280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 17)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

شام کو سکندر صاحب اور رخسانہ بیگم مہر کو اپنے ساتھ لئے اس کے ماموں کے گھر روانہ ہوئے تھے۔ مہر کے ماموں کی فیملی آج صبح ہی پاکستان پہنچے تھے۔ سکندر صاحب خود انکا ائیرپورٹ پر استقبال کرنے گئے تھے۔ لیکن مہر کو اس بارے میں نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ علی مہر کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ مہر اور علی کی کافی اچھی دوستی تھی اور دونوں ایک ہی سکول میں بھی پڑھے تھے۔ سکندر صاحب نے گاڑی روکی تو مہر ہوش میں آئی جو کب سے بیٹھی سوچ رہی تھی کے داؤد نے سب سن لیا ہے تو وہ کیسے اسکا سامنا کرے گی وہ کیا سوچتا ہوگا اس کے بارے میں۔

” چلو بھئی آگئی ہماری منزل ” سکندر صاحب کی آواز گاڑی میں گونجی۔

” ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ آپ تو کہہ رہے تھے کسی دوست کے گھر لے جارہے ہیں مجھے ” مہر نے پوچھا۔

” ہاں تو علی تمہارا دوست ہی ہے نا ” اب کی بار رخسانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ان کی تو اپنے بھائی کے آنے ہر خوشی دیدنی تھی۔

” ہیں سچی علی۔۔۔۔۔۔۔ ماموں لوگ آئے ہیں ” مہر نے آگے جھک کر پوچھا۔

” ہاں بھئی تمہارے ماموں آئے ہیں ” سکندر صاحب کہتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے۔ ان کے ساتھ ہی پھر رخسانہ اور مہر بھی باہر نکلے اور اندر کی طرف بڑھ گئے۔

*********************

مہر اپنے ماموں ممانی سی مل کر علی کو ملنے چھت پر گئی تھی۔ جو کہ پتا نہیں کہاں چھپا بیٹھا تھا۔

” علی ! علی ! کدھر ہو بھئ ” مہر چھت پر اسے آواز دیتے ہوئے ڈھونڈ رہی تھی جب کسی نے پیچھے سے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔

“Lips red as the rose, hair black as ebony, skin white as snow.”

علی نے مہر کی کان کے قریب دھیرے سے کہا۔

” علی کے بچے کب سے ڈھونڈ رہی ہوں، ہاتھ ہٹاؤ نہیں تو پٹو گے میرے ہاتھوں ” مہر نے کہا تو اس نے فوراً ہاتھ ہٹا دیے۔

” کیا سنو وائٹ ؟ ایسے ویلکم کرو گی میرا ؟ ” علی نے خفگی بھرے لہجے میں کہا۔

” ہاں تو سیدھے سیدھے نیچے رہ کر ملتے نا یہ تیسری منزل پر کونسا جھنڈا لہرانے چڑھے ہوئے ہو ” مہر نے اسکی طرف رخ موڑ کر کمر پر ہاتھ رکھے اسے ڈپٹا۔ علی نے قہقہہ لگایا ۔

” او سنو وائٹ تم بالکل نہیں بدلی ” علی نے اس کے گالوں کو تھام کر کھینچا تھا۔

” آ۔۔آآآ۔۔۔۔علی !!!!!!! ” مہر چیخی تھی اور وہ اس کے گال کھینچ کر بھاگ گیا تھا۔ اب منظر یہ تھا علی ہنستا ہؤا بھاگ رہا تھا اور مہر اس کے پیچھے پیچھے تھی۔

**********************

آج اتوار کی صبح بہت ہی سنہری اور نکھری نکھری تھی کیونکہ گزشتہ رات بارش نے ہر چیز دو کر صاف کردی تھی۔ لاونج میں اس وقت سکندر صاحب اور داؤد ٹی وی پر کوئی نیوز سن رہے تھے جب علی وہاں آن پہنچا۔

” اسلام وعلیکم ! ” علی نے اونچی آواز میں سلام کیا تو داؤد کھڑے ہوکر اس سے گلے ملا تھا۔ تھوڑی دیر میں حفصہ بیگم اور باقی سب بھی آکر علی سے ملے تھے۔

چھ فٹ سے نکلتا قد، کسرتی جسم، کالے گھنے بال، سرخ و سپید رنگت علی ستائیس سالہ خوبرو مرد تھا۔ سب سے خوش گپوں کے بعد وہ اپنی پھوپھو رخسانہ بیگم سے مہر کے متعلق پوچھ رہا تھا۔

” پھوپھو سنو وائٹ نظر نہیں آرہی ” باقی سب کو تو پتا تھا علی مہر کو سنو وائٹ کہہ کر بلاتا تھا سوائے داؤد کے اس لیے داؤد کو سمجھ نہیں آئی وہ کس کے متعلق پوچھ رہا ہے۔

” ارے وہ تو ابھی تک سو رہی ہے ” رخسانہ بیگم نے علی کو بتایا۔

” اس کی عادت نہیں گئی دیر تک سونے کی، مجھے گھر بلا کر خود ابھی تک نیند کے مزے لوٹ رہی ہے ” علی کی بات پر سب مسکرائے جبکہ داؤد کو اب اندازہ ہوا تھا کہ مہر کی بات ہورہی اور اسے علی کا مہر کو سنو وائٹ کہنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔

” میں اسے اٹھا دیتی ہوں، تب تک تم بیٹھو چائے پیو” رخسانہ بیگم نے علی سے کہا۔ علی نے اثبات میں سر ہلایا اور سکندر صاحب کی باتوں کا جواب دینے لگا جو آسکی جاب کی بابت پوچھ رہے تھے۔

**********************

جنید صاحب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھوں پر چشمہ لگائے کتاب پڑھ رہے تھے جب عظمیٰ بیگم کمرے میں آئیں۔

” آپ نے اکاؤنٹ سے پیسے نکلوا دیے تھے حمزہ سے کہہ کر ” عظمیٰ بیگم نے جنید صاحب سے پوچھا۔

” جی جناب کہہ دیا ہے کل تک مل جائیں گے آپکو ” جنید صاحب نے کتاب میں مگن ہی جواب دیا۔

” ابھی بھی شادی کے بہت سے کام رہتے ہیں اوپر سے دن کتنے رہ گئے ہیں ” عظمیٰ بیگم اپنی بیڈ سائڈ پر بیٹھتے ہوئے مزید گویا ہوئیں۔

” فکر کیوں کرتی ہیں ہو جائیں گے سارے کام ہم ہیں نا آپکی مدد کیلئے ” جنید صاحب نے کہا تو عظمیٰ بیگم مسکرا دیں۔

” اچھا سنیں عظمیٰ آپ نے بات کی تھی اپنی اماں سے سارہ اور داؤد کے نکاح کی؟” جنید صاحب نے کتاب پر سے نظریں ہٹا کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” جی ابھی نہیں کی۔۔۔ویسے اتنی جلدی کیا ہے؟ سارہ کی بات داؤد سے پکی ہوگئ یہ ہی بہت ہے۔۔۔حمزہ کی شادی ہو جائے پھر سارہ کا کریں گے “

” جلدی کی بات نہیں ہے عظمٰی آپ جانتی ہیں سارہ کی شادی میں جلدی کرنا چاہتا تھا کیونکہ بچیوں کی شادی جتنی جلدی ہو اچھا ہے لیکن سارہ نے نوکری کی ضد کی تو میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔اس لیے میں اب زیادہ دھیر نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اگر داؤد ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تو ٹھیک ہے رخصتی کے ایک سال تک کر دیں گے لیکن نکاح تو کرہی سکتا ہے نا ” جنید صاحب نے بہت نرمی سے وجہ بتائی۔

” جی میں بات کرتی ہوں اماں سے ” عظمیٰ بیگم نے کہا اور سونے کیلئے لیٹ گئیں۔

**********************

آج رات علی وغیرہ کی فیملی کھانے پر انوایٹ تھی۔ رخسانہ بیگم اور آمنہ بیگم کچن میں تھے اور مہر کو بھی آج ساتھ کام پر لگایا ہوا تھا۔ علی کی فیملی لاونج میں موجود تھی جہاں سکندر صاحب اور حفصہ بیگم انہیں کمپنی دے رہے تھے اور داؤد بھی علی سے چھوٹی موٹی گفتگو کر رہا تھا۔ داؤد سامنے صوفے پر تھا جہاں سے کچن صاف دیکھائی دیتا تھا۔ مہر کچن سے برتن اٹھائے باہر ڈائنگ پر لگا رہی تھی اور داؤد کی نظریں اسی پر تھیں۔ تھوڑی دیر بعد سب ڈائنگ ٹیبل پر کھانا کھارہے تھے۔ مہر اور علی ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے داؤد بالکل ان کے سامنے میز کی دوسری طرف تھا۔ علی مہر کے کان کے پاس جھکا کچھ کہہ رہا تھا جب داؤد کی نظر اس طرف گئی اور مہر نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا۔ داؤد کو یہ منظر ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ اسی وقت علی اپنا کھانا ختم کرکے سب سے excuse کرتا وہاں سے اٹھا تھا اور اس کے جانے کے ڈو منٹ بعد مہر بھی کھانا ختم کیے اٹھ گئی۔ داؤد کا کھانے میں اب بالکل من نہیں رہا تھا س لیے وہ بھی وہاں سے اٹھ کر دونوں کے پیچھے ہی باہر لان میں چلا گیا۔ باہر لان میں مہر اور علی دونوں ہنستے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔

” تم ایسے ہی آجاؤ کسی کو پتا نہیں لگے گا ” علی نے مہر سے کہا۔

” چلو چلو اماں سے ڈانٹ کھانے کا شوق نہیں مجھے، جاؤ جا کر اجازات لو پھر میں آؤں گی ساتھ” مہر کی آواز باہر آتے داؤد نے بھی سنی تھی۔

” ارے داؤد آؤ یار تم بھی چلو ہمارے ساتھ ہم آئسکریم کھانے جا رہے تھے ” علی نے داؤد کو بھی ساتھ آنے کی آفر کی جو انھی کی طرف آیا تھا۔

” علی یہ آئسکریم وائسکریم نہیں کھاتے نا کہیں گھومنے جاتے ہیں بس ہم دونوں چلتے ہیں ” مہر نے علی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

” شیور میں بھی چلوں گا ” داؤد نے علی کو جواب دیا تھا لیکن دیکھ مہر کو رہا تھا۔ اس کے مان جانے ہر مہر نے بے یقینی سے داؤد کی طرف دیکھا تھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں ملیں تو مہر کے دل نے ایک بیٹ مس کی تو فوراً اپنی نظریں پھیر لیں۔

” میں اندر بابا کو بتا کر آتی ہوں ” داؤد کے پاس سے گزر کر وہ جلدی سے اندر گئی تھی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *