280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 10)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

مہر بیا کے گھر جا چکی تھی۔ جب مہر نے بتایا کے وہ نہیں آسکتی تو بیا خود اسے لینے آگئ تھی۔ آج مہر اور بیا نے مل کر بیا کے سامان کی لسٹ بنانی تھی جو اس نے اپنے ساتھ سسرال لے جانا تھا۔ انعم دو دن کیلئے اپنے ماموں کے گھر روالپنڈی گئی تھی۔ بیا کا ایک ہی بھائی تھا جو شادی شدہ تھا۔ ویسے تو بیا کی امی نے کہا تھا وہ اور بیا کی بھابھی مل کر سب تیاریاں کرلیں گی، مگر بیا نے انکار کر دیا تھا کے وہ اپنے شادی کے جوڑے اپنی پسند سے خود بنوائے گی باقی سب وہ خود دیکھ لیں۔ اور اس کی مدد کیلئے اس کی جان سے پیاری سہیلیاں تو ہے تھیں۔

لڑکی کی شادی میں ہر فرد کا اپنا اپنا الگ کردار ہوتا یے جو وہ ادا کرتا ہے۔ لیکن سب سے اہم کردار اس کی دوست یا سہیلی کا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہونے والی دلہن کے ذہن میں بہت کچھ چلتا ہے۔۔آنے والی زندگی کو لے کر اندیشے۔۔۔اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ جانے کا دکھ۔۔۔ سو وہ جتنے احساسات ہوتے ہیں وہ کسی دوست یا سہیلی سے ہی کہہ پاتی ہے۔ جسے جذباتی حمایت کہتے ہیں جو ایک دوست یا سہیلی ہی ادا کر پاتی ہے۔

کرسچن میرج میں دولہن کی سہیلی کو bridesmaid کہا جاتا ہے۔ جو دولہن کی شادی کی تیاریوں میں مدد کرواتی ہے اس کے کپڑوں سے لے کر جوتے تک، شادی سے پہلے کی تقریبات کی تیاری، شادی والے دن کے کام تک وہ ایک دوست ہی سنبھالتی ہے۔ اس لیے دوست کو ایک نعمت کہا جاتا ہے۔

********************

یہ منظر داؤد کے کمرے کا ہے۔ جہاں داؤد اپنی وارڈروب کے سامنے کھڑا اندر فائل ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ خود ہی گھر آگیا تھا کیونکہ اسے یاد تھا وہ فائل گھر ہی لایا تھا۔ گھر آتے ہی اس نے سب سے پہلے ڈرائیو وے پر کھڑی اپنی کار کے اندر دیکھا تھا یہاں تک کہ سیٹس کے نیچے بھی۔ اگر دبئی کلائنٹس کی فلائٹ آج رات کی نا ہوتی تو داؤد پیپرز دوبارہ بنوا لیتا لیکن مسئلہ تو یہ ہی تھا اتنے کم وقت میں پیپرز نہیں بن سکتے تھے اور اگر یہ ڈیل ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو سارہ کی ساری محنت ضائع جائے گی۔ ابھی وہ دیکھ ہی رہا تھا کے پیچھے آمنہ بیگم اندر کمرے میں داخل ہوئیں۔

“داؤد ! میں دیکھ چکی وہاں نہیں ہے” آمنہ بیگم نے اندر آتے ہی کہا۔

“آپ نے باقی رومز چیک کیے ؟”

“ہاں فرزانہ نے عالیہ کا روم چیک کر لیا وہاں نہیں ملی تو اب مہر کے روم میں دیکھ رہی”

“آپ فرزانہ کو یہاں بلوائیں میں خود پوچھتا ہوں ضرور اس نے کل صفائی کرتے ہوئے ادھر ادھر کردی ہوگی”۔

آمنہ بیگم نے باہر آکر فرزانہ کو آواز دی وہ فوراً جی بیگم صاحبہ کہتی ہوئی حاضر ہوئی تھی۔

” تم یاد کرو کل تم نے اس کمرے میں کالے رنگ کی فائل دیکھی ہوگی ” داؤد نے فرزانہ سے نرمی سے پوچھا۔

” نہیں بھائی میں نے کوئی فائل نہیں دیکھی، میں آپکی کوئی بھی چیز یہاں سے وہاں نہیں کرتی” فرزانہ نے وضاحت دی(اندر سے ڈر بھی رہی تھی کہ ناجانے اتنی اہم فائل کے گم ہونے کا الزام اسی پر نا آ جائے)۔ داؤد نے سر جھٹکا۔ چہرے پر پریشانی کے تاثرات چھائے۔

” کل پانی کیسے گرا تھا بیڈ پر؟” داؤد نے دوبارہ پوچھا۔

” نہیں میرے سے کوئی پانی نہیں گرا جی۔۔۔ میں نے صبح بھی بیگم صاحبہ کو بتایا ہے۔۔۔ بلکہ آپ مہر باجی سے پوچھ لیں میں ان کے سامنے خالی جگ اور گلاس لے کر گئ تھی وہ یہاں تھیں۔۔۔آپ۔۔۔۔”

” مہر میرے کمرے میں تھی؟” داؤد نے اسے ٹوک کر پوچھا۔ انداز حیران کن تھا۔

“جی بھائی میرے آنے سے پہلے ہی وہ کمرے میں تھیں”

“ہاں اسکا بریسلیٹ کھو گیا تھا بیٹا وہ ہی ڈھونڈتے ڈھونڈتے آئی تھی” آمنہ بیگم بتا رہیں تھیں۔ لیکن داؤد ان کو سن نہیں رہا تھا اس کے ذہن میں مہر کا کل اس کے ڈور کھولنے پر کمرے میں گرنا اور اس کے کچھ پوچھنے پر وہ جیسے بھاگی تھی سب منظر ظاہر ہوئے۔

” مہر !” داؤد نے دانت پیستے ہوئے ذہن میں مہر کا نام لیا اور فرزانہ کو سارا کمرہ دوبارہ سے ٹھیک طرح دیکھنے کو کہا۔

“بیڈ کے نیچے بھی اور صوفے کے نیچے بھی دھیان سے دیکھو” داؤد نے فرزانہ سے کہا اور پھر مڑ کر آمنہ بیگم سے مخاطب ہوا۔

“میں مہر کے کمرے میں ایک بار خود چیک کر لوں۔۔۔ ہو سکتا ہے وہاں ہو، آپ جائیں آرام کریں میں ڈھونڈ لوں گا”

آمنہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے نکل گئیں۔ داؤد ابھی مہر کے کمرے میں اینٹر ہوا ہی تھا کہ فرزانہ پیچھے آئی۔

“داؤد بھائی مل گئی ہے” فرزانہ نے بتایا۔ داؤد فوراً اس کی جانب آیا۔

“کہاں پر ہے؟”

“وہ جی صوفے کے نیچے گری پڑی ہے” داؤد اپنے روم میں گیا اور صوفہ ہٹا کر فائل نکالی۔ فائل کھول کر سارے پیپرز چیک کیے۔ اچھی طرح تسلی کی اور پھر موبائل نکال کر سارہ کو اطلاع کی اور میٹنگ ارینج کرنے کا کہا۔

*********************

شام کے سات بجے کا وقت تھا۔ حفصہ بیگم سکندر صاحب اور آمنہ بیگم کے ساتھ بیٹھیں باتیں کر رہیں تھیں۔ رخسانہ بیگم بھی کچن سے نکل وہاں آہیں تھیں۔

” رخسانہ ! مہر ابھی تک آئی نہیں اپنی سہیلی کے گھر سے؟” حفصہ بیگم نے پوچھا۔

“جی اماں ابھی تک نہیں میں کال کر کے پوچھتی ہوں” رخسانہ بیگم نے جواب دیا۔

“رہنے دو رخسانہ میں خود جا کر لے آتا ہوں اسے” سکندر صاحب نے کہا۔

“جی میں اس سے پوچھ تو لوں ہو سکتا بیا خود ہی چھوڑ جائے ” سکندر صاحب نے ہاں میں سر ہلا کر ٹی وی پر نیوز لگا لیں۔

“اماں آپ داؤد سے کب بات کریں گی شادی کی؟” آمنہ بیگم حفصہ بیگم کے قریب ہو کر دھیرے سے پوچھا۔

“کر لوں گی سہی وقت کا انتظار کر رہی ہوں، ذرا عظمیٰ کو حمزہ کی تاریخ ڈال کر آنے دو پھر کرتی ہوں اسکا بھی علاج”۔

” سکندر آپ جائیں پھر مہر کو لے آئیں ویسے میں چاہ رہی تھی کہ بیا خود ہی چھوڑ جاتی کیونکہ آپکی طبیعت بھی نہیں ٹھیک اور اتنی دور آنا جانا” رخسانہ بیگم نے لاونج میں آتے ہوئے کہا۔

“ہاں تو وہ لڑکی لے کر جا سکتی ہے تو واپس چھوڑ کر کیوں نہیں ” حفصہ بیگم بولیں۔

“اماں بیا کے گھر والے اس کی نند کی منگنی پر گئے ہیں وہ اور اسکی بھابھی ہیں صرف گھر پر ان کی ایک ہی تو گاڑی ہے، مجھے بیا کہہ رہی تھی جب اس کے گھر والے واپس آئیں گے تو چھوڑ جائے گی مہر کو لیکن میں نے ہی کہا کہ دیر ہو جائے گی اس کے بابا لینے آرہے ہیں” رخسانہ بیگم نے ساری بات بتائی۔

“او ہو اماں کوئی بات نہیں میں چلا جاؤں گا اتنا بھی دور نہیں” سکندر صاحب کہتے ہوئے اٹھے تھے کہ آمنہ بیگم فوراً کہا۔

“بھائی صاحب آپ کیوں جائیں گے داؤد ہے نا وہ لے آئے گا مہر کو”

“لیکن بھابھی وہ آفس سے تھکا ہوا آیا ہے اسے آرام کرنے دیں” سکندر صاحب نے انکار کیا۔

“کوئی بات نہیں لے آئے گا آپ بیٹھیں میں بلا کر لاتی ہوں اسے” آمنہ بیگم کہتے ہوئے اوپر داؤد کے کمرے کی طرف چل دیں۔

******************

داؤد اپنے بیڈ پر دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے ہوئے آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ آج کا دن اس کیلئے بہت تھکا دینے والا تھا۔ وہ آج گھر بھی لیٹ آیا تھا۔ پیپرز سائن ہو گئے تھے داؤد کی کمپنی کو کنٹریکٹ مل گیا تھا۔ آفس سے گھر آکر داؤد نے کپڑے بھی نہیں بدلے تھے بس سیدھا بیڈ پر آکر لیٹ گیا کیونکہ رات بھی وہ ٹھیک سے آرام نہیں کر پایا تھا۔

“داؤد !” آمنہ بیگم اسے آواز دیتے ہوئے کمرے میں آئیں۔

داؤد نے ان کی آواز پر آنکھیں کھولیں اور اٹھ بیٹھا۔

“داؤد بیٹا جاؤ ذرا مہر کو اسکی دوست کے گھر سے لے آؤ” فرزانہ بیگم نے کہا۔

“واٹ ! امی میں اسکا ڈرائیور نہیں ہوں” داؤد نے ناگواری سے کہا تھا۔

“داؤد ! ایسے نہیں کہتے کزن ہے تمہاری، میں تمھے بالکل بھی نہ کہتی لیکن تمھے پتہ ہے خان آج آیا نہیں اور بھائی صاحب کی طبیعت بھی ناساز تھی آج، ان کیلئے اتنی دور تک ڈرائیونگ کرنا اچھا نہیں ہے بیٹا” آمنہ بیگم نے نرمی سے سمجھایا۔

“میں بھی تھکا ہوا آفس سے آیا تھا آپکو پتہ ہے آج کتنا مشکل دن تھا میرے لیے” داؤد خفگی سے کہتا ہوا سائیڈ ٹیبل سے چابیاں اٹھاتا باہر نکل گیا۔ پیچھے آمنہ بیگم مسکرا دیں۔

********************

مہر یہاں سے وہاں مارچ کر رہی تھی۔ جب سے اس کے بابا نے کال کر کے بتایا تھا داؤد اسے لینے آرہا ہے تب سے مہر بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔

“اوفف مہر کیا ہے کیوں پاگلوں کی طرح یہاں سے وہاں ہو رہی ہو” بیا صوفے پر پاؤں اوپر کیے ہاتھوں میں چپس کا پیکٹ لیے بولی۔

“یار اس کو کچھ پتہ نا چل گیا ہو ورنہ وہ مجھے کچا چبا جائے گا” مہر نے پریشانی سے کہا۔

“او پاگل لڑکی کیسے پتہ چلے گا، ریلیکس کچھ نہیں ہوگا”

“ہاں ویسے یہ بھی ہے اسے کیسے معلوم ہوگا” مہر صوفے پر ساتھ بیٹھ چکی تھی۔ اب چہرے پر ہلکی مسکان تھی۔

“آنے دو اس کھڑوس کو دیکھ لوں گی میں” مہر نے سوچا۔

******************

داؤد پچھلے دس منٹ سے گاڈی میں مہر کا انتظار کر رہا تھا۔ سکندر صاحب کو کال کر بھی بتا دیا تھا کے وہ آرام سے اس ایڈریس پر پہنچ گیا اور مہر کو بھی بتا دیں کہ وہ باہر گاڑی میں اسکا انتظار کر رہا ہے۔ لیکن وہ اب تک نہیں آئی۔ داؤد کو بے تحاشہ غصہ آیا اس لڑکی کی وجہ سے سارا دن خوار ہونا پڑا تھا۔ اور مہر جان بوجھ کر نہیں آرہی تھی وہ جانتا تھا وہ اس کو تنگ کرنا چاہ رہی ہے۔ ابھی داؤد سوچوں میں ہی تھا کہ گاڑی کا دروازا کھول کر مہر اندر بیٹھی۔ داؤد نے اس کی طرف دیکھے بنا ہی گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔

مہر کو بڑی ہنسی آرہی تھی۔۔۔۔دل کو قرار آگیا تھا داؤد سے اپنا بدلہ لے کر،اسے بابا نے کال کرکے بتایا تھا کے وہ باہر ہے لیکن وہ جان بوجھ کر نہیں گئی تاکہ وہ اسکا انتظار کرے۔

“عقل ٹھکانے آگئی ہوگی اب تک” مہر نے ایک نظر ڈرائیو کرتے داؤد پر ڈال کر سوچا۔ کچھ پل ہی گزرے تھے جب داؤد کی سرد آواز گاڑی میں گونجی تھی۔

“میری فائل تم نے چھپائی تھی نا”

“جی۔۔۔۔” مہر کو شاک لگا تھا(ہائے اللّٰہ اس کو کیسے پتا چلا)۔

“تم کیا سمجھتی ہو جو کچھ تم کررہی ہو مجھے پتا نہیں چلے گا” بنا اسکی طرف دیکھے ڈرائیو کرتے ہوئے داؤد نے کہا۔

“مجھے نہیں پتا آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں” مہر نے صاف انکار کیا لیکن دل میں اب گھبراہٹ ہورہی تھی۔

“او تو تم نہیں جانتی۔۔۔لیکن میں جان چکا ہوں کے کس نے میری فائل صوفے کے نیچے رکھی اور کس نے میرے بیڈ پر پانی گرایا۔ آواز تھی کہ صور مہر نے داؤد کو دیکھا۔

“میں نے۔۔۔۔۔ کہا نا میں نہیں جانتی۔۔۔۔مہر نے رک رک کر کہا۔

“اوکے فائن !” داؤد نے کہہ تو دیا لیکن مہر کو خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دے رہی تھیں۔

داؤد نے ایک دم بریک لگائی تھی۔ مہر کا سر ڈیش بورڈ سے لگتا اگر وہ بروقت اپنے ہاتھ رکھ کر نہ بچاتی۔

“پاگل ہو گئے ہیں کیا آپ” مہر نے غصے میں داؤد کو دیکھتے ہوئے کہا۔ داؤد گاڑی کا دروازا کھول کر باہر نکلا اور دوسری طرف آکر مہر کا بازو پکڑ کر اسے باہر نکالنے لگا۔

“کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔ ورنہ میں بابا سے آپکی شکایت کروں گی” مہر نے اپنا ہاتھ چھوڑوانہ چاہا لیکن داؤد نے اسے باہر نکال کر گاڈی سے لگا دیا اور خود سامنے کھڑا ہوگیا۔

داؤد کے دونوں ہاتھ مہر کے بازو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور خون آشام آنکھیں مہر کے چہرے پر جمی تھیں۔

مہر نے ادھر ادھر نظریں گھمائی سڑک سنسان تھی۔

“کوئی بھی اسکو اس ظالم شخص سے نہیں بچا سکے گا” مہر نے سوچا۔

“کیا تمہیں نہیں پتا کہ ہمارے گھر کیمرہ لگے ہیں۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا چلے گا کہ میری گاڑی کے ٹائر کھڑے کھڑے کیسے پنکچر ہو گئے۔۔۔۔۔سو مس مہر تم انکار نہیں کر سکتی۔۔۔۔ کیونکہ میں سب دیکھ چکا تھا کے رات میں کیسے تم نے میری گاڑی پنکچر کی۔۔۔۔۔۔۔۔”

مہر کو لگا آج تو اسکی موت پکی ہے۔

“آج کے بعد اگر تم نے میرا کوئی بھی کام خراب کرنے کی کوشش کی تو تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔۔۔

this is my first and last warning to you”

داؤد نے چبا چبا کر کہا تھا اور پھر اسے چھوڑ گاڑی میں جا بیٹھا۔

*******************

گھر آنے کے بعد داؤد نے اور مہر نے سب کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔ اس کے بعد داؤد اپنے روم میں جا چکا تھا اور مہر حفصہ بیگم کے پاس ان کے کمرے میں تھی۔ دادو نے اسے ڈانٹا تھا کے اسکی وجہ سے ان کا پوتا تھکا ہارا اسے اتنی دور لینے گیا تھا۔ انھوں نے مہر کو سب بتایا۔ مہر کو برا لگا کے بابا بھی پریشان تھے اگر فائل نا ملتی تو واقعی میں بہت نقصان ہوتا۔

“دادو اتنے بھی بچارے نہیں ہیں آپ کے لاڈ صاحب” مہر نے منہ بنایا۔

مہر ان کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی اور وہ ایک ہاتھ میں تسبیح لیے پڑھ رہی تھیں اور دوسرا ہاتھ مہر کے بالوں میں پھیر رہی تھیں۔

“دادو ایک بات پوچھوں؟”

حفصہ بیگم خاموش رہیں پھر تسبیح مکمل کرنے کے بعد بولیں۔

“کیا پوچھنا ہے؟”

“وہ داؤد ایسے کیوں ہیں” مہر نے سوچا آج پوچھ ہی لے کے اس سڑیل کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

“مہر ! بڑا ہے تم سے کتنی بار کہا ہے بھائی بولا کرو”

“اووو جانے دیں چار سال ہی بڑے ہوں گے بس اور میں کیوں بھائی کہوں ہونہہ”

“مہر !” دادو نے تنبیہ کرتی نظروں سے دیکھا۔

“اچھا نا آپ بتائیں پلیز وہ ایسے کیوں ہیں نا ہنستے ہیں نا مسکراتے ہیں نا زیادہ بات کرتے ہیں” مہر کے پوچھنے پر حفصہ بیگم اداس ہوگئیں اور پھر وہ مہر کو بتاتی گئیں۔

******************

مہر داؤد کے کمرے کے باہر کھڑی تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سب گھر والے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ مہر کو بہت برا لگ رہا تھا دادو سے سب جان کر اب وہ اپنے اندر ہمت جمع کر رہی تھی کہ داؤد کے پاس جا کر معافی مانگ سکے۔ مہر نے ڈور نوک کیا لیکن کوئی آواز نہیں آئی۔

“لگتا ہے سو گئے ہیں” ایک بار پھر نوک کیا لیکن پھر سے وہ ہی خاموشی۔

مہر نے ڈور کا لاک گھمایا اور ڈور کھول گیا۔ کمرہ خالی تھا۔ کمرے کی بالکونی کا سلائیڈنگ ڈور کھلا تھا اور وہ اسے دوسری طرف دیکھ گیا تھا۔ مہر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے پیچھے جا کر کھڑی ہوگئی۔ وہ ویسے ہی دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے اوپر آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“یہ ہمیشہ ایسے ہی کیوں اوپر دیکھتے ہیں” مہر نے بھی آسمان کی طرف دیکھا۔

“کیا تکلیف ہے” داؤد نے مڑ کر ناگواری سے پوچھا۔

مہر گھبرا گئی نظریں آسمان سے ہٹا کر اسکی طرف دیکھا۔

“وہ میں۔۔۔۔ میں آپ سے سوری کرنے آئی تھی۔۔ مجھے معاف کردیں پلیز۔۔۔۔ آئندہ کبھی بھی نہیں کروں گی” مہر نے داؤد کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے بھرے لہجے میں کہا۔

“بول دیا؟” داؤد کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔

“جی” مہر نے دو بار ہاں میں سر ہلایا۔

“اب تم جا سکتی ہو” داؤد کہتا ہوا مڑ گیا تھا۔

“مجھے ایک اور بات کرنی تھی” مہر نے ہمت کر کے کہا۔

“جلدی کہو” داؤد یوں ہی اوپر دیکھتے ہوئے اسے اجازت دے گیا۔

“وہ مجھے پتا ہے آپ ایسے کیوں ہیں۔۔۔۔میں سمجھ سکتی ہوں آپ کے درد کو۔۔۔ تایا ابو کو۔۔۔۔ ابھی مہر بات ہی کرہی تھی کہ داؤد پلٹا تھا اور اسکے قریب جا کر اسے کہنیوں سے تھما۔

“جسٹ شاٹ اپ ! ایک لفظ بھی آگے مت کہنا” داؤد نے غرا کر کہا۔ مہر سہم گئی۔

“ہاؤ ڈیر یو ! میری پرسنل لائف میں انٹر فیر کرنے کی اجازت کس نے دی تمھے ہاں” داؤد نے اونچی آواز میں کہا۔

“وہ میرے بھی تایا ابو تھے” مہر نے ڈرتے ہوئے کہا۔

“شٹ اپ کچھ نہیں تھے وہ تمہارے وہ صرف میرے بابا تھے۔۔صرف میرے۔۔۔ مہر کو بازوؤں میں درد کا احساس ہوا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ داؤد نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھی تو فوراً اسے چھوڑ کر دور ہٹا تھا۔

“لیو !” داؤد نے اب نرمی سے کہا۔

لیکن مہر ایسے ہی کھڑی اسے دیکھے گئی۔

“I said get out”

داؤد نے ایک بار پھر تیز آواز میں کہا۔ مہر اپنی جگہ سے اچھلی تھی وہ بری طرح سہم گئی تھی اس نے کبھی اسے ایسے غصہ کرتے نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے وہ مڑ کر کمرے سے تیزی سے نکل گئی۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *