280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 14)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

” تو کتنے پیسے گم ہوئے ہیں جو اتنے ضروری تھے کہ رات کے اس وقت تم ڈھونڈ رہی ہو؟” داؤد نے مہر کو دیکھتے ہوئے طنز کیا۔

“سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سو کے پانچ چھ نوٹ ہوں گے کوئی” ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مہر نے کہا۔

“اوو ! یہ تو بہت بڑی رقم تھی” داؤد نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔ مہر نے اداسی سے ہاں میں سر ہلایا جیسے اسے بھی دکھ ہے اس کے اتنے پیسے گم گئے۔

” اب کیا کرو گی؟ اگر زیادہ ضرورت ہے تو میں دے دوں “

داؤد کو اب مزہ آرہا تھا۔

” نہیں ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کیوں دینگے میں کوئی مانگنے والی لگتی ہوں کیا؟” مہر نے منہ بنا کر کہا۔

” مجھے لگا تمہیں ضرورت ہوگی جو اتنی رات کو ایسے ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ورنہ اتنے امیر باپ کی بیٹی ہو بھلا تھوڑے بہت پیسے گم بھی جائیں گے تو کیا فرق پڑے گا” داؤد نے کندھے جھٹکا کر کہا۔

” ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔امیر ہوں تو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپکو پتا نہیں ہے کتنی محنت سے پیسا کمایا جاتا ہے، درختوں پر نہیں اگتے پیسے ” ہاتھ جھلا جھلا کر وہ اب سمجھانے لگی۔

تھوڑی دیر رک کر سانس لینے کے بعد پھر سے گویا ہوئی۔

“اور اگر میں یوں ہی پیسے گماتی رہی نا تو ہم سڑک پر آجائیں گے ایک دن ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” یا رائٹ ! تم اتنی ذمہدار اور سمجھدار ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا ” داؤد نے داد دی۔ داؤد کی بات پر وہ جو دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی مسکرا دی اور گردن فخریہ اونچی کی۔

داؤد اپنی ہنسی کو ہونٹوں پر دبائے مہر کو دیکھ رہا تھا۔

“اب کیا کرو گی؟” داؤد نے پوچھا۔

” اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات ہوگئی ہے نا بہت اس لیے مل نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل صبح دیکھوں گی” مہر نے کہا اور داؤد کے پاس سے گز کے اندر چلی گئی۔

“اوفف کتنی تشویش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں انھیں شک تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو بھی ہے آج تو بال بال بچی ہوں “

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مہر نے خود سے کہا۔

**********************

داؤد کمرے میں آیا تو بے تحاشہ ہنسنا شروع کردیا۔ وہ اتنی دیر سے جو کنٹرول کر رہا تھا اب مشکل تھا کے خود کر روک پاتا۔ وہ داؤد ابراہیم جسے کے ہونٹوں پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی تھی آج اتنے سالوں میں پہلی بار ہنس رہا تھا اگر حفصہ بیگم، آمنہ بیگم یا عالیہ اسے ایسے دیکھتے تو ضرور اسکی ہنسی کے صدقے اتارتے۔

“اوفف کیا چیز ہے” اسے وہ پل دوبارہ یاد آئے جب وہ فون یوز کر رہا تھا تو مہر اس کے پیچھے وہاں آئی اسے بنا دیکھے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ مہر اس کی پیچھے کھڑی ہے۔ لیکن وہ مڑا نہیں کیونکہ وہ جاننا چاہتا تھا وہ کیا کرنے آئی ہے۔ لیکن وہ جب واپس جانے لگی تو داؤد نے اسے پکڑ لیا۔ وہ اتنی کیوٹ لگ رہی تھی ایسے جیسے لان میں بلی گھوم رہی ہو۔ داؤد پھر سے مسکرایا۔

********************

اگلے دن شام کو داؤد اور سکندر صاحب آفس سے آنے کے بعد لاونج میں سب گھر والے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ داؤد اور مہر بھی موجود تھے۔ مہر اپنے بابا کے پاس بیٹھی تھی۔ اور اسکے بالکل سامنے والے صوفے پر داؤد اور حفصہ بیگم بیٹھے تھے اور ایک صوفے پر آمنہ اور رخسانہ بیگم تھیں۔

” بابا میں گھر بیٹھے بیٹھے بور ہو جاتی ہوں” مہر نے اپنے بابا کو دیکھتے ہوئے کہا۔

” ماں کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کر پھر نہیں بور ہوگی” سکندر صاحب سے پہلے ہی حفصہ بیگم بول پڑیں۔

“او ہو دادو کرتی تو ہوں کام اور کیا کام والی ماسی بن جاؤں” مہر نے خفت زدہ کہا۔

“لے میں نے تو تجھے دیکھا نہیں کوئی کام کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ہر وقت تو سوئی پڑی رہتی ہے” حفصہ بیگم اسکی ٹانگ کھینچ رہی تھیں۔ سب ہی اس بات پر ہنسے تھے۔

” اللّٰہ معاف کرے دادو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوچھیں آپ بڑی مام سے میں کتنی ہیلپ کرواتی ہوں کچن میں” مہر نے منہ پھلائے کہا۔

” جی جی اماں مہر کرواتی ہے مدد” آمنہ بیگم نے دھیمی مسکان لئے کہا۔

” اچھا بھئ کوئی بھی میری بیٹی سے کچھ نہیں کہے گا، وہ جب جو مرضی کر سکتی ہے” سکندر صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے مہر کو اپنے ساتھ لگایا۔ مہر بے ساختہ مسکرا دی۔

“ویسے مہر اگر آپ چاہتی ہیں تو کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیں اور آگے پڑھائی کریں آرام سے” سکندر صاحب پھر سے گویا ہوئے۔

“نہیں بابا مجھے نہیں پڑھنا اب ” مہر نے صاف انکار کیا تھا۔

“چلو جیسے آپکی مرضی، ویسے آپکی ماں تو کہہ رہی تھیں کی آپکی شادی کر دیں” سکندر صاحب نے مہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیونکہ رخسانہ نے ہی ان سے کہا تھا کہ وہ مہر سے پوچھیں کے وہ آگے پڑھنا نہیں چاہتی تو اسکی شادی ہی کردیں۔

” بابا ! آپ ماں کی باتوں کو زیادہ سیریس مت لیا کریں، ان کا بس چلے تو مجھے ابھی اس گھر سے چلتا کریں” مہر نے ڈھیروں خفگی چہرے پر سجائے کہا تو اسکا ایسے منہ دیکھ کر سب ہی ہنسے تھے۔ مہر نے داؤد کی طرف دیکھا جو چائے ختم کیے اب اپنے فون پر مصروف تھا۔

“ویسے اس گھر میں اور بھی لوگ موجود ہیں جن کی شادی کی عمر ہو گئی ہے”

مہر داؤد کی طرف آنکھوں سے اشارے کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ داؤد کے لبوں پر ہلکی سے مسکان آئی اس بات پر جسے چھپانے کیلئے اس نے اپنا چہرہ مزید نیچے فون پر جھکا دیا۔

اسکی فکر تم نہیں کرو وہ بھی ہو جائے گی جلد” اسکا اشارہ سمجھ کر حفصہ بیگم نے کہا تو داؤد کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔

“جی دادو ! جلدی کروائیں یہ نا ہو لڑکا ہاتھ سے نکل جائے ویسے بھی دیر رات تک فون پر باتیں کرنا اچھی بات نہیں ہوتی” مہر کے کہنے پر داؤد کو سمجھ آیا کے وہ کل رات اسکی جاسوسی کررہی تھی۔

“ہیں ! کون فون پر بات کرتا ہے؟” حفصہ بیگم نے مہر سے پوچھا جس پر باقی سب بھی مہر کی طرف متوجہ ہوئے۔

” کوئی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرے تو بری بات ہے بس یہ کہہ رہی ہوں” مہر کہہ کر اپنا کپ اٹھا کر کچن میں چلی گئی۔

“پتا نہیں کیا بول کر گئی ہے” حفصہ بیگم نے کہا۔

“اماں آپکو پتا تو ہے ایسی ہی ہے” رخسانہ بیگم بھی مسکراتے ہوئے بولیں اور اٹھ کر سب کے چائے کے کپ سمیٹ کچن میں چلی گئیں۔

**********************

یہ منظر جنید صاحب کے گھر کا تھا۔ جہاں لاونج میں ٹی وی پر کوئی ڈرامہ آرہا تھا اور سامنے صوفے پر سارہ پاؤں اوپر کیے ہاتھ میں ریموٹ پکڑے ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی۔ عظمیٰ بیگم کچن میں رات کا کھانا تیار کروا رہیں تھیں۔ جنید صاحب ہسپتال سے ابھی لوٹے نہیں تھے اور حمزہ اپنے روم میں تھا۔ سارہ انمہاک سے لڑکی کا ڈائیلاگ سن رہی تھی جب کسی نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ چھین لیا۔ سارہ نے دیکھا تو حمزہ اب بڑے مزے سے فاصلے پر بیٹھا چینل بدل رہا تھا۔

” حمزہ بھائی ! میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی” سارہ نے خفگی سے کہا۔

” تمہارے اس فضول ڈرامے کے چکر میں میرا میچ نکل جانا ہے”

” اچھے بھلے اندر کال پر ہانیہ سے بات کر رہے تھے تو تب میچ نہیں یاد آیا “

” ہاں تو میری بیوی ہے اس کیلئے سب قربان ” حمزہ نے شوخ ہوتے ہوئے کہا۔

” اوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا بات ہوئی؟”

“کیا بات ہونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ رہی جب تک پیپرز ختم نہیں ہو جاتے تب تک بات بھی نہیں کر سکتی شاپنگ تو دور کی چیز ہے” حمزہ نے افسردگی سے اسے بتایا۔

” تو کوئی مسلئہ نہیں پیپرز تو بس پندرہ دنوں میں ختم ہو جائیں گے پھر آرام سے مل کر شاپنگ کیجیے گا” حمزہ نے سر ہلایا پھر کچھ یاد آنے پر سارہ کی طرف رخ کیا۔

” سارہ ! داؤد سے رشتے پر تم خوش ہو نا؟” حمزہ نے پوچھا۔

” جی میں خوش ہوں ” سارہ نے شرمیلی سی مسکان ہونٹوں پر سجائے کہا۔

” گڈ ! داؤد ایک اچھا انسان ہے، تھوڑا کم گو ہے مسکراتا بھی نہیں ہے لیکن اس سب کی وجہ تو تمہیں معلوم ہے اس لئے تم پر ہے کے شادی کے بعد تم اسے اس خول سے نکالو اور تم سے بہتر تو کوئی بھی نہیں جانتا داؤد کو اسکی دوست رہی ہو اب جیون ساتھی بنو گی ” حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے سمجھایا۔ سارہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔

*********************

اگلے دن غازی ہاؤس میں صفائی ستھرائی کا کام ہو رہا تھا۔ گھر کے پرانے پردے اتار کر ڈرائی کلینگ کے لیے بھجوا دیے گئے اور اسکی جگہ نئے پردے لگا دیے تھے۔ اور بھی کام صفائی کی جاری تھے۔ رخسانہ بیگم نے مہر کو بھی کام پر لگایا ہوا تھا۔ مہر فرزانہ کے ساتھ اوپر چھت پر بنے سٹور روم سے کچھ سامان لانے کیلئے گئی ہوئی تھی۔

یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں ایکسٹرا اور ضرورت کا سارا سامان تھا۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ بڑی سی جڑی الماری بنی ہوئی تھی۔ جس میں بالکل نیو بند برتن تھے ایکسٹرا کمبل اور کمفرٹر رکھے تھے اور بھی ڈھیروں گھر کا سامان تھا جو شاید اس لئے تھا کے کبھی بھی ضرورت ہو تو آرام سے یہاں سے نکال کر استعمال کر لیا جائے۔

فرزانہ اوپر الماری پر چڑھی چیزیں اتار کر نیچے کھڑی مہر کر پکڑا رہی تھی۔

” اوفف فرزانہ کی بچی یہاں کی صفائی نہیں کرتی تم، کتنی ڈسٹ ہے” مہر نے اسے ڈپٹا۔

” باجی کرتی تو ہوں ہفتے کے ہفتے “

“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس ہفتے میں ایک بار ؟ اسی لیے یہ حال ہے سٹور کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب سے میں خود اپنی نگرانی میں کروایا کروں گی وہ بھی روزانہ “

مہر کی بات سن کر فرزانہ کا تو منہ ہی بن گیا (بھلا سٹور روم کون صاف کرتا ہے روز)۔

فرزانہ نیچے اتری اور دوسری طرف رکھے صندوق پر سے چادر اتار کر جھاڑی جس پر اتنی گرد مٹی تھی کی مہر کھانسنے لگی اور ہاتھ اپنے ناک کے آگے کر جھلانے لگی۔

“پتا نہیں ماں نے مجھ سے کونسا بدلہ لیا ہے” مہر نے خفگی سے بڑبڑایا۔

“باجی آپ یہ ڈبے اب نیچے لے جائیں باقی میں لے آؤں گی”

” مشورہ نہیں مانگا میں نے اپنا کام کرو ” گھور کر کہتی اس نے ڈبہ اٹھایا ایک اور سٹور سے نکل گئی۔

داؤد اپنے کمرے سے نکلا ہی تھا جب دوسری طرف سے آتی مہر پر نظر پڑی۔ ایک ہاتھ میں ڈبہ اپنے سینے سے لگائے اور دوسرے ہاتھ سے مسلسل اپنی آنکھ مسل رہی تھی۔ داؤد کے قریب آئی تو اسکی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھا لیکن دوسری آنکھ بار بار جھپک رہی تھی جو ٹھیک سے کھول نہیں رہی تھی۔

” کیا ہوا ؟” داؤد نے اسکی آنکھ کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے پوچھا۔

” میری آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے شاید ” مہر نے بتایا۔

داؤد نے اس کے ہاتھ میں پکڑا ڈبہ نیچے رکھا۔ مہر نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ مسلنا چاہی تو داؤد اسکا ہاتھ تھام گیا۔ داؤد مہر کے قریب ہوا اور اسکی آنکھ کو اپنے انگھوٹے اور انگلی کی مدد سے بہت نرمی سے کھول کر دیکھنے لگا پھر اس پر پھونک ماری ایک بار پھر دوسری بار مہر کو داؤد کی سانسوں کی تپش سے عجیب سے احساس نے ان گھیرا تو وہ فوراً پیچھے ہوئی۔

” کیا ہوا ” داؤد نے اس کے اس طرح پیچھے ہٹنے پر پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے” اپنے چہرے پر آئی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا پھر جھک کر ڈبہ اٹھایا اور داؤد کے پاس سے گزر کر سیڑھیاں اتر گئی۔

“عجیب ” داؤد کہتا ہوا مہر کے پیچھے ہی نیچے اتر گیا۔

**********************

شام کو موسم خشگوار ہوگیا تھا۔ بارش کھل کر برس رہی تھی۔ داؤد اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا برستی بارش کو دیکھ رہا تھا اور وہ خود بھی ہلکا ہلکا بھیگ چکا تھا۔ جب دل کا موسم بدل جائے تو یہ موسم بھی کتنے بھلے لگتے ہیں۔ تھوڑی دیر آسمان کی طرف دیکھتے رہنے کے بعد داؤد نے نیچے لان میں دیکھا جہاں گلابی رنگ کا سوٹ پہنے مہر بارش میں بھیگ رہی تھی۔ دوپٹہ کندھے پر لٹکا، چہرہ بھیگا ہوا بال چہرے اور گردن سے چپکے ہوئے وہ کب آئی داؤد کو پتا نہیں چلا۔ لیکن اب یہ بارش مزید حسین لگ رہی تھی۔ مہر اپنے بازہ پھیلائے گھول گھول گھوم رہی تھی اور داؤد کو یہ منظر دنیا کا سب سے خوبصورت منظر لگا تھا۔ ” I love her ” بے ساختہ یہ الفاظ داؤد کے لبوں سے ادا ہوئے۔

داؤد نے آنکھیں بند کیں اور ایک تصور اس کے ذہن میں ابھرا وہ لان میں مہر کے قریب تھا اسے نہار رہا تھا دل نے اسے محسوس کرنا چاہا تو فوراً آنکھیں کھول گیا۔

“داؤد ابراہیم تمہیں مہر کو بھولنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنے دل و دماغ سے نکالنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سارہ کا دل نہیں توڑ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اس محبت کو دل میں کہیں دفن کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ احساس صرف یک طرفہ ہے اور اس یک طرفہ احساس کیلئے میں سارہ کو دکھ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔۔۔” داؤد نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *