280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 27) Part - 2

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

تن فن کرتی وہ ایک بار پھر سے داؤد کے کمرے میں موجود تھی۔ وہ جو ابھی آرام دہ لباس پہن کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اسے اپنے سر پر کھڑے دیکھ سوالیہ انداز میں بھونیں اٹھائی۔

” آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سمارٹ سمجھتے ہیں خود کو ” مہر نے کہا۔

” واٹ ؟” داؤد نے ناسمجھی سے پوچھا۔

” آپ نے مجھے بے وقوف بنایا۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایڈمیشن فارمز آپ ہی لائے تھے اور ماں کو بھی آپ نے ہی کہا تھا کہ میں آگے پڑھوں ہاں ؟ ” آنکھوں میں برہمی لئے کمر پر ہاتھ رکھے وہ استفسار کرنے لگی۔

” ہاں تو ؟ “

” مطلب آپ کتنے تیز ہیں اپنے کام کیلئے مجھے الو بنایا “

” کیا بول رہی ہو ؟ میں نے کیا کیا ہے ؟ “

” آپ ہی نے پھنسایا تھا مجھے اس ماسٹرز میں اور مجھے ایسے دیکھا رہے جیسے آپ مجھے بچا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے میں کہیں بھی نہیں جاؤں گی آپ کے ساتھ کیونکہ یہ سب آپکا ہی کیا دھرا تھا “

“پاگل ہوگئی ہو ؟ میں کیوں کروں گا ایسے؟ میں تو اس لیے لایا تھا فارمز کیونکہ مجھے لگا تم سارا دن گھر ایسے ہی فارغ رہتی ہو اس سے بہتر ہے اپنی سٹڈی کنٹینیو کرو” داؤد اسکے سامنے کھڑا دبا دبا سا غرایا تھا۔

” جو بھی ہو۔۔۔۔۔۔لیکن اب میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانے والی ” کہہ کر وہ وہاں سے جانے کیلئے مڑی تو داؤد نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا۔

” تم انکار نہیں کر سکتی ” ایک دم اسکی آنکھوں میں غصہ عود آیا تھا۔

” میں انکار کر چکی ہوں ” مہر نے بھی اکڑ کر کہا۔

” مہر تم نے وعدہ کیا تھا ” داؤد نے اسے یاد کروایا۔

” ہیں !!!! کونسا وعدو کہاں کا وعدہ ؟ میں نے کوئی کہا تھا آپ سے اللّٰہ کا وعدہ میں چلوں گی ” اسکی بات پر داؤد نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔

” اوکے فائن ! میں نے غلط ورڈ یوز کرلیا۔۔۔۔وعدہ نہیں ڈیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیل ہوئی تھی کہ میں تمہارا کام کروں گا تو تم میرے ساتھ جاؤ گی “

” لو جی اتنے بڑے بزنس مین ہیں آپکو یہ نہیں پتا ڈیل کرتے وقت پیپر بھی سائن کرواتے ہیں تاکہ یاد رہے کہ کیا ڈیل ہوئی تھی، دیکھائیں میں نے کیا ایسا کچھ؟ ” سینے پر ہاتھ باندھے وہ صاف انکاری تھی۔

” مہر!!!!!” داؤد نے دانت پستے ہوئے کہا۔ اسے غصہ آنے لگا تھا اس کے انکار کرنے پر۔ جبکہ مہر اب اسکے غصے والے روپ کو دیکھ کر وہاں سے نو دو گیارہ ہونے کے چکر میں تھی۔

” دیکھیں آپ کی وجہ سے ہوا تھا مسئلہ اور آپکی وجہ سے حل بھی ہوگیا بس بات ختم ” کہہ کر وہ وہاں سے تیزی سے نکلی تھی کہ کہیں وہ غصے میں گلا ہی نا دبا دے۔ جبکہ داؤد پیچھے بیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔

**********************

رات کے کھانے کے بعد داؤد حفصہ بیگم کے کمرے میں موجود تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھا کسی سوچ میں گم تھا جب حفصہ بیگم کی آواز پر ہوش میں آیا تھا۔

” ہاں بھئی بولو کیا بات کرنی تھی “

“دادو میں چاہتا ہوں اب مہر کی رخصتی ہو جانی چاہیے” بنا تمہید باندھے داؤد نے کام کی بات کہی۔

” ہیں کیوں ؟ ” حفصہ بیگم نے حیران تاثرات چہرے پر سجائے پوچھا۔

” دادو ! آگے بھی تو ہونی ہے تو اب صحیح میرے خیال میں دیر کرنے کی کوئی وجہ نہیں “

” بہت اچھے ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے تو تم شادی کیلئے مانتے نہیں تھے اور اب جمعہ جمعہ آٹھ دن نکاح کو ہوئے ہیں اور میرے شیر کو رخصتی کی بھی پڑ گئی ہے “

” دادو پہلے کی بات اور تھی اور آپ لوگ ہی چاہتے تھے کہ میری شادی جلد سے جلد ہو جائے۔۔۔۔۔اب میں راضی ہوں تو آخر کیا مسئلہ ہے “

” وہ تو ٹھیک ہے لیکن سکندر نہیں مانے گا “

” کیوں چاچو کیوں نہیں مانیں گے ؟ ” داؤد کو اس بات پر حیرانی ہوئی تھی۔

” ارے بھئی پہلے اچانک سے مہر کا نکاح ہوگیا اور اب اچانک سے بیٹی کی رخصتی، اسے تھوڑا وقت چائیے ہوگا وہ کونسا مہر کی شادی کیلئے تیار بیٹھا تھا سب ایک دم سے ہوا ہے تو ابھی مجھے نہیں لگتا وہ اتنی جلدی مہر کی رخصتی دے گا ” انھوں نے اصل وجہ بتائی۔

” مہر نے کونسا کسی دوسرے ملک یا شہر جانا ہے دادو۔۔۔۔۔بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں، رہنا تو اسی گھر میں ہی ہے نا سب کے ساتھ ” (وہ الگ بات ہے کہ میرا دل کرتا ہے اسے آپ سب سے تھوڑے عرصے کیلئے دور لے جاؤں جہاں وہ مجھ سے دور نا جا سکے ایک لمحے کیلئے بھی) آخری بات اس نے دل میں کہی تھی۔

” ہمم یہ تو درست کہہ رہے ہو تم ” حفصہ بیگم اسکی بات پر سوچنے ہوئے بولیں۔

” ہاں آپ بات کریں چاچو سے اور سب سے میں چاہتا ہوں ایک ماہ کے اندر اندر یہ ہو جانا چاہیے ” کہتے ہوئے وہ جانے کیلئے اٹھ گیا۔

” ایک ماہ؟ زیادہ جلدی نہیں ہے تمھے ” حفصہ بیگم نے آنکھیں اٹھا کر اپنے پوتے کو دیکھا تھا۔

” آپکی پوتی کو قابو کرنے کیلئے میرے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے ” اس نے مسکراتے ہوئے انھیں بتایا۔

” بدمعاش ” حفصہ بیگم اسکی شوخی پر بولیں تو وہ جھک کر انکا ہاتھ چوم کر کمرے سے نکل گیا۔

*********************

کچن میں سے ایک مگ اپنے لیے کافی بنا کر وہ اوپر آیا۔ اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس نے مہر کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا۔ ایک جاندار مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔

” اب کیا کریں گی آپ مسز مہر داؤد ۔۔۔۔۔کہاں تک بچا پاؤ گی خود کو، یہ انکار تمھے بہت بھاری پڑنے والا ہے میری جان ” اسکے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں کہتا وہ اپنے کمرے کے اندر چلا گیا۔

*********************

اگلے دن دوپہر کو حفصہ بیگم نے سکندر آمنہ اور رخسانہ کے سامنے یہ بات کی تو انکی بات پر سب متفق نظر آئے۔

سکندر صاحب نے تھوڑا جلدی کا کہہ کر رخصتی تین یا چار ماہ بعد کا کہا تھا لیکن رخسانہ بیگم نے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کے بھائی کی واپسی تھی کینیڈا کی تو وہ چاہتی تھیں ان کے بھائی مہر کی شادی میں ضرور شریک ہوں۔ انکی بات کے بعد مزید کوئی انکار کی گنجائش نہیں رہی اور یوں فروری کے شروع والے دن انکی رخصتی کیلئے رکھے جا چکے تھے۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *