280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 18)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

علی اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔ داؤد بھی گاڑی کے پاس ہی کھڑا تھا جب مہر اندر سب کو بتا کر آئی کہ وہ لوگ آئسکریم کھانے جا رہے ہیں۔ مہر جیسے ہی فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول کر گاڑی میں بیٹھنے والی تھی داؤد نے اس سے پہلے ہی ڈور کھول کر آگے علی کے ساتھ بیٹھ چکا تھا۔ مہر منہ کھولے دیکھ رہی تھی کے یہ کیا تھا۔ مہر نے منہ بنایا اور پیچھے بیٹھ گئی۔

***********************

جب سے علی پاکستان آیا تھا تب سے مہر گھر میں بہت کم دیکھتی تھی۔ علی کے ساتھ گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ وہ اکثر ان کے گھر بھی پائی جاتی تھی۔ آج صبح اسے سارہ کی کال بھی آئی تھی جو شکوہ کر رہی تھی کہ جب سے اس کے ماموں وغیرہ آئے ہیں وہ بے مروت اسے پوچھتی بھی نہیں اور حمزہ بھائی کی شادی کے دن کم ہیں تو وہ اس کے ساتھ اب شاپنگ ہر چلے اور شادی کی تیاریوں میں مدد بھی کروائے۔ اس لیے مہر نے سارہ کے ساتھ جانے کی حامی بھی بھر لی تھی۔

مہر اس وقت اپنے کمرے میں کھڑی تیار ہو رہی تھی جب اسکا فون رنگ ہوا۔

” ہیے سنو وائٹ کیا پلان ہے آج کا ” علی کی آواز فون کی دوسری طرف سے ابھری جب مہر نے فون اٹھایا۔

” سوری علی آج کا کوئی پلان نہیں، میں سارہ کے ساتھ شاپنگ پر جا رہی ہوں ” مہر ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے دوسرے ہاتھ سے دوپٹہ اٹھا کر اوڑھتے ہوئے بولی۔

” سارہ وہ ہی نا تمہاری پھوپھو کی بیٹی ” علی نے پوچھا۔

” ہاں وہ ہی “

” اچھا تو یار میں کیا کروں گا آج کے دن؟”

” بھئی اتنے دوست ہیں تمہارے پاکستان کسی کے ساتھ بھی جاؤ “

” ملا تو تھا ان سے اور سب کام بھی کرتے ہیں میری طرح چھٹیوں میں پاکستان نہیں آئے ہوئے “

” اچھا تو پھر تم بھی چلو ہمارے ساتھ “

” ہاں یہ بھی ٹھیک ہے چلو میں پھر پک کرنے آرہا ہوں تمھے “

” ہاں اوکے ! ” مہر ے کہہ کر فون بند کیا اور آئینے کے سامنے کھڑی آخری نگاہ اپنی تیاری پر ڈالی اور کمرے سے نکل گئی۔

**********************

اسلام آباد کے مشہور گیگا مال میں اس وقت تینوں ایک ڈیزائنر بوتیک پر کھڑے تھے۔ مہر اور سارہ کام والے جوڑے دیکھ رہی تھیں اور علی ان کے پیچھے کھڑا فون میں گیم کھیل رہا تھا۔ اسی وقت سارہ نے پیچھے کھڑے علی کو گھور کر دیکھا تھا وہ لڑکا اسے ذرا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ علی نے بھی خود پر نظروں کی تپش محسوس کی تو سارہ کو گھورتے پایا۔ علی نے ہلکی سے سمائل پاس کی تو سارہ نے آنکھیں گھما کر رخ موڑ لیا۔ علی کو وہ عجیب لگی تھی۔

” کیا ضرورت تھی اسے ساتھ لانے کی؟” سارہ نے مہر کو دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھا۔

” کیوں کیا ہوا ؟” مہر نے الٹا سوال دغا۔

“مہر !!!” سارہ نے اسکا نام لے کر تنبیہ کی کے جو پوچھا ہے اسکا جواب دو بس۔

” یار بیچارہ بور ہو رہا تھا تو میں نے کہا ہمارے ساتھ آجاؤ ” مہر نے کندھے جھٹک کر کہا۔

سارہ نے گھور کر مہر کو دیکھا اور پھر سامنے لڑکی کی طرف متوجہ ہوگئی جو اسے سوٹ کھول کر دیکھا رہی تھی۔

*********************

داؤد آفس سے جب سے لوٹا تھا اسکی آنکھیں مہر کو ہی تلاش کر رہی تھیں۔ دو دن سے داؤد نے اسے دیکھا نہیں تھا اور تب سے وہ بے چین تھا۔ رات کا کھانا کھایا جا رہا تھا اور مہر نہیں تھی وہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ بھی نہیں پا رہا تھا۔ ابھی وہ اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ سکندر صاحب نے مہر کا پوچھا۔

” مہر نہیں آئی ابھی تک؟”

” جی کال کی تھی میں نے کہہ رہی تھی ماموں ممانی نے روک رکھا ہے کے رات کا کھانا کھا کر جانا اسی لئے وہیں ہیں علی چھوڑ جائے گا ” رخسانہ بیگم نے جواب دیا تو سکندر صاحب نے اثبات میں سر کو خم دیا۔ جبکہ علی کا سن کر داؤد کا خلق تک کڑوا ہو گیا۔

” شام کو عالیہ کی بھی کال آئی تھی وہ بھی کہہ رہی تھی موسیٰ بہت ضد کرتا ہے مہر سے ملنے کیلئے لیکن مہر بس اپنے ماموں وغیرہ کے آتے ہی سب کو بھول گئی ہے” آمنہ بیگم نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا۔

” ہاں بھئی جب سے منصور آیا ہے پاکستان مہر تو وہیں پائی جاتی ہے، بس روز ناشتہ کرتی ہے اور علی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔۔۔۔۔ کل رات کو بھی مجھے بتا رہی تھی کہ دادو آج میں اور علی یہاں گئے پھر وہاں گئے گھومنے پھر ہم نے یہ کیا وہ کیا “

حفصہ بیگم نے بتایا تو داؤد کو بے تحاشہ غصہ آیا تھا اور وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

” میں ذرا تھک گیا ہوں آج اب ریسٹ کروں گا ” سب کو کہہ کر وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

*********************

اپنے کمرے میں آکر داؤد غصے میں وہاں سے یہاں ٹہلنے لگا۔ اسے مہر کا علی کے ساتھ یوں ہر وقت ساتھ رہنا بالکل پسند نہیں آرہا تھا۔ اس نے سامنے وال کلاک دیکھی جو رات کے ساڑھے دس بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ وہ واشروم کی طرف جاتا اس سے پہلے اسکا فون بجنے لگا۔ داؤد نے سائڈ ٹیبل پر سے فون اٹھایا تو سارہ کا نام سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ سارہ کا نام دیکھ کر داؤد نے سوچا اسے دادو سے بات کرنی ہوگی۔ ادھر سارہ کا فون بجتا چلے جا رہا تھا لیکن داؤد اپنی ہی سوچوں میں گھم تھا۔ فون بجنا بند ہو چکا تھا اور داؤد اسے ہاتھوں میں لیے کتنی ہی دیر کھڑا رہا۔

***********************

سارہ نے فون بند کیا تو اپنے کمرے کی کھڑکی پر آکر کھڑی ہو گئی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ داؤد کو کال رہی تھی اور اس نے اٹھایا نہیں تھا۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔

” میں بھی پاگل ہوں۔۔۔۔ہوسکتا ہے داؤد کا فون روم میں ہو اور وہ نیچے سب کے ساتھ ہوگا۔۔۔۔ہاں ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔وہ جب فون دیکھے گا تو مجھے کال بیک ضرور کرے گا”

سارہ نے خود کو تسلی دی تھی اور مسکرا کے فون واپس اپنی رائٹنگ ٹیبل پر رکھا اسے یقین تھا وہ اسے کال بیک ضرور کرے گا۔

*********************

داؤد اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا باہر مین گیٹ کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ گھڑی بارہ کا ہندسہ کراس کر چکی تھی اور مہر ابھی تک واپس نہیں آئی تھی۔ داؤد نے اپنے ٹراؤزر کی جیب سے فون نکلا اور مہر کے نمبر پر کال کی لیکن مہر کا نمبر اوف جارہا تھا۔ داؤد بے چین نظر آرہا تھا پتا نہیں اسکے دل نے ٹھان لی تھی کہ جب تک وہ آج مہر کو دیکھ نہیں لے گا اسے سکون نہیں ملے گا۔ داؤد اب بار بار مہر کا نمبر ٹرائے کررہا تھا لیکن دوسری طرف فون بند ہی جارہا تھا۔ داؤد کے ذہن میں اس دن والا واقع لہرایا جب مہر کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا تھا۔ داؤد کو اب صیح معنوں میں پریشانی نے آن گھیرا تھا۔ اسے لگ رہا تھا شاید ایسا کچھ دوبارہ نا ہوگیا ہو۔ ایسے بہت سے منتشر خیال داؤد کے ذہن میں آرہے تھے جن سے اسکی پریشانی بڑھتی چلی جارہی تھی۔ ایک بار پھر مہر کا نمبر ٹرائے کیا تو ابھی بھی بند تھا۔ داؤد نے سوچا چاچی سے جا کر علی کا نمبر لے کر اسے کال کرکے پوچھے۔

” ہاں یہ صحیح رہے گا ” داؤد جلدی سے بالکونی سے نکلا تھا کہ گاڑی کے ہارن کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ داؤد واپس بالکونی میں آیا تو نیچے گیٹ پر علی کی گاڑی اندر آرہی تھی پھر علی باہر نکلا اور مہر کی سائڈ پر آکر اسکا ڈور کھولا تو مہر مسکراتے ہوئے باہر نکلی۔ اب دونوں گاڑی کے پاس کھڑے باتیں کرنے لگے۔ دونوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔ داؤد اوپر سے انھی دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ مہر نے ہنستے ہوئے علی کے سینے پر ہاتھ رکھا تو داؤد کی برداشت ختم ہوئی اس نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔ پھر وہ وہاں روکا نہیں اپنے کمرے میں آیا اور اپنا فون غصے سے بیڈ پر پھینکا۔ اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ رکھیں تھیں اور دانت پیستے ہوئے وہ چہرہ اوپر کی طرف اٹھائے اپنا غصہ ضبط کرنے لگا۔

کچھ لمحے بعد داؤد کمرے سے نکلا اور نیچے ہی جانے لگا تھا کہ مہر سامنے سڑھیاں چڑھتے ہوئے آرہی تھی۔ داؤد ایسے ہی کھڑا تھا یہاں تک کہ مہر ایک سیڑھی نیچے کھڑی اس کے پاس آ چکی تھی۔ مہر نے داؤد کو ہٹتے نا دیکھا تو پاس سے گزرنے لگی کہ داؤد پھر سے آگے آگیا۔ اسی طرح وہ دوسری سائیڈ سے گزرنے لگی تو داؤد نے پھر وہ ہی کیا۔ مہر نے اب آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔

” انھیں کیا ہوا ہے ” مہر نے داؤد کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

” راستہ دیں ” مہر نے دھیمی آواز میں کہا تو داؤد نے اسکی کلائی تھامی اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔

” یہ کیا۔۔۔۔۔۔کیا کررہے ہیں آپ؟۔۔۔۔۔۔۔چھوڑیں میرا ہاتھ ” مہر نے اس کے ہاتھ کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا لیکن بے سود۔

داؤد اسے اوپر ٹیرس پر لے آیا اور لا کر ایک دم اسے جھٹکے سے چھوڑا تھا۔

” یہ کیا بدتمیزی ہے ؟” مہر اپنی کلائی سہلاتے ہوئے چیخی تھی۔

” کہاں تھی اتنی دیر تک؟ تمہیں پتا بھی ہے وقت کیا ہو رہا ہے ؟ تمہارا فون کیوں اوف جا رہا تھا ہاں ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کی میں کتنا پریشان تھا ” داؤد مہر کو شانوں سے تھامے پوچھ رہا تھا۔

” Answer me damn it “

داؤد نے اسکے کوئی جواب نا دینے پر اب کی بار تیز آواز میں غرا کر کہا تھا۔ اس کے ایسے چلانے پر مہر کو طیش آیا تھا۔

” آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے یہ سب پوچھنے والے ؟؟چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔” مہر خود کو چھوڑوانہ چاہا لیکن داؤد کی گرفت مضبوط تھی۔

” میرا فون اوف تھا کیونکہ اسکی بیٹری ختم تھی۔۔اور آپکے باقی سوالوں کا جواب میں آپکو دینا ضروری نہیں سمجھتی ” مہر نے ابکی بار تحمل سے جواب دیا۔

” مہر سکندر !!! تم سارے سوالوں کے جواب دوگی وہ بھی مجھے۔۔۔۔۔ابھی اسی وقت۔۔۔۔۔۔۔” داؤد نے چبا چبا کر کہا تھا۔

” کیوں دوں آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے پوچھنے والے؟” مہر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے داؤد کو دھکا دیا تھا جس سے داؤد تھوڑا سا پیچھے ہٹا تھا۔

” آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟؟؟ کیوں بتاؤں میں آپکو کے میں کہاں تھی؟ کیوں پریشاں تھے آپ میرے لیے ہاں ؟ ” مہر تیز آواز میں چلا رہی تھی۔ داؤد پھر سے غصے میں آگے بڑھا تھا اور مہر کو اس کے کندھوں سے تھما تھا۔ مہر کی آنکھوں میں اپنی غصے سے لال انگارا آنکھوں سے دیکھا۔ ایک لمحے کیلئے دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے بنا پلکیں جھپکائے۔

“بتائیں نا کیوں پریشان تھے آپ میرے لئے ؟” مہر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھا۔

” کیونکہ i love you damn itttt ” داؤد نے ایسے ہی چلا کر کہا تو مہر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔ داؤد نے مہر کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا اور اس سے رخ مڑ کر وہاں سے چلا گیا۔

پیچھے مہر ایسے ہی حیران کھڑی تھی پھر دفعتاً اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان نمودار ہوئی۔ وہ جلدی سے داؤد کے پیچھے نیچے گئی اور داؤد کے کمرے کے باہر کھڑی وہ اندر جانے لگی تھی کے اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ مہر نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر اسے قابو کرنا چاہا۔ تھوڑی دیر میں وہ خود کو سنبھال کر اندر داخل ہوئی لیکن وہ کمرے میں نہیں تھا پھر وہ کمرے کی بالکونی کی جانب گئی وہ وہاں بھی نہیں تھا۔

مہر نے وہاں سے نیچے لان میں جھانکا تو ساتھ ڈرائیو وے پر اس کی گاڑی نہیں تھی۔ تو وہ گھر سے باہر چلا گیا تھا کیا مہر نے مایوسی سے سوچا اور وہاں سے نکل کر اپنے روم میں آگئی۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *