280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 21) Part - 2

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

~مجھے ہنر سکھایا تیری محبت نے

میں دل کی بات کو پڑھنے لگا ہوں چہرے پر~

مہر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسکی آنکھ کھلی تھی۔ رات بھر روتے روتے صبح فجر کے وقت وہ سوئی تھی۔ بال سارے بکھرے، چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان وہ ایک ہی رات میں بالکل مرجھا سی گئی تھی۔ اس نے ایسا نہیں چاہا تھا جیسا ہوگیا۔ وہ کیسے داؤد کا دل اسطرح دکھا سکتی تھی۔ کل رات یاد آئی تو آنکھیں پھر سے نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔ اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے، وہ اس سے معافی مانگے اور اسے بتائے کہ اسکا ہرگز مطلب وہ نہیں تھا۔ لیکن نہیں وہ ابھی ایسا نہیں کرسکتی تھی، سارہ کی خوشی کیلئے یہ ضروری ہے کہ داؤد اس سے نفرت کرے۔ اس نے سوچ لیا تھا اب جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔ اب داؤد کم سے کم سارہ سے شادی کیلئے انکار تو نہیں کرے گا۔ اگر پھر بھی کردیا تو وہ کیا کرے گی۔ دل میں یہ اندیشہ بھی تھا۔ ان سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب اسکا فون بجا۔ انعم کی کال دیکھ کر اس نے فوراً کال پک کی تھی۔ شاید وہ ہی اسے کوئی اس مسلئے کا حل بتا دے۔

*********************

اپنے آفس میں بیٹھا کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے وہ پریشان حال نظر آرہا تھا۔ دل میں ایک کرب سا بھرا تھا۔ وہ کیسے اسے اتنی بڑی بات کر سکتی تھی۔ جو ملال بچپن سے اس کے دل میں تھا وہ ایک بار پھر سے سر اٹھانے لگا۔ وہ خود اسکو اس رات اتنی بڑی بڑی باتیں سمجھا رہی تھی اور اب خود یہ بات کہہ گئی۔ شاید کوئی اور یہ بات کہتا تو اسے اب اتنا دکھ نا ہوتا لیکن یہ بات اسی نے کی جس نے اسے اس خول سے نکالا تھا اور اب یہ دکھ ناجانے کب اسکے دل سے کم ہوگا۔

*********************

شام کو داؤد گھر واپس آیا تو آمنہ بیگم اسے اپنے ساتھ حفصہ بیگم کے کمرے میں لے گئیں۔ وہ آج داؤد سے سارہ سے نکاح کے متعلق بات کر لینا چاہتے تھے۔ حفصہ بیگم اپنے بیڈ پر تھیں اور سامنے صوفے پر آمنہ بیگم اور داؤد موجود تھا۔

” داؤد بیٹا جنید چاہتا ہے کہ سارہ اور تمہارا نکاح کردیا جائے، رخصتی بےشک جب تم چاہو۔۔۔۔۔ دیکھ میرے بچے ہاں تو کردی ہے تم نے تو نکاح میں کیا حرج ہے؟ مجھے پتا ہے تم نے وقت مانگا تھا لیکن اب کیا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔ تیرے پھوپھو بڑی آس لگا بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔۔ ” حفصہ بیگم نے بات مکمل کرکے اس کی طرف دیکھا جو سر جھکائے بیٹھا تھا۔

” داؤد نکاح بعد میں بھی تو ہونا ہے نا اور سارہ سے ہی کرنا ہے تو ابھی کیوں نہیں ؟ پھر رخصتی تھوڑی وہ ابھی مانگ رہے ہیں وہ جب تم چاہو گے تب ہو جائے گی ” آمنہ بیگم نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا۔ داؤد اسی طرح رہا سر جھکائے۔

” کچھ تو بولو بیٹا ” حفصہ بیگم کی آواز پر اس نے سر اٹھایا۔ کانوں میں ایک بازگشت سنائی دی۔

” میں بہت دور چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے بھی کھو دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تایا ابو کو بھی کھو دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔” داؤد نے کرب سے اپنی آنکھیں میچ لیں اور پھر آنکھیں کھلیں جن میں اب خاصی سختی عود آئی تھی۔

” جیسے آپ لوگ ٹھیک سمجھیں ” داؤد کہہ کر وہاں رکا نہیں اور کمرے سے نکل گیا۔ پیچھے حفصہ اور آمنہ بیگم خوشی سے نہال ہو گئیں۔

**********************

حمزہ کی شادی کے دن قریب قریب تھے اور شادی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ حمزہ کی مہندی والے دن صبح جمعے کے بعد داؤد اور سارہ کا نکاح ہونا طے پایا تھا۔ مہر بھی اس خبر سے تھوڑا پر سکون ہوئی کے اسکی محنت ضائع نہیں گئی اور داؤد نے انکار نہیں کیا۔ بظاہر تو وہ ٹھیک نظر آتی تھی مگر اندر ہی اندر یہ تکلیف اسے مار رہی تھی۔ اس دن کے بعد داؤد سے اسکا سامنا بھی نہیں ہوا تھا۔ اس نے کہا تھا میرے سامنے مت آنا لیکن وہ خود مہر کے سامنے نہیں آتا تھا۔ مہر کا دل ہر چیز سے بے زار رہنے لگا تھا۔ لیکن وہ کمزور نہیں پڑ سکتی تھی اسے مضبوط رہنا تھا۔

*********************

نومبر کے شروع والے دن چل رہے تھے۔ ایسے میں اسلام آباد کا موسم کافی ٹھنڈا رہنے لگا تھا۔ دن کے وقت تو سردی کم لگتی تھی لیکن راتوں کو سردی کافی حد تک محسوس ہوتی تھی۔ آج رات سب کا کھانا عظمیٰ بیگم کی طرف تھا انھوں نے اپنے گھر کے لان میں بار بی کیو کا انتظام کر رکھا تھا۔ شام کو رخسانہ بیگم کو ان کی بھابھی(علی کی امی)کی کال بھی آئی تھی کہ وہ کسی ضروری بات کے سلسلے میں انکی طرف آنا چاہتے ہیں لیکن رخسانہ بیگم نے انھیں بتایا کے وہ لوگ آج مہر کی پھوپھو کی طرف جا رہے ہیں تو وہ کل خود آجائیں گی۔ لیکن پھر انھوں نے انکو بتایا کہ وہ کس سلسلے میں آنا چاہ رہی ہیں تو رخسانہ بیگم تو پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ انھیں بے حد خوشی ہوئی اور پھر کل شام کو آنے کا کہہ کر شگفتہ بیگم نے فون رکھ دیا تھا۔ رخسانہ بیگم کا دل اب مہر کی طرف سے بے فکر ہوگیا وہ ان کے بھائی کے گھر بیاہ کر جائے گی اس سے بڑی خوشی کی بات ان کیلئے کیا ہوسکتی تھی۔ اب بس مہر کے بابا سے بات کرنی تھی اور انھیں یقین تھا وہ بھی اس رشتے کیلئے رضامندی ظاہر کردیں گے۔

********************

رات کے کھانے پر رخسانہ بیگم اور مہر سکندر صاحب کے ہمراہ انکی گاڑی میں جا چکے تھے۔ جبکہ آمنہ اور حفصہ بیگم نے داؤد کے ساتھ جانا تھا جو ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔ آمنہ بیگم نے اسے صبح بتایا تھا لیکن وہ صاف انکار کر چکا تھا لیکن پھر بھی وہ چاہتی تھیں کہ وہ ان کے ساتھ جائے۔ اسی لیے وہ دونوں جان بوجھ کر گھر رک گئی تھیں تاکہ وہ اسے خود ساتھ لے جائیں اب اسی کے آنے کا انتظار تھا۔ کچھ ہی لمحے میں داؤد گھر کے اندر داخل ہوتا ہوا دیکھا تو آمنہ بیگم فوراً سے اٹھی تھیں۔

” آگئے تم ! میں اور اماں تمہارا ہی انتظار کررہے تھے ” آمنہ بیگم نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

” آپ لوگ ابھی تک گئے نہیں ؟” داؤد نے آمنہ بیگم اور حفصہ بیگم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” تیرا انتظار تھا کیونکہ تیرے بنا نہیں جانا ہم نے ” حفصہ بیگم نے کہا تو داؤد خفا ہوا۔

” میں نے کہا تھا کہ میں نہیں جاؤں گا بلا وجہ ضد کیوں کرتے ہیں آپ لوگ میرے ساتھ ” داؤد نے آفس بیگ جس میں اسکا لیپ ٹاپ اور کچھ فائلز تھی انکو ٹیبل پر رکھا اور صوفے پر جا بیٹھا وہ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔

” چلو ٹھیک ہے ہم بھی پھر گھر ہی رہتے ہیں ” یہ آواز آمنہ بیگم کی تھی جو کچن سے اس کیلئے پانی کا گلاس لائیں تھی۔ داؤد نے ان سے پانی کا گلاس لیا اور ایک خفہ سی نظر ان ہر ڈالی۔

” مجھے پانچ منٹ دیں میں فریش ہوکر آتا ہوں ” پانی کا گلاس لئے وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

********************

عظمیٰ بیگم کے گھر رونق کا سما تھا۔ سارا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ لان میں بار بی کیو کا بھر پور انتظام ہوا تھا۔ عالیہ بھی عرفان اور موسیٰ کے ساتھ آچکی تھی۔ اب بس سب داؤد وغیرہ کا انتظار کر رہے تھے۔ مہر آج کتنے ہی دنوں بعد خوش دکھائی دے رہی تھی اور وجہ موسیٰ تھا جس کی شرارتوں سے وہ کھلکھلا رہی تھی۔ دل میں ایک خوشی بھی تھی کہ وہ آج کتنے دنوں بعد داؤد کو دیکھے گی، جو صبح اس کے جاگنے سے پہلے ہی آفس چلا جاتا ہے اور واپس آکر اپنے کمرے میں ہی رہتا، رات کا کھانا تک وہ اپنے کمرے میں کھاتا تھا۔ تھوڑی دیر مزید گزری جب وہ لوگ بھی وہاں آگئے۔ مہر نے بے قراری سی س طرف دیکھا جہاں وہ کھڑا سب سے مل رہا تھا۔ آف وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیو جینز اوپر بلیو بلیزر پہنے وہ مکمل مردانہ وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔ دفعتاً حمزہ کی کسی بات پر وہ ہلکا سا مسکرایا تو مہر کو لگا اگر وہ مزید اسے دیکھتے رہی تو خود سے بے وفائی کر جائے گی۔ لیکن اس پورے سمے اس نے ایک بار بھی مہر کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ مہر کو برا لگا لیکن یہ سب تو وہ چاہتی تھی پھر وہ اسے دیکھے یا نا دیکھے کیا فرق پڑتا۔

*********************

ایک حسین اور سرد شام سب ساتھ خوب انجوائے کر رہے تھے۔ گھر کے بڑے سب اندر کھانا کھا رہے تھے اور چھوٹے سب باہر لان میں کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ لان میں دو چھوٹے ٹیبل کے اردگرد کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ داؤد کا بالکل من نہیں تھا کھانا کھانے کا لیکن بہت مشکل سے کھا رہا تھا۔ وہ جب سے یہاں آیا تھا ایک بار بھی اس کی طرف نہیں دیکھا تھا جب جب اسکی آواز جب جب کانوں میں پڑتی تھی تو دل اسے دیکھنے کیلئے مچلنے لگتا۔ اسی لئے بس وہ یہاں آنا نہیں چاہتا تھا۔

**********************

کھانا کھانے کے بعد جب داؤد نے دادو وغیرہ کو چلنے کا کہا تو حمزہ نے یہ کہہ کر اسے روک لیا کہ ابھی کہاں ابھی تو سب ساتھ مل بیٹھ کر محفل سجائیں گے۔ داؤد نے اتنی کوشش کی تھی لیکن حمزہ نے اسکی ایک نہیں مانی تھی اور اب سب لان میں گھاس پر کشن رکھے درمیان میں لکڑیوں میں لگی آگ کے اردگرد بیٹھے تھے۔ ایک خوبصورت سا بون فائیر کا ماحول بنا سب اس رات کا حصہ لگ رہے تھے۔ گھر کے بڑے اندر ہی تھے جبکہ باقی سب باہر عالیہ اور عرفان ایک ساتھ بیٹھے تھے ان کے ساتھ مہر موسیٰ کو اپنی گود میں لئے بیٹھی تھی اور ان کے سامنے حمزہ ہاتھوں میں گٹار پکڑے بیٹھا تھا اسکی بائیں طرف داؤد اور دائیں طرف سارہ موجود تھی۔

” چلو پھر انتاکشری ہو جائے ” حمزہ نے جوش سے کہا تھا۔

” ناں بورنگ ہے ” عالیہ نے کہا۔

” تو پھر کیا ؟” عرفان نے عالیہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” امم ہمممم !!!!!! سب اپنے دل کی بات ایک گانا گنگنا کر بتائیں گے ” عالیہ نے گھٹنوں پر تھوڑی رکھے سوچتے ہوئے بتایا۔

” ایک ہی بات تھی بیگم ” عرفان نے کہا۔

” جی نہیں بہت فرق ہے ” عالیہ نے اترا کر کہا۔

” چلیں پھر آپ ہی شروع کریں نا، ہمیں بھی زرا پتا چلے آپ کے دل کی بات ” حمزہ نے عالیہ کو چھیڑتے ہوئے کہا۔

” بدتمیز ! ” عالیہ نے اسے گھورا تو سب ہی ہنس دیے۔ پھر عالیہ نے ایک خوبصورت گانا گنگنا کر اپنے دل کی بات کہی تو عرفان نے بھی اس کے جواب میں کشور کمار کا ایک گانا سنایا۔ حمزہ نے ساتھ ساتھ گٹار بجا کر مزید ان کو نکھارا تھا۔ اس کے بعد حمزہ نے بھی آنکھیں بند کیے ایک خوبصورت گیت گایا تو سب نے اسے ہانیہ کے نام سے کتنی ہی دیر چھیڑا تھا۔

” چلو سارہ اب تمہاری باری ” عالیہ نے مسکراتے ہوئے کہا سارہ کو تھا پر دیکھ داؤد کو رہی تھی۔ جو سپاٹ چہرہ لئے بے دلی سے یہاں بیٹھا تھا۔ عالیہ نے شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ سر کو جنبش دی۔

” عشق میں جب جی گھبرایا

دوریاں دل سہہ نہیں پایا

کتنی دیوانی ہو گئی میں کچھ سمجھ نا آیا

عشق میں جب جی گھبرایا

دوریاں دل سہہ نہیں پایا “

” ساجن ساجن ساجن۔۔۔۔۔۔۔ساجن “

” عشق میں جینا ہے

عشق میں مرنا ہے

عشق بنا اب تو کچھ نہیں کرنا ہے

دنیا والوں سے اب نہیں ڈرنا ہے

میری ہر دھڑکن میں عشق سمایا “

” ساجن ساجن ساجن۔۔۔۔۔۔۔ساجن “

سارہ نے گایا تو داؤد نے اسی گانے کے بول آگے خود گنگنائے۔

” عشق نہیں آسان

عشق بڑا مشکل

عشق کے راہی کو ملتی نہیں منزل

عشق میں کچھ بھی تو ہوتا نہیں حاصل

عشق ہے کیا اس عشق کو کوئی سمجھ نہیں پایا “

داؤد نے ختم کیا تو سب نے ہوٹنگ شروع کردی اور تالیاں بجائیں۔ سارہ بھی مسکرا رہی تھی۔ اس نے پہلی بار داؤد کو ایسے دیکھا تھا۔ مہر نے اپنے نیچے رکھے کشن کو ایک ہاتھ سے سختی سے دبوچا ہوا تھا۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔ اسکی آواز میں یہ بول گاتے ہوئے کتنا درد تھا۔

” واہ واہ سالے صاحب کیا بات ہے آپکی ” یہ آواز عرفان کی تھی۔

” داؤد آج تو تم نے سب کو سرپرائز کردیا ورنہ مجھے لگا تمہاری منتیں کرنے پڑیں گی تب جا کے تم مانو گے لیکن کیا بات ہے میرے بھائی ابھی سے۔۔۔۔۔۔۔ ” عالیہ نے معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے اسے چھیڑا تھا۔

” بھئی کمال کا گایا تم دونوں نے ” حمزہ نے بھی تعریف کی۔ سارہ خوش تھی بہت اور داؤد بس سب کو سن رہا تھا بنا کسی تاثر کے۔

” چلو اب کس کی باری ہے ؟؟ ” عرفان نے پوچھا۔

” مہر کی ” عالیہ نے کہا۔

” نہیں۔۔۔۔۔میں نہیں ” مہر نے اپنا نام سنا تو فوراً انکار کیا۔

” مہر تم انکار کر رہی ہو ؟ ” سارہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا کیوں کہ وہ جانتی تھی مہر کو ان سب کا کتنا شوق ہے۔

” کم اون مہر ” حمزہ نے بھی اسے چیر اپ کیا۔ مہر نے موسیٰ کو گود سے اتار کر ساتھ رکھے کشن پر بٹھایا اور خود وہاں سے اٹھ کر جانا چاہا لیکن عالیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

” مہر چلو بیٹھو یہاں ” عالیہ نے اسکا ہاتھ کھینچ کر واپس بٹھایا۔ موسیٰ ہاتھ میں پکڑے فون پر گیم کھیلتا مہر کی گود میں سر رکھ وہیں لیٹ گیا۔

” دیکھو میرا بیٹے نے بھی تمہاری فرار کی راہیں بند کردیں ہیں ” عالیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ داؤد اسی طرح گھاس پر نظریں جمائے بیٹھا تھا لیکن سن وہ سب رہا تھا۔ مہر آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی سب اب منتظر تھے تبھی مہر نے گانا شروع کیا۔

” قسم کی قسم ہے قسم سے

ہم کو پیار ہے صرف تم سے

اب یہ پیار نا ہوگا پھر ہم سے

قسم کی قسم ہے قسم سے

ہم کو پیار ہے صرف تم سے

لوگ کہتے ہیں پاگل ہوں میں یہ بھی نہ جانوں

دل لٹایا ہے میں نے اب کسی کی نا مانوں

چین دیکر کے میں نے بے چینیاں یہ لیں ہیں

نیندیں اڑا کر میں نے تم سے وفائیں کی ہیں

قسم کی قسم ہے قسم سے

جی رہے تھے ہم تیرے دم سے “

سب ہی مہر کی خوبصورت آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے۔ داؤد نے جو خود سے کہا تھا وہ اسے دیکھے گا نہیں اس نے اسکی آواز سنتے ہی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور پھر وقت جیسے تھم گیا تھا آس پاس سب غائب ہوگیا۔ آگ کے اس پار سیاہ لباس میں ملبوس آنکھیں جھکائے بیٹھی وہ شاید اپنے دل کی بات کہہ رہی تھی اور داؤد ابراہیم کا دل ایک بار پھر اس سے بے وفائی کر گیا تھا۔

**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *