280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 27) Part - 1

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

مہر رات کے کھانے کے برتن ڈائننگ ٹیبل پر لگا رہی تھی۔

” میرا ہی دماغ خراب تھا جو اس کھڑوس کے پاس مدد کیلئے گئی، ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا کروں گی کوئی بچا بھی نہیں جو میری سفارش ڈالے اماں کے سامنے ” خود سے باتیں کرتی وہ کچن سے اندر باہر ہو رہی جب رخسانہ بیگم کی آواز پر وہ انکی طرف متوجہ ہوئی جو ہانڈی میں سے گرما گرم سالن کھانے والے باؤل میں نکال رہیں تھیں۔

” پاگل ہوگئی ہو کیا ؟ کس سے باتیں کر رہی ہو ؟ “

” ہاں ہو گئی ہوں پاگل۔۔۔۔۔پاگل خانے بھیج دیں مجھے،کم سے کم وہاں مجھے پڑھنا تو نہیں پڑے گا ” غصے میں کہتے ہوئے وہ کچن سے باہر آگئی۔

” اف پہلی لڑکی دیکھی ہے جسے پاگل خانے جانا منظور ہے لیکن یونیورسٹی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں اسے پڑھائی سے اتنی نفرت کب سے ہوئی ہے۔۔۔۔اچھی بھلی تو تھی ” رخسانہ بیگم اسکے جاتے ہی خود سے بولیں پھر سر جھٹک کر سالن اٹھا کر باہر آ گئیں۔

*********************

کھانا ایک خشگوار ماحول میں کھایا جا رہا تھا۔ سکندر صاحب نے اپنی لاڈلی بیٹی کو دیکھا جو کھانا کم کھا رہی تھی باقی سب کو گھور زیادہ رہی تھی۔

” مہر بیٹا دو سال کی تو بات ہے گزر بھی جائیں گے آپکو پتا بھی نہیں چلنا ” سکندر صاحب مہر سے مخاطب ہوئے۔

” اور نہیں تو کیا وہاں جاؤ گی نئے دوست بنیں گے نیا ماحول دیکھنے کو ملے گا۔۔۔۔۔۔۔اور کونسا تم نے سارا دن وہاں گزارنا ہے چند گھنٹوں کی تو بات ہے ” رخسانہ بیگم بھی گویا ہوئیں۔

” یہاں گھر رہ کر کرنا بھی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ دوپہر تک تو تیری صبح ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ اچھا ہے کچھ آگے پڑھ لے گی تو تھوڑی اور عقل آجائے گی ” یہ بات حفصہ بیگم نے کہی۔ انکی بات پر داؤد نے اپنے لبوں پر امڈ آنے والی ہنسی کو دبایا تھا جو کہ مہر کی نظر سے مخفی نا رہی۔

” مہر بیٹا آپ آرام سے ایک بار اچھے سے سوچ لو ” آمنہ بیگم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔

مہر سب کو باری باری ان کی کہی بات پر انکو دیکھ رہی تھی اور ہر ایک کی بات سن کر وہ افسردہ ہوتی گئی(مطلب کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں دینے والا)۔

” فارمز پرسوں تک فل کر دینا میں سبمیٹ کروا دوں گا ” داؤد کہتے ہوئے اپنے کرسی سے اٹھا تھا۔ مہر نے اسکی طرف دیکھا تو داؤد نے اسے دیکھ کر آنکھ کا کونا دبایا اور وہاں سے ہٹ گیا اسکی حرکت پر مہر کا منہ کھل گیا۔ حفصہ بیگم مزید کچھ کہنے لگیں تو مہر نے اپنا کھلا منہ بند کیا اور جلدی سے اپنا کھانا ختم کرنے لگی۔

*********************

رات کے بارہ بجے کا وقت تھا اور مہر انگلیاں منہ میں دبائے اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے کسطرح جان چھڑائے اس ماسٹرز کے عذاب سے۔

” اف کہاں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔ سوچ سوچ مہر کوئی تو طریقہ ہوگا ” ٹہلتے ٹہلتے داؤد کی بات کانوں میں گونجی تو وہ ایک دم ٹھہر گئی۔

” رخصتی ؟؟؟؟ یہ ہی ایک آپشن ہے کیا ؟ ” اس نے خود سے سوال کیا۔

” نہیں نہیں کوئی اور راستہ ضرور نکل آئے گا ” نفی میں سر ہلاتے وہ پھر سے ٹہلنے لگی۔

” ایک بات تو پکی ہے مہر اس پڑھائی سے جان صرف وہ ہی کھڑوس چھوڑوا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کیلئے میں رخصتی والی بات پر کبھی نہیں مانوں گی ” اب وہ کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی سوچنے لگی اور باہر رات قطرہ قطرہ گزرنے لگی۔

*********************

علی اپنے بیڈ پر نیم دراز سارہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسکی بات سے اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔ پھر ایک دم ایک بھولی بسری یاد اس کے ذہن کے پردوں پر اجاگر ہوئی۔

دس سالہ بچا لان میں فٹ بال ہاتھ میں پکڑے ایک پیاری سی دس سالہ ہی بچی کے پاس گیا۔ بچی نے لمبا سا زرد رنگ کا فراک پہنا تھا اس بچی کے بال بہت لمبے تھے۔ وہ لان میں لگے پھولوں کو توڑ رہی تھی جب اسے اپنے بال کھینچتے ہوئے محسوس ہوئے اسے شدید درد کا احساس ہوا تو پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ علی چہرے پر شیطانی مسکان سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔ سارہ نے بھی اسے غصے سے گھورا تھا اور پھر وہاں سے تھوڑے فاصلے پر موجود آٹھ سالہ مہر کے پاس گئی جو نیچے گھاس پر بیٹھی اپنی ڈول کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ سفید رنگ کا فراک پہنے ہوئے وہ معصوم اور بہت پیاری دیکھ رہی تھی۔ سارہ بھی اس کے ساتھ نیچے بیٹھ گئی۔

” مہر اب جب ہم کھیلیں گے تو تمہارا کزن نہیں کھیلے گا ساتھ ” سارہ نے خفگی سے کہا تو مہر نے ڈول پر سے دھیان ہٹا کر سارہ کی طرف دیکھا۔

” کیوں ؟ ” آٹھ سالہ مہر نے پوچھا۔

” کیونکہ وہ ایک گندا بچا ہے۔۔۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگتا اس کے ساتھ کھیلنا ” سارہ نے بتایا۔

” نہیں وہ گندا نہیں ہے، میرا بیسٹ فرینڈ ہے ” مہر کے لہجے میں علی کیلئے پیار ہی پیار تھا۔

” ٹھیک ہے تم اسکی فرینڈ رہو، میں اور داؤد فرینڈز بن جائیں گے ” سارہ کہتے ہوئے وہاں سے گھر کے اندر چلی گئی۔ مہر اسکی بات پر اداس ہوگئی تو فٹ بال کھیلتا علی اس کے پاس آیا۔

” کیا ہوا سنو وائٹ ؟ ” علی نے پیار سے پوچھا۔

” سارہ نے میرے سے کٹی کرلی اور وہ اس غصے والے داؤد کی فرینڈ بن جائے گی ” پھولے لال گالوں سے وہ خفت سے بتانے لگی۔

” تو کوئی بات نہیں میں ہوں نا۔۔۔۔۔۔ آؤ ہم دونوں کھیلتے ہیں ” علی اسکا ہاتھ تھام کر اٹھا اور اسے بھی اٹھایا۔

*********************

اگلے دن شام پانچ بجے جب داؤد گھر آیا تو اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی نظر سامنے مہر پر پڑی جو اس کے کمرے میں موجود اسکا انتظار کر رہی تھی۔

” مجھے نہیں پتا تھا آج گھر آؤں گا تو میری بیوی میرا استقبال کرنے کیلئے موجود ہوگی ” داؤد نے مسکراتے لہجے میں کہا۔ وہ جو آفس سے تھکا ہارا آیا تھا مہر کو یوں اپنے کمرے میں دیکھ ساری تھکن اتر گئی تھی۔ مہر اسکے بیوی کہنے پر جھینپ گئی۔

” وہ آپ ماں سے کہہ کر پلیز انھیں منع کریں نا ” مہر نے التجاء کی۔

” کس لئے ؟ ” داؤد جانتے بوجھتے انجان بنا۔

” میرے ماسٹرز کیلئے بھئ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں پڑھنا آگے ” مہر روہانسی ہوئی تھی۔

” مجھے نہیں اندازہ تھا کے میری بیوی اتنی نالائق ہے ” داؤد نے اپنی ٹائی اتار کر بیڈ پر اچھالی۔

” او ہیلو !!! ” مہر اسکی بات پر کمر پر دونوں ہاتھ رکھے غصے میں داؤد کے قریب گئی۔ داؤد نے ابرو اٹھائے اسکا یہ انداز دیکھا۔چہرے پر غصہ اسکی خوبصورتی کو مزید دو آتشہ کر رہا تھا۔

” میں کوئی نالائق نہیں ہوں سمجھے آپ، شاید آپکو پتا نہیں ہے میں ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوتی رہی ہوں ” گردن اکڑا کر فخر سے اس نے کہا۔

” ریلی ؟؟؟ ” داؤد نے حیرت سے پوچھا۔

” جی !! آپ کیا سمجھتے ہیں صرف آپ ہی لائق فائق ہیں اور باقی سب تو نالائق پانڈہ ہیں ” اسکی بات پر داؤد دھیما سا ہنسا تھا۔

” اچھا تو پھر کیا مسئلہ ہے آگے پڑھنے میں، تم تو نالائق پانڈہ نہیں ہو ” داؤد نے پانڈہ پر زور دیا۔

” او ہو !!! بھئی میرا دل نہیں کرتا اب اور نا مجھ سے صبح صبح اٹھا جاتا ہے “

” او !!!! یہ تو بہت بڑا مسلئہ ہے “

” ہاں نا !! اس لیے کہہ رہی ہوں پلیز آپ ماں سے کہیں وہ ضرور آپ کے کہنے پر مان جائیں گی ” اسکی بات پر داؤد اسے دیکھنے لگا پھر ایک خیال کے تحت داؤد کی آنکھیں چمکیں۔

” ٹھیک ہے میں منع کر دوں گا چچی کو۔۔۔۔۔ پھر وہ تمھے فورس نہیں کریں گی ” داؤد نے کہا.

” ہیں سچی ؟؟ ” مہر نے خوشی سے چہکتے ہوئے تصدیق چاہی۔ داؤد نے سر کو ہاں میں ہلایا۔

” لیکن اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا ؟ ” داؤد نے سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے کہا۔

” آپکو کیا چاہیے ؟ ” مہر نے اچنبھے سے پوچھا۔ اس کے کہنے پر داؤد نے اسکی طرف آیا اور تھوڑا سا اسکی اور جھکا تھا۔

” ایک شام میرے نام ” گھمبیر آواز مہر کے کانوں سے ٹکرائی تو اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔

” مم۔۔۔۔۔مطلب ” آنکھیں پھیلائے بڑی مشکل سے کہہ پائی۔ داؤد کو اسکی حالت پر مزہ آرہا تھا دل کیا اسے تھوڑا تنگ کرے لیکن پھر اپنے خیال کو جھٹک دیا کیونکہ مہر کا کیا پتا تھا آگے سے کیسا ریایکٹ کرے۔

” مطلب میں تمھے کہیں لے جانا چاہتا ہوں، جہاں صرف تم اور میں ہوں گے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” داؤد نے بات اُدھوری چھوڑ دی۔

” اور۔۔۔۔۔۔۔؟؟ مہر نے پوچھا۔

” اور !!!! ” داؤد مہر کے قریب ہوا پھر پورے استحقاق سے اسکے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔

” اور کیا ؟ ” مہر داؤد کی آنکھوں میں کھوئے بے خودی کے عالم میں بولی۔

” اور میں وہ سننا چاہتا ہوں جس کیلئے میں کب سے بے قرار ہوں، تمہارے لبوں سے اپنے لئے محبت کا اظہار ” اس کی پیشانی سے کشادہ پیشانی ٹکائے وہ شدت بھرے لہجے میں گویا ہوا تو مہر شرما کر اسکے حصار سے نکل کر دور ہٹی تھی۔

” مم ۔۔۔۔۔۔میں کیسے۔۔۔۔۔ ” نظریں جھکائے وہ منمنائی۔

” جیسے میں نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم انکار نہیں کر سکتی تمہارے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں اس لئے سوچ لو ” داؤد کے کہنے پر وہ چند لمحے کشمکش میں ڈوبی اپنی انگلیاں مروڑتی رہی۔

” ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ” اس نے سوچ لیا تھا کم سے کم یہ پڑھائی اور رخصتی سے تو آسان تھا۔

” گڈ !!! ” داؤد مسکرایا۔

” چلیں پھر میرے ساتھ چل کر ابھی ماں سے کہیں “

” اسکی ضرورت نہیں تم جا کر چچی سے بس اتنا کہنا کہ میں نے منع کردیا ہے اس لیے تمھے ایڈمیشن لینے کی ضرورت نہیں “

” بس اتنا ہی ؟ وہ مان جائیں گی ایسے ؟ ” مہر نے خیرت سے پوچھا۔ داؤد نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔

*********************

مہر رخسانہ بیگم کے کمرے میں موجود خوشی سے ان کے سامنے علان کر چکی تھی۔

” لیکن داؤد تو خود ہی لایا تھا ایڈمیشن فارمز اور اسی نے کہا تھا مجھے تم سے بات کرنے کیلئے ” رخسانہ بیگم نے بتایا۔

” کیا انھوں نے کہا تھا آپ سے کہ میں ماسٹرز کروں ؟ ” مہر نے بے یقینی استفسار کیا۔

” ہاں نا ورنہ مجھے کیا ضرورت تھی ؟ مجھے پتا تھا تم جیسی ڈھیٹ نے کہاں ماننی میری ” رخسانہ بیگم الماری میں سکندر صاحب کے استری شدہ کپڑے لٹکانے لگیں۔

” کتنے چالاک ہیں یہ؟؟۔۔۔۔مجھے الو بنایا۔۔۔۔ ابھی بتاتی ہوں مزہ ” مہر پیر پٹختے ہوئے وہاں سے نکلی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *