280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 25)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

” ویلکم ٹو مائی لائف مسز داؤد ابراہیم ” دفعتاً داؤد نے جھک کر اسکی کان میں سرگوشی کی۔ مہر اس کی اتنی قربت میں اپنا سانس روک گئی۔ پھر داؤد تھوڑا پیچھے ہٹا اور مہر کو سر تا پیر دیکھا وہ آج اسکے نام کے ساتھ جوڑ کر اسے اور بھی خوبصورت لگی۔ وہ ابھی بھی آنکھیں جھکائے ایسے ہی کھڑی تھی۔ داؤد مسکرایا۔

” تم کچھ کہو گی نہیں؟ ” داؤد نے اسے بولنے پر اکسایا کیونکہ اب وہ اسے سننا چاہتا تھا۔ مہر نے اپنی نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے داؤد کو دیکھا۔ پلکوں کی جھالر اٹھانے کی دیر تھی کہ داؤد اسکی نظروں سے گھائل ہوا۔

” ایسے دیکھو گی تو اس کمرے سے واپسی ناممکن ہو جائے گی ” گھمبیر لہجے میں کہی اسکی بات سے وہ سنسنا اٹھی۔

” اوکے اوکے ریلکیس جا رہا ہوں ” اسکی حواس باختگی دیکھ کر داؤد نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور پھر کمرے سے نکل گیا۔ مہر نے سکھ کا سانس خارج کیا اور دوبارہ آئینے کی طرف پلٹی تو اب کی بار خود دیکھ کر وہ مبہوت رہ گئی۔ پہلے تو وہ اتنی خوبصورت نہیں دیکھ رہی تھی یا شاید اس نے خود کو دھیان سے اب دیکھا تھا۔ داؤد کے اسے بیوی کہنے کے رنگ اس کے چہرے پر بکھرے تھے۔

**********************

حمزہ کی شادی بھی خیر وعافیت سے گزر گئی تھی۔ مہر نے شادی میں ویسے انجوائے نہیں کیا تھا جیسے اس نے سوچا تھا اور وجہ ہر فنکشن میں وہ خود کو داؤد کی نظروں کے حصار میں پاتی تھی۔ اس سے وہ خود میں سمٹی رہتی۔ شادی کے تین دن بعد حمزہ اور ہانیہ ہنی مون پر سویڈزرلینڈ چلے گئے تھے۔ سارہ نے خود کو سنھبال تو لیا تھا لیکن اکثر تنہائی میں یہ دکھ اسے شدت سے محسوس ہوتا تھا۔ اس نے سوچا تھا وہ دوبارہ آفس جوائن کرے گی لیکن اس کے بابا نے منع کردیا تھا اور اس بار وہ ان کا کہا مان گئی تھی۔

***********************

داؤد اپنے کمرے میں موجود کال پر بات کررہا تھا۔ آج سنڈے تھا اور عالیہ بھی صبح صبح ہی آ گئی تھی۔ داؤد نے کال بند کرکے فون ٹیبل پر رکھا جب موسیٰ اسکے کمرے میں آیا۔

” ماموں آپ مجھے کہیں لے جائیں سیر پر میں یہاں بہت بور ہو رہا ہوں ” موسیٰ اندر آتے ہی خفگی سے بتانے لگا۔ داؤد نے اسکا شکوہ سنا تو اس پر پیار آیا۔

” کیوں بھئی یہاں آپ کیوں بور ہو رہے ہیں ؟ داؤد نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔

” میں کس کے ساتھ کھیلوں؟ مہر خالہ بھی اب تک سو رہی ہیں وہ بھی اب میرے ساتھ کھیلتی نہیں ہیں، اپنے گھر تو صائم رانیہ عبداللہ سب ہوتے ہیں کھیلنے کیلئے ” وہ اپنے ددھیال کے کزنز کا بتا رہا تھا۔

” مہر اب آپکی خالہ نہیں ممانی ہیں ” داؤد نے اسکا گال چوما۔ موسیٰ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا۔

” لیکن ماما تو کہہ رہی تھیں سارہ خالہ مامی ہیں میری ” موسیٰ کو ابھی ٹھیک سے ممانی کہنا نہیں آتا تھا اس لئے عالیہ نے اسے مامی ہی سکھایا۔ سارہ کے ذکر پر داؤد کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔

” نہیں وہ خالہ ہیں اور مہر آپکی ممانی ” داؤد نے ممانی پر زور دیا۔

” پھر مہر میری مامی بن گئی ہیں تو انھیں بولیں نا وہ میرے ساتھ کھیلیں ” اسے پھر سے اپنی بوریت کا احساس ہوا۔ داؤد نے اسکا گال چوم کر اسے نیچے اتارا۔

” اچھا ٹھیک ہے آپ ابھی نیچے جا کر ٹی وی دیکھو میں تب تک آپکی مہر ممانی کو دیکھتا ہوں ” وہ سر ہلا کر داؤد کے کمرے سے نکل گیا۔ داؤد بھی اسکے پیچھے کمرے سے باہر آیا پھر اوپر سے ہی اس نے نیچے جھانکا اور پلٹ کر مہر کے کمرے کی طرف دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے اپنے قدم اسکے کمرے کی طرف بڑھا دیے۔

*********************

دوپہر کا ایک بج رہا تھا اور وہ ابھی تک سو رہی تھی۔ رات کو دیر تک وہ مووی دیکھتی رہی تھی۔ پریل رنگ کے سلک کا نائٹ سوٹ زیب تن کیے وہ تکیے ہر سر رکھے لیٹی تھی۔ ایک ہاتھ پیٹ پر دوسرا ہاتھ سر کے پاس ہی رکھا تھا۔ داؤد اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو نظر سامنے سیدھا مہر پر گئی۔ داؤد آگے بڑھا اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھا دونوں اطراف اپنے ہاتھ رکھے داؤد تھوڑا جھک اسے کے نین نقش قریب سے دیکھنے لگا۔ داؤد کو سوتے ہوئے بہت معصوم لگی بالکل کسی چھوٹے بچے کی طرح۔ دفعتاً داؤد اپنے دائیں ہاتھ کی پشت اسکے نرم ملائم گالوں پر پھیرنے لگا۔

” مائے سلیپنگ بیوٹی ” سرگوشی نما الفاظ داؤد کے منہ سے نکلے۔ اپنے گالوں پر کچھ محسوس ہونے پر مہر نے کسمسا کر اپنی آنکھیں کھولیں اور مندی مندی آنکھوں سے وہ اب داؤد کو دیکھ رہی تھی۔ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ لیکن جیسے جیسے حواس بیدار ہوئے تو ایک دم وہ اٹھ کر بیٹھی۔

” آپ ؟” مہر حیران تاثرات چہرے پر سجائے چیخی تھی۔

” ہاں میں ! ” داؤد ایسے ہی سکون سے اس کے قریب بیٹھا بولا۔ مہر نے اپنا کمفرٹر تھوڑا مزید کھسکا کر اپنے اوپر لیا۔

” یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ ” وہ تھوڑا پیچھے ہوئی۔ اسکے پرفیوم کی خوشبو مہر کو جکڑنے لگی تھی۔

” اپنی بیوی کو مارننگ وش کرنے آیا تھا، ایک بات تو بتاؤ تم اتنا سوتی کیوں ہو؟ ” اسکے سوال کا جواب دے کر اسنے اپنا سوال پوچھا۔

” آپکو کیا مسئلہ ہے میرے سونے سے ؟ ” ناک چڑھا کر خفگی سے پوچھا(ایک تو ہر کوئی میری نیند کا دشمن ہے)۔

” ابھی تو نہیں ہے لیکن رخصتی کے بعد ہو سکتا ہے ” داؤد نے معنی خیزی سے کہا۔ مہر نے اسکی بات پر زیادہ غور نہیں کیا نہیں تو ضرور بے ہوش ہو جاتی کیونکہ اسکا دھیان کمرے کے دروازے کی طرف تھا کہ کہیں کوئی آ نا جائے۔

” آپ پلیز جائیں کوئی آ جائے گا ” وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔

” اوکے فائن لیکن اب تم جلدی سے فریش ہو کر نیچے آ جاؤ موسیٰ کب سے تمہارے جاگنے کا انتظار کر رہا ہے ” داؤد نے اپنی انگلی کے ساتھ ہلکی سے اسکے ناک پر ضرب لگائی اور اٹھ گیا۔ مہر نے منہ بنا کر اپنے ناک کو سہلایا۔

**********************

دوپہر کے کھانے کے بعد مہر موسیٰ کو لے کر لان میں آگئی تھی۔ سورج غروب ہونے میں تھوڑا ہی وقت تھا اس لیے ابھی لان میں دھوپ صرف ایک ہی طرف تھی۔ اسی طرف مہر موسیٰ کے ساتھ بیٹ بال کھیلنے لگی۔ مہر بالنگ کروا رہی تھی اور موسیٰ بیڈ لئے کھڑا تھا۔ مہر اسے بہت ہلکے سے بال ڈالتی تو موسیٰ اسے ہٹ کرکے خوش ہو جاتا۔

” مہر مامی آپ مجھے آوٹ نہیں کر سکتیں ” موسیٰ ہنسنے ہوئے بولا۔ جبکہ مہر اس کے مامی کہنے ہر حیران ہوئی۔

” میں خالہ ہوں یہ مامی کس نے سکھایا آپکو ” مہر نے اس کے پاس جا کر پوچھا۔

” جی نہیں ماموں نے کہا ہے آپ مامی ہیں ” اس نے نفی میں سر ہلایا۔

” تمہارے ماموں کی تو میں۔۔۔۔۔۔ ” کہتے ہوئے اسکی نظر اوپر اٹھی جہاں داؤد اپنی بالکونی میں کھڑا کب سے انھی کو دیکھ رہا تھا۔

” ہونہہ !! ” مہر نے منہ بنایا اور موسیٰ کو لے کر اندر چلی گئی۔

********************

اپنے کمرے میں وہ اب غصے میں لال یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔ اسے اب داؤد کا ہر وقت اسے ہی گھورنا کوفت میں مبتلا کر رہا تھا۔

” ایک تو دھمکی دے کر مجھ سے نکاح کیا اور اب یہ سب۔۔۔۔۔۔۔مامی !!!!۔۔۔۔۔۔۔ بچے کو پتا نہیں کیا کیا سیکھا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور تو اور اب جب دیکھو منہ اٹھا کر میرے کمرے میں آ جاتے ہیں ” غصے میں وہ خود سے بڑبڑا رہی تھی۔

” انکو تو جا کر بتانا پڑے گا کہ یہ سب نہیں چلے گا ” دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے اس نے داؤد سے دو ٹوک بات کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔

********************

داؤد اپنے کمرے میں ہاتھ میں کوئی فائل لئے اسکا مطالعہ کر رہا تھا جب وہ آندھی طوفان کی طرح اسکے کمرے میں داخل ہوئی۔ داؤد نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

” مجھے آپ سے بات کرنی ہے ” ہاتھ سینے پر باندھے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔

” سن رہا ہوں ” داؤد نے فائل بند کی اور جی جان سے اسکی طرف متوجہ ہوا۔

” آپ جو یہ سب کر رہے ہیں نا مجھے بالکل پسند نہیں “

” اور میں کیا کر رہا ہوں؟ “

” یہ سب۔۔۔۔۔۔ موسیٰ کو جو آپ نے کہا ہے۔۔۔۔۔ میں آپکو بتا دیتی ہوں مجھ پر آپ ایسے حق نہیں جتا سکتے کیونکہ آپ نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے اور میں اس نکاح کو نہیں مانتی “

” تمہارے ماننے سے یا نا ماننے سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔ دا تھینک از نکاح ہو چکا ہے اور اب تم صرف میری ہو ” داؤد نے پر سکون انداز میں کہہ کر اسے مزید غصہ دلایا۔

” ایسے کیسے آپ کی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں بتا رہی ہوں میرے سے دور رہا کریں ” مہر نے انگلی اٹھا کر دھمکی دی۔

” ریلی ؟ ” داؤد نے اسکی طرف ایک قدم بڑھایا۔ تو وہیں سے چلائی۔

” وہیں رہ کر بات کریں ” مہر نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید آگے بڑھنے سے روکا تھا۔ داؤد بھی اسکی سن کر وہیں کھڑا رہا۔

” آئندہ آپ میرے کمرے میں نہیں آئیں گے ” اس نے اگلی بات کہی۔

” روک سکتی ہو مجھے ” داؤد پھر سے ایک قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا تھا۔

” دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔ “

” دیکھ ہی تو رہا ہوں ” داؤد نے اسے سر تا پیر گھورا۔ مہر اسکی بات پر اور ایسے دیکھنے پر سٹپٹا گئی۔ اور نا محسوس انداز میں اس نے اپنا دوپٹہ درست کیا تو اسکی اس حرکت پر داؤد کے لبوں کو مسکان نے چھوا۔

” اچھا آ کر بتائیے گا میں بھی اپنا روم لاک کرکے رکھا کروں گی ” اسے منہ چڑھاتے ہوئے کہہ کر وہ تیزی سے وہاں سے بھاگنے والی تھی کہ داؤد کے کمرے کے دروازے سے ٹکڑا گئی جو وہ خودی آتے ہوئے ایسے کھول کر آئی تھی کہ وہ درمیان میں ہی روکا رہا۔

” کئیر فول ” داؤد پیچھے سے کہتا رہ گیا لیکن تب تک وہ ٹکڑا چکی تھی۔

” ہائے اللّٰہ جی میرا سر۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ بھی اپنی طرح کا کھڑوس بنایا ہوا ہے ” اپنا سر سہلاتے وہ غصے سے چلائی تھی اور کمرے سے نکل گئی۔ داؤد پیچھے کتنی ہی دیر ہنستا رہا تھا۔

*******************

رات کا کھانا کھانے کے بعد عالیہ واپس اپنے گھر جا چکی تھی۔ داؤد کھانے کے دوران جب جب مہر کو دیکھتا تو وہ برے برے منہ بنا کر رخ مڑ لیتی۔ داؤد کو اب یہ سب پسند نہیں آرہا تھا اس لیے اس نے مہر سے بات کرنے کا سوچا۔ مہر کھانے کے برتن اٹھا کر اندر کچن میں رکھ رہی تھی۔ جب اسے اپنے پیچھے بالکل قریب داؤد کی آواز سنائی دی۔

” مجھے تم سے بات کرنی ہے، اوپر ٹیرس پر آؤ ابھی ” وہ ڈائننگ سے پلیٹیں اٹھا رہی تھی جب داؤد نے اس کے پیچھے سے اسکے کان میں سرگوشی کی۔ مہر نے ادھر ادھر نظریں اٹھا کر دیکھا اور شکر کیا کوئی اس طرف نہیں دیکھ رہا اور پھر داؤد کی طرف مڑی اور خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا اور وہاں سے بنا کچھ کہے کچن میں چلی گئی۔ داؤد اب اس کے فری ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ لاونج میں جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ لاؤنج میں موجود ٹی وی پر نیوز چینل لگا تھا جو سکندر صاحب دیکھ رہے تھے۔ مہر بھی جان بوجھ کر وہاں جا کر بیٹھ گئی۔ خواتین بھی وہی موجود ایک طرف باتیں کر رہی تھیں۔ جس صوفے پر مہر بیٹھی تھی اس کے ساتھ فاصلے پر سکندر صاحب موجود تھے۔ داؤد اسکی طرف جا کر صوفے کی پشت پر کھڑا ہوگیا جہاں مہر بیٹھی تھی۔ بظاہر تو وہ سب کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہ رہا تھا کہ وہ وہاں صرف نیوز سنسنے کیلئے کھڑا ہے لیکن اصل میں وہ مہر کیلئے موجود تھا۔ داؤد نے ایک نظر ٹی وی پر ڈالی اور پھر نیچے صوفے پر بیٹھی اپنی بیوی کو گھورا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آتی تھی یہ لڑکی اسکی بات کیوں نہیں سنتی تھی۔ داؤد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس کے بالوں کو پیچھے سے ہلکے سے کھینچا۔ مہر کو زیادہ تو نہیں لیکن بال ہلکے سے بھی کھینچنے پر تکلیف ہوئی تو چہرہ مڑ کر منہ کھولے داؤد کو گھورنے لگی انداز ایسا تھا جیسے اسے داؤد سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھی۔ داؤد نے اسے آنکھوں سے اوپر آنے کا اشارہ کیا جسے وہ اگنور کرکے واپس ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *