Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 23)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
اگلے دن غازی ہاؤس میں جیسے خوشی کا سما تھا۔ دوپہر کا وقت تھا خواتین سب لاونج میں براجمان تھیں۔ اور شادی اور نکاح کی تیاری کیلئے لسٹ تیار کی جارہی تھی۔ سکندر صاحب کسی کام سے باہر گئے تھے۔ داؤد آج آفس نہیں گیا تھا۔ ناشتہ بھی اس نے اپنے کمرے میں کیا تھا۔ مہر بھی ناشتہ کرنے کے بعد سے اپنے کمرے میں ہی تھی۔ شگفتہ بیگم کو کال کرکے مہر کی ہاں کا بتا دیا گیا تھا۔ علی کو مہر کی ہاں کا علم ہوا تو وہ تھوڑا ریلکس ہوا اسے ڈر تھا کہ مہر کا اس رشتے والی بات کا ریکشن کیسا ہوگا۔ اسی سلسلے میں وہ کل اس سے بات بھی کرنا چاہتا تھا لیکن موقع نا مل سکا۔
مہر کے کمرے میں جھانکیں تو وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی دکھی نظر آرہی تھی۔ اس نے علی کیلئے ہاں کی کیونکہ وہ اپنی ماں کو خوش دیکھنا چاہتی تھی ویسے بھی کبھی نا کبھی تو شادی کرنی تھی۔ اب یہ فیصلہ کر ہی لیا تھا تو اس پر قائم رہنے کیلئے اسے خود کو مضبوط بھی بنانا تھا۔
********************
داؤد کے کمرے میں جائیں تو وہ بے چین نظر آتا تھا ویسے تو سامنے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا لیکن سوچ کے سارے دھاگے مہر کی طرف تھے۔ اسے مہر کے جواب کا انتظار تھا۔ آج وہ آفس بھی نہیں جا سکا تھا کہ کہیں اس کے جانے سے پیچھے سے کچھ ایسا نا ہو جائے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس نے سوچ لیا تھا اگر مہر نے انکار کیا تو وہ اس سے وجہ پوچھے گا اور اس کا دل کہہ رہا تھا وہ اس سے محبت کرتی ہے وہ اس کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔۔ اس اگر پر آکر داؤد کا دل ڈوب جاتا تھا اس نے ہاں کردی تو۔۔۔۔۔تو وہ کیا کرے گا۔ اس وقت داؤد یہ بھول چکا تھا کہ وہ سارہ سے نکاح کیلئے ہاں کر چکا ہے اور کچھ ہی دن بعد اسکا اور سارہ کا نکاح ہے، یاد تھا اور ہے تو وہ یہ کہ مہر کسی اور کی نہیں ہوسکتی باقی سب وہ فراموش کر چکا تھا۔ اپنی سوچوں کو جھٹک کر داؤد نے لیپٹاپ بند کیا اور صوفے سے اٹھ کر وہ اپنے کمرے سے نکلا۔ کمرے سے نکل کر داؤد نیچے آیا تو ہر طرف چہل پہل سی تھی۔ کچھ ملازم مٹھائیوں کے ٹوکرے اٹھا کر لاؤنج میں رکھی شیشے کی میز پر رکھ رہے تھے۔ داؤد نے پاس کھڑی رخسانہ بیگم کی طرف دیکھا جو یہ سب رکھوا رہیں تھیں۔
” یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟” داؤد نے ان کے پاس جا کر پوچھا۔
” یہ مہر کے ماموں کے گھر سے آیا ہے۔ علی اور مہر کی بات پکی کی خوشی میں ” انہوں نے دھیمی مسکان کے ساتھ کہا تھا۔ داؤد کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔
” بات پکی۔۔۔۔۔۔لیکن مہر۔۔۔۔۔۔ مہر سے پوچھا نہیں آپ لوگوں نے ” داؤد نے یہ بات کیسے پوچھی تھی یہ داؤد کا دل ہی جانتا تھا۔
” مہر نے ہاں کردی ہے تبھی تو یہ سب بھجوایا ہے بھابھی نے ” داؤد کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔ وہ ایسے ہی بنا کسی تاثر کے کتنی ہی دیر وہیں کھڑا رہا جبکہ رخسانہ بیگم وہاں سے جا چکی تھیں۔ مہر نے ہاں کردی ہے ۔ داؤد کو بس یہ ہی الفاظ اپنے کانوں میں سنائی دینے لگے اور آس پاس کی کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔
**********************
مہر نے میسج کرکے بیا اور انعم کو ساری بات بتا دی تھی۔ جس پر دونوں ہی اس سے خفا ہو گئیں۔ دونوں نے ہی اسے سمجھنا چاہا کہ وہ غلط کر رہی ہے لیکن مہر نے کسی کی بھی نہیں سنی اور دونوں کو صاف صاف کہہ دیا تھا اس سے اس بارے میں اب کوئی بات نا کریں۔ اسی بارے میں وہ ابھی بھی ان سے بات کر ہی رہی تھی جب اسکا فون بجا۔ فون کرنے والا علی تھا۔ مہر نے نا چاہتے ہوئے بھی کال اٹھا لی تھی۔
” ہیلو ! سنو وائٹ۔۔۔” علی نے مہر کے فون اٹھاتے ہی کہا۔
“ہاں ” مہر بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
” سنو وائٹ۔۔۔۔۔۔مہر تم۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہو رہا ہے۔۔۔۔آئی مین تماری اور میری شادی۔۔۔۔۔” علی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے بات کرے اور یہ پہلی بار تھا کہ وہ ایسے جھجھک رہا تھا کیونکہ کبھی سوچا نہیں تھا جس سے بچپن سے ایک دوستی کا رشتہ تھا وہ اب ایسے بدلنے جا رہا تھا۔
” علی میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی “
” مہر میں بس یہ جاننا چاہتا تھا تم خوش تو ہو نا، میرا مطلب تم راضی ہو نا دل سے “
” علی میں نے ہاں کی ہے تو ظاہر ہے مجھے کوئی دقت نہیں اس رشتے سے اور رہی بات خوشی کی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ” مہر بے دلی سے بولی۔
” کیا مطلب ؟ “
” کچھ۔۔۔۔۔۔۔” مہر بات کر رہی تھی جب کوئی اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہوا اور آنے والا داؤد تھا۔
مہر شاکڈ سی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی۔ فون کی دوسری طرف علی اس کے ایک دم چپ ہونے پر مہر مہر پکار رہا تھا۔ داؤد نے بھی فون کے سپیکر سے آنے والی علی کی آواز پہچان لی تھی۔ اس لیے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے فون چھینا اور کال کاٹ کر فون اوف کرکے بیڈ ہر اچھال دیا۔ داؤد کے کڑے تیور دیکھ کر ایک پل کو تو مہر کو اس سے خوف آیا تھا۔ داؤد نے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام کر کھڑا کیا تھا۔ داؤد کی گرفت میں سختی تھی۔
” کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہو تم ہاں ؟” داؤد دبا دبا سا غرایا تھا۔
” کیوں کر رہی ہو یہ سب ؟؟ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اس لڑکے کیلئے ہاں کرنے کی ؟؟ تم۔۔۔۔۔۔۔۔مہر تم مجھے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔تم ہاں نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم۔۔۔۔۔۔۔” داؤد نے خونخوار نظروں سے مہر کو دیکھا تھا جو آنکھوں میں خوف لئے کھڑی تھی۔
” یہ پل پل تڑپا تڑپا کر کیوں مارتی ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔ایک ہی بار میری جان کیوں نہیں لے لیتی ” داؤد نے سرسراتے لہجے میں اتنی جان لیوا بات کہی تو مہر کی آنکھوں سے آشک بہہ نکلے۔ وہ سفاک بنا ہوا تھا اور اسکے یہ الفاظ مہر کے دل میں قیامت برپا کر گئے۔ مہر نے اپنی سسکی روکنے کیلئے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے تھے۔ داؤد نے اس کی لباب پانیوں سے بھری آنکھیں دیکھیں تو فوراً اپنی گرفت سے آزاد کیا۔ داؤد کو اسکی خاموشی مار رہی تھی۔ اسے لگا وہ کچھ کہے گی کوئی وضاحت لیکن وہ کچھ نہیں بولی، وہ نا محسوس انداز میں اپنے قدم واپس پیچھے کی جانب لینے لگا۔
” تم نے آج داؤد ابراہیم کو ہرا دیا مہر۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میرے جینے کی وجہ چھین لی۔۔۔۔۔۔تم نے مجھے مار دیا ہے آج۔ ” وہ شدت غم سے کہتا اس کے کمرے سے نکل گیا۔
اور مہر وہیں بیٹھتی چلی گئی، اشک اب اس کے سرخ رخساروں پر پھسل آئے تھے۔ داؤد کے کہے الفاظ اسکی جان نکال گئے تھے وہ وہیں بیٹھی کتنی ہی دیر روتی بلکتی رہی تھی۔
*********************
اگلے دن صبح ایک ضروری کام کے سلسلے میں داؤد لاہور جا چکا تھا۔ یہ بات تو اس نے گھر بتائی تھی لیکن درحقیقت میں وہ اس سب سے فلحال فرار چاہتا تھا۔ حمزہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں بس کچھ ہی دن رہ گئے تھے۔ مہر کی طبیعت کل رات سے ہی تھوڑی ناساز تھی۔ رخسانہ بیگم اس کے پاس کمرے میں موجود اسکو سوپ پلا رہیں تھیں۔ وہ کافی نڈھال اور کمزور نظر آرہی تھی، زیادہ دیر روتے رہنے کی وجہ سے آنکھیں بھی سوجی ہوئی تھیں۔
” مہر کیا ہوا ہے تمھے میری بچی کل تک تو تم ٹھیک تھی یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ایک ہی رات میں ” رخسانہ بیگم نے سوپ کا باول سائڈ ٹیبل پر رکھا اور فکر مندی سے گویا ہوئیں۔
” ٹھیک ہوں ماں ڈاکٹر نے بتایا تو ہے سردی لگ گئی ہے مجھے بس ” وہ دھیمی مسکان ہونٹوں پر سجائے ان سے بولی۔
” ہاں لیکن تمہاری آنکھیں۔۔۔۔۔ تم پریشان ہو۔۔۔۔۔اس رشتے کی وجہ سے تو نہیں کہیں ” انھوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
” ماں ایسا نہیں ہے، آپ پریشان مت ہوں ” مہر نے انھیں مطمئن کرنا چاہا۔
” اچھا چلو یہ میڈیسن کھاؤ اور آرام کرنا ہے اب تم مجھے نظر نہیں آو فون پر ” انھوں نے تاکید کی۔
*********************
تین دن بعد داؤد واپس اسلام آباد آچکا تھا۔ مہر کی طبیعت بھی اب پہلے سے بہتر تھی۔ سارہ بھی مہر سے آکر مل چکی تھی۔ وہ اس سے خفا بھی تھی کیونکہ وہ اس کے ساتھ مل کر نکاح کا جوڑا لینا چاہتی تھی جو کہ اب اسے اکیلے جا کر ہی لینا پڑا تھا۔ سارہ کی ساری تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ شام کو داؤد آفس سے آیا تھکا ہارا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ فرزانہ نے اسے پانی کا گلاس دیا جب سارہ سامنے دروازے سے اندر آتی ہوئی دیکھی۔
” اسلام وعلیکم ! ” سارہ نے کہا تو داؤد نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔
” باقی سب نظر نہیں آرہے ” سارہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” امی تو دادو کے ساتھ ڈاکٹر پر گئی ہیں، اور میں ابھی آفس سے آیا ہوں مجھے بھی نہیں معلوم ” داؤد نے پانی پی کر گلاس سامنے میز پر رکھا۔
” وہ رخسانہ بھاجی بھائی سکندر کے ساتھ اپنے بھائی کے گھر گئیں ہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ” فرزانہ نے انکو بتایا۔
” اور مہر ؟ ” سارہ نے مہر کا پوچھا۔ مہر کے نام پر داؤد نے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔
” جی وہ اوپر ہی ہیں اپنے کمرے میں ” فرزانہ کہہ مر وہاں سے چلی گئی۔ سارہ نے داؤد کو دیکھا جو سامنے رکھی میز کو گھور رہا تھا۔
” میں وہ دراصل مہر سے ہی ملنے آئی تھی۔ مجھے اسے اپنے ساتھ لے جانا تھا۔ اسکی طبیعت بھی نہیں ٹھیک تھی دو دن سے تو میں نے سوچا باہر نکلے گی تو بہتر محسوس کرے گی ” سارہ نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔ داؤد جو سنجیدگی سے بیٹھا سارہ کو سن رہا تھا وہ اسکی طبیعت کا سن کر ایک دم پریشان ہوا۔ اس سے پہلے داؤد کچھ پوچھتا یا سارہ کوئی اور بات کرتی مہر کی چیخوں کی آواز پر دونوں ہی متوجہ ہوئے۔ داؤد تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مہر کے کمرے میں گیا تھا اسکی چیخوں کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔
وہ واشروم کے باہر کھڑی پاؤں اوپر نیچے مارتی ہوئی چیخ رہی تھی جب داؤد اس کے پاس گیا اور اس تھما تھا۔
” مہر !! کیا ہوا ؟ تم ٹھیک ہو ؟ ” داؤد اس کے چہرے کو تھامے پریشانی سے پوچھ رہا تھا۔
” وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ واشروم میں۔۔۔۔۔۔کاک۔۔۔۔۔۔واشروم میں کاکروچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مہر ہکلاتے ہوئے داؤد کو بولی۔ اسکا چہرہ کاکروچ کے خوف سے پیلا زرد ہوا پڑا تھا۔
” واٹ ؟؟ تم۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے اتنا چیخ رہی تھی ؟۔۔۔۔پاگل ہوگئی ہو ؟؟؟ پتا بھی ہے میں کتنا ڈر گیا تھا۔۔۔۔۔۔مجھے لگا تمھے کچھ۔۔۔۔۔۔۔مہر۔۔۔۔۔۔مجھے لگا۔۔۔۔اور تم ایک کاکروچ کی وجہ سے چیخ رہی تھی۔۔۔۔ ” داؤد غصے اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں کہے جا رہا تھا۔
” وہ۔۔۔۔۔۔وہ اڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں ڈر۔۔۔۔۔” بولتے بولتے مہر کی نظر اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑے وجود پر گئی تو اسکی آنکھیں پتھرا گئیں۔ سارہ ناجانے کب کی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ مہر نے اپنے چہرے پر رکھے داؤد کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔ داؤد کو اسکی حرکت پر غصہ آیا لیکن ضبط کر گیا۔ اس نے شعلہ بار نظروں سے مہر کر گھورا تھا۔ پہلے والی پریشانی اور فکر اب کہیں نہیں تھی۔ داؤد واپس جانے کیلئے پلٹا تو ایک منٹ کیلئے وہ بھی ساکن رہ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ سارہ بھی یہیں ہے۔ لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر کر کمرے سے نکل گیا۔
” وہ میں گھبرا گئی تھی ” مہر نے سارہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ اپنی طرف سے وہ وضاحت دینا چاہتی تھی لیکن اسے نہیں پتا تھا سارہ نے کیا سنا اور کیا دیکھا۔ سارہ نے مسکرا کر مہر کو دیکھا اور پھر وہاں سے پلٹ گئی۔ اب سارہ کے چہرے پر مسکان نا تھی۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ داؤد کے کمرے کے سامنے رک کر وہ کتنی ہی دیر غائب دماغی سے کھڑی رہی۔ یہ بھی یاد نا رہا وہ یہاں کیوں آئی تھی۔ داؤد اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا تھا جب اس کے پیچھے سارہ وہاں آئی۔ داؤد نے اسے مڑ کر دیکھا تو اس کے چہرے پر کئی سوال نظر آئے۔ داؤد نے اس سے رخ پھیر کر کھڑا ہوگیا۔
” آئی ایم سوری ! آئی ایم سوری سارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب میں مزید اور یہ سب نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔میں یہ۔۔۔۔۔۔۔نکاح نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمھے کسی دوکھے میں نہیں رکھ سکتا۔۔۔۔۔میں مہر سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔اور میرے لئے یہ بہت مشکل ہے کہ میں محبت کسی اور سے کروں اور شادی کسی اور سے۔۔۔۔۔۔ ” داؤد کی باتیں وہ دم سادھے سن رہی تھی۔
” اور مہر۔۔۔۔۔۔وہ بھی محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔لیکن وہ شاید مجھ سے زیادہ تمھے چاہتی ہے۔۔۔۔اسی لئے وہ اپنی محبت کو قربان کر رہی ہے۔۔۔۔۔صرف تمہارے لئے اس نے مجھے تمھے چننے کو کہا۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ تمھے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔مہر کیلئے یہ آسان ہوگا۔۔۔۔۔۔۔لیکن میرے لئے نہیں ہے۔۔۔۔۔میں اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔۔۔”
داؤد نے کہہ کر اپنی آنکھیں میچ لیں۔ پھر وہ پلٹا تو سارہ بنا کسی تاثر کے کھڑی تھی۔ داؤد اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا لیکن اسے سارہ کیلئے برا بھی لگ رہا تھا۔ سارہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔
*********************
وہ نہیں جانتی تھی وہ گھر کب اور کیسے پہنچی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے دروازہ بند کیا اور اسی کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ پھر وہ وہیں نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تو وہ سسکیوں سے رونے لگی۔ اس کا دل ان سب باتوں سے پھٹنے کو تھا۔ “میں مہر سے محبت کرتا ہوں” داؤد کے یہ الفاظ بار بار اب اسکے کانوں میں گونجنے لگے تھے۔ سارہ نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے جیسے وہ نہیں سننا چاہتی تھی۔
**********************
دو دن مزید گزر گئے تھے۔ سارہ ان دو دنوں بالکل چپ سی ہوگئی تھی۔ گھر میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھیں۔ ان کے گھر میں آج سے ڈھولک بھی شروع تھی۔ سارہ کے ددھیال کے کزن کا آنا جانا لگا تھا۔ وہ سب میں ہوتے ہوئے بھی سب میں نا تھی۔ عظمیٰ بیگم نے بھی اسکی یہ غائب دماغی کو نوٹ کیا تھا۔ اسی سلسلے میں وہ اس سے بات کرنے کیلئے اسے اپنے کمرے میں لے آئیں کیونکہ باہر کافی مہمان موجود تھے۔
” سارہ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ میں دو دن سے دیکھ رہی ہوں تم کافی گھم سم رہنے لگی ہو ” انھوں نے اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھے فکر مندی سے پوچھا تھا۔
” میں ٹھیک ہوں امی ” سارہ نے اپنا سر جھکا کر کہا تھا وہ انکی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ نہیں بول سکتی تھی کیونکہ حقیقت تو یہ ہی تھی کہ وہ ٹھیک نہیں تھی۔
” تو پھر ایسے کیوں ہوں جیسے کچھ ہوا ہو۔۔۔۔۔ کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔ پرسوں نکاح ہے تمہارا اور تم ایسے مرجھائی سی لگنے لگی ہو ” ان کے نکاح کی بات پر سارہ کو ایک دم کچھ یاد آیا۔
” امی میری بات سنیں ” سارہ نے ان کے دونوں ہاتھ تھامے تھے۔ انھوں نے سر کو جنبش دے کر اسے بات کرنے کی اجازت دی۔
” میں جو آپ سے کہوں گی، آپ میری بات کو تحمل سے سنیں گی اور سمجھیں گی” سارہ نے تمہید باندھی۔ اور پھر وہ جیسے جیسے عظمیٰ بیگم کو بتاتی گئیں ویسے ویسے ان کے چہرے کے تاثرات بدلتے گئے۔
” سارہ یہ۔۔۔۔۔۔یہ سب کیا ہے ؟ تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوسکتا اب۔۔۔۔۔۔تمہارے بابا کبھی نہیں مانیں گے ” انھوں نے غصے سے کہا تھا۔
” امی میری بات سمجھیں پلیز ” سارہ اب انھیں آرام سے اپنی کہی پر ماننے کیلئے منانے لگی۔
*********************
عظمیٰ بیگم حمزہ اور سارہ کے ہمراہ غازی ہاؤس میں موجود تھیں۔ انھوں نے جیند اور حمزہ کو جب یہ بات بتائی تو جنید صاحب کافی برہم ہوئے تھے جبکہ حمزہ کو سارہ کے فیصلے پر فخر محسوس ہوا اور ساتھ سارہ کیلئے دکھ بھی ہوا تھا۔ یہاں اکر انھوں نے سب کے سامنے بھی یہ بات رکھی تھی۔ داؤد بس سر جھکائے بیٹھا تھا باقی سب بھی اس بات سے زیادہ خوش نظر نہیں آرہے تھے۔ لاونج میں خاموشی چھائی ہوئی تھی دفعتاً سارہ کی آواز نے خاموشی کو توڑا تھا۔
” میں اوپر مہر کے پاس جارہی ہوں، آپ سب سے مجھے امید ہے آپ اس فیصلے میں میرا ساتھ دیں گے ” وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی۔
” عظمیٰ یہ سب کیا ہے ؟ یہ کیسے ممکن ہے ؟ پرسوں نکاح ہے اور اب یہ سب ” حفصہ بیگم کی آواز گونجی تھی۔
” امی میں نے بھی کچھ ایسا ہی سارہ سے کہا تھا۔۔۔۔لیکن میری بیٹی بہت سمجھ دار ہے، وہ صحیح کہہ رہی ہے بچوں کی خوشی جو ہے وہی ہونا چاہیے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن پہلے یہ سب ہو رہا اور لوگ کیا کہیں گے، لوگوں سے زیادہ ہمیں ہمارے بچوں کی خوشی کا سوچنا چاہیے ” انھوں نے مسکرا کر ان کو بات سمجھائی۔ انکی بات سے سب مطمئن نظر آنے لگے تھے۔
*********************
مہر اور سارہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی تھیں۔
” مہر تم نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی ” سارہ نے اسے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔ مہر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
” تم داؤد کو چاہتی ہو اور وہ تمھے ” اسکی بات پر مہر نفی میں سر ہلانے لگی۔
” مہر جب دو لوگ ایک دوسرے کو چاہتے ہوں نا تو انھیں ہی ایک ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے کہ تم میرے لئے اپنی محبت کو قربان کرنے چلی ہو۔۔۔۔۔۔اتنا پیار کرتی کو مجھ سے ؟ ” دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
” ارے پگلی جب وہ تم سے محبت کرتا ہے اور تم اس سے تو میں کیسے اس کے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں؟۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی تم جیسی دوست اور بہن کیلئے ایسی کہیں محبتیں میں قربان کردوں ” سارہ نے روتے ہوئے اسے گلے لگایا۔
” نن۔۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سارہ جیسے تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔” مہر مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے ابھی بھی انکاری تھی۔
” مہر تم کتنی بدھو ہو۔۔۔۔۔۔اب بس سب سے بات کرلی ہے امی نے تمھے یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔
پرسوں نکاح ہوگا ضرور ہوگا۔۔۔۔۔۔لیکن میرا اور داؤد کا نہیں۔۔۔۔۔۔تمہارا اور داؤد کا ہوگا ” اس نے مسکراتے ہوئے مہر کو بتایا تو مہر اٹھ کھڑی ہوئی اس نے اپنے آنسو پونچھے۔
” سارہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو ؟ میری طرف سے ایسا کچھ نہیں ہے اور انکا مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔۔ میں ایسا نہیں کروں گی “
” اچھا تو یہ بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو وہاں مجھ سے منہ مڑے کیوں کھڑی ہو ” اسکی بات پر مہر نے خود کو کمپوز کیا تھا اور فوراً سارہ کی طرف رخ کیا۔
” لو تمہاری آنکھوں میں دیکھ کر بھی کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ سارہ مجھے ان سے کوئی محبت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تم لوگ غلط سمجھ رہے ہو اور شاید تمہیں یاد نہیں میری ہاں علی کے ساتھ ہوچکی ہے۔۔۔۔پلیز تم یہ سب نہیں کرو تمہارا اور انکا ہی نکاح ہوگا ” مہر نے سخت لہجے میں اسے کہا تو سارہ بھی اسکے لہجے پر ٹھٹکی تھی۔ مہر نے کبھی بھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی۔ اس لئے وہ خاموش ہو گئی۔
*********************
داؤد اوپر آیا تو سامنے سے سارہ مہر کے کمرے سے باہر آرہی تھی۔ سارہ نے داؤد کو سامنے دیکھا تو اس کے پاس گئی۔
” نیچے کیا بات ہوئی ؟” سارہ نے جلدی سے پوچھا۔
” مشکل تھا لیکن مان گئے ” داؤد نے سنجیدگی سے کہا۔
” چلو باقی سب تو مان گئے، بس مہر۔۔۔۔۔۔” مہر کے نام پر داؤد نے نگاہیں اٹھا کر اسے کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔
” وہ بھی مان جائے گی۔۔۔۔۔۔۔فکر نہیں کرو ایک دن ہے۔۔۔۔۔۔میں نے سمجھایا ہے اسے لیکن تمھے تو پتا ہے نا وہ کتنی جذباتی ہے “
” جذباتی نہیں نا سمجھ ” داؤد نے ناگواری سے کہا۔ اس کے ایسے انداز سے سارہ کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔
” میں اب چلتی ہوں ” سارہ اس کے پاس زے گزر کر جانے لگی جب داؤد نے اسے پکارا۔
” سارہ مجھے تم سے۔۔۔۔۔مجھے کچھ۔۔۔۔مم” وہ اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے ہی سارہ نے اسکی بات کاٹی تھی۔
” داؤد پلیز مجھ سے کچھ نہیں کہنا اب، بہت مشکلوں سے خود کو سنھبالا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔اور تمھے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس میں تمہاری تو کوئی غلطی نہیں ہے نا۔۔۔۔۔۔۔ بس قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا ” وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ داؤد نے ایک نظر سارہ کی پشت کو دیکھا اور پھر مڑ کر مہر کے کمرے کی طرف ایک نظر ڈالی۔
*********************
دیر رات کو رخسانہ بیگم مہر کے کمرے میں گئی تھیں۔ مہر کتنی ہی دیر ان کے گود میں سر رکھے روتی رہی تھی۔ انھوں نے اسے بتایا کہ سب تمہارے اور داؤد کے نکاح کیلئے مان گئے ہیں۔ لیکن مہر نے انکو صاف صاف انکار کردیا تھا کہ داؤد سے صرف سارہ نے محبت کی ہے اور وہ اسی کے رہیں گے وہ کبھی بھی داؤد کیلئے نہیں مانے گی۔ رخسانہ بیگم بھی مایوس ہوکر جب نیچے آئیں تو کچن کی لائٹ اون دیکھی تو وہ اسی جانب بڑھ گئیں۔ اندر کچن میں داؤد کھڑا کافی بنا رہا تھا۔
” ارے داؤد تم کیوں بنا رہے ہو، لاؤ میں بنا دیتی ہوں ” انھوں آگے بڑھ کر اس سے کپ لیا۔ داؤد نے بھی انکار نہیں کیا اور وہیں کچن شیلف سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
” آپ ابھی تک جگ رہی ہیں ” داؤد نے پوچھا۔
” ہاں وہ مہر کے پاس تھی وہیں ٹائم کا پتا نہیں چلا ” داؤد کو ان کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آرہی تھی۔
” آپ کو میرے اور مہر کے نکاح والی بات بری تو نہیں لگی ” داؤد نے انکی پریشانی کا باعث یہ ہی لگا کہ شاید وہ اپنے بھائی کے بیٹے سے مہر کو بیاہ نا چاہیں۔
” نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ” انھوں نے اسے مطمئن کرنا چاہا۔
” آپ کے بھائی کے بیٹے سے بات طہ تھی آپ پریشان بھی دکھ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔تو مجھے لگا “
” ارے نہیں تم نے کیوں ایسے سوچا۔۔۔۔ علی سے بڑھ کر ہو تم میرے لئے۔۔۔۔۔۔۔ میں اس لئے نہیں پریشان۔۔۔۔ وہ تو مہر کی وجہ سے ہوں، بیٹا وہ تم سے نکاح کیلئے مان ہی نہیں رہی، ضد لگا کہ بیٹھی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے تو اس لڑکی کی کچھ سمجھ نہیں آتی ” انھوں نے تیار کافی کا کپ داؤد کو پکڑایا۔ ان کی بات پر شدید غصے کی لہر داؤد کی اندر اٹھی تھی۔ لیکن اپنے غصے کو ضبط کیے داؤد نے انھیں کہا کہ وہ فکر نہیں کریں اور جا کر سوجائیں۔
*********************
وہ اپنا فون چارجنگ پر لگا رہی تھی۔ جب داؤد اسکے کمرے میں آیا۔ اپنے کمرے میں رات کے اس وقت داؤد کو دیکھ کر وہ تھوڑا گھبرا گئی۔
” آ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں ” مہر نے بلند آواز میں کہا تھا البتہ دل اندر سے سہما ہوا تھا۔
” میں نے سنا ہے تم مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ” داؤد نے دانت پیستے ہوئے استفسار کیا۔
” جج۔۔۔۔۔۔جی بالکل ٹھیک سنا ہے ” مہر نے سینے پر ہاتھ باندھے اور خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے جواب دیا۔ داؤد کو اسکی ہٹ دھرمی پر طیش آیا تھا لیکن اسے اس وقت غصے سے نہیں دماغ سے کام لینا تھا۔
” تو تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی؟” داؤد اب پہلے سے پر سکون اپنے ازلی انداز میں سینے ہر ہاتھ باندھے اس سے پوچھ رہا تھا۔
“نہیں !!! ” مہر نے ہمت کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں ایک بار پھر انکار کیا۔
” تو ٹھیک ہے !! آج کی رات اس گھر میں تمہاری آخری رات ہوگی اس کے بعد کبھی بھی تم کسی بھی گھر والے کو نا دیکھ سکو گی نا مل سکو گی۔۔۔۔۔۔اس کے بعد سے مہر سکندر صرف داؤد ابراہیم کی قید میں رہے گی۔ یہاں سے بہت دور سب سے دور۔۔۔۔۔۔ ” وہ جتنے آرام سے یہ بات کہہ رہا تھا مہر اتنی ہی بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھے جا رہی تھی۔
” ایک دھمکی تم نے مجھے دی تھی کہ اگر میں سارہ سے نکاح نہیں کروں گا تو تم سب کو چھوڑ کر چلی جاؤ گی اور آج ایک دھمکی میں تمھے دے رہا ہوں اور میری دھمکی محض دھمکی نہیں ہوگی۔ اور میرا یقین کرو میں جو کہتا ہوں وہ کر گزرتا ہوں”۔ آخری الفاظ داؤد نے جھک کر اسکی پھیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہے تھے۔
” آ آپ یہ۔۔۔۔۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ” خوف کے مارے مہر کی آواز کپکپا گئی۔
” جیسا تم کرتی آئی ہو میرے ساتھ اور ابھی بھی کررہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاس دو منٹ ہیں اپنا فیصلہ سنا دو مجھے۔۔۔۔۔۔چپ چاپ نکاح کیلئے مانو گی یا یہاں سب سے دور جاکر تو ویسے بھی تمہارے پاس کوئی آپشن نہیں ہوگا سوائے نکاح کے ” مہر کو آج سے پہلے کوئی اتنا بے رحم نہیں لگا تھا۔
” آئی ایم ویٹینگ ” داؤد نے اسے سوچوں میں گھم دیکھ کر دوبارہ کہا۔
” ٹھیک ہے ! میں تیار ہوں ” وہ سر جھکائے آنسو بہاتی بولی۔
*********************
