Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 15)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
داؤد اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا۔ وہ اور سارہ ایک آفیشل بزنس لنچ پر جا رہے تھے۔ شیشے کے سامنے کھڑا وہ خود پر پرفیوم کر رہا تھا جب اسکا فون بجا۔
“ہاں سارہ؟” داؤد نے کال کرنے کی وجہ پوچھی تھی۔
دوسری طرف سارہ نے بات شروع کی تو داؤد دھیان سے سننے لگا۔ مہر اپنے کمرے سے نکلی تو داؤد کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کے کانوں میں داؤد کی آواز آئی کیونکہ داؤد کے کمرے کا دروازہ کھولا تھا اس لئے وہ سن سکتی تھی آسانی سے۔ مہر فوراً الٹے قدموں واپس ہوئی اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔
“لگتا ہے اپنی گرل فرینڈ سے بات کررہے ہیں” مہر نے سوچا اور دھیان سے سننے لگی کے کیا بات ہورہی ہے۔
“ہاں چلو ٹھیک میں ریڈی ہوں تھوڑی دیر میں تمھے پک کرتا ہوں” داؤد کہہ رہا تھا جب اسکی نظر کھلے دروازے کے پاس لہراتے آنچل پر پڑی۔ داؤد نے مزید کچھ کہے بنا کال کاٹ ڈی لیکن وہ پھر ہاں ٹھیک جیسے الفاظ بول رہا تھا تاکہ لگے کہ وہ ابھی بھی کال پر بات کررہا ہے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ دروازے کے پاس گیا تو مہر آنکھیں سیکٹور دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔
داؤد کے یوں اچانک باہر آنے پر ہڑبڑا گئی۔ داؤد سینے پر ہاتھ باندھے سرد نظروں سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔ مہر نے تھوک نگلا۔
” و وو وہ میں ” اب سمجھ نہیں آرہی تھی کے کیا بہانا کرے۔
“میری جاسوسی کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے تمہے؟” داؤد نے پوچھا۔
“کیا جاسوسی؟ میں کیوں کروں گی بھلا۔۔۔۔۔ آپ کونسا کوئی قاتل یا چور ہیں؟۔۔۔۔۔۔اور نا میں سی آئی ڈی کی انسپیکٹر ہوں جو مجھے میرے اے سی پی نے حکم دیا ہے کہ مہر ذرا پتا تو لگاؤ داؤد ابراہیم کا چکر کس کے ساتھ چل رہا” آخری جملہ اپنی آواز کو بھاری بناتے ہوئے بولی۔
داؤد اچنبھے سے اسے دیکھے گیا۔
” تم پاگل واگل تو نہیں؟” داؤد نے اسکی فضول گوئی پر سوال کیا۔
” بچپن سے” خوشی سے جواب آیا۔
“واٹ ایور ” داؤد نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔ مہر اپنی ہنسی دباتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔
“بڑا مزہ آیا بچارے کو باتوں میں پھنسا کر میں نکل گئی” ابھی وہ تیسری سیڑھی پر تھی کہ پیچھے سے داؤد اس کے پیچھے آیا۔
” آئندہ میرے روم یا میرے ارد گرد بھی نظر مت آنا ” سرد لہجے میں کہتا وہ تیزی سے سیڑھیاں اترگیا۔
” کھڑوس کہیں کا ” مہر نے گھور کر اسکی پشت کو دیکھا تھا۔
***********************
ڈرائیونگ کرتے ہوئے داؤد کا دھیان مہر کی طرف تھا وہ کیوں اس کیلئے مشکل بنا رہی تھی یوں بار بار اس کے سامنے آکر۔ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اسے اپنے دل سے نکال دے گا اس کے بارے میں سوچے کا بھی نہیں لیکن وہ اس کے سامنے ہی رہتی ہے ہر وقت اس کے آس پاس۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ ایسے ہی اس کے سامنے رہے گی تو وہ کیسے اپنے ارادے پر عمل کرے گا۔۔۔۔۔۔اسی لئے اس نے اسے سختی سے منع کیا وہ اس کے سامنے مت آئے لیکن وہ جانتا ہے وہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ایک گھر میں رہتے ہوئے یہ نا ممکن ہے وہ آتی رہی گی اس کے سامنے کبھی نا کبھی کسی نا کسی بہانے۔۔۔۔۔۔۔۔اب جو بھی کرنا ہوگا اسے خود کرنا ہوگا۔ انھی سوچوں میں اس نے سارہ کے گھر کے باہر گاڑی روکی اور اب سارہ کو کال ملا کر باہر آنے کا بتا رہا تھا۔
**********************
اگلا دن روشن ہوا تو داؤد اور سکندر صاحب آفس جا چکے تھے۔ مہر بھی بارہ بجے کی جاگی تھی اور ناشتہ کر کے واپس اپنے کمرے میں بند تھی۔ رخسانہ بیگم اور حفصہ بیگم لاونج میں موجود تھے جبکہ آمنہ بیگم فرزانہ کے ساتھ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ رخسانہ بیگم مٹر کے دانے نکال رہی تھیں اور حفصہ بیگم تسبیح پڑھ رہی تھیں ساتھ ساتھ دونوں ہلکی پھلکی ادھر ادھر کی باتیں بھی کر رہے تھے جب مہر سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔
سفید رنگ کی قمیض جس پر نیلے رنگ کے پھولوں کا پرنٹ تھا نیچے سفید ہی ٹراؤزر پہنے نیلے رنگ کا شفون کا دوپٹہ گلے میں ڈالے اور کندھے پر ہلکے پنک رنگ کا بیگ لٹکائے وہ تیار تھی کہیں جانے کیلئے۔
” ماں میں خان بابا کے ساتھ عالیہ آپی کے گھر جا رہی ہوں ” صوفے کے پیچھے کھڑی وہ اپنی ماں کو جانے کی اطلاع دے رہی تھی۔
” کیا ضرورت ہے جانے کی بھلا ادھر آ کر مٹر نکالو میرے ساتھ ” رخسانہ بیگم نے اسے گھورا تھا۔
” مہر آ جا بچی کیا کرے گی وہاں جا کر آجا میرے پاس بیٹھ ” اب حفصہ بیگم نے اسے کہا تھا۔ مہر صوفے کے پیچھے سے نکل کر اپنی دادو کے ساتھ بیٹھ گئی۔
“ارے دادو اس سنڈے کو عالیہ آپی آئی نہیں ہماری طرف اسی لئے جا رہی ہوں، میں موسیٰ کو بہت مس بھی کررہی ہوں تھوڑی دیر اس کے ساتھ کھیلوں گی باتیں کروں گی اور کھانا کھا کر واپس آ جاؤں گی اتنی سی تو بات ہے بھئی ” مہر نے ان کو منانے کی کوشش کی۔
” کوئی ضرورت نہیں ہے ایک بار کہہ دیا ہے نا جب دیکھو اپنی مرضی چلاتی ہو، کام کروایا کرو ساتھ میرے اگلے گھر جاؤ گی کیا ناک کٹواؤ گی ہماری ” رخسانہ بیگم نے ڈانٹ کر کہا تو مہر انھیں خفت سے دیکھے گئی۔ پھر اپنا جوتا اتارا، دوپٹہ اور بیگ اتار کر پھینکا اور دوسرے صوفے پر اچھل کر چڑھ گئی۔
” گاؤں والو ! یہ جو میری ماں ہے نا۔۔۔۔۔ یہ مجھ اپلا ناری پر اتنا ظلم ڈھنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔ابھی میرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں اور یہ مجھ سے چولہا چوکی کروانا چاہتی ہیں ” ڈرامائی انداز میں وہ کہے جا رہی تھی۔ آمنہ بیگم اور فرزانہ بھی اسکی آواز سن کر کچن سے نکل کر آگئے تھے۔
” اگر انہوں نے مجھے گھر سے باہر نا جانے دیا ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں اس صوفے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کود کر اپنی جان دے دوں گی “
اپنی بات مکمل کر کے وہ اب اپنی دادو ماں اور سب کو ایسے دیکھ رہی تھی کے اس کی بات مان لی جائے ورنہ وہ کود جائے گی۔ سب دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔ رخسانہ بیگم اٹھیں اس کے پاس جا کر ایک تھپکی لگائی اس کی کمر پر اور نیچے اترنے کا بولیں۔
” اترو نیچے “
” ماں پلیز نا ” نیچے اتر کر وہ اب انھیں شانوں سے تھام کر منتیں کرنے لگی۔
” اچھا میری ماں جاؤ جان چھوڑو میری “
” ہیں سچی ؟” مہر نے رخسانہ کا گال چوما اور تیزی سے جوتا پہننا، دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا اور پھر بیگ اٹھایا
” تھینک یو سو مچ ماں جلدی واپس آؤں گی ” اور سب کو اللہ حافظ کہتے ہوئے باہر نکل گئی۔
” اوفف یہ لڑکی ” رخسانہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا اور واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گئیں۔
**********************
داؤد اور سکندر صاحب آفس سے گھر آ چکے تھے اور اب فریش ہونے کے بعد سب کے ساتھ شام کی چائے پی رے تھے۔
” آپ آج لیٹ آئے ہیں گھر کہاں تھے؟” رخسانہ بیگم نے سکندر صاحب سے استفسار کیا۔
” ہاں آج ایک کام تھا مجھے اس لیے دفتر ہی رک گیا تھا، آپ فکر نہیں کریں کھانا ٹائم سے کھا لیا تھا میں نے ” سکندر صاحب نے نرمی سے انکو جواب دیا۔
” ارے سکندر تمہیں کیا ضرورت ہے اب دفتر جانے کی؟ داؤد ہے نا سنبھال لے گا تو اپنی صحت کا خیال کیا کر بیٹا اب ریٹائر ہو جا ” حفصہ بیگم نے اپنے بیٹے سے کہا۔
” جی چاچو ! دادو صحیح کہہ رہی ہیں اب آپکے آرام کرنے کے دن ہیں، آفس تو میں دیکھ لوں گا جو ضروری چیزیں ہوں گی وہ تو آپ سے گھر میں بھی ڈسکس ہو سکتی ہیں ” داؤد نے حفصہ بیگم کی تائید کی تھی۔
” لو میں تم سے کہنے والا تھا کہ تم اماں کو سمجھاؤ الٹا تم ہی مجھے منع کرنے لگے ” سکندر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” کوئی سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے پتر مجھے۔۔۔۔ بس جو کہہ دیا وہ کر ” حفصہ بیگم نے دوبارہ گویا ہوئیں۔
” جی جیسے آپکا حکم۔۔۔۔۔۔۔رخسانہ مہر نہیں نظر آئی مجھے جب سے آیا ہوں کسی دوست کے گھر گئی ہے کیا؟” حفصہ بیگم کو تسلی دے کر انہوں رخسانہ سے مہر کا پوچھا۔
” جی عالیہ کی طرف گئی ہے خان بابا کے ساتھ تھوڑی دیر تک آجائے گی” رخسانہ بیگم نے جواب دے کر چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا۔
اور داؤد مہر کے ذکر سے پھر سے اس کے بارے میں سوچنے لگا۔
**********************
کالے رنگ کی ہونڈا سٹی روڈ پر رواں دواں تھی۔ مہر پیچھے بیٹھے فون یوز کر رہی تھی جب گاڑی اچانک روکی تھی۔ خان بابا چابی گھما کر سٹارٹ کرنے لگے لیکن گاڑی سٹارٹ نا ہوئی۔
” کیا ہوا خان بابا گاڑی کیوں روک گئی؟ مہر نے فون چھوڑ کر ان سے پوچھا۔
” پتا نہیں کیوں روک گئی ہے؟ میں اتر کر چیک کرتا ہوں”
خان بابا کہہ کر گاڑی سے اترے تھے جب دو نقاب پوشوں نے موٹر سائیکل ان کی گاڑی کے پاس روکی تھی۔
” جو کچھ بھی ہے نکال دے ” ایک نقاب پوش خان بابا پر گن تان کر بولا۔ جبکہ دوسرا مہر کی طرف گیا۔
مہر نے گن دیکھی تو ڈر کر شود مچا دیا۔
” نکل باہر لڑکی ” دوسرے نے مہر کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے بازہ سے پکڑ باہر نکالا۔
” دیکھو بچی کو چھوڑ دو یہ میرے پاس بس یہ ہی پیسے ہیں یہ رکھ لو ” خان بابا نے اپنی جیب سے دو ہزار اور کچھ پیسے نکال کر اپنے سامنے تانی گن پکڑے بندے کو کہا۔
” ابے اتنی بڑی گاڑی ہے اور پیسے نہیں تیرے پاس”
” اوے وہ ڈرائیور ہے اصل مال اس لڑکی کے پاس ہے ” مہر کو جس بندے نے پکڑ رکھا تھا اپنے ساتھی کو کہا۔
” پلیز ہمیں چھوڑ دو” مہر روتے ہوئے اپنا بازہ چھوڑوا رہی تھی۔
” اے لڑکی دیکھ جو ہے خودی نکال دے ورنہ ” نقاب پوش نے مہر سے کہا۔
” میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا بیگ۔۔۔۔۔۔۔۔فون ہے وہ لے لیں ” مہر نے روتے ہوئے کہا۔ علاقہ سنسان تھا اس لیے کوئی بھی مدد کیلئے نہیں نظر آرہا تھا۔ اس نقاب پوش نے مہر کو ایک ہاتھ سے پکڑ کے ایک طرف کیا اور خود گاڑی کے اندر جھک کر سیٹ سے مہر کا بیگ اور فون اٹھا لیا۔
” کوئی ہوشیاری نہیں کرنا دونوں ” مہر کے پاس والے نے مہر کو چھوڑا لیکن گن ابھی بھی مہر کی طرف کی ہوئی تھی۔ خان بابا کے پاس جو کھڑا تھا اس نے اتنی دیر میں ان کے ہاتھ باندھ دیے تھے کے وہ اتنی دیر میں کوئی کارروائی نا کر سکے۔ اور پھر اس نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور دوسرے والا ابھی بھی گن مہر کی جانب کیے جلدی سے پیچھے بیٹھا اور پھر وہ دونوں تیزی سے نکل گئے۔
مہر مسلسل کانپ رہی تھی جب خان بابا نے اسے آواز دے کر پاس بلایا اور انکی رسی کھولنے کو کہا۔ مہر انکی جانب آئی لیکن نظریں ابھی بھی اسی راستے پر تھیں جہاں سے وہ گئے تھے اسے ڈر تھا جیسے وہ واپس نا آجائیں۔ مہر سے رسی کھول ہی نہیں رہی تھی وہ باندھی ہی اتنی مضبوطی سے تھی کے اس کے نازک ہاتھ کہاں کھول پاتے لیکن پانچ منٹ کی مشقت کے بعد مہر سے کھول ہی گئی۔ خان بابا نے مہر کو تسلی دی اور گاڈی میں بیٹھنے کا کہا اور خود بھی گاڑی میں آ کر بیٹھے۔ گاڑی ایک بار پھر سٹارٹ کرنے کی کوشش لیکن نہیں ہوئی اور پھر انہوں نے جھک کر ڈیش بورڈ کے نیچے بنے حصے سے اپنا فون نکلا اس وقت فون ان کی جیب میں نہیں تھا انہوں نے شکر کیا ورنہ وہ رابطہ کیسے کرتے کسی سے اگر وہ ڈاکو ان کا فون بھی لے جاتے۔
خان بابا نے جلدی سے داؤد کا نمبر ملایا بیل جا رہی تھی لیکن وہ اٹھا نہیں رہے تھے انہوں نے پیچھے مہر کو دیکھا جو کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی اسے دوبارہ تسلی دی اور داؤد کے فون اٹھانے کا انتظار کرنے لگے۔
ادھر داؤد واش روم سے نکلا اور اپنے مسلسل بجتے فون کو اُٹھایا۔
” اسلام وعلیکم خان بابا خیرت تھی ؟ ” داؤد نے کال اٹھاتے ساتھ پوچھا۔ دوسری طرف خان بابا نے ساری بات کو مختصر کر کے بتایا جسے سن کر داؤد کے منہ سے مہر نکلا تھا۔
پھر داؤد فوراً ہوش میں آیا تھا فون کان سے ہی لگائے وہ ان سے ایڈریس کا پوچھ رہا تھا اور اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکلا۔
ادھر خان بابا مہر کو ساتھ ساتھ تسلی دے رہے تھے جو رونا تو بند کر چکی تھی لیکن ابھی بھی گھبرائی ہوئی تھی۔
داؤد ریش ڈرائیو کرتے ہوئے پہنچا۔ گاڑی سے نکل کر اس طرف آیا جہاں دوسری گاڑی کھڑی تھی۔ خان بابا داؤد کو دیکھ کر باہر نکلے تھے۔ داؤد نے مہر کا پوچھا تو انہوں نے پچھلی سیٹ پر اشارہ کر کے بتایا مہر بھی داؤد کو دیکھ کر باہر نکل آئی۔ داؤد تیزی سے مہر کی جانب گیا۔
” تم ٹھیک ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔چوٹ تو نہیں آئی کہیں۔۔۔۔۔۔” مہر کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام داؤد پوچھ رہا تھا۔
انداز ایسا تھا کے وہ کہے گی کچھ تو داؤد ان لوگوں کی جان لے لے گا۔
” تمہیں کچھ کہا تو نہیں؟” داؤد اپنی بے قرار آنکھیں اس پر جمائے اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا کہ وہ ٹھیک ہے۔
” مجھے۔۔۔۔۔گھر جانا ہے۔۔۔۔بابا کے پاس ” مہر نے داؤد کو بس اتنا کہا۔ داؤد نے اسکی گھبرائی ہوئی آواز سنی تو اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ کوئی پرواہ کیے بغیر کے وہ اس وقت کہاں کھڑا ہے آس پاس کون ہے۔ اس وقت صرف مہر کا خیال تھا شکر تھا وہ صحیح سلامت اس کے سامنے تھی۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھے داؤد نے اس اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
**********************
اس وقت سب لاونج میں موجود تھے۔ مہر اپنے بابا کے سینے سے لگی بیٹھی انہیں سارا واقع سنا رہی تھی۔ داؤد دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں پیوست کیے تھوڑی کے نیچے رکھے نظریں نیچے بچھے کارپٹ پر جمائے مہر کی ساری بات سن رہا تھا۔
” منع کر رہی تھی نا کے مت جاؤ لیکن تم سنتی کہاں ہو میری، خدانحواستہ کچھ اور ہو جاتا تو ” رخسانہ بیگم نے ڈانٹ کر کہا۔
” رخسانہ !!!!” سکندر صاحب نے تیز آواز میں انہیں ٹوکا تھا۔ ان کی بات کا مفہوم سمجھ کر جہاں سکندر صاحب کو غصہ آیا وہاں داؤد نے اپنے ہاتھوں کو مزید سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کرلیا اسکا چہرہ غصے سے لال ہوگیا تھا۔
” آپ ہی نا بگاڑا ہے اسے ” رخسانہ بیگم کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
” بابا بھلا مجھے کیا پتا تھا ایسا کچھ ہو جائے گا، میں پہلے بھی تو جاتی تھی نا ” مہر نے ان کے سینے سے اپنا سر اٹھا کر کہا۔
” کوئی بات نہیں بیٹا آپ اپنی ماں کی بات کا برا نا مانے ” انہوں نے پیار سے مہر کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
داؤد وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
” شکر ہے صحیح سلامت ہے میری بچی ” حفصہ بیگم نے جو کب سے چپ بیٹھیں تھیں گویا ہوئیں۔
” مہر جاؤ بیٹا کمرے میں جا کر فریش ہو جاؤ، میں کھانا لگواتی ہوں پھر آکر کھانا کھاؤ” آمنہ بیگم نے مہر سے کہا تو وہ اپنے بابا سے الگ ہوئی اور اٹھ گئی۔
*********************
رات کا کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ مہر نے رخسانہ بیگم سے معافی بھی مانگی تھی لیکن انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ مہر اپنی دادو کے کمرے میں ان کی گود میں سر رکھے ہوئے تھی اور حفصہ بیگم دعائیں پڑھ کر مہر پر پھونک دہی تھیں۔ مہر کیونکہ گھر آکر سنبھل گئی تھی تو داؤد کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ کسطرح اس کیلئے پریشان نظر آرہا تھا اور پھر اسے سینے سے لگائے جو بار بار کہہ رہا تھا (کچھ نہیں ہوا تم ٹھیک ہو میں ہوں نا پاس)۔ مہر یہ ہی سوچ رہی تھی داؤد نے پہلے کبھی تو ایسے نہیں کیا تھا اور اب ۔
“اتنے بھی برے نہیں ہیں ویسے ” مہر بڑبڑائی۔
“ہیں کون برا نہیں ہے؟” حفصہ بیگم نے پوچھا۔
” آپکے لاڈلے پوتے دادو “
” وہ کب برا تھا”
” تھے۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔یا نہیں۔۔۔۔پتا نہیں” مہر نے انکی گود سے سر اٹھا کر کہا۔
“کیا بولتی رہتی ہے”
“اوکے دادو شب بخیر آپ بھی سو جائیں اب”
حفصہ بیگم کے کمرے سے نکل کر مہر اب الگ سوچوں میں گھم تھی۔
“مجھے ایسے دیکھتے ہوئے وہ سمجھ رہے ہوں گے کے میں ڈرپوک نکلی، باتیں اتنی بڑی بڑی اور ایک ڈاکو سے ڈر گئی۔۔۔۔۔ ہا مہر اب دیکھنا وہ جب ہمارا اگلا جھگڑا ہوگا ضرور مجھے اس بات کا طعنہ دیں گے”
آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اپنی جون میں واپس آچکی تھی جب داؤد کے کمرے کے کھلے دروازے پر نظر گئی۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے داؤد کے کمرے میں گئی اور ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ باہر بالکونی میں ہی دیکھا اسے۔
مہر اس کے ساتھ تھوڑا فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ داؤد نے ایک نگاہ ڈال کر واپس چہرہ آسمان کی طرف اٹھا لیا۔
” وہ میں۔۔۔۔۔۔ میں آپکا شکریہ ادا کرنے آئی تھی آپ نے اتنی مدد کی میری” نیچے لان کو دیکھتے ہوئے مہر نے بے تکی بات کی۔ داؤد نے کوئی ردعمل نہیں دیا تو مہر نے اسکی جانب دیکھا۔
“دیکھیں یہ مت سمجھئے گا کہ میں ڈرپوک ہوں وہ تو بس گن دیکھ کر تھوڑا گھبرا گئی تھی اس لئے۔۔۔۔۔ورنہ اگر ان کے پاس گن نا ہوتی نہ تو میں نے اتنا مارنا تھا اپنا جوتا اتار کے ان ڈاکوؤں کو۔۔۔۔ نانی یاد آجاتی ان کی “۔
اپنے ہاتھ اٹھا کر وہ باقاعدہ ہوا میں ہاتھوں کو چلاتے ہوئے بتا رہی تھی۔ اسکی بات پر داؤد کے لبوں پر ہلکی مسکان آئی جسے اس نے چھپا لیا تھا لیکن مہر دیکھ چکی تھی۔
” ہنسا تو سمجھو پھنسا ” مہر نے اپنے میں ذہن میں سوچا۔
” تو جب ہمارے بیچ کوئی جھگڑا نہیں رہا تو کیوں نا ہم دوستی کرلیں” مہر نے چہکتے ہوئے کہا۔
” کریں گے مجھ سے دوستی؟”
” دوستی؟؟” داؤد نے مہر کی طرف رخ مڑ کر پوچھا۔
” ہاں دوستی ” مہر نے ہونٹوں پر مسکان سجائے کہا۔
” صرف دوستی ؟” داؤد نے مہر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پھر کہا اور ایک قدم مہر کی جانب بڑھایا۔
“جی دوستی ۔۔۔۔۔۔۔” مہر نے داؤد کے ایک قدم آگے آنے سے اپنا ایک قدم پیچھے لیا۔
” اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں؟” داؤد نے کہتے ہوئے مزید ایک قدم مہر کے قریب ہؤا۔
” اس۔۔۔کے۔۔۔۔علاوہ کیا؟ ” مہر نے ہکلاتے ہوئے پوچھا اور پیچھے ریلنگ سے جا لگی۔ آنکھیں داؤد کی آنکھوں میں جمی تھیں۔
داؤد نے مہر کی اطراف اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ پر جما لیے ایسے وہ داؤد کے حصار میں کھڑی تھی اس کے حصار سے نکلنے کے سارے راستے مسدود کیے ہوئے وہ اپنی آنکھوں میں ڈھیروں چاہت لئے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا تھا۔
” دوستی کے علاوہ بھی کچھ رشتے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کچھ رشتے جو ہم سمجھتے نہیں۔۔۔۔ کچھ رشتے جو ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔ایسے رشتے جو احساس کے رشتے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ دل کے رشتے ہوتے ہیں۔۔۔۔محبت کے۔۔۔۔۔پیار کے رشتے ہوتے ہیں۔۔۔”
داؤد مہر کے قریب جھک کر اسکے کان میں اپنی بھاری آواز میں کہہ رہا تھا۔ پھر نظر اٹھا کر مہر کی جھیل جیسی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ مہر بھی داؤد کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی دماغ اس وقت داؤد کے اتنے قریب ہونے سے کام کرنا بند کر چکا تھا۔ دیکھتے دیکھتے داؤد کی نظر مہر کے ہونٹوں پر گئی۔ اس سے پہلے وہ مزید اسکی طرف جھکتا مہر اپنی آنکھیں میچ گئی۔
********************
