Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 6)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
رات کے کھانے کے بعد سب لیونگ روم میں اکھٹا تھے۔ سارے بڑے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جبکہ داؤد کافی پی رہا تھا، وہ تو یہاں زیادہ روکنا نہیں چاہتا تھا مگر اپنی بہن کے اسرار پر روک گیا۔ عالیہ سب کے لائے تحفے تقسیم کر رہی تھی۔ مہر اپنی چمکتی آنکھوں سے ساری چیزیں دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت خوش نظر آرہی تھی۔ شیشے کی جدید طرز کی میز جو صوفوں کے درمیان میں رکھی تھی ڈھیروں چیزوں سے بھری پڑی تھی۔ مہر کی چیزیں جن میں کچھ سٹائلش سکارف، ہینڈ بیگز، چاکلیٹس اور بہت ساری چیزیں شامل تھیں۔ اپنی چیزوں کو دیکھتے ہوئے مہر کی نظر میز پر پڑے ایک پرفیوم کے پیک پر پڑی جو مہر نے اٹھا کر کھولا اسے اپنے ہاتھ کی پشت پر سپرے کیا۔ ایک دلنشین مہک تھی پرفیوم کی جو مہر کو کافی اچھی لگی۔
“عالیہ آپی یہ پرفیوم بھی میں رکھ لوں؟” مہر نے پرجوش انداز میں پوچھا۔ اس کی بات سے رخسانہ بیگم تو شرمندہ ہی ہوگئیں۔
“مہر یہ داؤد کے لیے ہے، لیکن اگر تمھے اچھا لگا ہے تو تم رکھ لو” عالیہ نے نرمی سے مسکاتے ہوئے کہا۔
“مہر تمھیں تمھاری ساری چیزیں مل تو گئی ہیں نہ پھر” رخسانہ تنبیہ کرتی نظروں سے بولیں۔ (پتہ نہیں کس پر چلی گئی ہے یہ لڑکی)۔
“جی مل گئی ہیں، میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی کہ شاید ایکسٹرا ہے” مہر نے ماں کی نظروں سے گڑبڑا کر پرفیوم واپس رکھا۔
“چلو بھائی ٹائم کافی ہوگیا ہے، اماں آئیں آپکو کمرے میں چھوڑ دوں” سکندر صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا۔
سب ہی اپنے اپنے کمروں میں چل دیے۔ داؤد نے بھی شکر کیا تھا۔ جبکہ مہر وہیں بیٹھی سوچ رہی تھی۔(اتنا اچھا پرفیوم اس سڑیل انسان کیلئے؟ اونہوں کیا تھا اگر مجھے مل جاتا)۔
***********************
داؤد فریش ہو کر واشروم سے نکلا تھا کہ سامنے بیڈ پر بیٹھی عالیہ اسکا انتظار کر رہی تھی۔
“اب بھی نا آتے باہر کب سے انتظار کر رہی تھی” عالیہ نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔
“ہاں میں نے تو نہیں کہا تھا” داؤد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ انداز ایسا تھا کہ ابھی اس وقت وہ بلکل کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
“تم جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہو، وہ بھی مجھے اپنی بڑی بہن کو؟” عالیہ نے خفگی سے کہا۔
“ایسا نہیں ہے تم جانتی ہو میں اس وقت تنہا رہنا پسند کرتا ہو” اب قدرے نرم تاثرات سے کہا۔
“اچھا یہاں آؤ بیٹھو میرے پاس اور ایک بار بس تحمل سے میری بات سن لو” عالیہ نے التجا کرتے ہوئے کہا۔
اور داؤد کب انکار پاتا تھا اسے۔
“داؤد زندگی جی جاتی ہے۔۔زندگی گزارتے نہیں ہیں۔۔تم زندگی بس گزار رہے ہو، نہ کوئی دوست نہ کوئی ساتھی، کسی سے زیادہ بات نہیں کرتے، نہ کہیں جاتے ہو نہ آتے ہو ،بس کام کام۔۔۔ کب تک ایسا چلے گا؟ میں مانتی ہوں تم نے حقیقت کو تسلیم کرلیا اور تم آگے بڑھ چکے ہو۔۔لیکن ایسا نہیں ہے۔۔ داؤد میں امی دادو ہم سب تمھے نارمل زندگی جیتنے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، تمہے خوش ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتے ہیں” عالیہ سانس لینے کی لیے روکی۔ داؤد اسی طرح بیٹھا تھا البتہ نگاہیں زمین پر مرکوز تھیں۔
“داؤد بھول جاؤ جو بھی ہوا، اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں تھا”۔ داؤد نے ضبط سے آنکھیں مچ لیں۔ عالیہ نے داؤد کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“اچھا چلو شادی تو کر لو نا” اب اس نے داؤد کے چہرے پر آئی اداسی کو کم کرنا چاہا تو زرا مسکرا کر بولی۔ داؤد خاموش ہی رہا۔
“اچھا ایک بات تو بتاؤ سارہ کیسی لگتی ہے تمھے؟” سارہ کے نام پر داؤد چونکا تھا لیکن پھر فوراً سے پیشتر اپنے چہرے کے تاثرات بدلے۔
“شادی ہی کرنی ہے نہ کرلوں گا، میں نے انکار نہیں کیا لیکن ابھی نہیں کرنا چاہتا”
“لیکن داؤد۔۔۔۔”
“پلیز عالیہ مجھے ابھی فورس مت کرو اور امی کو بھی سمجھاؤ، انکار نہیں کررہا لیکن ابھی نہیں” داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
عالیہ نے گہری سانس خارج کی اور داؤد کے پاس سے اٹھ گئی۔
*********************
سبز رنگ کا سادہ سوٹ پہنے، ہاتھوں میں کوئی کتاب لیے وہ دونوں پاؤں اوپر کیے صوفے پر بیٹھی تھی۔ پھر اچانک آج شام کا وہ منظر ذہن میں گھومنے لگا تو کتاب بند کر کے صوفے پر سر دھرے سوچنے لگی۔ اتنے سالوں سے وہ داؤد کو چاہتی آرہی تھی… نہیں ! پہلے تو شاید چاہت تھی پھر وہ چاہت محبت میں بدل گئی اور اب۔۔۔۔ہاں اب داؤد اسکا عشق بن چکا تھا۔ سمجھ نہیں آرہا کیسے بات کرے داؤد سے؟ اتنے سالوں سے وہ کھبی کہہ نہیں پائی تھی، اور اب اسطرح اتنی جلدی کیسے بول دے؟ پہلے کھبی کوشش نہیں کی تھی کہنے کی اور اب ہمت کی تو ناکام رہی۔ اور اب بابا میری شادی کرنا چاہتے ہیں تو میں کیسے ان سے کہوں کے میں کسی سے محبت کرتی ہوں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی۔ “آہ یہ محبت”۔
************************
عالیہ کے جانے کہ بعد داؤد بالکونی میں آگیا تھا۔ دھیان سارہ کی طرف تھا۔ وہ جانتا تھا سارہ اسے پسند کرتی ہے اس نے کہا نہیں تھا کھبی لیکن داؤد سمجھتا تھا، اس کا اسے دیکھنے کا انداز۔۔۔۔جو اس کے ساتھ ہونے پر سارہ کے چہرے پر ایک الگ ہی رنگ ہوتا۔۔۔۔اور بھی کئی دفعہ داؤد نے نوٹ کیا تھا اور یہ جانتے ہوئے بھی وہ سارہ کی فیلنگز کو نظر انداز کر رہا تھا کیونکہ فلحال وہ اس سب کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب عالیہ کا اسطرح سارہ کے بارے میں پوچھنا۔۔۔کیا عالیہ نے سارہ سے کہا ہوگا؟ یا پھر میری طرح اور بھی لوگ سارہ کی فیلنگز سے آگاہ ہیں۔۔۔ داؤد نا چاہتے ہوئے بھی آج اس بارے میں سوچ رہا تھا۔ سارہ اس کی بہت اچھی دوست تھی، وہ دونوں ہمیشہ سے ساتھ تھے، تو کوئی برائی نہ تھی اگر سارہ کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا جائے۔ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک داؤد کی نظر سامنے والے گھر پر پڑی، چھت پر کوئی لڑکا کھڑا تھا جو نیچے گھر کے گارڈن کی طرف دیکھ رہا تھا۔ داؤد کو عجیب لگا اس لڑکے کا یوں اپنے گھر جھانکنا۔ داؤد ریلنگ کے پاس ہوا اور تھوڑا جھک کر نیچے دیکھا۔ اور مہر کو باغ میں اس وقت ٹہلتے ہوئے دیکھ کر داؤد کو غصہ آیا وہ فوراً کمرے سے نکل کر نیچے کی طرف بڑھا تھا۔
*********************
مہر کمرے میں بہت بور ہو رہی تھی نا مووی دیکھنے نا کسی ڈرامے کا موڈ تھا آج۔ اسی لیے گارڈن میں چہل قدمی کے لیے آگئی۔ کانوں میں ہینڈ فری لگائے گھاس پر ننگے پاؤں چلتے گانے سنے جا رہے تھے ۔ داؤد نیچے گارڈن میں آیا تو اوپر کھڑے لڑکے کو شعلہ بار نظروں سے گھورا جو ابھی تک ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔ داؤد کے ایسے دیکھنے سے وہ گھبرا کر فوراً وہاں سے ہٹ گیا۔ داؤد نے مہر کو دیکھا جو اب آنکھیں بند کیے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے پاؤں میز پر رکھے ہوئے تھی۔ داؤد نے آگے بڑھ کر اس کے کانوں سے ہینڈ فری نکالے۔ مہر نے آنکھیں کھولیں تو سامنے جیسے موت کا فرشتہ اس کے سر پر کھڑا تھا۔
“اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟” داؤد نے سختی سے پوچھا۔ مہر کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اور یہ میں آپکو کیوں بتاؤں؟” مہر نے گردن اکڑا کر داؤد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال پہ سوال کیا۔
“اپنے کمرے میں جاؤ فوراً اور آئندہ مجھے اس وقت تم یہاں نظر نا آؤ” داؤد نے چبا چبا کر کہا۔ مہر کو یوں اسکا حکم چلانا زہر لگا تھا۔
“آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ صرف آپکا ہی نہیں میرا بھی گھر ہے، میں جب مرضی جہاں مرضی جاؤں” مہر نے چبھتی نظروں سے کہا۔ داؤد کو ناگوار گزرا اسکا یوں اس سے بتمیزی کرنا۔ اس نے مہر کو بازو سے تھما اور زبردستی اندر لے جانے لگا۔ مہر اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی رہی۔
“آپ اسطرح کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔” مہر نے غمزدہ آواز سے کہا۔ داؤد نے اتنی سختی سے اسے پکڑا تھا کہ اسے شدید درد کا احساس ہوا۔ مہر کے ایک ہاتھ میں فون تھا اور دوسرا داؤد نے پکڑ رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ خود کو آزاد نہ کروا پائی۔ داؤد نے اندر آکر مہر کا بازو جھٹکا دینے کے انداز میں چھوڑا تھا۔ پھر پلٹ کر لیونگ روم کا داخلی دروازہ بند کر دیا اور ایک تند نگاہ مہر پر ڈالی جو اپنا بازو سہلا رہی تھی۔
اس سے پہلے کے مہر کچھ بولتی داؤد اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
**********************
کمرے میں آکر بھی داؤد کا غصہ کم ہونے پر نہ آیا۔ اسے غصہ تھا کہ مہر اتنی لاپروا کیسے ہو سکتی ہے۔ اوپر سے اس کی بات سننے کی بجائے اس سے اسطرح بات کررہی تھی۔ اسی سوچ میں داؤد کی نظر اپنے بیڈ پر پڑی جہاں عالیہ کی اس کیلئے دوبئی سے لائی ہوئی چیزیں رکھی تھیں اور ان میں وہ پرفیوم بھی تھا۔ داؤد کو وہ لمحہ یاد آیا جب مہر اس پرفیوم کا پوچھ رہی تھی۔ وہ غصے سے آگے بڑھا پرفیوم کو اٹھایا اور اسے پھینکنے ہی والا تھا کہ کسی انجان احساس کے تحت رک گیا۔ داؤد نے ایک سرد سانس خارج کی اور خود کو پرسکون کیا۔ اب وہ باقی کی چیزیں اٹھائے اس پرفیوم کے ساتھ اپنی وارڈروب میں رکھ رہا تھا۔
*********************
مہر بھی جب سے کمرے میں آئی تھی گلابی پڑتی آنکھوں سے اپنا بازو دیکھ رہی تھی۔ کتنی سختی سے پکڑا تھا۔ وہ کمزور نہیں تھی کہ اتنی تکلیف سہہ نہ پاتی لیکن کھبی کسی نے اتنی تکلیف دی بھی نہ تھی۔ وہ تو محبت کی آدھی تھی۔لاڑوں میں پلی بڑی تھی۔ لیکن یہ اسکا کھڑوس کزن۔۔۔۔ داؤد کا خیال آتے ہی مہر نے برا سا منہ بنایا تھا۔ پھر اپنی آنکھیں صاف کیں۔
“اس داؤد ابراہیم کو ایسا سبق سکھاؤں گی کے یاد رکھے گا” مہر واپس اپنے روپ میں آگئی تھی۔
“اسے بھی پتہ چلنا چاہیے کے اس نے پنگا اس بار مہر سکندر سے لیا ہے” دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اس نے خود سے کہا۔ “Be ready dear cousin” ایک شیطانی مسکراہٹ مہر کے لبوں پہ آئی۔
*********************
