Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 4)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
وہ تینوں اب گاڑی میں بیٹھی آئسکریم سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں۔ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ شوپنگ کے لیے نکلی ہوئی تھیں۔
“چلو ایک کام تو ہوا نہ” انعم آئسکریم کھاتے ہوئے بولی۔ “ہاں ایک ہی ڈیزائنر تمھارے سارے جوڑے تیار کر دے گا” مہر نے کہا۔
” ہاں یار یہ مسئلہ تو حل ہوا” بیا بھی متفق دکھائی دیتی تھی۔
“چلو پھر مجھے گھر ڈراپ کرو میں نے ابھی جا کر اپنی assignment بھی بنانی ہے” انعم نے کہا۔
“اس کو دیکھو ذرا بس اپنی پڑی رہتی ہے” بیا انعم کو گھورتے ہوئے بولی۔
” ہیں! میں نے کیا کیا آ تو گئی تمھارے ساتھ اب کیا دو مہینے پہلے ہی تمھاری شادی کی ڈھولک بجانی شروع کر دوں” انعم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” یہ idea اچھا ہے ویسے” مہر چمکتے چہرے سے بولی۔
مہر کو تو شوق تھا ان سب کا۔
” ہاں مہر بی بی یہ سب تم کرنا اپنی شادی پر دو ماہ پہلے تم تو ہو بھی اکلوتی اور امیر باپ کی بیٹی” انعم نے طنز کیا۔
“دفعہ ہو جاؤ بدتمیز” مہر نے ایک تھپڑ مارا انعم کو، وہ اور بیا دونوں ہنسنے لگیں۔
*******************
داؤد آفس سے گھر آیا تو چینج کرکے بیڈ پر ٹیک لگائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے کچھ میلز پڑھنے لگا۔ آمنہ بیگم داؤد کے کمرے میں آئیں۔
” داؤد ابھی تو آئے ہو آفس سے آتے ہی پھر کام کرنے لگے ہو” وہ خفگی سے گویا ہوئیں۔
” بس کچھ امپورٹڈ میلز پڑھ رہا تھا، آپ آئیں بیٹھیں” لیپ ٹاپ بند کر کہ اب وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“داؤد میری جان کب تک ایسے رہو گے؟” آمنہ بیگم اب ذرا رنجیدہ سی لگ رہی تھیں۔ اور داؤد ابراہیم جانتا تھا کہ ہر بار یہ ہی ایک سوال ہے جس کا جواب وہ خود نہیں جانتا۔ وہ جانتی تھی اس سوال پر انھیں اس کی خاموشی ہی سننے کو ملے گی۔
“شادی کر لو” بہت آس سے کہا۔
“امی پلیز آپ اس ٹاپک کو تو رہنے ہی دیں، اس کے لیے دادو اور عالیہ کیا کم ہیں؟” وہ خفا دیکھائی دے رہا تھا۔
کیونکہ اس کی بہن اور دادو ہر وقت ایک ہی بات کہتی رہتی شادی کر لو داؤد۔اور وہ اکتا جاتا تھا اس بات سے۔
اور آمنہ بیگم اس کو ایسے دیکھ مسکرا دیں کیونکہ بیٹے کے ایسے ایکسپریشن بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے تھے۔
“ٹھیک ہے آنے دو عالیہ کو وہ ہی کرے گی اب تمھے سیدھا” وہ نرمی سے کہتے اٹھ گئیں۔
پیچھے داؤد اب کسی سوچ میں گم تھا۔
*******************
سارہ اپنی الماری کے آگے کھڑے کل آفس کے لیے کپڑے دیکھ رہی تھی۔ تب ہی عظمیٰ بیگم سارہ کو پکارتے ہوئے اس کے کمرے میں آئیں۔
“سارہ کب سے آواز دے رہی ہوں بیٹا کوئی جواب نہیں؟”
” بس امی آپ ہی کے پاس آرہی تھی” سارہ نے الماری سے دو سوٹ نکالتے ہوئے کہا۔
” امی ان میں سے کونسا زیادہ اچھا لگے گا مجھ پر؟” سارہ دونوں سوٹ اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا۔
“دونوں ہی اچھے لگ رہے، میری بیٹی پر تو سب ججتا ہے” عظمیٰ بیگم نے پیار بھری نظروں سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“امی آپ ہمیشہ یہ ہی کہتی ہیں” سارہ نے ناراضگی سے کہا۔
کالے سادہ شلوار سوٹ میں گورا دمکتا ہوا رنگ، سنہری آنکھیں، کمر تک لمبے گھنے بال، وہ بے انتہا خوبصورت تھی۔
“ہاں تو میری بیٹی ہے ہی سندر” وہ مسکراتے ہوئے اسکا تھام کر بیڈ پر لے جاتے ہوئے بولیں۔ سارہ بھی کپڑے چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوئی۔
“سارہ تمہارے بابا چاہتے ہیں حمزہ کے ساتھ ہی وہ تمہارے فرض سے بھی سبکدوش ہو جائیں اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ تم سے پوچھ لیا جائے کہ تم راضی ہو اگر” عظمیٰ بیگم نے تحمل سے کہا۔
“امی میں۔۔ شادی۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہی، اتنی جلدی بھی کیا ہے” سارہ نے پریشانی سے کہا ۔
“سارہ تم چھبیس سال کی ہو اور ابھی بھی تمھے جلدی لگ رہا؟
“لیکن امی”
” سارہ! پہلے بھی تم نے اپنی مرضی کی زندگی جی ہے، ہم نے کھبی بھی روک ٹوک نہیں کی، تم نے اپنی مرضی سے اپنی پڑھائی مکمل کی، پھر نوکری کی جبکہ ضرورت نہیں تھی، اب کم سے کم اس فیصلے کا حق تو اپنے ماں باپ کو دو”۔ عظمیٰ بیگم نے سارہ کو ٹوک کر بہت نرمی سے کہا۔
“امی آپ ایسا تو نہیں کہیں بے شک یہ حق آپ دونوں کا ہے اور میں وہ ہی کروں گی جو آپ دونوں کی خواہش ہوگی مگر کیا مجھے اتنا حق نہیں کہ مجھ سے میری پسند کا پوچھا جائے”؟ سارہ نے اپنی ماں کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔
عظمیٰ بیگم بیٹی کی سادگی پر مسکرائیں۔ ” ظاہر ہے تمہاری پسند کی اہمیت ہوگی،زندگی تم نے گزارنی ہے میری بچی” اونہوں نے اس کے ماتھے کو چوما اور اس کے کمرے سے چلی گئیں۔ پر سارہ اب پریشان تھی۔
*******************
مہر شام کو جب واپس آئی تو آتے ساتھ ہی سو گئی تھی۔ کیونکہ مہر کو رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے دن میں لازمی نیند آتی تھی۔ اور رات دیر تک وہ موویز اور ڈرامے دیکھتی۔
یہ ہی نہیں جب سے اسکی پڑھائی سے جان چھوٹی تھی تب سے وہ اپنی دوستوں کے ساتھ آوٹنگ، شوپنگ اور ایک girls night جس میں وہ کبھی انعم اور کھبی بیا کے یا کھبی وہ دونوں اس کے گھر رات گزارتی تھیں، جہاں وہ دیر رات تک باتیں کرتیں یا مووی دیکھتیں۔
لیکن وہ نالائق بلکل نہیں تھی، بی ایس سی بھی اس نے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا تھا۔
شام کی سوئی وہ آٹھ بجے جاگی تھی۔ اور اب رخسانہ بیگم اس سے کیچن میں کام کروا رہی تھیں۔ وہ رات کے کھانے کے لیے سلاد کاٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ گنگنا رہی تھی۔
“مہر باجی بن گیا تو دے دیں باہر سب کھانے کی ٹیبل پر آگئے ہیں” فرزانہ ملازمہ نے مہر سے کہا۔
“ہاں ہاں بن گیا لے جاؤ، میں ہاتھ دو کر آتی ہوں” مہر نے اسے سلاد کا باؤل پکڑاتے ہوئے کہا۔
*******************
کھانا کھانے کے بعد مہر اپنی دادو کے کمرے میں ہی رہی۔ عشاء کی نماز دادو کے ساتھ پڑھی اور پھر ان سے باتیں کرتی رہی۔ تقریباً گیارہ بجے وہ دادو کے کمرے سے نکلی، ہاتھ میں فون تھا ساتھ ساتھ وہ کوئی مووی سرچ کر رہی تھی جو اس نے رات میں دیکھنی تھی۔ وہ موبائل فون میں مگن تھی کہ سامنے سے آتے داؤد سے بری طرح ٹکرائی۔
داؤد جو کچن میں کافی بنانے جارہا تھا، اتفاقاً وہ بھی اپنے فون پر میسج کر رہا تھا اسی لیے سامنے سے آتی مہر کو نہیں دیکھا۔ تصادم اتنا سخت تھا کہ دونوں کے فون زمین بوس ہوئے۔
“دیکھ کر نہیں چل سکتی” داؤد غصے سے بولا۔
“یہ ہی بات میں بھی بول سکتی ہوں آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے” کمر پر دونوں ہاتھ رکھے وہ داؤد کو دیکھتے ہوئے بولی۔ داؤد مہر کو غصے سے گھورتا رہا پھر فون اٹھانے کے لیے جھکا، مہر بھی نیچے فون لینے کے لیے جھکی لیکن بد قسمتی سے دونوں کے سر پھر سے ٹکرا گے۔
“ہاے اللّٰہ میرا سر” مہر سر سہلاتے ہوئے بولی۔ مزید کچھ کہتی کہ داؤد “idiot” کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
پیچھے مہر منہ کھولے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
“ہاااا۔۔۔ انتہاہی بدتمیز انسان ہے، بجائے اپنی غلطی ماننے کہ مجھے غصہ دیکھا رہا ہے اور مجھے idiot بھی کہہ گیا، تمھے تو میں دیکھ لوں گی” مہر خود سے کہتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
*******************
اگلی صبح مطلع صاف اور سورج مکمل روشن تھا۔ داؤد اور سکندر صاحب آفس جا چکے تھے۔ آمنہ بیگم اور رخسانہ بیگم روز مرہ کے گھریلو معاملات دیکھ رہی تھیں۔ حفصہ بیگم (دادو) بھی لاونج میں صوفے پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ اور مہر بی بی ابھی تک نیند کی وادیوں میں گم تھی۔
تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ عالیہ اپنے بیٹے موسیٰ کے ساتھ آگئ۔ وہ کل رات ہی اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ دبئی سے لوٹی تھی اور اب صبح اپنے میکے میں موجود تھی۔
“او دادو میں نے آپکو بہت مس کیا” عالیہ حفصہ بیگم کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ان سے کہہ رہی تھی۔ آمنہ بیگم تین سالہ موسیٰ کو گور میں لیے سامنے والے صوفے پر بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھیں جو بتا رہا تھا کہ وہ کہاں کہاں گھومنے گئے تھے۔اور رخسانہ بیگم کچن میں کھانے کا انتظام کررہی تھیں۔
” دادو میں آپ سب کے لیے بہت سی چیزیں لائ ہوں، اور مہر کہاں ہے؟” عالیہ نے کچن سے آتی رخسانہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” مہر ابھی سو کر نہیں اٹھی” رخسانہ بیگم نے جواب دیا۔
” فرزانہ کو بولو اسے جگائے جا کر، جب پتہ چلے گا عالیہ آئی ہے دیکھنا فوراً اٹھے گی اور بھاگتے ہوئے آئے گی” دادو نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تینوں حفصہ بیگم کی بات پر ہنسی۔ سب کو پتہ تھا وہ واقعی میں بھاگتے ہوئے آئے گی کیونکہ ڈھیروں چیزیں منگوائی تھی مہر نے اپنے لیے دبئی سے۔ جس کے لیے وہ روز عالیہ کو کال کر کے یاد کرواتی تھی۔ اور گھر میں روز ہی کسی نہ کسی سے پوچھتی کہ عالیہ آپی کب تک واپس آئیں گی۔ اس سے دادو اور آمنہ بیگم تو اس کے ایسے کال کرنے اور پوچھنے پر تو مسکرا دیتں کیونکہ ان کہ گھر کی رونق ہی مہر کی وجہ سے تھی لیکن رخسانہ بیگم اسے ڈانٹ دیتی کہ مہر روزانہ ایک ہی سوال مت پوچھا کرو، اور نہ کال کر کے اسے ایسے تنگ کیا کرو، عرفان(عالیہ کا شوہر) کیا سوچتا ہوگا۔ پر مہر ماں کی باتوں کا کوئی اثر نہ تھا وہ بس منہ بگاڑ کر سنتی رہتی۔
********************
