280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 19)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

مہر اپنے کمرے میں آکر کتنی ہی دیر اس پل کے حصار میں قید رہی تھی۔ بار بار ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو جاتی۔ دفعتاً اسے وہ رات یاد آئی جب وہ اس کے اتنے قریب تھا اور وہ الفاظ جو اس نے کہے تھے۔ تب مہر سمجھ نہیں پائی کے وہ کیا بات کررہا ہے لیکن آج دل و دماغ نے اس طرح سے سوچنا شروع کیا تو اسے سمجھ آنے لگا۔ انھی سوچوں میں گم تھی جب مہر کا فون بجا۔ بیا اور انعم کی کانفرنس کال دیکھ کر مہر نے فوراً کال پک کی۔ اب مہر کمرے میں ٹہلتے ہوئے ان سے باتیں کرنے لگی۔

” ہائے مہر تمہارے کزن نے کیا کمال کے انداز میں اظہارِ محبت کیا ہے ” انعم کے کہنے پر مہر بلش کر گئی۔

” مہر !! اسکا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ لیکن تمہارے دل میں کیا ہے ؟” یہ آواز بیا کی تھی۔

” میرے۔۔۔۔۔۔۔” مہر نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ بیا بول پڑی۔

” ہاں بہن تمہارے “

” مجھے کیا پتا ” مہر نے لاتعلقی ظاہر کی۔

” ارے کیا ہو لڑکی تمہیں اپنے دل کا ہی نہیں پتا ” بیا نے ڈپٹا تھا۔

” او ہو بیا اسے کیسے پتا ہوگا اس کیلئے تو نیا ہے نا سب، اسے سوچنے تو دو ” اب کی بار انعم بولی۔

” لو جی نیا کہاں ہے۔۔۔۔اسکی طرف سے بھی کچھ ہوگا ضرور تبھی تو بات یہاں تک پہنچی ہے ” بیا نے اسے چھیڑا تھا۔

” بدتمیز !!! تم مجھے ایسا ویسا سمجھتی ہو ” مہر نے تیز آواز میں کہا۔

” آہستہ بولو تمہاری آواز فون کے سپیکر سے باہر تک آرہی ہے میرا میاں سورہا ہے، جاگ جائے گا ” بیا نے آہستہ آواز میں اسے جھاڑا تھا۔

” دفع ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔میں خودی دیکھ لوں گی ” مہر نے کہہ کر فون بند کردیا اور بیڈ پے چت لیٹ کر اپنے دل کو ٹٹولنے لگی۔

” کیا اسے بھی داؤد سے ؟ اچھا تو وہ اسے لگنے لگا تھا۔ اور پچھلے کچھ دنوں سے وہ ویسے بھی اس کے خیالوں میں رہتا تھا۔ اسے دیکھ کر دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں۔ تو ان سب کا مطلب وہ ہی ہے کیا؟” مہر نے اپنے دل سے پوچھا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں اور آنکھیں بند کرتے ہی داؤد کا چہرہ اس کے ذہن کی سکرین پر نمودار ہوا تو مہر مسکرا دی۔

**********************

اگلے دن مہر گیارہ بجے کے قریب سو کے اٹھی تو جلدی سے تیار ہو کر وہ نیچے آگئی۔ حمزہ کی شادی قریب تھی اسی سلسلے میں آج آمنہ بیگم اور رخسانہ بیگم بھی بازار جا رہی تھیں۔

” مہر تم بھی چلو ساتھ ” آمنہ بیگم نے مہر کو کہا جو اپنے خیالوں میں گم سوچ رہی تھی کہ داؤد سے کیسے کہے اپنے دل کی بات۔

” مہر بیٹا ” انھوں سے اسے پھر سے آواز دی۔ اس کے کچھ نا سننے پر رخسانہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسے ہلایا تو وہ ہوش میں آئی۔

“جی کیا ہوا ” مہر نے رخسانہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” کہاں کھوئی ہو؟ بھابھی کیا پوچھ رہی ہیں “

” سوری بڑی مام میں نے سنا نہیں ” مہر نے بیچارہ سے منہ بنا کر کہا۔

” میں کہہ رہی تھی آجاؤ تم بھی ساتھ چلو ہمارے” آمنہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔

” نہیں میرا دل نہیں اور ویسے بھی دادو کے پاس بھی تو کسی کو گھر ہونا چاہیے نا۔۔۔۔ بابا بھی نہیں ہیں ” مہر نے ناجانے کا جواز دیا۔

” ہاں پھر تم فرزانہ کے ساتھ دوپہر کے کھانے کو دیکھ لینا ویسے تو تیار ہی ہے لیکن چیک کرکے دم لگا دینا ” رخسانہ بیگم کے کہنے پر مہر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

**********************

دوپہر کو سکندر صاحب جو اپنے کسی دوست سے ملنے گئے تھے واپس آگئے تھے۔ سکندر صاحب حفصہ بیگم اور مہر نے دوپہر کا کھانا ایک ساتھ کھایا تھا۔ آمنہ اور رخسانہ بیگم ابھی واپس نہیں لوٹی تھیں۔ شام کو پانچ بجے داؤد آفس سے گھر آیا تھا۔ داؤد نے جیسے ہی لاونج میں قدم رکھا نظر سامنے ہی بیٹھی مہر پر گئی جو ہاتھ میں ریموٹ پکڑے ٹی وی پر کوئی مووی لگا کر دیکھ رہی تھی۔ حفصہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں اور سکندر صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ دوپٹے سے بے نیاز پریل رنگ کے سوٹ میں مسکراتی ہوئی وہ سیدھا داؤد کے دل میں اتر رہی تھی۔ داؤد نے اونچی آواز میں سلام لیا تو مہر نے ٹی وی پر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تھا وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا۔

” وعلیکم السلام ! آگیا میرا بچا ” حفصہ بیگم نے اسے پیار دیا تو داؤد وہیں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مہر نے اپنا دوپٹہ جو پاس ہی پڑا تھا اٹھا کر اوڑھ لیا۔ داؤد کن انکھیوں سے مہر کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو اب نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

” چاچو گھر پر نہیں ہیں؟ ” داؤد نے حفصہ بیگم سے پوچھا۔

” اپنے کمرے میں ہے اور تمہاری ماں اور چاچی ذرا بازار تک گئی ہیں ” حفصہ بیگم نے جواب دیا تو داؤد سر ہلا کر اٹھ گیا۔

” دادو میرے سر میں تھوڑا درد ہے آپ پلیز کوئی پین کلر اور پانی بھجوا دیں میرے روم میں ” داؤد کہہ کر روکا نہیں تھا مہر پر ایک بھر پور نظر ڈال کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ مہر ویسے ہی بیٹھی رہی جب حفصہ بیگم نے اسے داؤد کیلئے سر درد کی گولی اور پانی لے جانے کو کہا۔

” مم۔۔۔۔میں ؟ “

” ہاں !! اور کوئی نظر آرہا ہے تجھے جسے کہوں گی، جا شاباش دے آ میرے بچے کے سر میں پتا نہیں کب سے درد ہے “

” جی دادو ” مہر سر ہلاتے ہوئے اٹھی۔

********************

مہر دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنی سوچ کے تمام دھاگے داؤد کی طرف لگائے ہوئے تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ داؤد سے کیسے بات کرے۔ انھی سوچوں میں وہ داؤد کے کمرے کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ مہر کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کہیں نہیں تھا۔ مہر نے آگے بڑھ کر پانی والی ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھ دی۔ وہ مڑی تھی کہ داؤد واشروم سے باہر نکلا۔

” وہ پپ۔۔۔۔۔۔پانی اور میڈیسن دینے آئی تھی ” مہر نے گھبرا کے کہا تھا۔

” ہممم ” داؤد نے بس اتنا ہی کہا اور وہیں کھڑا اسے دیکھتے رہا۔ مہر اب آنکھیں جھکائے داؤد سے بات کرنے کی ہمت جٹا رہی تھی۔

” مجھے آپ سے بات کرنی تھی ” ہمت کرتے ہوئے مہر نے تیزی سے کہا۔

” سن رہا ہوں ” داؤد سینے پر ہاتھ باندھے بولا۔

” وہ مم۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ وہ آ۔۔۔آپ سے۔۔۔۔۔” پتا نہیں داؤد کی خود پر نظروں سے اتنی گھبراہٹ سی تھی یا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کی کیسے بات کرے۔

“آپ نے کل جو کہا۔۔۔۔۔” مہر نے جھجھکتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔

” کیا کہا تھا میں نے؟” داؤد ایک قدم اسکی طرف بڑھا تھا۔

” وہ ہی۔۔۔۔۔۔” مہر نے اسکے اگے آنے پر اپنا ایک قدم پیچھے لیا تھا۔

” وہ ہی کیا؟؟؟” داؤد نے اپنے لبوں پر آنے والی مسکراہٹ کو دبا لیا۔

” آ۔۔۔آپ کو یاد نہیں آپ نے کیا کہا تھا؟ ” مہر آنکھیں جھکائے بولی۔

” مجھے یاد ہے میں نے جو کہا۔۔۔۔لیکن میں وہ سنانا چاہتا ہوں جو تم کہہ نہیں پارہی “

” میں !!!!! ” مہر آنکھیں پھلائے اسے دیکھنے لگی کے انھیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ کیا بات کرنا چاہتی ہے۔

” ہاں تم !!!!! ” داؤد نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔

ابھی داؤد مزید ایک قدم مہر کی طرف لیتا کے پیچھے فرزانہ کی آواز پر دونوں متوجہ ہوئے۔

” وہ داؤد بھائی دادی جی آپکو نیچے بلا رہی ہیں، چائے تیار ہے اور مہر باجی آپ بھی آجائیں “

مہر داؤد کے پاس سے تیزی سے گزرنے لگی تھی کے داؤد نے فرزانہ کو بھیجا۔

” تم جاؤ ہم آرہے ہیں ” مہر بھی وہیں تھم گئی تھی۔ داؤد دوبارہ مہر کے سامنے آیا۔

” ہم یہیں سے دوبارہ continue کریں گے ” مہر نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا لیکن اسکی محبت سے بھری آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی اور اپنی نگاہیں جھکا کر جانے لگی تھی کہ داؤد پھر گویا ہوا۔

” رات کو دس بجے ٹیرس پر میں تمھارا انتظار کروں گا “

مہر نے سر اثبات میں ہلایا اور کمرے سے نکل گئی پیچھے داؤد نے مسکراتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے میڈیسن اٹھا کر کھائی۔

*********************

منصور صاحب لیونگ روم میں موجود ایک کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے اور شگفتہ بیگم صوفے پر بیٹھیں نیچے بیٹھے علی کے سر پر تیل سے مالش کررہی تھیں۔

” علی اس بار ہم پاکستان آئیں ہیں تو سوچ رہیں ہیں تماری شادی کردیں ” شگفتہ بیگم نے پیار سے اپنے بیٹے کو مخاطب کیا۔

” شکر ہے آپکو خیال تو آیا ” علی کے کہنے پر منصور صاحب اخبار پڑھتے ہوئے ہنسے تھے۔

” بد معاش ” شگفتہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر تھپکی لگائی۔

” تمھے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتاؤ ورنہ ہم اپنی پسند کی لے آئیں ” شگفتہ بیگم مزید گویا ہوئیں۔

” آپ جو بھی لائیں گی میں سر کو خم دے کر چپ چاپ فرمادار بیٹے کی طرح کرلوں گا ” وہ آنکھیں بند کیے مسکرا رہا تھا۔

” اچھا تو پھر مہر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟”

” سنو وائٹ ؟؟” علی نے اپنی بند آنکھیں کھول دیں۔

” ہاں بھئی تمہاری سنو وائٹ “

” لیکن مام میں نے کبھی اس کے بارے میں ایسا سوچا نہیں “

” ہاں تو کیا ہوا اب سوچ لو “

” لیکن “

” لیکن ویکن کچھ نہیں، تمہارے بابا کو اور مجھے مہر پسند ہے تم ہاں کرو تو تمہارا رشتے کی بات کریں۔۔۔۔۔اگر مہر نہیں تو کوئی اور ڈھونڈ لیں گے “

” اچھا ٹھیک ہے جیسے آپ لوگ بہتر سمجھیں ” اس کی ہاں پر شگفتہ بیگم نہال ہوئیں۔

*********************

رات کا کھانا کھانے کے بعد مہر حفصہ بیگم کے کمرے میں موجود تھی۔ وہ انکی الماری ٹھیک کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ ان سے باتیں بھی کر رہی تھی۔ حفصہ بیگم اپنے بیڈ پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھیں۔

” مہر میری شہزادی میں سوچ رہی تھی تیری شادی کے بعد کون میرا ایسے خیال رکھا کرے گا ” حفصہ بیگم محبت سے کہنے لگیں۔

” تو آپ میری شادی نا کرنا “

” چل پگلی ایسے تھوڑی ہوتا ہے “

” اب آپکو کوئی چاہیے میرے جانے کے بعد تو پھر یہ ہی ایک حل ہے “

” تم اپنے گھر کی ہو جاؤ گی تو کوئی نہیں میرے داؤد کی دلہن میرا خیال کر لیا کرے گی “

داؤد کے نام سے مہر کی دل کی دھڑکن بڑھ گئی اس نے فوراً گھڑی پر نظر ڈالی ابھی وقت تھا۔ پھر مسکراتے ہوئے دادو کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

” اگر ان کی دلہن میرے جیسا خیال نا رکھ پائی تو؟ ” مہر نے پوچھا۔

” کیوں نہیں میری سارہ تمہارے جتنا ہی خیال رکھے گی میرا “

” سارہ ؟؟؟ “

” ہاں سارہ ! تجھے بتایا نہیں تھا پہلے کیونکہ ابھی صرف بات پکی کی تھی “

” بات پکی کس کی دادو؟ “

” ارے !! سارہ اور داؤد کی شادی۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ان کے کہنے پر مہر کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔ وہ بے یقینی سے حفصہ بیگم کو دیکھے گئی۔

” داؤد نے ہاں تو کردی ہے سارہ کیلئے لیکن وہ ابھی شادی کرنا نہیں چاہتا لیکن اب اسے منانا پڑے گا کیونکہ جنید چاہتا ہے کے نکاح کردیں ابھی رخصتی اگلے سال یا جب داؤد کہے گا ” وہ مزید بتا رہی تھیں لیکن مہر کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔

” دادو !!! مم۔۔۔۔۔میں جاؤں ؟ ” مہر میں مزید سننے کی سکت نا رہی تو ان سے جانے کی اجازت طلب کی۔ حفصہ بیگم نے اس کے ماتھے پر پیار کیا تو مہر تیزی سے ان کے کمرے سے نکل گئی۔

**********************

داؤد چھت پر کھڑا کب سے مہر کا انتظار کر رہا تھا اور وہ تھی کی آہی نہیں رہی تھی۔ ساڑھے دس ہو چکے تھے۔

داؤد اب ٹہلنے لگا۔ اس نے سوچ لیا تھا وہ آج مہر سے بات کرنے کے بعد دادو سے مہر کیلئے بات کرے گا۔ سارہ کو دکھ ہوگا وہ جانتا تھا لیکن وہ اب مہر کے علاوہ کسی کو نہیں سوچ سکتا تھا۔ کتنی ہی دیر وہ مزید وہاں مہر کا انتظار کرتا رہا۔ داؤد نے کلائی میں بندھی گھڑی کو دیکھا جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی۔ داؤد کو اب غصہ آنے لگا تھا۔ وہ مہر کو دیکھنے کیلئے چھت سے نیچے جانے لگا۔ ابھی وہ نیچے آیا تھا کہ مہر سامنے سڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھی۔ داؤد جلدی سے اس کے سامنے گیا۔

” میں کب سے تمہارا انتظار کررہا ہوں ” داؤد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ مہر اس کے ایک دم سامنے آنے سے ڈر گئی تھی۔ بنا کوئی جواب دیے وہ داؤد کے پاس سے گزرنے لگی تھی کہ داؤد پھر سے اس کے سامنے آیا۔

” تم نے کچھ بات کرنی تھی مجھ سے ” داؤد کو وہ کچھ الگ لگ رہی تھی۔

” کرنی تھی لیکن اب نہیں ” مہر نے آنکھوں میں برہمی لیے اسے کہا۔

” اب مجھے راستہ دیں گے پلیز ” مہر کو اب کوفت ہونے لگی تھی۔ داؤد نے اسکا ہاتھ تھما اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ چھت پر لا کر داؤد نے اسے چھوڑا تھا۔

” آ۔۔۔۔۔۔آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں ” مہر نے چلا کر کہا تھا۔ داؤد کو اسکا یہ رویہ عجیب لگا تھا۔

” مہر کیا ہوا ہے تمھے ” داؤد نے اب نرمی سے اسے پوچھا۔

” کیا ہوا ہے ؟؟؟ ” مہر نے داؤد کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکا دیا تھا۔

” آپ۔۔۔۔۔آپکی ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسا کرنے کی” مہر نے غرا کے کہا تھا۔

” آپ نے سارہ۔۔۔۔۔۔سارہ سے شادی کیلئے ہاں کی تو وہ سب۔۔۔۔۔۔۔میرے اتنے قریب کیوں آئے ؟؟ ” مہر کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔

” کیوں کیا ایسا۔۔۔۔۔ کیا تھا وہ سب۔۔۔۔۔۔ کیا تھا وہ جو مجھے کل رات کہا ” مہر نے پھر سے داؤد کو دھکا دیا تھا۔

داؤد بھی اب تیش میں آئے تھا۔

” انففففف !!!!! ” داؤد نے اونچی آواز میں کہا اور مہر کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے قابو کرنا چاہا۔ لیکن مہر روتے ہوئے خود کو داؤد سے دور کرنے لگی۔

” مہر !!! Listen to me ” داؤد نے اسے سمجھنا چاہا۔

“نن ۔۔۔۔۔۔نہیں سنوں گی آپ بہت برے ہیں ” مہر روتے ہوئے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروا رہی تھی۔

” I said listen to me “

داؤد نے اب اس کے ہاتھ چھوڑے تھے اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کی پیالے میں لیا۔ مہر اب بنا کسی مزاحمت کیے داؤد کو دیکھنے لگی۔

” مہر سارہ سے شادی کیلئے جب میں نے ہاں کی تھی تب مجھے تم سے محبت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ محبت اس کے بعد میرے دل میں آ بسی تھی۔۔۔۔۔۔۔اور سارہ کیلئے بس ہاں کی ہے میرا کوئی رشتہ نہیں بنا اس کے ساتھ۔۔۔۔۔میں دادو سے خود بات کرکے انکار کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں تمہارے دل کی بات جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا تم بھی میرے لیے وہ ہی محسوس کرتی کو جو میں تمہارے لیے کرتا ہوں۔۔۔۔” داؤد اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

مہر نے ہچکی لی تھی لیکن آنکھوں سے آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے۔ داؤد نے اس کے آنسو اپنے انگلیوں کے پوروں سے صاف کیے۔

” میں سب ٹھیک کر دوں گا ” داؤد کے کہنے پر مہر نے اثبات میںں سر ہلایا۔

*********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *