280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 3)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

رات کا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔ عظمیٰ بیگم اور سارہ اپنے گھر واپس جا چکی تھیں۔ جنید صاحب (حمزہ اور سارہ)کے والد ہارٹ سرجن تھے اور اب حمزہ نے بھی حال ہی میں اپنی specialization مکمل کی تھی۔ حمزہ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد ہانیہ سے ایک سال پہلے ہو گیا تھا اب بس ہانیہ کی پڑھائی مکمل ہونے ک بعد دونوں کی شادی طے پائی تھی ۔

********************

رات کے دو بج رہے تھے۔ سب گھر والے سو چکے تھے۔ لیکن مہر بی بی ابھی جاگ رہی تھیں یا یہ کہنا بہتر ہوگا اس کی صبح ہی ابھی ہوئی تھی۔ دوپہر کی سوئی شام کو جاگی تھی اب کہاں اتنی جلدی نیند آنی تھی۔ کانوں میں ائر فون لگاۓ موبائل پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ میسجز پر اپنی دوستوں سے کل کا پلان بھی ڈسکس کر رہی تھی۔ مہر کی دو بیسٹ فرینڈز بیا اور انعم جن سے بہت گہری دوستی تھی، بیا نے بھی بی ایس سی کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی کیونکہ اس کے والدین نے اس کی بات پکی کر دی تھی البتہ انعم اب ایم ایس سی کر رہی تھی۔ انعم نے مہر سے بہت کہا کہ میرے ساتھ ایڈمیشن لو دونوں ساتھ ہوں گے یونیورسٹی میں خوب مزے کریں گے مگر مہر کو آگے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی کی بیا کی کال آگئی، “مہر کی بچی کب سے میسج بھیجا ہے کوئی جواب نہیں؟” بیا نے غضے سے پوچھا۔

” ڈرامہ دیکھ رہی تھی ختم ہونے والا تھا کہ تمھاری کال آگئی، بولو کیا مسئلہ ہے اب؟” وہ اب بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بات کر رہی تھی۔

“اوف اب سنو شادی میں وقت کم ہے اور ڈھیروں کام ھیں میرے کپڑے، جیولری، جوتے وغیرہ اب سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟” بیا پریشانی سے کہا رہی تھی۔

مہر کو ہنسی آئی ” بیا تم تو پاگل ہو شادیاں سب کی ہوتی ہیں اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ہم ہیں ناں، کل پہلے کسی اچھے سے designer کے پاس جائیں گے اور پھر باقی کام آہستہ آہستہ وقت پر ہو جائیں گے” وہ اسے تفصیل سے بتا رہی تھی اور پھر انعم کا پوچھا۔

“وہ بے مروت سو مر گئ کہہ رہی تھی جو بھی پروگرام بنے مجھےصبح بتا دینا میں تم دونوں کی طرح ویلی نہیں ہوں میں نے یونیورسٹی جانا ہوتا، آئی بڑی ہوں” وہ خفت سے مہر کو بتا رہی تھی۔ اور پھر اسی طرح کتنی دیر دونوں باتیں کرتی رہیں۔

**********************

اگلے روز چمکتے سورج کی کرنیں ہر سو پھیلی تھیں۔ ایسے میں داؤد اپنے کمرے میں آفس جانے کیلئے بلکل تیار تھا۔ آئینے میں اسکا عکس صاف ظاہر ہوتا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، بھورے سلکی بال، مضبوط کسرتی بدن،

کھڑی ناک جو اسکو مزید مغرور دیکھاتی تھی، البتہ اس کی کالی آنکھوں میں ایک نرمی کا عنصر تھا اور ان میں ذہانت چمکتی تھی، چہرے پر ہر وقت سنجیدگی رہتی تھی۔ آئینے سے خود پر ایک نظر ڈالے وہ اپنے کمرے سے نکل کر نیچے چل دیا۔

“اسلام وعلیکم!” لیونگ روم میں آکر سب سے کہہ کر وہ دادو کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔ ” کیسی طبعیت ہے آپکی؟” دادو کا ہاتھ چوم کر نرمی سے پوچھا۔

“میں شکر اللّٰہ کا چنگی بھلی ہوں” انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔

“داؤد آج کی میٹنگ کی تیاری مکمل ہے؟” سکندر صاحب داؤد سے مخاطب ہوئے۔

“جی چاچو سب مکمل ہے میں اپکو ایک بار میٹنگ سے پہلے brief کر دیتا ہوں”

“نہیں آفس کا کام آفس میں ہوگا آجائیں ابھی ناشتہ کریں” رخسانہ بیگم نے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“چلو داؤد بیٹا یہ کام آفس پر چھوڑ دو” سکندر صاحب بھی بیوی کے کہنے پر مسکراتے ہوئے اٹھ گئے۔

*********************

“مہر مہر! اٹھ جاؤ اب دوپہر ہونے کو ہے کتنا سونا ہے مزید” رخسانہ بیگم غصے سے اسے اٹھا رہیں تھیں جو اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

وہ جو نیند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی تھی ماں کی تیز آواز کانوں میں پڑی تو انگڑائی لےکر اٹھ بیٹھی۔

“کیوں جاگتی ہو دیر رات تک؟ فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی ہوگی”۔ وہ اب کمفرٹر کو تہہ لگاتے ہوئے پوچھ رہیں تھیں۔

“ماں فجر پڑھ کر ہی تو سوئی تھی”۔ اپنے بال باندھتے ہوئے جلدی میں بولی اور پھر یاد آیا کہ یہ کیا بول دیا، زبان دانتوں میں دبائے نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا جو خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور رہی تھیں۔

“بہت خوب آ لینے دو تمھارے باپ کو آج، سب کچھ بند کرواتی ہوں تمھارا اور کہتی ہوں انھیں اگر آگے پڑھنا نہیں تو اس کی شادی کردیں”۔

“کیا میری شادی؟؟” اچھلتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھی۔

“ماں کہہ دیں کے آپ مذاک کررہی ہیں، میرے ابھی کھیلنے کودنے کے دن ہیں اور آپ مجھے سائیاں جی کے گھر رخصت کررہی ہیں” ڈرامائی انداز میں وہ بولی۔

رخسانہ بیگم نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس دیں اور اس کے سر پر ایک تھپکی رسید کرتے ہوئے بولیں ” پگلی یہ ہی عمر ہوتی ہے، تمھاری عالیہ آپی کی بھی اسی عمر میں شادی ہوئی تھی۔تم بھی سدھر جاؤ مہر۔

“اچھا نہ اماں ابھی مجھے جلدی سے ناشتہ کروا دیں، بیا کی طرف جانا ہے” وہ جلدی میں واشروم جاتے ہوئے بولی۔

“بیا کی طرف کیا ہے جو ابھی سے جانا ہے؟” الماری سے مہر کے لیے کپڑے نکالتے ہوئے پوچھا۔

تھوڑی دیر بعد مہر باہر نکلی اور بولی” آپکو بتایا تو تھا اس کی شادی کا، بس اسی کے لیے شوپنگ پر جانا ہے، اب آپ جائیں میرا ناشتہ بنوائیں میں دو منٹ میں تیار ہو کر آتی ہوں”۔

رخسانہ بیگم کچھ کہنے ہی والی تھیں لکین پھر ارادہ ترک کر دیا اور باہر آگئیں۔

*********************

“ویل ڈن سارہ بہت اچھی presentation دی تم نے” میٹنگ ہال سے نکل کر اپنے آفس روم میں جاتے ہوئے ساتھ چلتی سارہ سے داؤد نے کہا۔

سارہ مسکرائی داؤد کو اچھی لگی اس کے لیے یہ ہی بہت تھا۔

دونوں داؤد کے روم میں آچکے تھے۔ داؤد نے اپنا کوٹ اتار کر کرسی کی پشت پر ڈالا اور فون پر دو کافی منگوائی۔ اس سارے وقت میں سارہ داؤد کو ٹکٹکی باندھ دیکھے گئ۔ سارہ داؤد سے تب سے مبحت کرتی تھی جب سے اس نے ھوش سمبھالا تھا۔ دونوں کزن تو تھے ہی لیکن ایک ہی کالج اور پھر ایک ساتھ ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ وہ اسکا سینئر تھا اور عمر میں دو سال بڑا بھی۔ جب داؤد ایم بی اے مکمل کر چکا تھا تو اسکا شروع تھا۔ اپنی پڑھائی ختم کرنے کے بعد وہ نوکری کرنا چاہتی تھی تو داؤد نے ہی اسے اپنا آفس جوائن کرنے کا کہا، وہ تو بہت خوش تھی کے اب اگے بھی وہ اس کے سامنے رہے گا۔ شاید قسمت میں ساری عمر کا ساتھ لکھا تھا۔

**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *