Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 5)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 5)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
مہر اپنے بیڈ پر مزے سے سوئی ہوئی تھی۔ اسکا بیڈ روم کافی خوبصورت سا تھا۔ سلیٹی رنگ کا ڈبل بیڈ تھا۔ بیڈ کے دائیں طرف والی دیوار پر سلیٹی رنگ کی ڈریسنگ ٹیبل تھی۔ اور ٹیبل سے تھوڑے فاصلے پر دائیں طرف وارڈروب تھا۔ جب کہ بائیں طرف ایک سلیٹی رنگ کا صوفہ رکھا ہوا تھا جس کے ساتھ فاصلے پر باتھ روم تھا
بیڈ کے درمیان میں دائیں طرف کروٹ لیے لیٹی تھی۔
ایک ہاتھ سے تکیہ اپنے منہ پر رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ پر سر دھرہ تھا۔ کمبل کمر تک لیا ہوا تھا لیکن گورے پاوں کمبل سے باہر تھے۔
فرزانہ اب اسے جگا رہی تھی۔ “مہر باجی ۔۔۔ مہر باجی”
” کیا تکلیف ہے لڑکی کیوں صبح صبح میرے کان کھا رہی ہو” مہر نے نیند میں ڈوبی آواز سے کہا۔
“او ! کہاں کوئی صبح ہے دوپہر ہوگئی ہے باجی” فرزانہ نے جیسے افسوس کیا تھا۔ لیکن مہر نے اس بار کوئی جواب دیا۔
” مہر باجی! نیچے عالیہ باجی آئی ہیں” اس نے وہ کہا جو نیچے سب نے اسے کہنے کو بولا تھا۔ اور یہ کہنے کی دیر تھی مہر جھٹ سے اٹھی۔
” سچ میں آئیں ہیں؟” مہر نے خوشدلی سے پوچھا۔
“جی باجی ایک گھنٹہ ہو گیا ان کو آئے ہوئے” فرزانہ نے جواب دیا۔ مہر اٹھی اور ایسے ہی نیچے بھاگی۔
*******************
سارہ کل والی بات سے اب تک پریشان تھی۔ پورا وقت آفس ٹائم یہ ہی سوچتی رہی کہ کیسے اس مسلئے کو حل کرے؟ امی اور بابا کو شادی کیلئے انکار بھی نہیں کر سکتی اور داؤد کے علاوہ کسی دوسرے سے شادی بھی نہیں کر سکتی۔ اپنے کیبن میں بیٹھے انہی سوچوں میں گم تھی کہ رمشا(آفس کولیگ) وہاں آئی۔
“سارہ داؤد سر گھر جارہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ تم سے پوچھ آؤں کہ تمھے گھر ڈراپ کردیں یا ڈرائیور پک کرے گا”
“نہیں میں ڈرائیور کے ساتھ جاؤں گی” سارہ بے دھیانی میں بولی۔ رمشا اوکے کہہ کر جانے لگی کہ سارہ کو اچانک خیال آیا یہ ہی ٹھیک وقت ہے وہ اپنے دل کی بات داؤد سے کہہ دے، پھر جو بھی ہوگا وہ بعد میں دیکھا جائے گا۔
“رمشا ! داؤد سر سے کہنا میں آرہی ہوں مجھے ڈراپ کردیں” سارہ نے رمشا کو پیچھے سے آواز دے کر کہا۔
“عجیب ہو تم بھی” (کھبی کہتی نہیں جانا کھبی کہتی جانا ہے) رمشا نے سر جھٹکا۔
********************
حفصہ آمنہ اور رخسانہ بیگم عالیہ کے ساتھ ہی باتوں میں لگیں تھیں جب مہر بھاگتی ہوئی آئی اور عالیہ کے گلے لگی۔
“عالیہ آپی ! I missed you so much” مہر نے عالیہ کا گال چومتے ہوئے کہا۔
“میری جان میں نے بھی تم ہے بہت miss کیا”۔
“موسیٰ خالہ کی جان” مہر نے موسیٰ کو گود میں لیتے ہوئے کہا۔
“مہر تم ایسے ہی منہ اٹھا کر آگئی ہو” رخسانہ بیگم مہر کو گھورتے ہوئے بولیں۔
“اب ماں منہ اوپر کمرے میں کیسے رکھ کر آتی؟” مہر نے موسیٰ کو پیار کرتے ہوئے جواب دیا۔ سب نے مہر کی بات پر قہقہ لگایا۔
“مہر گڑیا تیرے کپڑوں کا کہہ رہی تیری ماں” دادو نے اسکے نائیٹ سوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ مہر پنک ٹراؤزر کے اوپر سفید رنگ کی ٹی شرٹ جس پر درمیان میں بڑا سا GIRL کا لوگو پرنٹ تھا پہننے ہوئے تھی۔
“جاؤ اوپر کپڑے بدلو جا کر” رخسانہ بیگم شعلہ بار نظروں سے بولیں۔ مہر خفا ہوئی(ایک تو ماں بھی نہ ۔۔)
“ہاں مہر جاؤ چینج کر آؤ، میں ادھر ہی ہوں آج رات یہاں ہی روکوں گی، پھر چاچو اور داؤد آجائیں تو آرام سے ساری چیزیں دیکھاؤں گی” عالیہ نے پیار سے اسے کہتے ہوئے بھیجا۔
*******************
داؤد کار ڈرائیو کر رہا تھا اور سارہ ساتھ ہی بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کیسے بات شروع کرے۔
“داؤد ! مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے” گاڑی کے اس خاموش ماحول میں سارہ کی آواز آئی۔
“ہاں کہو”
“وہ میں۔۔۔ میں تم سے۔۔۔ ” سارہ کو سمجھ نہیں آیا کیسے کہے۔ کتنا مشکل تھا ایک لڑکی کا اسطرح کسی لڑکے سے محبت کا اظہار کرنا۔
“اصل میں اگلے ہفتے ہم پھوپھو کی طرف جا رہے ہیں حمزہ بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے، تو میں شاہد آفس نہیں آسکوں” سارہ کو خود نہیں پتہ چلا کہ وہ کیا بات کرتے کرتے کیا کہہ گئی۔
“ہمم ! it’s okay sarah آفس میں بہت لوگ ہیں تمھارا کام ایک دن کیلئے ھینڈل کرلیں گے” داؤد نے اطمینان سے کہا۔ سارہ نے کہا کچھ نہیں بس ہلکے اثبات میں سرہلایا۔
*******************
شام کے پانچ بج رہے تھے۔ داؤد اسی وقت گھر آیا کرتا تھا البتہ سکندر صاحب لنچ ٹائم تک گھر آجایا کرتے تھے، سکندر صاحب نے اب آفس کا کام تقریباً داؤد کے ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ وہ اب بس صبح کے وقت آفس جاتے اور دوپہر میں لوٹ آتے تھے۔ کیونکہ اس عمر میں زیادہ وقت نہیں دے سکتے تھے، لیکن کچھ ضروری میٹنگز میں ان کا ہونا لازمی ہوتا اور داؤد بھی کوئی ڈیل کرنے سے پہلے ان سے مشورہ ضرور کرتا تھا۔
*******************
یہ منظر گھر میں موجود چھوٹے باغ کا ہے جو گھر کے مین داخلی گیٹ کے بائیں جانب بنا تھا۔ ہری گھاس کے درمیان میں لوہے کی سٹائلش میز اور کرسیاں رکھی تھیں۔ مہر اب ہلکے جامنی رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھی۔ نیچے گھاس پر موسیٰ کو گود میں لئے اس کے ساتھ سیلفیاں بنا رہی تھی۔ تب ہی گیٹ کے پار سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تو چوکیدار نے گیٹ کھولا تو داؤد کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ مہر نے سرسری سی نظر ڈال کر دوبارہ فون میں لگ گئی۔ البتہ موسیٰ نے اپنے ماموں کو دیکھا تو چہکا۔
“ماموں !” وہ داؤد کو آواز دیتے ہوئے مہر کی گود سے نکل کر اس کی طرف بھاگا تھا۔
“ہاں تمھارے کھڑوس ماموں” مہر نے برا سا منہ بنایا۔
ادھر داؤد نے دھیمی مسکان سے موسیٰ کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور دور بیٹھی مہر کو بلکل اگنور کیے اندر چل دیا۔
*******************
