Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 2)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
آمنہ بیگم اور رخسانہ بیگم رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ سارہ بھی کچن میں ان کی مدد کر رہی تھی۔ سکندر صاحب ٹی وی پر نیوز سن رہے تھے.
“اسلام وعلیکم!” کچن میں آتے ہوے مہر نے کہا اور جاتے ہی سارہ کو پیچھے سے گلے لگا لیا ” تم کب آئی ؟ مجھے بتایا نہیں”
“جب تم گدھے گھوڑے بیچ سو رہی تھی تب سے” سارہ ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولی۔
“ہوگئی نیند پوری شہزادی مہر کی” رخسانہ بیگم بھی طنز کرتیں ہوئی بیٹی سی بولیں۔
“ہاں ہاں اڑا لیں میرا مذاک، بڑی موم آپ دیکھ ری ہیں نا” اب وہ اپنی تائ امی جنکو بڑی موم کہتی تھی خفا خفا سے بولی۔
“کیوں تنگ کرتے ہو میری چاند سی مہر کو” آمنہ بیگم نے مہر کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
“بس بھابی آپ کے اور امی جان کے لاڈ پیار نے بگاڑا ہوا اسے”
“ہاں اور آپ کو تو مجھ سے بلکل پیار نہیں” مہر خفت سے ماں کو دیکھتے بولی۔
“اچھا اب زیادہ باتیں مت کرو اور جاؤ دادو اور پھوپھو کو بلا لو کھانے کے لیے” روخسانہ بیگم روٹی توے سے اتارتے ہوے اسے باہر بھیجا نہیں تو انہے معلوم تھا کے اب انکی بیٹی بولنا شروع ہوئی تو پھر مشکل تھا چپ ہو۔
*******************
مہر خفا خفا سی دادو کے کمرے میں گئی اپنی پھوپھو سے مل کر دادو کی گود مے سر رکھ کر لیٹ گئ۔ موڈ اب اسکا خراب تھا ایک تو جاگتے ہی اس کھڑوس داؤد سے ٹکرا گئی پھر موم کا اور سارہ کا اس کی نیند کو لے کر مذاک اڑانا “کیا کوئی گناہ ہے کے وہ زیادہ سو نہیں سکتی” سوچتے ہوے دادو کو دیکھنے لگی جو اب تسبیح پڑھتے ہوے مہر پر پھونک رہیں تھیں۔
“آپکو اور پھوپھو کو کھانے کے لیے بلانے آئی ہوں” انداز خفت سے بھرا ۔
دادو مسکرائی “کیا ہوا میری مہر شہزادی کو” دادو اسکا خفا چہرہ دیکھتی پوچھنے لگیں۔
“کچھ بھی نہیں ہوا دادو” ان کا گال چوم کر اب اپنی پھوپھو سے مخاطب ہوئی “پھوپھو حمزہ بھائی کیوں نہیں آپ کے ساتھ؟”
“ہاں آج اپنے دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پلان تھا اسکا” انھوں نے نرمی سے جواب دیا۔
“دوستوں کا کہہ کر ہانیہ بھابھی کو لے کر گئے ہوں گے” وہ شرارت سے ہنستے ہوئے بولی۔
دادو اور عظمیٰ بیگم دونوں ہی مسکرا دیں۔
*********************
مہر کیوں کے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی تو گھر میں سب کو ہی بہت پیاری تھی اور تھی بھی سب سے چھوٹی۔ حال میں ہی بی ایس سی مکمل کیا اور اب آگے پڑھنے کا فلحال کوئی ارادہ نہ تھا مہر کا، اب وہ اپنی لائف انجونے کرنا چاہتی تھی۔ اس فیصلے سے باقی سب کو تو کوئی اعترض نہ تھا سواۓ رخسانہ بیگم کے وہ چاہتی تھی کے ان کی بیٹی اگے ایڈمشن لے مگر کیا کرتیں۔ تئیس سالہ مہر چلبلی سی،گوری رنگت، بھوری آنکھیں، کالے گھنے بال جو لیئر کٹ تھے بیحد پیاری لگتی تھی۔
********************
ڈائننگ ٹیبل پر سب کھانے پے موجود تھے سواے داؤد کے۔ ” مہر جاؤ بیٹا داؤد بھائی کو بلا لو کھانے کے لیے” مہر جو اپنے بابا سے راز و نیاز میں مصروف تھی دادو کے کہنے پر متوجہ ہوئی۔
“میں بابا سے ایک ضروری بات کر رہی ہوں فرزانہ (ملازمہ) کو بھج دیں”
آمنہ بیگم نے غصے سے گھورا۔
“جی میں جاتی ہوں” ماں کے ایسے دیکھنے سے مہر فوراً اٹھی کے کہیں ڈانٹ ہی نہ پڑ جائے۔
“گھر میں بندے کو چھوٹا نہیں ہونا چاہیئے نہیں تو بڑے آپکو سکون نہیں لینے دیں گے،مہر جاؤ یہ کر دو مہر وہ کر دو، مہر اس کو بلا لاؤ” منہ بناتے اور بڑبڑاتے ہوئے وہ اوپر جا رہی تھی۔ داؤد کے کمرے کے باہر کھڑی اب سوچ رہی تھی کے اندر جائے یا نہ جائے خیر جانا تو تھا ہی دروازہ کھول کر اندر گئی۔ پورا کمرہ نہایت خوبصورت تھا ۔ اس نے دیکھا کمرے کے ملحقہ بالکونی کا ڈور کھلا ہے اور داؤد شرٹ ٹراؤزر پہننے ریلنگ پر دونوں ہاتھ رکھے آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔
وہ بھی اس کے پیچھے گئی۔ ” نیچے کھانے پر سب آپکا انتظار کر رہے ہیں”۔ جلدی سے بول کر جانے لگی کہ داؤد کی سنجیدہ آواز پر روکی۔ ” آئندہ روم میں نوک کر کے آنا”۔ وہ اسی طرح اوپر دیکھتے ہوئے بولا۔
“جی!” کہہ کر جلدی سے باہر آگئی۔ ” ہونہہ ! آئندہ روم میں نوک کر کے آنا” داؤد کی نقل اتارتے ہوئے نیچے چل دی۔
**********************
