280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 7)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

صبح کا سورج پرندوں کی چہچہاہٹ کے سنگ پھر سے نکل آیا تھا۔ آج سنڈے تھا اسی لیے سکندر صاحب اور داؤد نے آفس نہیں جانا تھا۔ اگر داؤد کے کمرے میں جھانکے تو وہ ابھی تک سو رہا تھا۔ سنڈے والے دن وہ دس گیارہ بجے کے قریب جاگتا تھا البتہ باقی دن وہ سات بجے تک اٹھ جایا کرتا تھا۔ باقی گھر والے اپنی روٹین کے مطابق جاگ گئے تھے اور روزمرہ کے کاموں میں لگے تھے۔ مہر کے کمرے میں دیکھا جائے تو آج ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی تھی۔ اور وہ یہ کے مہر بی بی آج جلدی جاگ گئی تھیں۔ گیلے بالوں کو آئینے کے سامنے کھڑی ہیئر ڈرائر سے خشک کررہی تھی۔

“ایسا کرتی ہوں کھڑوس کے روم میں جا کر اس کے سارے روم کا کباڑا کر آتی ہوں” خود سے کہتے وہ داؤد کو سبق سکھانے کے منصوبے بنا رہی تھی۔

“اونہوں نہیں مہر اس سے کچھ نہیں ہونا، کچھ اور سوچنا پڑے گا۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

تو مہر آج اسی لیے جلدی جاگ گئی تھی کہ وہ پلاننگ کر سکے کہ کیسے داؤد سے بدلہ لے۔ آج سنڈے تھا، مہر کو پتہ تھا داؤد سارا دن گھر پر ہوگا اور مہر کا ارادہ اس سنڈے کو داؤد کی زندگی کا سب سے یادگار دن بنانے کا تھا وہ الگ بات تھی کہ ابھی تک جتنی ترکیبیں سوچی تھیں ان سب کو خود ہی رد کرتی گئی۔۔۔۔ نہیں ایسا کرنے سے کھڑوس کو کوئی فرق نہیں پڑنا۔۔۔یہ کروں گی شک ہو سکتا کے میں نے کیا۔۔۔۔اس سے سڑیل نے مزید غصہ کرنا ہے۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

********************

عالیہ موسیٰ کو ناشتہ کروا رہی تھی۔ پاس ہی صوفے پر حفصہ بیگم بیٹھی تھیں جب آمنہ بیگم وہاں آئیں۔

“بات ہوئی داؤد سے؟” آمنہ بیگم نے عالیہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ حفصہ بیگم سمجھ گئیں کہ داؤد کی شادی کی بات ہو رہی۔

“جی ہوئی تھی اور وہ ہی جواب دیا جو ہمیشہ سے دیتا آرہا ہے” عالیہ نے دکھی دل سے کہا۔ آمنہ بیگم کو مایوسی ہوئی۔

“فکر نا کرو بہو میرے پاس ایک طریقہ ہے اسے منانے کا” حفصہ بیگم نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ لیکن آمنہ بیگم کو تسلی نہیں ہوئی نا جانے کیوں ان کو لگتا ہے ان کا بیٹا ایسے ہی زندگی گزار دے گا اور آج پہلی بار انھیں اپنے شوہر ابراہیم صاحب کی کمی بے حد محسوس ہورہی تھی۔

********************

سفید رنگ کی پورے آستینوں والی شرٹ کے ساتھ سیاہ ٹراؤزر پہننے داؤد ناشتے کی میز پر موجود تھا۔ شرٹ کی آستینوں کو کہنی تک چڑھا رکھا تھا۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ مہر بڑے غور سے داؤد کا جائزہ لے رہی تھی۔ وہ دونوں کیونکہ ایک ساتھ نیچے آئے تھے اسی لیے اب آمنے سامنے بیٹھے ناشتے کا انتظار کررہے تھے جو کہ رخسانہ بیگم ان کیلئے تیار کروا رہی تھیں البتہ باقی اپنا ناشتہ صبح کر چکے تھے۔ مہر جاگی تو آج جلدی تھی لیکن اپنے کمرے سے باہر دیر سے ہی نکلی تھی(کھڑوس کے خلاف سازش جو کررہی تھی)۔سب حیران ہوئے کے مہر آج خود ہی اٹھ کر آگئی کسی کو اسے جا کر جگانا نہیں پڑا جبکہ گھر والوں کو اگر پتہ چلتا مہر صبح نو بجے سے جاگ رہی ہے تو ضرور سب غش کھا جاتے۔

داؤد کو خود پر نظروں کا ارتکا محسوس ہوا تو سامنے دیکھا۔ مہر ہڑبڑا گئی اور فوراً آنکھوں کا رخ بدلہ۔ جب داؤد نیچے آیا تو وہ پہلے ہی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھی داؤد نے بس ایک ناگوار نظر ڈالی اور سنجیدگی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اور اب دونوں اپنا ناشتہ کررہے تھے۔داؤد ساتھ ساتھ فون بھی استعمال کر رہا تھا جبکہ مہر ناشتے کے ساتھ گاہے بگاہے داؤد پر بھی نظریں رکھے ہوئے تھی۔

*********************

داؤد ناشتہ کرکے کمرے میں جا چکا تھا البتہ چائے اس نے اپنے کمرے میں ہی منگوا لی تھی۔ ٹیبل سے اُٹھتے ہوئے وہ فرزانہ سے کہہ رہا تھا کہ میری چائے روم میں دے جانا۔ اور مہر ایک دم الرٹ ہوئی اس بات سی اس کی آنکھیں چمکیں تھی۔ اور اب مہر کچن میں موجود تھی۔ فرزانہ چائے بنا رہی تھی۔

“فرزانہ !” مہر نے اسے مخاطب کیا۔

“جی باجی”

“باہر دیکھ کر آؤ خان بابا(ڈرائیور) آگئے ہیں”

” جی میں یہ چائے۔۔۔۔” اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی مہر بول پڑی۔

“ہاں تو میں ڈال لیتی ہوں چائے تب تک تم جاؤ جلدی سے دیکھ کر آؤ”۔

“جی ٹھیک ہے” اس کے جاتے ہی مہر نے ایک نظر باہر لاونج میں ڈالی جہاں سب باتوں میں مصروف تھے۔ پھر جلدی سے چائے کپ میں ڈالی اور لال مرچ کا ڈبہ اٹھایا، اس میں ایک چمچ بھر کر مرچ ڈال دی اور اچھے سے مکس کیا اور ٹرے اٹھائے وہ کچن سے باہر آئی سامنے ہی فرزانہ چلی آرہی تھی۔

“جی خان بابا۔۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ فرزانہ بتاتی۔ مہر نے جلدی سے اسے ٹرے تھما دی۔

“جاؤ پہلے چائے دے آؤ” فرزانہ حیران ہوئی۔

“یہ مہر باجی بھی عجیب ہے کھبی کچھ کہتی ہے کھبی کچھ” نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھ گئی۔

داؤد کو چائے دے کر فرزانہ کمرے سے نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی مہر جو داؤد کے کمرے کے ساتھ دائیں طرف دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی فوراً اس کے دروازے کے سامنے ہوئی جو کہ بند تھا۔ اب سین یہ تھا مہر دروازے سے کان لگائے بلکل اس سے چپکی کھڑی تھی۔ یہ دیکھنے کیلئے کہ مرچوں والی چائے پی کر کیسا لگے گا کھڑوس۔ وہ الگ بات تھی کے بند دروازے سے وہ کچھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔لیکن سن تو سکتی تھی کہ وہ چیخے گا چلائے گا تو مہر کو بڑا مزہ آئے گا۔ اس بات سے بے خبر اندر داؤد ہاتھوں میں کوئی فائل لیے ٹہل رہا تھا اور چائے بیڈ کی سائیڈ پر رکھی تھی جسکو داؤد فائل پڑھنے کے چکر میں فلحال بھول چکا تھا۔

“او ہو ! ایک تو آواز نہیں آرہی کچھ” مہر نے جھنجھلا کر سوچا۔

داؤد کی نظر چائے کے کپ پڑی تو خیال آیا اسے پینے کا لیکن اب تک ٹھنڈی ہوچکی ہوگی اس نے سوچا اور دروازہ کھول کر وہ فرزانہ کو چائے گرم کر لانے کا کہنے والا تھا۔ جیسے ہی داؤد نے دروازہ کھولا مہر ڈھرم سے گھٹنوں کے بل کمرے کے اندر گری”۔

“واٹ دا ہیل از دس؟” داؤد شاک اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے بولا۔ مہر گھبرا کر فوراً اٹھی تھی۔ اسے سمجھ نا آیا کہ کیا کہے۔ اور داؤد اسے ابھی بھی ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو کے ہیلو بی بی کدھر۔

“وہ میں۔۔۔میں وہ۔۔۔” مہر کی تو زبان بھی ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اور پھر وہ ایسے ہی کمرے سے تیزی سے بھاگ نکلی جیسے پیچھے کوئی کتا پڑ گیا ہو۔ داؤد باہر اس کے پیچھے آیا لیکن مہر نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

“یہ لڑکی پاگل ہے کیا” داؤد خود سے سوال کر رہا تھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *