں اٹھا رہا۔۔۔۔پتا نہیں کیا ہے اسے اب کل رات گھر بھی نہیں آیا۔۔۔۔بس رات کو کال کر کے بتایا تھا کسی کام سے شہر سے باہر جا رہا ہوں ، اور اسکے بعد سے رابطہ نہیں ہو رہا ” وہ پریشان نظر آنے لگیں۔ اور مہر اس بات سے ایک بار پھر افسردہ ہو گئی۔

” تو وہ رات گھر بھی نہیں آئے ” مہر نے سوچا۔

” کیا نام لکھنا ہے ؟ ” سامنے بیٹھی مہندی والی نے مہر سے پوچھا۔ مہر نے خالی خالی نظروں سے سامنے بیٹھی مہندی والی کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھوں کو۔

” کیا نام ہے ان کا ؟ ” مہندی والی نے پھر پوچھا تو مہر کو ہوش آیا۔

” ہاں وہ۔۔۔۔۔۔جلاد لکھ دو ” مہر نے غصے میں کہا۔ مہندی لگانے والی حیران ہوئی۔

” ویسے بھی وہ ظالم جلاد بنے بیٹھیں ہیں اس وقت ” مہر بڑبڑائی۔ مہندی والی نے بھی کندھے جھٹکے اور جلاد لکھنے کیلئے جھکی ہی تھی کہ مہر بول اٹھی۔

” کیا کر رہی ہو ؟ میں نے تو ایسے ہی کہا تھا تو کیا تم سچ میں یہ ہی لکھ دو گی۔۔۔ داؤد نام ہے انکا۔۔۔لکھو اور ذرا اچھا سا لکھنا ” مہر نے اسے ڈپٹ کر کہا تھا۔ مہندی والی نے منہ بسورا تھا بھلا اسکا کیا قصور تھا۔۔۔(خودی تو کہا تھا کہ جلاد لکھو ہونہہ)۔

*********************

” ساری چیزیں رکھوا لیں گاڑی میں ” رخسانہ بیگم نے عالیہ سے پوچھا تھا جو ابھی بھی فون ہاتھ میں پکڑے داؤد سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

” جی چچی ! رکھوا دیا ہے “

” داؤد سے بات ہوئی ہے ؟ کہاں ہے وہ ؟ اب تک گھر نہیں آیا ” یہ سوال حفصہ بیگم نے پوچھا تھا۔

” نہیں دادو فون نہیں اٹھا رہا۔۔۔مجھے اب پریشانی ہو رہی ہے ” عالیہ نے کہا تو مہر جو صوفے پر بیٹھی اپنی مہندی خشک ہونے کے انتظار میں تھی اب اسے وہم سا ہونے لگا۔ پتا نہیں وہ کہاں تھا کیسا تھا۔ کہیں سچ میں وہ اسے چھوڑ تو نہیں گیا۔ ایسے کہیں خدشات اس کے دل میں آنے لگے۔ اس نے جلدی سے فرزانہ سے اپنا فون منگوایا جو وہ اپنے کمرے میں ہی چھوڑ آئی تھی۔ فرزانہ فون لائی تو مہر نے داؤد کے نمبر پر کال ہی۔ جیسے جیسے بیل جا رہی تھی ویسے ویسے مہر کے دل کی دھڑکن بڑھ رہی تھی وہ صوفے سے اٹھ کر باہر لان میں آگئی۔ دوسری طرف داؤد فارم ہاؤس کے بڑے باغ میں بیٹھا کافی پر رہا تھا جب سامنے میز پر پڑا ایک بار پھر بجا۔ اسے کب سے گھر سے کالز آرہی تھیں لیکن وہ نہیں اٹھا رہا تھا اور اب فون کرنے والی اسکی دشمن جان اسکی بیوی تھی۔ وہ غصہ تو بہت تھا اس وقت لیکن غیر ارادی طور پر وہ اس کی ہی کال کا انتظار کر رہا تھا۔ مہر کا نام فون کی سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ داؤد نے کال کاٹ دی۔ ایک بار پھر فون بجا تو داؤد نے پھر وہی کیا۔

” دیکھو ذرا میری کال کاٹ رہے ہیں، مجھ سے بات نہیں کرنی نا کریں کم سے کم عالیہ آپی کو تو اپنی خیریت کا بتا دیں ” دوسری طرف مہر اب پھر سے کال ملانے لگی لیکن داؤد نے اس بار اسکا فون بجنے دیا۔ نا اٹھایا نا کاٹا۔ مہر کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا جلدی سے اندر گئی۔ سامنے لاونج میں سب موجود چائے پر رہے تھے۔

” مہر میری چائے ختم ہونے والی ہے جلدی تم بھی کرو پھر ہم نے نکلنا ہے ” عالیہ نے اسے دیکھتے ہی کہا۔

” نہیں آپ پئیں پھر نکلتے ہیں مجھے بس ایک کام ہے، دادو ! آپکا فون کہاں ہے ؟ ” عالیہ کو جواب دے کر مہر نے حفصہ بیگم سے پوچھا۔

” اندر ہی ہوگا میرے کمرے میں ” انھوں نے بتایا تو وہ اندر ان کے کمرے میں گئی۔ مہر نے انکا فون لیا اور اپنا دوپٹہ فون سپیکر پر رکھا اسکا ارادہ حفصہ بیگم کی آواز میں داؤد سے بات کرنے کا تھا۔ دوسری طرف داؤد کا فون بجا تو اس نے آنکھیں چھوٹی کرنے فون کو دیکھا اور کال پک کی۔

” ہیلو داؤد بیٹا ! کدھر رہ گیا ہے گھر نہیں آنا ؟ کب سے تیری راہ تک رہے ہیں ہم۔۔۔۔بیٹا مہر بیچاری بہت۔۔۔۔۔”

” شٹ اپ مہر ” اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی داؤد نے کہہ کر فون بند کردیا۔ مہر فون کو گھور کر رہ گئی۔

” توبہ کتنے تیز ہیں۔۔۔۔میں نے کتنی دفعہ دادو کی آواز میں بابا کو کال کی ہے وہ تو کبھی نہیں پہچانے اور یہ ۔۔۔۔” مہر نے جھرجھری لی۔

***********************

مہندی کا فنکشن ایک بڑے سے بینکوٹ مارکی میں ہونا تھا۔ جہاں اسے وقت سب مہمان تقریباً آ چکے تھے۔ بڑا سا خوبصورت سا سٹیج مختلف پھولوں اور روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ سٹیج کے دائیں جانب تھوڑے فاصلے پر ڈی جے اپنے میوزک سسٹم کے ساتھ موجود تھا جو مہندی کے فنکشن کے مناسبت سے گانے بجا رہا تھا۔

مہندی کی یہ رات

یہ مہندی کی یہ رات

لئی سپنو کی بارات

سجنیہ ساجن

کے ہے ساتھ رہے

ہاتھوں میں ایسے ہاتھ

یہ مہندی کی یہ رات

لئی سپنو کی بارات

گوری کرکے سنگھار

گوری کرکے سنگھار

علی اپنی فیملی کے ساتھ وہاں موجود اب کسی اور کے آنے کا منتظر تھا اور بے شک وہ سارہ کا ہی انتظار کر رہا تھا۔ علی نے رشتہ اس کے پوچھے بنا ہی بھیج دیا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا سارہ اگر انکار کردے گی تو اس کے گھر والے شاید نا کریں لیکن اسے حیرت ہوئی کہ سارہ نے بھی ہاں کردی تھی۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب علی کا انتظار ختم ہوا تھا۔ سارہ اپنی بھابی اور امی کے ساتھ اسے آتی ہوئی دیکھی۔ پستے اور سنہری رنگ کا گھٹنوں تک آتا فراک نیچے کھلے پانچوں والا ٹراؤزر پہننے ہوئے تھی۔ ڈوپٹے کو پیچھے کمر سے گزار کر کلائیوں پہ ڈالا ہوا تھا۔ بال کھلے کرل کیے ہوئے تھے اور ہلکا میک اپ کیا تھا البتہ چہرے پر اداسی سی تھی لیکن پھر بھی وہ اس حسین شام کا حصہ لگ رہی تھی۔ وہ اسی پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور اب موقعے کی تلاش میں تھا کہ وہ اس سے بات کر سکے۔

**********************

مہر پیلے رنگ کی شرٹ اور پیلے ہی رنگ کا لہنگا زیب تن کیے ہوئی تھی۔ بالوں کی چٹیا بنی سر پر دوپٹہ سیٹ کیے ہوئے،پھولوں کے بنے زیور پہنے اور ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ پریشان سی بیٹھی تھی۔ دولہن بھی آگئی تھی اور مہمان بھی۔۔۔ کوئی نہیں آیا تھا تو وہ دولہا صاحب تھے۔ مہر نے کتنے ہی سوری آئندہ نہیں کروں گی جیسے میسیجز کیے تھے اسے لیکن اس نے نا جانے پڑھے بھی تھے کہ نہیں۔ اسکا دل بھی اداس تھا وہ شاید بہت زیادہ خفا ہوگیا تھا۔ وہ دیکھ رہی تھی حمزہ اور جنید سب اس سے رابطے کی کوشش کررہے تھے۔ ان سب کو ایسے دیکھ کر اسکی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ انھیں کیا بتائے وہ نہیں آئے گا۔ حفصہ بیگم سٹیج پر آئیں تو انھوں نے کہا کہ مہر کی رسم کر دیتے ہیں داؤد جب آئے گا اسکی تب ہو جائے گی۔ کچھ ہی پل گزرنے تھے جب اچانک چلتا گانا بند ہوا تھا اور دوسرا شروع ہوا تھا۔

جانم، دیکھ لو، مِٹ گئی دوریاں

میں یہاں ہوں، یہاں ہوں، یہاں ہوں، یہاں

جانم، دیکھ لو، مت گئی دوریاں

میں یہاں ہوں، یہ ہوں، یہ ہوں، یہاں

کیسی سرحدیں کیسے مجبوریوں

میں یہاں ہوں یہاں

دیکھتی ہو مجھے دیکھتی ہو جہاں

میں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں

مہر جو اداس سی بیٹھی تھی سامنے نظر اٹھی تو وہیں نظریں رک گئیں۔ وہ کالے رنگ کے کرتے پاجامے میں سنہرے رنگ کی ویس کوٹ زیب تن کیے ہوئے اپنی تر وجاہت کے ساتھ چلتا ہوا رہا تھا۔ چہرے پر ہمیشہ کی طرح رہنے والی سنجیدگی تھی۔ دفعتاً وہ سکندر صاحب کے پاس رکا انھیں شاید اپنی دیر سے آنے کی وجہ بتا رہا تھا۔ مہر کو لگا یہ گیت اسی کیلئے خاص لگایا گیا تھا۔ وہ ایسے ہی اسے مبہوت ہوئے دیکھے جا رہی تھی۔ جب انعم نے اسے ٹہوکا تھا۔

” تمہارے ہی ہیں آرام سے بعد میں دیکھنا ایسے سب کے سامنے گھور گھور کر دیکھو گی تو سب کہیں گے کتنی بے شرم دولہن ہے اپنے دولہے کو تاڑ رہی ہے ” انعم نے اسے چھیڑا تھا۔ مہر جھینپ گئی۔

” چلو اب مسکرا دو وہ آگئے ہیں کب سے ایسے اداس بیٹھی ہو ” اب پاس ہی بیٹھی بیا نے کہا۔ مہر دھیما سا مسکرا دی۔ تھوڑی دیر بعد سب نے آکر رسم کی۔ عالیہ سٹیج اتر کر داؤد کے پاس گئی۔

” تمہاری کلاس میں گھر چل کر لوں گی۔۔۔ پہلے وہاں سٹیج پر چلو ” عالیہ نے داؤد کو کہا۔

” میرا جانا ضروری نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں ” وہ وہاں جانا بھی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے پتا تھا اگر مہر کو دیکھے گا تو سارے شکوے شکایتیں بھول جائے گا اور اس بار وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔

” داؤد چپ کرکے آؤ اور وہاں بیٹھو ایسے اچھا نہیں لگتا” عالیہ نے پھر اسرار کیا تو نا چاہتے ہوئے بھی اسے سٹیج پر جانا پڑا۔ عالیہ اسے لے کر وہاں آئی جہاں مہر اپنی دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے تصویریں بنوا رہی تھی۔ داؤد کی نظر اس پر پڑی تو وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا وہ اسے دیکھتے ہی سب کچھ بھول چکا تھا۔ آس پاس کے منظر اور لوگ سب غائب تھے کوئی تھا تو وہ مسکراتی ہوئی مہر۔ داؤد ٹکٹکی باندھ اسے دیکھے جا رہا تھا۔ مہر نے بھی ذرا کو سامنے دیکھا تو داؤد کو یوں خود کو دیکھتے پایا۔ داؤد عالیہ کی آواز پر ہوش میں آیا اور مہر کے پاس جا بیٹھا۔ مہر بھی اب سنجیدہ اور سیدھے ہو بیٹھی تھی۔

************************

” میری بات سنیں پلیز سارہ ” علی کب سے اس سے بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن وہ منہ پھیر کر چکی جاتی۔

” یار ایسا اچھا لگوں گا کب سے اپنے پیچھے خوار کر رہی ہیث مجھے ” وہ اسکے پیچھے چلتا ہوا مزید گویا ہوا تو سارہ پلٹی تھی۔

” آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ کیوں کررہے ہیں یہ سب ؟ کس سے پوچھ کر میرے گھر رشتہ بھیجوایا ؟ ” سارہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔

” مجھے لگا دیر نہیں کرنی چاہیے اب پاکستان آیا ہی ہوں تو شادی کرکے اپنی دولہن کو ساتھ لے جاؤں ” علی تھوڑا شریر ہوا۔

” آپ کا دماغ خراب ہے، میں سنجیدہ ہوں “

” یار اب فائدہ ان باتوں کا آپ نے تو خود بھی ہاں کردی ہے “

” جی ہاں کی ہے ! لیکن آپ جانتے ہیں اس ہاں میں میری دل کی رضا شامل نہیں ہے، میرے بابا نے بہت مان سے پوچھا تھا تو میں انھیں انکار نہیں کر پائی کیونکہ میں انھیں اپنی وجہ سے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی اب۔۔۔۔۔” وہ تھوڑی دیر سانس لینے کیلئے رکی اور پھر دوبارہ بولی۔

” یہ جو رشتہ ہمارے درمیان بنے کا سمجھوتے کا ہوگا “

” لیکن کیوں ؟ آپ ایک رشتہ ٹوٹنے پر ایسا کیوں کر رہی ہیں ؟ مجھے آپ کے اس رویے کی بالکل سمجھ نہیں ہے۔۔۔” علی اب سنجیدگی سے استفسار کررہا تھا۔

” آپ کچھ نہیں جانتے اس لئے اس موضوع کو رہنے دیں” سارہ کہہ کر وہاں سے جانے لگی تھیںکہ علی نے اسکا راستہ روکا تھا۔

” آپ ایسے نہیں جا سکتیں “

” دیکھیں یہاں تماشا کرنے کی ضرورت نہیں ہے “

” سارہ !!! مجھے وجہ بتائیں “

” ٹھیک ہے تو سنیں میں داؤد سے محبت کرتی ہوں ” وہ غصے میں کہہ کر اسکے پاس سے گزر کر جاچکی تھی۔ جبکہ علی پیچھے سن رہ گیا۔

***********************

سارہ مہر کے پاس سٹیج پر آئی تو مہر نے اسے گلے لگایا۔

” تم مجھے اب ملنے آرہی ہو ” مہر نے خفگی سے کہا۔

” بہت پیاری لگ رہی ہو مہر ” سارہ نے اسکا گال چوما۔ مہر مسکرائی۔

” سارہ میں وہ تم سے بات کرنا چاہتی تھی ” مہر نے دھیمے سے کہا۔ داؤد انکو باتیں کرتے دیکھ وہاں سے چلا گیا تھا۔

” ہاں بولو ” سارہ نے اجازت دی۔

” وہ تم علی کے ساتھ۔۔۔۔میرا مطلب ہے اس رشتے سے خوش تو ہو نا ؟ ” مہر کے پوچھنے پر سارہ کو احساس ہوا کہ مہر کو کتنی پروا تھی اسکی سارہ کو بے ساختہ اس پر پیار آیا۔

” مہر تم پریشان مت ہو میری جان، اور بالکل میں خوش ہوں ” سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” سچ ؟ علی بہت اچھا ہے سارہ تم اسکے ساتھ بہت خوش رہو گی ” مہر بے حد خوش تھی۔ سارہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔

*********************

مہندی کے فنکشن کے بعد سب گھر واپس آئے تو لاونج میں سب مل بیٹھے باتیں کرنے لگے۔ آمنہ بیگم سب کیلئے چائے بنانے کچن میں گئی تھیں۔ عظمیٰ بیگم کی فیملی مارکی سے ہی اپنے گھر واپس چلے گئے تھے۔ مہر اپنے بابا کے پاس بیٹھی ان سے باتیں کر رہی تھی۔ داؤد گھر کے اندر داخل ہوا تھا بنا کسی کی طرف دیکھے اوپر چلا گیا۔ مہر نے اسے جاتے دیکھا تو سب سے بہانہ بنا کر اٹھ گئی کہ وہ تھک گئی ہے اور سونا چاہتی ہے۔ مہر اوپر آئی تو داؤد کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ مہر کو مایوسی ہوئی لیکن پھر آگے بڑھ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ مہر دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی تو وہ کمرے میں کہیں نہیں تھا۔ وہ بالکونی میں کھڑا دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مہر اسکے پیچھے کھڑی بات کرنے کیلئے ہمت کررہی تھی جب داؤد کی آواز سے حیران ہوئی کہ انھیں میرے آنے کا کیسے پتا چلا۔

” کیا کرنے آئی ہو یہاں ؟ ” وہ بنا اسکی طرف دیکھے بولا۔

” مم۔۔۔۔۔۔میں وہ۔۔۔آپ ناراض ہیں مجھ سے ؟ ” مہر نے کہا تو داؤد اسکی طرف پلٹا۔

” تو کیا نہیں ہونا چاہیے ؟ ” داؤد سینے پر ہاتھ باندھے پوچھنے لگا۔

” آئی ایم سوری ! میں نے آپکو ہرٹ کیا ” مہر سر جھکائے کہہ رہی تھی۔

” بس یہ ہی کہو گی ؟ “

” اور کیا کہوں ؟ “

” میسیجز پر تو بہت کچھ کہہ رہی تھی اور اب جب سامنے ہوں تو کچھ نہیں کہنے کیلئے ” داؤد چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا۔

” تم تو کہہ رہی تھی مجھے منانے کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہو۔۔۔ رائٹ ؟

داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تائید چاہی۔ وہ آسکی خمار آلود آنکھوں میں دیکھ نا پائی اور نظریں جھکا گئی۔

” تو پھر میں ہاں سمجھوں ؟” اسکے کچھ نا کہنے پر داؤد نے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔ داؤد کی گمبھیر آواز نے اسکا دل دھڑکا دیا اس لیے فوراً ہی گھبرا کر خود کو اسکی گرفت سے چھوڑوانہ چاہا۔

” اب اس تخریب کاری کا کوئی فائدہ نہیں تم خود چل کر میرے پاس آئی ہو۔۔۔اور مہر اگر میری ناراضگی دور کرنا چاہتی ہو تو مجھے منانا پڑے گا “

” کک۔۔۔۔۔کیسے ؟ ” مہر نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔ اسکے پوچھنے پر داؤد نے اسکے کان کے قریب کچھ کہا۔

” نن نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی ” مہر نے سرخ چہرے کے ساتھ انکار کیا۔

” کرنا تو پڑے گا ۔۔۔۔۔ ورنہ تم یہاں سے جا سکتی ہو ” داؤد نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا اور اس سے دور ہو کر کھڑا ہوگیا۔ مہر نے بالکل بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکال کر بیچارگی سے دیکھا۔

” اب کیا ہے جاؤ نا ” اسکے کہنے پر مہر پلٹ کر جانے لگی تھی لیکن پھر ایک گہری سانس خارج کی اور دوبارہ اپنا رخ داؤد کی طرف مڑا وہ ایسے ہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ مہر آگے بڑھ کر داؤد کے سینے سے لگ گئی۔

” میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں داؤد ” وہ پہلی بار اسکے سامنے اپنی محبت کا اظہار کررہی تھی۔

داؤد مسکرایا تھا اس نے اسے خود میں بھینچ لیا جیسے وہ مہر کو خود میں سما لینا چاہتا ہو۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد داؤد نے اسے خود سے الگ کیا۔

” اچھا طریقہ ہے یہ بھی لیکن وہ تو کرنا پڑے گا میں پھر ہی مانوں گا ” داؤد نے شوخی سے کہا۔ مہر نے آنکھوں میں خفگی سموئے اسے گھورا تھا۔

“میں بھی آپ سے ناراض ہوں اور وہ بھی بہت زیادہ والا” اسکی بات اگنور کرکے اپنا شکوہ اسکے سامنے رکھا۔

” اچھا اور یہ کب ہوا ؟ “

” آپ نے کہا تھا آپ مجھے چھوڑ دیں گے ” یہ بات کرتے ہوئے مہر کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔

” جینا چھوڑ سکتا ہوں لیکن تمھے نہیں چھوڑ سکتا ” داؤد نے اسکا چہرہ تھام کر کہا۔ مہر آنکھوں میں چمکتے آنسوؤں سے مسکرائی۔ داؤد کو وہ اس وقت بہت پیاری لگی۔ داؤد نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لیے اندر روم میں آیا۔ داؤد نے اسکی کنپٹی کو چھوا اور اپنے قریب کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ داؤد کی محبت بھری جزبات سے بھرپور نظروں کے ارتکا سے مہر کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔

” اچھا آپ نے میری مہندی دیکھی ” اسکا دھیان خود سے ہٹانے کیلئے اس نے اپنے ہاتھ اس کے سامنے کیے تھے۔ داؤد نے اسکے ہاتھ کی ہتھیلی کو چوما تو مہر خود میں سمٹ سی گئی۔

” آ۔۔۔۔آپ کا نام لکھا ہے وہ ڈھونڈیں ” مہر نے جلدی سے کہا۔

” میرا نام ؟ “

” جی آپکا نام “

” یہ تو مشکل ہے ” داؤد نے اسکے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

” کیوں مشکل ہے ؟

” اچھا !! کیا نام لکھوایا ہے میرا ؟ کھڑوس؟ سڑیل اور سم تھینک ” داؤد نے پوچھا۔

” ہااااا ! آپ نے ایسا سمجھا ہے مجھے ” مہر نے اپنی مسکراہٹ کو لبوں پر دبا کر کہا اور پھر ایک دم کھلکھلا کر ہنس دی۔

********************

اگلے دن کا سورج ڈھیر ساری خوشیاں لئے طلوع ہوا تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے اور سب ناشتہ کر رہے تھے۔ داؤد بھی نیچے ڈائننگ پر تھا۔ سب ہی آج کی مصروفیات کی باتیں کر رہے تھے۔ داؤد نے چائے ختم کی اور اٹھ کر جانے لگا۔

” داؤد !! آج بیٹا دیر نہیں کرنی ” آمنہ بیگم نے اسے کل کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کروائی۔

” جی آج نہیں ہوگا ایسا کچھ ” داؤد نے جواب دیا اور مسکراتے ہوئے زینے چڑھنے لگا۔ اب وہ انھیں کیا بتاتا آج خود بھی وہ دیر نہیں چاہتا تھا۔ اس سے پہلے وہ اپنے کمرے میں جاتا مہر اپنے کمرے سے نکلی۔ داؤد وہیں کھڑا اسکا انتظار کرنے لگا۔

” خیریت تم آج اتنی صبح ” اسکے پاس آنے پر داؤد نے پوچھا۔

” ہاں وہ آج ہماری شادی۔۔۔۔۔۔۔” وہ جلدی سے کہتی کی داؤد کی مسکراتی نظروں کو دیکھ کر چپ کر گئی۔

” ہاں آج ہماری ” داؤد اسکے قریب ہوا تھا۔

” مجھے جانا ہے ” مہر اسکے تیور دیکھ کر جلدی سے وہاں سے فرار ہونا چاہا۔

” مہر ! تم ڈر تو نہیں رہی ” داؤد نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” نن نہیں میں کیوں ڈروں گی ” مہر ڈر تو رہی تھی لیکن داؤد کے سامنے خود کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔

” گڈ !! ” داؤد نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تھا اور اسے جانے کیلئے راستہ دیا تو مہر تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی۔

********************

داؤد آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا۔ چہرے پر اج ایک الگ سی خوشی تھی۔ اس نے ڈرایسنگ پر رکھا پرفیوم اٹھایا یہ وہ ہی پرفیوم تھا جو عالیہ دبئی سے لائی تھی اور مہر کو اسکی مہک بہت پسند آئی تھی داؤد نے مسکراتے ہوئے خود پر سپرے کیا۔ اور ایک آخری نگاہ خود پر ڈال کر کمرے سے نکل گیا۔

**********************

بینکوٹ کو شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا۔ بارات کے فنکشن کا باقاعدہ سے آغاز ہو چکا تھا۔ داؤد ابراہیم ڈراک بلیو شیروانی پہنے ہوئے سٹیج پر موجود تھا۔ تھوڑی دیر بعد مہر کو بھی سٹیج پر لایا گیا۔ مہر میرون لہنگا زیب تن کیے ہوئے تھی۔ عروسی لباس میں مشرقی دولہن کے روپ میں سجی وہ کسی اور ہی دنیا کی لگ رہی تھی۔ داؤد کو آج اپنا دل سنبھلنا مشکل لگا۔ مہر اسکے پہلو میں شرمائی گھبرائی سی بیٹھی تھی کیونکہ یہاں آنے سے پہلے بیا اور انعم نے خوب اسے ستایا تھا۔ باقی سب مہمان ستائیس بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ دوسری طرف علی بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھا۔ سارہ کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ سارہ نے بھی آج کالے ہی رنگ کا کامدار جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا۔ سارہ خود پر کسی کی نظروں کا ارتکا محسوس ہوا تھا تو نظریں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا اور جب علی پر نظر گئی تو وہ اس سے رخ مڑ کر کھڑا ہوگیا۔ سارہ کو اپنی کل والی حرکت پر بہت شرمندگی تھی۔ وہ اس سے بات کرنے کیلئے اسکی طرف بڑھی۔

” سنو ! ” سارہ نے اسکے پیچھے کھڑے اسے پکارا۔

” کہو ! ” علی اسکی طرف پلٹا تھا۔

” میں کل کیلئے شرمندہ ہوں آئی ایم سوری مجھے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی”

” ہمممممم ! ایٹز اوکے ! ” علی نے کہا۔ وہ پلٹ کر جانے لگی تھی جب اس نے پکارا۔

” سارہ !! میں آپ سے اتنا کہوں گا کہ میری محبت پاہ کر آپ سب بھولا دیں گی اور مجھے اب بھی کوئی اعتراض نہیں میں آپکو دل سے اپنانا چاہتا ہوں، اور مجھے یقین ہے میرے نکاح میں آنے کے بعد آپ بھی مجھے چاہنے لگیں گی “

” مہر ٹھیک کہتی ہے آپ بہت اچھے ہیں ” سارہ نے بنا پلٹے کہا تھا۔

” وہ تو میں ہوں ” علی نے کندھے جھٹک کر کہا۔ سارہ نے اسکی طرف دیکھا اور مسکرائی اور علی بھی ہنس دیا۔

********************

مہر اور داؤد سٹیج پر موجود تھے اور کیمرا مین انکا فوٹو شوٹ کررہا تھا۔ ابھی بھی دونوں کھڑے ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔

” مہر آج تم کیا کرو گی ” داؤد نے اسے تنگ کرنے کیلئے کہا۔

” کیا مطلب ؟ ” مہر نے پوچھا۔

” مطلب آج تو تم میرے روم میں ہوگی۔۔۔۔” داؤد نے آدھی بات کرکے اسے پوری بات کا مقصد سمجھانا چاہا۔ مہر نے اس کی بات کا اشارہ سمجھ کر تھوک نگلا تھا۔

” تمھے ڈر تو نہیں لگ رہا ” داؤد نے مسکراہٹ ضبط کیے پوچھا۔ مہر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بچوں کی طرح دو بار ہاں میں سر ہلایا۔

” لگنا بھی چاہیے ” داؤد نے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔

” کیوں ؟ ” مہر نے آنکھیں پھیلائے پوچھا۔

” یہ تو گھر جا کر بتاؤں گا ” داؤد نے کہہ کر سامنے دیکھا اور کیمرا مین کو اشارہ کیا تو وہ وہاں سے ہٹ گیا۔ داؤد نے مہر کو دیکھا جو خفگی سے اسے گھورنے لگی۔ سٹیج کے سامنے حفصہ بیگم دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیں انکی آج دلی خواہش پوری ہو گئی تھی۔ انکے پوتے کا گھر بس چکا تھا اب انکی کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی۔

**********************

چھ ماہ بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ منظر ایک خوبصورت کمرے کا تھا جہاں مہر بڑی سی کھڑکی کے سامنے کھڑی حسرت بھری نظروں سے باہر دیکھ رہی تھی۔ سلک کی شارٹ شرٹ اور سلک کا ہی گھٹنوں سے تھوڑا نیچے ٹراؤزر پہننے ہوئے تھی جو یقیناً اسکا نائٹ سوٹ تھا۔ مہر کے پیچھے بیڈ پر داؤد بلیک ٹراؤزر میں بنا شرٹ کے سو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد داؤد نے کروٹ بدلی تو مہر کو بیڈ پر نا پا کر مندی مندی آنکھوں سے دیکھا وہ اسکی طرف پشت کیے باہر دیکھ رہی تھی۔ داؤد اٹھا تھا اور اسکے پاس جا کر پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔

” یہاں کیا کر رہی ہو ؟ ” داؤد نے پوچھا۔ لیکن مہر ہونز ایسے ہی چپ کھڑی رہی۔

” کیا ہوا ہے ؟ ” داؤد نے اسے چپ دیکھ کر کہا۔

” میں ناراض ہوں ” مہر نے منہ پھلائے کہا۔

” کیوں؟ ” داؤد نے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔

” ہم دو دن سے یہاں ہنی مون پر آئیں ہیں اور ایک بھی بار نا اس ہوٹل سے نا اس کمرے سے باہر گئے ہیں ” مہر نے شکوہ کیا۔

” میں نے کہا جیٹ لیگ اتر جائے گا پھر چلیں گے اور آج چلیں گے ناں ” داؤد نے اسے کہا۔

” آج جائیں گے ؟ ٹھیک ہے میں تیار ہوتی ہوں ” وہ خوشی سے کہتے اس کے حصار سے نکلی۔

” نہیں ابھی نہیں ! ” داؤد نے اسے روکا۔ تو مہر نے پھر سے منہ لٹکا لیا۔

” میرا مطلب ہے ابھی صبح کے آٹھ بج رہے ہیں اور ویسے بھی ہم لیٹ سوئے تھے، تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں پھر چلیں گے مجھے بہت نیند آرہی ہے ” داؤد نے اس سمجھایا اور اپنے ساتھ لیے بیڈ پر آگیا۔

داؤد اور مہر شادی کے چھ ماہ بعد ہنی مون پر پیرس آئے تھے۔ اتنی دیر بعد آنے کی وجہ داؤد کے ضروری آفس کے کام تھے اور سارہ اور علی کی شادی تھی۔ سارہ اور علی کی شادی کچھ دن پہلے ہی ہوئی تھی جس کے بعد داؤد اور مہر یہاں پیرس آگئے تھے۔ مہر پہلی بار پاکستان سے باہر آئی تھی۔ اس لئے وہ بہت خوش تھی اس ٹرپ کیلئے۔ داؤد نے اسے کہا تھا وہ ہر سال اسے کسی نا کسی ملک ہنی مون پر لے جائے گا۔

*********************

دونوں اس وقت ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے تھے۔ مہر بچوں کی طرح ہر چیز دیکھ رہی تھی۔ وہ اس وقت جینز کے اوپر بلیک لانگ کوٹ پہنے ہوئے تھی۔ داؤد نے بھی جینز پر بلیک جیکٹ پہنی تھی۔ وہ آس پاس کا ماحول دیکھنے میں مگن تھی اور داؤد اسے دیکھنے میں۔ دفعتاً مہر کی نظر سامنے ایک گوری میم پر پڑی جو اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے داؤد کو گھور رہی تھی۔ مہر نے اسے دیکھا اور پھر داؤد کو۔ اس غصہ آیا لیکن ضبط کر گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ گوری میم چلتی ہوئی داؤد کے پاس آئی اور کچھ فرانسیسی زبان میں کہا جسے سن کر داؤد نے مسکرا کر اسے اسی زبان میں جواب دیا اور وہ ہنستے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ داؤد مہر کی طرف پلٹا جو منہ کھولے اسے گھور رہی تھی۔

” کیا کہہ رہی تھی وہ چڑیل ” مہر نے داؤد کے پاس آکر پوچھا۔

” کہہ رہی تھی تم بہت ہینڈسم ہو ” داؤد نے ہنستے ہوئے بتایا اسے مزہ آیا مہر کو جیلس دیکھ کر۔

” اسکی تو میں۔۔۔۔ ” مہر اسکے پیچھے لپکتی کے داؤد نے اسے اپنے حصار میں لئے روکا تھا۔

” مہر سٹاپ اٹ ! “

” آپ نے بھی کچھ کہا تھا۔۔۔ کیا کہا تھا ؟ ” مہر نے خود کو چھوڑواتے ہوئے پوچھا۔ لیکن داؤد کی گرفت مضبوط تھی۔

” میں نے بس شکریہ کہا ” داؤد کے کہنے پر مہر نے اسے گھورا پھر اس اپنے پاوں اونچے کرکے داؤد کے سارے بال بگاڑ دیے۔

” مہر یہ کیا حرکت ہے ؟ ” داؤد نے تھوڑا سختی سے کہا۔

” اس لیے کیے ہیں تاکہ آپ ہینڈسم نا لگیں اور کوئی فرنگی آپکو دیکھے نا “

” او ریلی ؟ تمھے کیوں اتنا فرق پڑتا ہے، وہ تم ہی تھی نا جو میری دوسری شادی کروا رہی تھی ” داؤد نے اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا۔ اسکی بات سے مہر کا دل دکھا تھا اس لیے وہ وہاں سے بھاگی تھی۔ داؤد بھی اس کے پیچھے گیا۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے تیز تیز سڑک پر چل رہی تھی اور داؤد اسکے پیچھے۔

” مہر !! اوکے یار آئی ایم سوری ” داؤد نے اسے جلدی سے پکڑ کر روکا تھا وہ ایسے ہی چہرہ جھکائے کھڑی رہی۔

” مہر لوک ایٹ می ” داؤد نے اسکا چہرہ اوپر کیا تو اس نے آنکھیں بند کرلیں۔

” مہر !!!! ” داؤد کے پکارنے پر مہر نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔

” آپ مجھے اس بات کا طعنہ ماریں گے اب ؟ ” مہر نے کہا۔

” یار غلطی سے کہہ دیا ہے سوری ” داؤد نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسکے بالوں پر اپنے لب رکھے تھے۔ مہر آنکھیں بند کیے مسکرائی۔

” اچھا آؤ چلیں ” داؤد اسکا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا لیکن وہ وہیں کھڑی رہی۔

” مجھے کچھ کہنا ہے “

” کہو !! “

” آئی لو یو ڈیم اٹ ” مہر کہہ کر ہنسنے ہوئے داؤد کے گلے لگی۔ داؤد بھی مسکرا دیا اسے یاد آیا کہ اس نے پہلی بار مہر سے یہ ہی کہہ کر اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔

” آئی لو یو ٹو ” داؤد نے کہہ کر اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔

*******************

ختم شد۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *