280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 8)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

مہر باہر لان میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔ اپنا پلان ناکام ہونے کا دکھ تھا اب آگے کیا کرنا چاہیے یہ ہی سوچ رہی تھی۔ داؤد نے چائے گرم کرنے بھیجی تھی لیکن آمنہ بیگم نے وہ پھینک کر نئی چائے بنائی اور خود داؤد کو دینے گئیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں زیادہ دیر پڑی چائے کو گرم کرکے پینے کی بجائے تازہ بنا کر پینی چاہیئے۔ اسی لیے مہر دوبارہ مرچیں بھی نہیں ڈال پائی۔

“”کیا کروں کیا کروں” کمر پہ ہاتھ رکھے وہ سوچ رہی تھی۔ تبھی تین سالہ موسیٰ بھاگتا ہوا آیا۔ وہ گوری رنگت کا گول مٹول سا بچا تھا اس نے اپنے نین نقش اپنے ماموں سے چراے تھے۔

“خالہ ماما آپکو بلا رہیں ہیں” اپنی پیاری میٹھی آواز میں اس نے مہر کو پیغام دیا۔ مہر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔

“اچھا ادھر آؤ خالہ کی جان” مہر نے اسے گود میں اٹھا کے اس کے گال چومے اور موسیٰ کو لیے اندر بڑھ گئی۔

*********************

آج آفس سے چھٹی تھی اس لیے سارہ کا وقت گھر میں گزارنا انتہائی مشکل کام تھا۔ اسے زیادہ فارغ رہنے کی عادت بھی نہ تھی بلکل داؤد کی طرح اور اس بات سے سارہ بے حد خوش ہوا کرتی کہ داؤد اور اسکی بہت سی عادتیں اور پسند ایک جیسی تھیں۔ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی سارہ داؤد کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جب حمزہ ڈور ناک کرتے ہوئے سارہ کے کمرے میں آیا۔

“بھائی آپ۔۔۔” سارہ اٹھی اور ساتھ پڑا دوبٹہ اٹھا کر اوڑھ لیا۔

“کیا کر رہی تھی؟” حمزہ ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا۔ حمزہ داؤد کا ہی ہم عمر تھا۔ صاف رنگت، سنہری آنکھیں بلکل سارہ جیسی تھیں وہ بھی ایک خوبرو مرد تھا۔ حُسن تو اس خاندان کے ہر فرد پر مہربان تھا۔

“کچھ بھی نہیں ایسے ہی” سارہ نے زمیں پر نظریں جمائے کہا۔

“سارہ !” حمزہ نے سارہ کا ہاتھ تھاما۔

“بابا کی بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ صرف چاہتے ہیں تم بھی اب اپنے گھر کی ہو جاؤ، اسی لیے اونہوں نے سوچا کے ہم دونوں بہن بھائی کی شادی ایک ساتھ ہی کر دی جائے۔ لیکن ابھی بہت ٹائم ہے، ہم تماری مرضی جانے بنا کوئی فیصلہ نہیں لیں گے” سارہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔

“امی تمہارے لیے فکرمند ہیں کہہ رہیں تھیں مجھ سے جب سے سارہ سے شادی کی بات کی ہے وہ کھوئی کھوئی سی رہتی ہے، اسی لیے اونہوں نے مجھے کہا کے میں تم سے بات کروں”

“نہیں میں وہ بس اچانک سے شادی کا سوچ کر تھوڑی پریشان تھی” سارہ نے فوراً سے وضاحت دی کہ کہیں کسی کو شک نہ ہو جائے۔

“اصل میں بابا اپنا خرچہ بچانا چاہتے ہیں” حمزہ نے مسخرے پن سے کہا۔ سارہ ہنس دی۔ حمزہ اب پرسکون تھا اسے ایسے دیکھ کر۔ اور پھر وہ جانے کے لیے اٹھ گیا۔ لیکن پھر پلٹ کر ڈور کے پاس روک کر بولا۔

“ارے یار میں کہنے تو کچھ اور آیا تھا اور بات کچھ اور کر دی، تیار ہو جاؤ نانوں کی طرف چلنا ہے اور رات کا کھانا ادھر ہی کھائیں گے”

“آپ سے کس نے کہا؟”

“آمنہ ممانی نے کی کال تھی کہ عالیہ آئی ہوئی ہے تو رات کا کھانا سب ساتھ کھائیں گے” حمزہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ پیچھے سارہ اب پرسکون تھی اور اس بات سے خوش بھی داؤد کو آج دیکھنے سے وہ محروم نہیں رہے گی۔

********************

سب گھر والے لاونج میں موجود تھے۔ دوپہر کا کھانا کھایا جا چکا تھا۔ سب موسیٰ کی باتوں کو انجوائے کر رہے تھے جو بڑے مزے سے دبئی کے قصے سنا رہا تھا۔

مہر نے سوچا یہ ہی سہی موقعہ ہے داؤد بھی یہاں ہے وہ آرام سے اس کے کمرے میں جا سکتی تھی۔ وہ آرام سے اپنی جگہ سے اٹھ گئی کسی نے بھی مہر کے جانے پر دھیان نہیں دیا۔ مہر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ داؤد کے کمرے کے باہر روک کر اپنی سانسوں کو ہموار کیا اور پھر لاک گھما کر دروازہ کھول کر اندر آگئی۔ پورا کمرہ ہی خوبصورت تھا۔ سنہرے اور ہاف وائٹ رنگ کا فرنیچر تھا۔ بیڈ کے ساتھ دائیں طرف سلائیڈنگ گلاس کا ڈور تھا جس کی دوسری طرف بالکونی بنی تھی۔ بیڈ کے سامنے دیوار کے ساتھ ایک صوفہ رکھا تھا جس کے آگے شیشے کی میز رکھی تھی۔ بائیں طرف واشروم کا دروازہ تھا۔

مہر کی نظر بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر گئی جس پر پانی کا جگ اور ساتھ گلاس رکھا تھا۔ جگ میں پانی آدھا تھا شاید کل رات کا رکھا ہوا تھا مہر نے آگے بڑھ کر جگ اٹھایا اور بیڈ پر الٹ دیا۔

“اونہہ یہ کم ہے” بڑبڑاتے ہوئے جلدی سے واشروم میں گئی اور جگ بھر کر لائی اور بیڈ پر الٹ دیا۔ اسی طرح تین جگ مزید پانی کے ایسے ہی الٹ دیے اور پھر ہاتھ لگا کے چیک کیا اب تسلی ہوئی کے بیڈ پورا بھیگ چکا ہے۔

مہر نے جگ واپس رکھا اور جلدی سے کمرے سے نکل کر نیچے اور سیڑھیوں پر نظر دوڑائی۔ کوئی بھی نہیں تھا۔ سب ابھی لاونج میں ہی بیٹھے تھے۔ مہر کمرے میں واپس آئی اور صوفے کے ساتھ ٹیبل پر رکھی بلیک کلر کی فائل اٹھائی، کھول کر دیکھا کوئی امپورٹڈ فائل ہوگی یقیناً تبھی داؤد کے کمرے میں موجود تھی، مہر نے سوچا اور پھر فائل کو مہر نے صوفے کے نیچے پیچھے کرکے چھپا دیا۔ نیچے سے اٹھ کر سیدھی کھڑی ہوئی اور دوبارہ کمرے میں نگاہ دوڑائی۔

“اور ایسا کیا کروں” کمر پہ ہاتھ رکھے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مہر سوچ رہی تھی۔

“اگر کھڑوس کا موبائل کمرے میں ہوتا تو میں اسکا حشر بگاڑ دیتی لیکن فون ہمیشہ وہ ساتھ رکھتا ہے”۔ ابھی مہر سوچ ہی رہی تھی کہ کمرے کا ڈور کھلا اور مہر وہیں فریز ہوگئی پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔

“میں تو گئی” دل ہی دل میں بولی۔

“مہر باجی آپ۔۔۔۔” فرزانہ کی آواز اپنے عقب سے سنائی دی تو مہر کی جان میں جان آئی۔ مہر پلٹی اور فرزانہ کو دیکھا۔

“آپ یہاں کیا کر رہی ہیں”؟ فرزانہ نے نا سمجھنے والے انداز میں پوچھا، کیونکہ یہ پہلی بار تھا وہ داؤد کے کمرے میں یوں موجود تھی۔ مہر نے اسے گھوری سے نوازا۔

“اب میں تمھے بتا کر آیا جایا کروں گی” مہر سرد آواز میں بولی، مقصد صرف اسے ڈرانا تھا تاکہ وہ کسی سے اس کا یہاں ہونے کا ذکر نا کرے۔

“نہ۔۔۔نہیں باجی۔۔۔۔ میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی” وہ گھبرا گئی۔

“میرا ایک بریسلیٹ کھو گیا ہے، بس وہ ہی ڈھونڈنے آئی تھی، مجھے لگا یہاں بھی دیکھ لوں شاید یہاں مل جائے” مہر نے وضاحت دی۔

“میں دیکھ دیتی ہوں” فرزانہ آگے پیچھے دیکھنے لگی۔

“نہیں کوئی فائدہ نہیں میں دیکھ چکی ہوں، یہاں نہیں ہے، تم کرو جو کرنے آئی تھی” کہہ کر مہر کمرے سے نکل گئی۔

فرزانہ نے جگ اور گلاس اٹھایا اور ڈور بند کرکے باہر آگئی۔

*********************

“اوفف ! بال بال بچ گئی آج تو، ایک منٹ کیلئے لگا تھا وہ کھڑوس آگیا ہے۔ اس فرزانہ کی بچی نے ڈرا دیا تھا۔۔۔اوفف” مہر اپنے کمرے میں آ کر سکھ کا سانس لیتے ہوئے بولی۔

“ہہمم تو آج کی رات مسڑ داؤد ابراہیم جاگ کر گزاریں گے، چچ۔۔چچ۔۔، اب ان کو پتہ چلے گا کہ مہر سکندر کون ہے” مہر نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا۔

اب مہر کا ارادہ تھوڑی دیر آرام کرنے کا تھا۔ صبح سے جاگ رہی تھی اتنی مشقت کی تھی اب آرام کرنا تو بنتا تھا۔ یہ مہر بی بی کا خیال تھا۔ اور اب مہر آنے والے طوفان سے بے خبر نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی۔

*********************

شام کے آٹھ بج رہے تھے۔ عظمیٰ بیگم کی فیملی آچکی تھی۔ جنید صاحب اور حمزہ بھی آج موجود تھے۔ اب بس عرفان کا انتظار تھا۔ عالیہ نے کال کی تو عرفان نے پندرہ منٹ تک پہنچنے کا کہہ دیا۔ داؤد بھی آج معمول سے ہٹ کر دوپہر کے کھانے کے بعد سے نیچے ہی تھا۔ نہیں تو وہ اپنے کمرے سے نکلتا ہی کب تھا۔ اس لیے مہر کی کارستانی سے فلحال وہ بے خبر تھا۔ آج دادو نے اور عالیہ نے اس کی ایک نہیں سنی تھی اور اسے زبردستی روک رکھا تھا۔ آمنہ بیگم نے بھی آج چاہا کے وہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارے اسی لیے داؤد کی کوئی التجا آج ان کے سامنے بھی نہیں چلی۔ البتہ لیپ ٹاپ اس کے پاس ہی تھا جس پر وہ کچھ نا کچھ کام کرتا رہا اور ساتھ دو سے تین مرتبہ بزنس ریلیٹڈ کالز بھی اٹینڈ کیں۔ اب وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر فارغ تو ہرگز نہیں رہ سکتا تھا۔

سارہ جب آئی تو اس کے ساتھ بھی آفس کے متعلق کام کی باتیں کیں۔ جس پر گھر کی بیگمات نے سوچا کے اسکا کچھ نہیں ہوسکتا۔

“نانو ! مہر نظر نہیں آئی” سارہ نے پوچھا۔

“سو رہی ہے ہماری لاڈو رانی” نانو نے پیار بھرے لہجے میں جواب دیا۔

“کیا ! اس وقت سو رہی ہے؟ (اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا)۔

“سارہ تم تھوڑا سمجھاؤ اسے” رخسانہ بیگم نے کہا۔ ان کا بہت دل تھا ان کی مہر سارہ جیسی ذمہدار ہوتی۔

“ارے بہو تم ایسے ہی اتنی فکر کرتی ہو۔ مہر ابھی بچی ہے، یہ ہی دن ہوتے لڑکیوں کے اپنے ماں باپ کے گھر رہ کر وہ اپنی مرضی کریں، کل شادی ہو جائے گی اسکی آگے جا کر پتہ نہیں کیسی زندگی ہو” حفصہ بیگم نے رخسانہ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ رخسانہ بیگم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“میں اٹھا کر لاتی ہوں اسے ممانی” سارہ کہتے ہوئے اوپر مہر کے کمرے کی طرف بڑھی۔

******************

مہر کے کمرے کا دروازا کھلا تو سامنے کا منظر واضح ہوا۔ وہ مدھوش پڑی تھی۔ اوندھے منہ لیٹی ایک ہاتھ بیڈ کے نیچے لٹک رہا تھا اور دوسرا اپنے چہرے کے نیچے دھرہ تھا۔

“اتنی نیند کہاں سے لاتی ہے یہ” سارہ اس کے پاس جگہ بناتے ہوئے بیٹھی۔

“مہر ! مہر۔۔۔۔۔اٹھ جاؤ کتنا سونا ہے مزید، رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے ہیں” سارہ نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔ مہر کروٹ لیے سیدھی ہوئی آنکھیں بند تھیں۔ سارہ نے اب اسکا بازہ پکڑ کر ہلایا۔

“توبہ ہے مہر ! اٹھو جلدی سے” سارہ نے جھنجھوڑا اسے۔

مہر اپنی آنکھیں مسلنے لگی اور انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی۔

“کیا ٹائم ہوا ہے؟ نیند سے بھری آواز سے پوچھا۔

“ٹائم کی بچی کب سے جگا رہی ہوں، ہم سب نیچے شام کے آۓ ہوۓ۔ بابا اور حمزہ بھائی بھی تمہارا پوچھ رہے تھے اور تم ہو دنیا سے بے خبر اپنی نیند میں ڈوبی” سارہ نے تاسف سے کہا۔

“او میں اتنی دیر سوئی رہی” مہر تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور واشروم میں گم ہوئی۔ سارہ ہنس دی اسکی پھرتی پر اور اٹھ کر کمفرٹر ٹھیک کر رہی تھی کے مہر واپس آئی اور اسکا گال چوما۔

“میرا ایک سوٹ نکال دو اور نیچے میرے ساتھ جانا” سارہ کو تاکید کرکے دوبارہ واشروم میں بند ہوگئی۔ سارہ اور مہر تھی تو کزنز لیکن دونوں کا ایک دوسرے سے پیار سگی بہنوں جیسا تھا۔ سارہ مہر سے دو سال بڑی تھی پھر بھی دونوں بچپن کی ساتھی تھیں۔ جب بھی دونوں ایک ساتھ ہوتیں ڈھیروں باتیں کرتیں اور اپنے بچپن کے قصے یاد کیا کرتیں۔ سارہ اپنی شاپنگ پر مہر کو ساتھ لے جایا کرتی۔ دونوں کی کوئی بہن نہ تھی اسی لیے سارہ مہر کو اور مہر سارہ کو اپنی بہن کہتی۔

مہر اب کپڑے بدلے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بال برش کررہی تھی۔ سارہ بیڈ پر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“مہر ممانی تماری لاپرواہی سے پریشان رہتی ہیں، ان کو تنگ کیوں کرتی ہو جلدی سوجایا کرو رات کو تاکہ تمھے دن میں سونا نا پڑے” سارہ نے پیار سے سمجھانا چاہا۔

“اوفف ایک تو تمہاری ممانی بھی نہ میری نیند کی دشمن ہیں” مہر نے چڑ کر کہا۔

“میری ممانی تمہاری ماں بھی ہیں” سارہ نے اسے شرم دلانی چاہی۔ مہر نے اپنا فون اٹھایا اور بلو توتھ سپیکر سے connect کیا۔ اب کمرے میں گانے کی آواز گونج رہی تھی۔

“ہم تو بھائی جیسے ہیں، ویسے رہیں گے”

“ہم تو بھائی جیسے ہیں، ویسے رہیں گے”

“اب کوئی خوش ہو، یا ہو خفا، ہم نہیں بدلیں گے اپنی ادا”

“سمجھے نا سمجھے کوئی، ہم یہ ہی کہیں گے”

“ہم تو بھائی جیسے ہیں، ویسے رہیں گے”

دوپٹے کو سر پر دونوں ہاتھوں سے اٹھاۓ مہر ڈانس کر رہی تھی، کبھی بیڈ پر چڑھ جاتی کھبی سارہ کے گرد گھومنے لگتی۔ سارہ اسے ایسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اور گانا بجے جا رہا تھا اب مہر دوپٹہ پھینک سارہ کے ہاتھ پکڑے اسے بھی ساتھ گمھا رہی تھی اور پھر دونوں کی کھلکھلاٹیں تھیں کمرے میں۔

********************

رات کا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا جاچکا تھا۔ مہر موسیٰ کو لیے لان میں آگئی تھی۔ جہاں وہ اس کے ساتھ کتنی دیر فٹبال کھیلتی رہی۔ اندر بڑے سب اب باتوں میں مصروف تھے۔ حمزہ تو یہ کہہ کر اٹھ گیا کے آپ بزرگ لوگ باتیں کریں ہمارا یہاں کیا کام اور ساتھ داؤد اور سارہ کو بھی اٹھایا۔ جس پر عالیہ نے خاصا احتجاج کیا کے وہ اسے اور عرفان کو بھی بزرگ کہہ رہا ہے اور ہمیں ساتھ آنے کی آفر نہیں دی۔ دونوں کی اس نوک جھوک کو سب گھر والوں نے انجوئے کیا تھا۔

اب منظر یہ تھا داؤد حمزہ اور سارہ تینوں لان کی طرف آگئے جہاں سے مہر اور موسیٰ کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔ حمزہ نے سارہ اور داؤد کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور تینوں ان کے پیچھے کھڑے اب ان کی باتیں سن رہے تھے جبکہ داؤد چہرے پر ناگواری لیے کھڑا تھا اسے بالکل دلچسپی نہیں تھی اس سب میں، بس حمزہ کے فورس کرنے پر وہ ان کے ساتھ آگیا تھا اور اب اس پاگل لڑکی کی بےتکی باتیں سنے۔ اوففف !!

“اچھا موسیٰ یہ تو بتاؤ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟” مہر موسیٰ کو لیے لان کے بالکل شروع میں کرسی پر بیٹھی تھی۔ موسیٰ مہر کی گود میں موجود تھا۔ کرسی کا رخ لان کی دیوار کی طرف تھا۔

“میں؟” موسیٰ نے اپنی گردن اٹھا کر مہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں میری جان آپ” مہر نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد موسیٰ کی آواز آئی۔ “میں داؤد ماموں جیسا بنوں گا” وہ صدا کا اپنے ماموں کا شیدائی تھا چہک کر مہر کو آگاہ کیا۔

“کیا؟” مہر کو تو جیسے صدمہ ہوا تھا۔ اس نے موسیٰ کو گود سے اتارا۔

“خبردار تم ان جیسے بنے، وہ کھڑوس، سڑیل ظالم انسان۔۔۔” مہر کو تو بس نہیں چلتا وہ داؤد کو کچا چبا جاتی۔

“موسیٰ تم اپنے ماموں جیسے نہیں بلکہ میرے جیسے خوش مزاج، ہنس مکھ، تھوڑے سے شرارتی اور بہت پیارے بنو گے” وہ گردن اکڑا کر فخر سے کہے جا رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے داؤد کی آواز آئی۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *