Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 30) Last Episode ( Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 30) Last Episode ( Part - 1)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
داؤد نے اسے سر تا پیر تک دیکھا تو مہر اسکے دیکھنے کے انداز سے سٹپٹا گئی۔ اسے احساس ہوا وہ بنا ڈوپٹے کے کھڑی ہے اس لئے تیزی سے بیڈ پر پڑے ڈوپٹے کو اٹھا کر خود پر اوڑھا۔ اس کی حرکت سے داؤد محظوظ ہوا تھا۔
” آپ یہاں کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب نیچے سب کھانے پر آپکا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔۔۔اگر کسی نے۔۔۔۔۔دیکھ لیا تو ” ابھی مہر نے آدھی بات ہی کی تھی کہ داؤد اسکی طرف بڑھنے لگا۔
” میں نے سوچا میں بھی اپنی بیوی کو ابٹن لگا لوں “
” لیکن۔۔۔۔۔۔۔ آپ کیسے ؟ ” مہر نے آنکھوں میں حیرت سموئے پوچھا۔
” میں کیوں نہیں؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیچے باقی سب کو تو بہت خوشی سے لگا رہی تھی اور لگوا بھی رہی تھی ” داؤد نے تھوڑا سرد لہجے میں کہا کیونکہ وہ منظر اسکی آنکھوں کو ابھی بھی چبھ رہا تھا جب مہر علی کے ساتھ تھی۔
” لیکن دولہے تو دولہن کو کوئی ابٹن نہیں لگاتے ایسی کوئی رسم نہیں ہوتی ” مہر نے جلدی سے داؤد کو اپنی طرف سے بہت پتے کی بات بتائی تھی۔
” ہاں شاید۔۔۔۔۔ لیکن ہماری شادی میں ہے یہ رسم “
” اچھا !!! ” مہر نے منہ لٹکا کر کہا۔ پھر ایک خیال ذہن میں آیا تو دوبارہ بولی۔
” ابٹن تو ہے ہی نہیں تو کیسے لگائیں گے ؟ ” اس نے خوشی سے سرشار کہا۔ داؤد مزید آسکے قریب ہوا تھا۔
” ابھی پتا چل جائے گا کیسے۔۔۔۔۔۔” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور جھک کر اس کے گال سے اپنا گال رگڑا۔ اس سے مہر کے گال پر لگا ابٹن داؤد کے گال پر بھی لگ گیا۔ مہر اپنی آنکھیں موند گئی۔ داؤد نے اب اپنے ہاتھ کی پشت مہر کے گال پر پھیری وہ ایسے ہی کھڑی رہی آنکھیں بند کیے۔ داؤد نے اب وہ ہی ابٹن لگے ہاتھ کی پشت مہر کی خوبصورت صراحی دار گردن پر پھیرا۔ اسکی انگلیوں کا سرسراتا لمس محسوس کرکے مہر کے دل کی دھڑکنوں نے شور مچایا تو اس نے فوراً آنکھیں کھول کر داؤد کو دیکھا۔ داؤد کی آنکھوں میں خماری سی تھی جس دیکھ کر مہر نے گھبرا کر داؤد کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے اس سے دور ہوئی اور اپنا رخ مڑ کر کھڑی ہوگئی۔ مہر نے بے اختیار اپنا ہاتھ دل کے مقام پر رکھ کر خود کو سنھبالا۔ دفعتاً ایک خیال کے تحت اسکی آنکھیں مسکرائی اس نے اپنے دوسرے گال پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا ابٹن اتارا اور پھر جلدی سے مڑ کر داؤد کے ناک پر لگا دیا اور اسے دیکھ کر ہنس دی۔ داؤد آگے بڑھا اور اسے اپنے قریب کرتے ہوئے پیچھے دھکیلتا ہوا الماری کے ساتھ لگایا۔ مہر اسکی حرکت پر بوکھلا سی گئی۔
” آآ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے سب ہمارا انتظار کررہے ہوں گے۔۔۔۔ ” مہر نے دھیمے لہجے میں اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
” مہر !!!!! تمھاری آنکھیں۔۔۔۔۔۔میں جب بھی انکو دیکھتا ہوں تو خود کو بھولنے لگتا ہوں ” داؤد نے جذبوں سے بوجھل لہجے میں کہا۔ داؤد نے اپنے لمس سے اسکی آنکھوں کو مہکایا۔
” داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز !!!! ” مہر اسکی قربت پر روہانسی ہوئی۔ داؤد کو اسکی حالت پر ترس آیا تو تھوڑا دور ہوا لیکن وہ ابھی بھی اسی کے حصار میں کھڑی تھی۔
” مہر !!! کل کوئی فنکشن نہیں ہے اس لیے کل تم میرے ساتھ چلو گی ” داؤد نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
” کہاں ؟؟ “
” جہاں بھی میں لے جاؤں تمھے جانا ہے میرے ساتھ ” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تاکید کی۔
” لیکن میں کیسے جا سکتی ہوں ؟ گھر میں سب پوچھیں گے تو۔۔۔۔۔۔۔”
” وہ میرا مسلہ ہے۔۔۔۔۔میں دادو سے اجازت لے لوں گا “
” لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ کوئی بہانہ بنا کر انکار کرتی داؤد نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروا دیا۔
” اگر تم انکار کرو گی تو میں یہاں سے نہیں جاؤں گا اور رات یہیں روکوں گا تمہارے پاس ” اس کی بات پر مہر نے اپنی آنکھیں پھیلائیں۔
” چلو گی نا ؟ ” داؤد نے پوچھا تو مہر نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔ داؤد نے مسکرا کر اپنی انگلی اس کے لبوں سے ہٹائی۔ داؤد جانتا تھا وہ سیدھے طریقے سے نہیں مانے گی۔
” گڈ تو پھر کل شام ” داؤد کہہ کر مڑا اور کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ہی عالیہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
” ہاں جی جناب کونسا ابٹن تھا ایسا جو دروازہ بند کرکے لگا رہے تھے “
” بس تھا ایک ” داؤد دلکشی سے مسکرایا۔
” اچھا بچو !!! نیچے چاچو کو پتا چلے تو تمھے پھر وہ لگائیں گے ابٹن۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی اپنے ہاتھوں سے “
” تم اسے چھوڑو میرے ساتھ آؤ مجھے ایک ہیلپ چاہیے تمہاری ” داؤد عالیہ کو لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
*********************
مہر چینج کرکے نیچے آئی تو تقریباً سب کھانا کھا چکے تھے۔
” مہر اتنی دیر کردی بیٹا کب سے تمہاری راہ دیکھ رہے تھے آجاؤ شاباش کھانا کھاؤ ” سکندر صاحب نے اسے اپنے پاس خالی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ مہر مسکرا کر ان کے پاس آ بیٹھی۔ دو منٹ بعد داؤد بھی نیچے آیا تو سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ آمنہ بیگم نے دوبارہ سے کھانا گرم کروایا۔ باقی سب لاؤنج میں جا چکے تھے۔ سارہ نے کچن سے گرم رائس لا کر میز پر رکھے۔
” سارہ تم بھی بیٹھو آو کھانا کھاؤ ” مہر نے پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے کہا۔
” نہیں میں کھا چکی ہوں اور ویسے بھی میری کافی بن رہی ہے میں وہ پینے والی ہوں ” سارہ نے اسے بتایا۔
” اچھا تو یہاں بیٹھ تو جاؤ نا میرے پاس ” مہر نے دوبارہ کہا تو سارہ مسکرا کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ہانیہ کچن سے ٹرے لے کر نکلی جس میں پانچ کافی کے مگ تھے۔ ایک اس نے سارہ کو دیا باقی وہ لاونج میں لے گئی۔
سارہ کافی کے مگ کے کناروں پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے علی کی بات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
” کیا اتنا آسان ہے سب کچھ بھول کر آگے بڑھ جانا ؟ ” سارہ نے سوچا۔
” میں بھی پاگل ہوں کیا سوچ رہی ہوں اسے کیا پتا کہ میرا صرف رشتہ ہی نہیں ختم ہوا بلکہ میں جس سے محبت کرتی تھی اس سے رشتہ ختم ہوا ہے اور یہ تکلیف کے وہ کسی اور کو چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف ” سارہ نے اپنی آنکھیں میچ لیں۔ ساتھ بیٹھی مہر اپنے کھانے میں مگن تھی اور داؤد اسے دیکھنے میں۔ سارہ نے آنکھیں کھولیں تو نظر سامنے داؤد پر پڑی۔
” کیا میں غلط کر رہی ہوں ؟ وہ اب کسی اور کا ہوچکا ہے بلکہ وہ کسی اور میری سب سے پیاری دوست مہر کا ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے داؤد کو بھولنا ہوگا۔۔۔۔۔ہاں وہ صحیح تھا مجھے آگے بڑھنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ ” سارہ مسلسل داؤد کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ مہر سارہ سے کچھ کہنے کیلئے اسکی طرف متوجہ ہوئی تو سارہ کو داؤد کو دیکھتے پا کر وہ ایک دم چپ ہوگئی۔ دل میں ایک دم بوجھ آن گھیرا۔ مہر نے نظریں ہٹا کر اپنے سامنے پڑی پلیٹ کو بے مقصد دیکھنا شروع کردیا۔ چہرے پر افسردگی چھا گئی۔ داؤد نے اپنا کھانا ختم کرکے مہر کی جانب دیکھا جو چہرہ جھکائے بیٹھی تھی۔ داؤد نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ٹیبل کو اپنی ہاتھ کی پشت سے بجایا تو سارہ بھی ہوش میں آئی اور اس نے داؤد سے نظریں ہٹا کر مگ اپنے لبوں سے لگایا۔ لیکن مہر ویسے ہی سر جھکائے بیٹھی رہی۔ داؤد نے مسکرا کر سارہ کو دیکھا اور مہر پر ایک گہری نظر ڈال کر وہاں سے اٹھ گیا۔
************************
اگلے دن بھی گھر میں ویسے ہی گہما گہمی رہی تھی۔ حالانکہ آج ایک دن کا وقفہ مہندی سے پہلے رکھا گیا تھا تاکہ تیاریوں میں وقت مل جائے۔ عالیہ اس وقت مہر کے کمرے میں موجود اسے داؤد کے ساتھ جانے کا کہنے آئی تھی۔
” آپی میں کیسے جاسکتی ہوں ؟ بابا ماں سب کو کیا کہوں گی کہ میں ان کے ساتھ جا رہی ہوں ” مہر نے خدشہ ظاہر کیا۔
” میں نے بھی تمہارے میاں کو یہ بات کل رات سمجھانی چاہی لیکن وہ کہاں سنتا ہے ؟ کہا بھی ہے دو دن کی ہی تو بات ہے رخصتی ہو جائے گی تو جہاں مرضی لے جانا لیکن وہ ہی مرغی کی ایک ٹانگ۔۔۔۔۔۔۔” عالیہ نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔
” لیکن میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ کچھ کہتی عالیہ نے اسکی بات کاٹی۔
” مہر داؤد باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہے جاؤ جلدی سے ویسے بھی وہ دادو سے اجازت لے چکا ہے۔۔۔۔۔ اور تم فکر کیوں کررہی ہو وہ شوہر ہے تمہارا۔۔۔۔۔ ” عالیہ نے اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر سمجھایا اسے۔ مہر نے بس ہاں میں سر ہلایا۔
*********************
گاڑی منزل کی طرف گامزن تھی۔ داؤد گاڑی چلاتے ہوئے ساتھ بیٹھی منہ پھلائے ایک نظر مہر پر بھی ڈالتا۔
” کب تک واپس آئیں گے ہم ؟ ” مہر نے بنا اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” اتنی جلدی ہے واپس آنے کی پہلے منزل تو آنے دو ” اسکے جواب پر مہر نے منہ بنایا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوٹی سیلون کے باہر گاڑی رکی تو مہر حیران ہوئی۔ داؤد کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ بول پڑی۔
” آپ یہاں جانا چاہتے ہیں میرے ساتھ؟۔۔۔۔ پہلے بتا دیتے اس میں شرمانے والی کیا بات تھی آجکل لڑکوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے ویسے بھی۔۔۔۔۔۔”
” شٹ اپ ! پیچھے پڑے بیگ اٹھاؤ اور اندر جاؤ ” داؤد نے اسکی ٹر ٹر چلتی زبان کو بریک لگائی۔
” لیکن۔۔۔۔۔ “
” مسسز داؤد کے نام سے تمہاری اپویمینٹ ہے انھیں بتانا وہ جانتے ہیں کیا کرنا ہے ” داؤد نے اسے بات کرنے کا موقع ہی نہیں اور اپنی بات جاری رکھی۔ مہر نے غصے سے اسے دیکھا پھر پیچھے پڑے شاپنگ بیگ اٹھائے اور گاڑی سے باہر نکل گئی۔
*********************
ایک گھنٹے بعد داؤد مہر کو پک کرنے آچکا تھا۔ وہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا مہر کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے وہ کال کرکے بتا چکا تھا کہ وہ باہر انتظار کررہا ہے۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ سامنے سے آتی دیکھی۔ داؤد ایک لمحے کیلئے ساکت ہوا تھا۔
مہر بلیک شفون کی فل آستین والی ساڑھی میں۔۔۔ بالوں کو سمیٹ کر دائیں کندھے پر ڈالا تھا جنکو نیچے سے ہلکے سا کرل کیا ہوا تھا، ریڈ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ۔۔۔۔۔سحر انگیز آنکھوں کو مسکارا لگا کر مزید قاتل بنایا گیا تھا۔۔۔۔ داؤد کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ وہ چلتے ہوئے عین اسکے مقابل آ رکی۔ اس کے انداز میں ابھی بھی خفگی سی تھی۔ داؤد نے مسکرا کر اسکے کان کے قریب سرگوشی کی جسے سن کر اسکا چہرہ سرخ قندھاری ہوگیا۔ داؤد نے گاڑی کا ڈور اسکے کیلئے کھولا تو مہر نے شرم اور خفت سے لال چہرا لئے اسے گھورا تو داؤد نے اپنے لبوں پر امڈ آنی والی مسکراہٹ کو دبا لیا۔
**********************
گاڑی ایک بڑے سے فارم ہاؤس پر آ رکی تھی۔
” یہ کس کا گھر ہے ؟ ” مہر نے پوچھا۔
” گھر نہیں فارم ہاؤس ہے کچھ دن پہلے ہی میں نے خریدا تھا ” داؤد نے اسے بتایا۔ مہر کو خشگوار حیرت ہوئی۔
” سچ میں یہ ہمارا ہے ؟ “
” بالکل ! ابھی گھر میں کسی کو پتا نہیں ہے کیونکہ میں یہ پہلے تمھے دیکھانا چاہتا تھا۔ وو لوگ بڑی سی راہداری پر کھڑے تھے جو اندر لے جاتی تھی۔ دائیں جانب بہت بڑا باغ تھا جہاں درخت اور پودے لگائے گئے تھے۔ باغ کے آخر میں ایک بڑا سا پنجرا تھا جس میں خوبصورت دو مور تھے۔ مہر ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور پھر وہ اس طرف جانے لگی تھی کہ داؤد نے اسکی کلائی تھام کر روک لیا۔
” مجھے وہ دیکھنے ہیں ” مہر نے کہا۔
” ابھی نہیں رات ہورہی ہے اگلی دفعہ جب دن کے وقت آئیں گے تب دیکھ لینا ” داؤد کہتے ہوئے اسے بیک سائیڈ پر لے جانے لگا جہاں بڑا سا پول تھا۔ پول کی ایک طرف ایک میز تھی اور دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ مہر یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئی کیونکہ یہ سب پہلی بار وہ دیکھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ملازم آیا جس نے میز پر کھانا لگانا شروع کیا۔ داؤد نے ایک کرسی کھینچی تو مہر اس پر بیٹھ گئی۔ ملازم نے کھانا لگانے کے بعد میز کے درمیان میں رکھی کینڈل جلائی اور وہاں سے چلا گیا۔
” یہ سب بہت خوبصورت ہے ” مہر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” واقعی میں بہت۔۔۔۔۔۔۔ ” داؤد نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو مہر نے اپنا سر جھکا لیا۔ کھلے آسمان پر پورا چاند نکلا تھا جس نے ہر طرف چاندنی بکھیری ہوئی تھی پول کے قریب کینڈل لائٹ ڈنر سب نے مل کر ایک خوابناک سا ماحول بنا دیا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد داؤد اسے گھر کے اندر لے آیا تھا۔ بہت بڑا ہال تھا جہاں ہر طرف کینڈلز جلا رکھی تھیں۔ مہر کی آنکھیں یہ دیکھ کر چمکیں تھیں اسے یہ جگہ یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ جو یہاں آنے سے پہلے ڈری ہوئی تھی اور خفا تھی اب اس کے برعکس بے انتہا خوش تھی۔
” کیا ہم یہاں ہمیشہ کیلئے رہنے آ سکتے ہیں ؟ ” مہر نے داؤد کی طرف دیکھتے ہوئے چہکتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں ! تم کہو تو میں اور تم یہاں شفٹ ہو جائیں گے ” داؤد نے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے گال سہلانے لگا۔
” نن۔۔۔۔۔۔نہیں باقی سب بھی ہمارے ساتھ ” مہر نے جھجکتے ہوئے کہا۔
” نہیں ! اگر تم یہاں رہنا چاہتی ہو تو صرف میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔ ” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
” نہیں پھر۔۔۔۔۔۔ہم یہاں کبھی کبھار آ جائیں گے ” وہ اپنی نظریں جھکا گئی کیونکہ داؤد کی جگر جگر کرتی نگاہوں میں دیکھنا اس کیلئے مشکل تھا۔ داؤد اس سے دور ہوا اور ٹیبل پر رکھے میوزک پلیئر کو آن کیا۔
” تم چاہتی تھی نا میں ڈانس کروں ؟ ” مہر نے مسکرا کر اپنا سر اثبات میں ہلایا تو داؤد نے اسے کمر سے پکڑ کر قریب کیا۔
” ساتھ کرتے ہیں ” داؤد نے کہتے ہوئے ایک ہاتھ میں مہر کا ہاتھ تھاما اور دوسرا اسکی کمر پہ رکھا۔
سورج ہوا مدھم، چاند جلنے لگا
آسمان یہ ہائے کیوں پگھلنے لگا…
میں ٹھہرا رہا، زمین چلنے لگی
دھڑکا یہ دل، سانس تھمنے لگی
اوہ، کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے
سجنا، کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے
ہے خوبصورت یہ پل، سب کچھ رہا ہے بدل
سپنے حقیقت میں جو ڈھل رہے ہیں۔
کیا صدیوں سے پرانا ہے رشتہ یہ ہمارا
کے جس طرح تم سے ہم مل رہے ہیں۔
یونہی رہے ہر دم پیار کا موسم
یونھی ملو ہم سے تم جنم جنم
میں ٹھہرا رہا، زمین چلنے لگی
دھڑکا یہ دل، سانس تھمنے لگی
اوہ، کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے
سجنا، کیا یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے
دونوں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے اس خوبصورت پل کا حصہ بنے ہوئے تھے۔
” مہر !!! میرے دل کی دھڑکن ہو تم۔۔۔۔تمہارا یہ حسین چہرہ میں جب جب دیکھتا ہوں تو نئے سرے سے تم سے محبت ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔تمہاری ان آنکھوں میں ڈوبنے کیلئے میرا دل بے قرار رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ آئی لو یو مہر۔۔۔۔۔آئی ریلی ڈو ” داؤد مہر کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ مہر کے دل کی دھڑکن تھم سی گئیں اس کے لبوں پر شرمیلی سی مسکان نمودار ہوئی۔ داؤد کی پر شوق گستاخ نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے اس نے غیر محسوس طور پر رخ پھیرا تھا۔ داؤد نے اسکی کلائی تھامی لیکن وہ ایسے ہی رخ مڑ کر کھڑی رہی۔
” مہر !! میں نے کچھ کہا ہے مجھے تم سے اسکا جواب چاہیے “
” مم۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیا کہوں ؟ ” مہر نے دھیما سا کہا۔ داؤد نے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے سینے سے آ لگی۔ وہ اس پر جھکا تھا۔ مہر کے حواس مختل ہوئے تھے۔ کتنے ہی پل اس معنی خیز خاموشی کے نظر ہوئے تھے۔ داؤد نے اپنا چہرہ اٹھا کر دیکھا تو مہر کا چہرہ شدت جذبات سے سرخ ہوا تھا وہ آنکھیں موندے ہوئے تھی۔ داؤد نے مسکرا کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تو مہر نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھ داؤد کی گردن کے گرد لپیٹے۔ داؤد چلتا ہوا اسے بیڈروم میں لے گیا۔ داؤد نے اسے بہت نرمی سے بیڈ پر لیٹا دیا تھا۔ وہ اسکے دائیں بائیں بیڈ پر دونوں ہاتھ جمائے اسکی اور جھکے اس کے چہرے کو اپنی آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔ داؤد کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی محور سی خوشبو مہر کے حواسوں پر چھانے لگی۔
” مجھے ڈر لگ رہا ہے ” حیا سے بوجھل لہجے میں مہر کی آواز داؤد نے سنی۔
” مجھے بھی ” داؤد نے گھمبیر لہجے میں کہا تو مہر کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں اور اسکی دھڑکنوں سے جیسے پورا ماحول دھڑک اٹھا تھا۔ کمرے میں فسوں خیزی بڑھنے لگی تھی۔
” آپ کیوں ڈر رہے ہیں ؟ ” مہر کو اسکے ڈرنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تو فوراً سے پوچھا۔
” اس لیے کے مجھے لگتا ہے آج رات میں یہاں سے جا نہیں پاؤں گا ” اسکی بات سے مہر فوراً گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
” ریلکیس ! بھروسہ نہیں مجھ پر ” داؤد نے اسکی حواس باختگی دیکھ کر کہا۔
” نہیں۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے بہت دیر ہوگئی ہے اب ہمیں چلنا چاہیے “
” ہاں !! اب واقعی میں چلنا چاہیے ” وہ خود پر قابو پاتا پیچھے ہوا اور بیڈ سے اٹھ کر مہر کے آگے ہاتھ کیا جسے تھام کر مہر اٹھی۔ داؤد اسکا ہاتھ تھامے آگے چل رہا تھا جب مہر رک گئی۔ داؤد نے پیچھے مڑ کر سوالیہ نظروں سے مہر کی جانب دیکھا۔ لیکن وہ خاموش داؤد کو دیکھتی رہی۔
” کیا ہوا رک کیوں گئی ؟ “
” میں آپ سے کچھ مانگوں گی تو دیں گے مجھے؟ ” مہر نے بہت مان سے پوچھا لیکن دل میں کہیں ڈر بھی دہی تھی لیکن اسے لگا یہ ہی ٹھیک وقت تھا وہ آج اچھے موڈ میں تھا۔
” ایسے مانگو گی تو جان بھی دے دوں گا ” داؤد نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر کہا۔
**********************
