Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 21) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 21) Part - 1
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
” دادو مجھے آپ سے بات کرنی تھی میں ” اس سے پہلے داؤد اپنی بات جاری رکھتا مہر بول پڑی۔
” دادو آپ بہت تھک گئی ہیں نا آج تو ابھی آپ آرام کریں” داؤد رخ مڑے دوبارہ اسے دیکھنے لگا۔
” نہیں میں ٹھیک ہوں، تم کیا کہہ رہے تھے داؤد ” حفصہ بیگم نے داؤد سے پوچھا۔
” دادو رات بہت چکی ہے آپ کل بات کر لیجیے گا ” مہر صوفے سے اٹھ کر انکی طرف آئی۔ داؤد نے غصے سے اسے گھورا تھا۔
” ائے ہائے کیا ہے تجھے لڑکی ” حفصہ بیگم کو بھی اسکا بار بار ٹوکنا ناگوار گزرا۔
” دادو آپکی اچھی صحت کیلئے ضروری ہے آپ ٹائم پر سوئیں ” مہر ان کے سر پر کھڑی کہہ رہی تھی۔
” اچھا ! جو تو میرے ساتھ دو گھنٹے گزار کے جاتی ہے یہ بات تب تو تم نے کبھی نہیں کہی “
” وہ میں۔۔۔۔۔۔دادو آج گھر میں سب آئے ہوئے تھے تب سے آپ ایک منٹ کیلئے بھی اپنے کمرے میں نہیں آئیں آرام کی گرذ سے اسی لئے میں کہہ رہی تھی اب بس آپ آرام کریں، اور باتوں کا کیا ہے وہ تو ہوتی رہیں گی۔۔۔۔کل صحیح ” جلدی جلدی سے اس نے بہانہ گھڑا اور اس پورے وقت میں اس نے ایک بار بھی داؤد کی طرف نہیں دیکھا تھا جو کب سے اسکی اس فضول حرکت پر ضبط کیے ہوئے تھا۔
” اچھا ٹھیک ہے میری ماں ” حفصہ بیگم نے بھی ہار مانی تھی۔
” ہم چلتے ہیں ” مہر نے داؤد کو وہاں سے اٹھانا چاہا۔ داؤد نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا اور حفصہ بیگم کو شب بخیر کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ مہر نے شکر کی سانس خارج کی۔
********************
داؤد اپنے کمرے میں آکر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا اسے مہر پر غصہ آرہا تھا۔ وہ ہر ہال میں دادو سے آج بات کرکے یہ معاملہ ختم کرنا چاہتا تھا اور اب مزید اسے کل تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ کمرے سے نکل کر وہ باہر آیا اور نیچے جھانکا وہ ابھی تک اوپر نہیں آئی تھی اور وہ اسی کا اوپر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ واپس پلٹتا جب وہ کچن سے نکلتی دیکھی۔ مہر نے بھی اوپر کی جانب داؤد کر دیکھا تو گھبرا سی گئی۔ اسکی خشمگیں نگاہوں سے ہی مہر کو خوف آنے لگا۔ آہستہ آہستہ وہ سڑھیاں چڑھتی جا رہی تھی۔ دل میں ہمت بھی کر رہی تھی داؤد سے بات کرنے کی لیکن ڈر بھی رہی تھی۔ جیسے ہی مہر اوپر آئی داؤد نے آگے بڑھ کر اسکی کلائی تھامی اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ مہر بھی سر جھکائے اس کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ ٹیرس پر آکر داؤد نے اسکی کلائی چھوڑ دی۔
” کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم نیچے کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھی؟” داؤد سینے پر ہاتھ باندھے نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ مہر جو ابھی تک سر جھکائے کھڑی تھی نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔
” آپ دادو سے کیا بات کرنے والے تھے؟” مہر نے الٹا سوال دغا۔
” تمہے نہیں پتا تھا میں کیا بات کرنے والا تھا ؟”
” نن۔۔۔۔ نہیں “
” میں ہماری بات کرنے والا تھا ڈیم ایٹ ” داؤد نے دانت پستے ہوئے کہا تھا۔ اسے مہر پر غصہ تھا وہ پوری کوشش کر رہا تھا خود پر قابو کر لے لیکن یہ لڑکی ہمیشہ اسکا ضبط آزماتی تھی۔
” اور میں چاہتی ہوں آپ ان سے ہمارے بارے میں کوئی بات نہیں کریں ” ہمت کرتے ہوئے مہر نے کہا۔
” اور تم ایسا کیوں چاہتی ہو ؟” اس نے آنکھوں کی پتلیاں سکوڑیں۔
” آپ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سارہ۔۔۔۔۔۔۔سے شادی کیلئے انکار نہیں کریں” داؤد بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھے گیا۔
” پلیز آپ سارہ سے شادی کیلئے انکار نہیں کریں ” مہر نے ایک بار پھر کہا۔ داؤد غصے میں آگے بڑھا تو مہر ڈر کر پیچھے ہوئی۔
” تم !!!!!! تم پاگل ہوگئی ہو کیا ؟ یہ کیا فضول بات ہے ہاں؟ داؤد دھاڑا تھا۔
” فضول بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ پلیز میری بات ایک بار آرام سے سنیں ” مہر نے التجا کی۔
” میں ایسی کوئی بات سننے کے موڈ میں نہیں ہوں، میں کل صبح ہوتے ہی دادو سے بات کروں گا۔۔۔۔۔۔تمہاری اور میری ” آخری لفظوں پر زور دیتے ہوا کہا۔
” آپ سمجھ نہیں رہے “
” میں سمجھنا بھی نہیں چاہتا “
” دیکھیں میری بات سنیں سارہ کا دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔ وہ آپ کو بے تحاشہ چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔ اگر آپ انکار کردیں گے تو وہ بکھر جائے گی “
” اور میرا کیا ہاں ؟” داؤد نے اسکے دونوں بازؤں کو سختی سے تھامتے ہوئے زخمی لہجے میں پوچھا تھا۔ مہر کے دل کو کچھ ہوا۔ لیکن یہ وقت کمزور پڑنے کا نہیں تھا مہر سوچ چکی تھی۔
” اور تم۔۔۔۔۔۔تمھے کوئی فرق نہیں پڑے گا ؟ مجھے سارہ کے ساتھ دیکھ کر “
” مجھے کیوں۔۔۔۔۔۔۔ کوئی فرق پڑے گا ۔۔۔؟ میرے دل میں۔۔۔۔۔۔۔ آپ کیلئے ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ” مہر نے داؤد سے آنکھیں چرائی۔
” ڈونٹ یو ڈیر !! میرے سامنے یہ جھوٹ مت کہنا کہ تمھے مجھ سے محبت نہیں ہے۔۔۔۔۔کیونکہ مس مہر سکندر۔۔۔۔۔۔ کل رات جب تمھے میرے اور سارہ کے رشتے کا پتا چلا تھا جیسے تم نے میرے سامنے ریایکٹ کیا تھا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ بھی مجھ محبت کرتی ہیں ” داؤد نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔
” آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے ” مہر کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
” اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ میری زندگی ہے اس لیے یہ فیصلہ بھی میرا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔کہ مجھے شادی کس سے کرنی ہے اور کس سے نہیں۔۔۔۔۔ اور سارہ زے شادی میں ہرگز نہیں کروں گا ” داؤد کہہ کر جانے کیلئے مڑ گیا۔ جبکہ مہر اسکی بات سن کر پریشان ہوگئی۔
” میری بات سنیں پلیز ” مہر نے داؤد کے آگے آکر اسکا راستہ روکا۔ داؤد شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” آپ سمجھ کیوں نہیں رہے؟؟؟ سارہ بہت چاہتی ہے آپکو وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔پلیز ایسا نہیں کریں۔۔۔۔۔۔۔وہ بہنوں جیسی ہے میری۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیسے اس سے اسکی محبت چھین سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔” وہ بہتے آنسوؤں سے کہتی جا رہی تھی۔ داؤد کو اس کے آنسو تکلیف دے رہے تھے۔
” مہر !!!! ٹرائے ٹو انڈر سٹینڈ۔۔۔۔۔۔۔سارہ کبھی بھی میرے ساتھ خوش نہیں رہ پائے گی۔۔۔۔۔ہم تینوں کی زندگیاں ایسے برباد ہوں گی۔۔۔۔۔پہلے میں بھی اسی لیے سارہ سے شادی کررہا تھا کہ اسکا دل نا ٹوٹے اور میں ہاں بھی کر چکا تھا اپنی محبت کو بھلا کر میں تیار تھا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب ایسا نہیں کیونکہ اب تم بھی مجھے چاہتی ہو ایسے میں جب ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں تو کیوں ہم ایک نا ہوں؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کیوں کسی تیسرے کیلئے اپنی محبت کو قربان کریں ؟؟؟” داؤد نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اب کی بار تھوڑے دھیمے لہجے میں کہا۔
” میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔ آپ پلیز میری بات مان لیں۔۔۔۔۔میرے لئے سارہ کو اپنا لیں۔۔۔۔۔پلیز ” تاروں جیسے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر اسکی گردن پہ لڑھک رہے تھے۔ اسکی پھر سے وہ ہی رٹ پر داؤد کا غصہ واپس عود آیا تھا جو اس کے آنسو دیکھ کر کم ہوا تھا۔
” مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ سختی سے پیش آؤں ” وہ خونخوار نظروں سے مہر کو دیکھتے ہوئے بولا۔
” اور آپ۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھے مجبور مت کریں کے میں کچھ ایسا کروں کے ساری زندگی آپ مجھے دیکھ نہیں پائیں گے ” اپنے آنسوؤں کو صاف کرکے اس نے اپنے لہجے کو مضبوط بنا کر کہا۔
” کیا کرو گی ہوں !!!!” داؤد حلق کے بل دھڑا تھا۔ رگیں اُبھری تھیں۔ مہر ایک پل کیلئے سہم گئی تھی۔ لیکن اسے یہ کرنا تھا ہر حال میں سارہ کیلئے۔
” مم۔۔۔۔۔۔میں یہاں سے۔۔۔۔۔اس گھر سے کہیں بہت دور چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔سب کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے۔۔۔۔۔بہت دور۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے انکار کیا تو۔۔۔۔۔اور آپ اپنی ضد کے ہاتھوں پہلے بھی تایا ابو کو کھو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔اب ایسا کریں گے تو مجھے بھی کھو دیں گے” وہ سرسراتے لہجے میں جان لیوا بات کہہ گئی۔ داؤد بے یقینی سے اسے دیکھے گیا۔ اسکا دل ایک پل کو رک سا گیا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا مہر اسے اس موقعے پر اتنی بڑی بات کہہ دے گی۔
” تم۔۔۔۔۔۔تم مجھے میرے بابا کی موت کا قصوروار ٹھہرا رہی ہو؟؟ ” داؤد کا دل بری طرح دکھا تھا۔
” نن۔۔۔۔۔نہیں میں۔۔۔۔۔آپ۔۔۔۔” مہر کی زبان اسکا ساتھ دینے سے انکاری تھی۔
” گیٹ اوٹ !!!! ” داؤد دھاڑا تھا۔ مہر کو جب احساس ہوا وہ غصے میں کیا کہہ گئی ہے تو داؤد کا ہاتھ تھام کر اسے سمجھنا چاہا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ داؤد نے غصے میں اپنا ہاتھ چھوڑوایا اور اس سے دور ہوا۔
” آج کے بعد میری نظروں کے سامنے مت آنا۔۔۔۔۔ بالکل صحیح کہتے ہیں۔۔۔۔۔ کبھی کسی کو اپنے اتنا قریب نہیں آنے دینا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ پھر وہ ہی لوگ آپکو بعد میں تکلیف دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ” داؤد کہتے ہوئے اپنے قدم پیچھے اٹھاتا گیا اور مہر سے رخ مڑے کھڑا ہوگیا۔ مہر نے آگے بڑھ کر پھر سے اسکا بازہ تھامنا چاہا۔
” آئی سیڈ لیو !!!!!! ” داؤد اب کی بار اتنی زور سے چلایا تھا کے مہر نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے اپنی سسکی کو روکا تھا۔ وہ پلٹ کر تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آکر اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
*********************
اگلی صبح کا سورج نکلا تو غازی ہاؤس میں چہل پہل شروع ہوئی۔ داؤد اپنے کمرے میں کھڑا آفس جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا۔ سرخ آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کے وہ رات بھر سے سویا نہیں تھا۔ اور ہوا بھی کچھ یوں ہی تھا پوری رات اس نے جاگ کر ہی گزاری تھی۔ اپنے کمرے سے نکل کر وہ نیچے گیا۔
” آجا داؤد ناشتہ تیار ہے ” حفصہ بیگم نے اسے آواز دے کر ڈائنگ ٹیبل پر بلایا تھا۔
” دادو میں لیٹ ہو رہا ہوں، ایک ضروری میٹنگ ہے آج، میں آفس میں ہی ناشتہ کر لوں گا ” وہ جلدی سے کہہ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
” کیا ہوا اماں داؤد نے ناشتہ نہیں کیا؟ ” آمنہ بیگم کچن سے باہر آئیں تو پوچھا۔
” ہاں کہہ رہا تھا کوئی ضروری میٹنگ ہے اس لیے جلدی جانا ہے ” انہوں نے جواب دیا تو آمنہ بیگم نے آگے بڑھ کر ان کے گلاس میں پانی انڈیلا۔ رخسانہ بیگم بھی کچن سے آئیں تو سب ناشتے میں مصروف ہوگئے۔
*********************
