Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 13)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
دن کا اجالا رات کی تاریکی کو ختم کر گیا تھا۔ رات سے رکی زندگی بھر سے رواں دواں تھی غازی ہاؤس کے مکین بھی دن کا آغاز کر چکے تھے۔ داؤد اور سکندر صاحب آفس جا چکے تھے۔ آمنہ اور رخسانہ بیگم حفصہ بیگم کے ساتھ لاونج میں موجود تھیں۔
“اماں میں سوچ رہی تھی ابھی نکاح کر دیتے ہیں پھر رخصتی جب داؤد چاہے کا تب کر دیں گے” آمنہ بیگم نے حفصہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ابھی اتنی جلدی نا کرو بہو، نہیں تو وہ جو مانا ہے پھر سے انکار کردے گا ابھی یہ ہی بہت ہے کہ وہ سارہ کے لیے راضی ہے” رخسانہ بیگم نے اماں کی بات پر اتفاق کرتے ہوئے ہاں کہا تو آمنہ بیگم بھی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“میں زرا مہر کو اٹھا دوں بیا کب سے کال کر رہی ہے” رخسانہ بیگم کہتے ہوئے صوفے سے اٹھیں۔
“سکندر بھائی صاحب جائیں گے آج پھر ساتھ؟” آمنہ بیگم نے رخسانہ سے پوچھا۔
“جی بھابھی بیا کی امی خود کارڈ دینے آہیں تھیں اور سکندر کی سلام دعا بھی ہے اس کے ابو کے ساتھ تو جانا تو پڑے گا نا” رخسانہ بیگم نے ان کو جواز دیا۔
“ہاں اچھی بات ہے مہر کی بچپن کی سہیلی ہے یہاں آتی رہی ہے تم دونوں ضرور جاؤ بچی کو دعا دو” حفصہ بیگم نے تسبیح پھیرتے ہوئے کہا تھا۔
******************
رخسانہ بیگم مہر کے کمرے میں داخل ہوئیں تو کمرے کی حالت دیکھ کر انہوں نے اپنا ماتھا پیٹا۔ سارا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔ کل رات مہندی سے آ کر وہ اتنا تھک گئی تھی کے بس کپڑے بدل کر سوگئی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر سارا میک اپ جیولری ایسی ہی بکھری پڑی تھی۔ کپڑے اسی طرح ہینگ ہوئے الماری کے باہر ہینڈل پر لٹکے تھے۔ یہ نہیں تھا کے وہ ایک پھوہڑ لڑکی تھی اپنا کمرہ وہ ہمیشہ ہی سیٹ رکھتی تھی لیکن جب کبھی وہ تھکی ہو تو اسی طرح کرتی تھی یا یہ کہنا بہتر ہے اس کیلئے اسکی نیند اور آرام سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔
“اوف اتنا نہیں کیا کے الماری کے اندر ہی ہینگ کر دیتی کپڑوں کو” رخسانہ بیگم نے اسکا کمرہ سمیٹنا شروع کر دیا۔
“مہر اٹھو بیا کی کال آرہی ہے تم نے اس کے ساتھ پارلر نہیں جانا”
“ٹائم کیا ہوا ہے” نیند میں ڈوبی آواز میں اس نے اپنی ماں سے پوچھا۔
“بارہ بج گئے ہیں بیا تمہیں صبح سے کال کر رہی ہے تم نے اپنا فون نہیں اٹھایا تو اس نے لینڈ لائن پر کال کی اور مجھ سے کہا کی تمہیں اٹھا دوں”
مہر اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ہاتھوں میں فون لیا تو پچاس مسڈ کال دیکھ کر اسکی نیند پل میں غائب ہوئی۔
“اماں میرے کپڑے نکال دیں” وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور واشروم میں بند ہو گئی۔ رخسانہ بیگم جو اسکا ڈریسنگ ٹیبل سے سامان اٹھا رہیں تھیں نفی میں سر ہلا دیا(پتا نہیں کب بڑی ہوگی یہ)۔
******************
داؤد اپنے آفس میں بیٹھا میز پر رکھی فائل پڑھ رہا تھا۔ وہ سخت جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔ مہر کا خیال بار بار آرہا تھا۔ اسکا وہ حسین چہرہ اور جس ادا سے وہ پوچھ رہی تھی کے وہ کیسی لگ رہی ہے یہ سب کل سے ہی اس کے ذہن میں چل رہا تھا۔
داؤد کو سخت کوفت ہوئی تو زور سے فائل بند کرکے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ لیکن آنکھیں بند کرتے ہی پھر سے مہر۔
“داؤد ابراہیم کیا ہو گیا ہے تمہیں کم ان کونسنٹریٹ،
ایک لڑکی یوں اس طرح سے میرے حواسوں پر سوار نہیں ہو سکتی” داؤد نے خود سے کہا۔
“مجھے آج جلدی گھر چلے جانا چاہیے۔۔۔۔۔تھوڑا ریسٹ کروں گا i will feel better”
اپنی کرسی سے اٹھ کر پیچھے ہینگ کوٹ اتارا اور پھر میز پر سے موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھائیں۔
روم کا ڈور کھول کر جیسے ہی وہ باہر نکلا اس کے روم میں آتی سارہ سے ٹکرا گیا۔
“او آئم سوری” سارہ نے مدہم پیاری مسکان لیے داؤد سے کہا۔
“تمہیں لگی تو نہیں” داؤد نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جو آج گلابی رنگ کا سوٹ پہننے بالکل ایک کھلا گلاب ہی دیکھ رہی تھی۔
“میں ٹھیک ہوں، تم کہیں جا رہے تھے؟” سارہ نے مسکراتی آنکھوں سے داؤد کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
“ہاں !۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ضروری کام تھا بس اسی لیے جا رہا ہوں” داؤد خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ سارہ سے جھوٹ کیوں بول رہا ہے۔ اس لیے سارہ سے نظریں چُرا کر کہا۔
سارہ نے اثبات میں سر ہلایا تو داؤد وہاں سے نکل گیا۔ جبکہ سارہ اسکی پشت کو دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا پھر پلٹ کر داؤد کے روم میں گئی۔ اندر آ کر سارہ نے ایک گہری سانس لی۔ داؤد کے پرفیوم کی خوشبو ہر سو پھیلی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کی کرسی کے پیچھے جا کر کھڑی ہوگئی اور کرسی پر اپنا ہاتھ پھیرا جب سے اسے پتا چلا تھا کے داؤد نے اس سے شادی کیلئے ہاں کردی ہے تب سے سارہ کے پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ اسکا دل چاہتا تھا سب سے چلا چلا کر کہے کہ داؤد ابراہیم صرف سارہ جنید کا ہے۔
*********************
شام کے سات بج رہے تھے جب داؤد کی گاڑی ڈرائیو وے پر آکے روکی۔ آفس سے وہ چار بجے کا نکل گیا تھا لیکن پھر وہ عالیہ کی طرف چلا گیا تھا سوچا وہاں تھوڑا ٹائم گزارے گا تو ہوسکتا ہے اسکی سوچوں کا مرکز بدلے۔ گاڑی سے نکل کر وہ اندر جانے لگا۔ لاونج میں سکندر صاحب بیا کی بارات پر جانے کیلئے بالکل تیار کھڑے تھے ساتھ صوفے پر حفصہ بیگم بیٹھیں فرزانہ سے اپنے پاؤں دبوا رہی تھیں۔ آمنہ بیگم کچن میں تھیں اور رخسانہ بیگم اپنے کمرے سے ابھی تیار ہو کر نہیں نکلی تھیں۔ داؤد نے سلام لے کر اپنی دادو کے آگے جھک ان سے پیار لیا۔ پھر وہ سکندر صاحب سے مخاطب ہوا۔
“آپ کہیں جا رہے ہیں چاچو؟”
“ہاں وہ مہر کی دوست کی شادی ہے نا ادھر ہی جا رہے میں اور رخسانہ” داؤد نے سر ہلایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
اوپر آکر داؤد اپنے کمرے کی طرف جا ہی رہا تھا کے وہ ایک دم تھم گیا۔ سامنے کا منظر ہی کچھ ایسا تھا کہ داؤد یک ٹک دیکھے گیا۔
مہر مہرون رنگ کا گھٹنوں سے اوپر آتا ایمبرائیڈڈ فراک نیچے مہرون کھلے پانچوں والا ٹراؤزر اور مہرون رنگ کا دوپٹہ پیچھے کمر سے گزار کر دونوں بازؤں پر ڈالا تھا۔ بالوں کو کرلز کیے ایک طرف کیا ہوا تھا اور آج بھی ہلکا میک اپ کیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔ سامنے سے وہ چلتی آرہی تھی لیکن وہ ہاتھ میں پہنے بریسلیٹ کا ہوک لگا رہی تھی اس لیے داؤد کو نا دیکھ سکی اور اس سے ٹکرا گئی۔ ہیل کی وجہ سے مہر کا پاؤں مڑ گیا تھا جس سے وہ گرنے والی تھی کے داؤد نے ایک ہاتھ اسکی کمر اور دوسرے سے بازو پکڑ کر اسے گرنے سے بچایا۔ اب وہ مہر کے اوپر جھکا کھڑا تھا۔ اس کے چہرے کو اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے داؤد بالکل کھو سا گیا تھا۔
“کسی مووی کا سین چل رہا ہے؟” مہر کی آواز سے وہ ہوش میں آیا لیکن اسے چھوڑا ابھی بھی نہیں تھا۔
“ارے چھوڑ بھی دیں بارات آگئی ہے وہاں” مہر نے پھر سے کہا تو داؤد نے اسے فوراً چھوڑا۔ اپنی اس کیفیت پر بے انتہا غصہ آیا۔
“تم دیکھ کر چلنا کب سیکھو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اپنی اس بے اختیاری کو مہر کے سر ڈالنا چاہا۔
“جب آپ دیکھ کر چلنا سیکھ جائیں گے اس کے اگلے دن” دوبدو جواب دے کر وہ اس کے پاس سے گزر کر سیڑھیاں اتر گئی اور داؤد اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ یہاں تک کے وہ کب کی جا چکی تھی لیکن داؤد ابھی بھی اسی کے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔
*******************
اگلے دن بیا کا ولیمہ بھی ہو گیا تھا۔ جس پر مہر اکیلی ہی گئی تھی۔ یہ بیا کے ولیمے کے دو دن بعد کی رات تھی۔ مہر چھت پر موجود تھی۔ شام سے ہی موسم بہت سہانا تھا ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی تھیں۔ ستمبر کے شروع کے دن چل رہے اور یہ دن جاتی گرمیوں کے آخری دن ہوتے ہیں اس لیے حبس بھی بہت ہوتی ہے اور ایسے میں یہ ہلکی ہلکی ہوائیں غنیمت ہؤا کرتی ہیں۔
مہر نے گرل سے جھک کر نیچے نظر ڈورائ تو داؤد کو لان میں فون پر بات کرتے دیکھا۔
” یہ رات کے اس پہر کس سے بات کررہے ہیں” مہر نے سوچا۔
“ہمممم کہیں کوئی گرل فرینڈز تو نہیں رکھی ہوئی” اسے یاد آیا تھا کہ اس دن وہ دادو کے کمرے میں جب گئی تھی تو دونوں باتیں کر رہے تھے لیکن اس کے کمرے میں جاتے ہی خاموش ہوگئے تھے اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
” ضرور کوئی بات ہے جو مجھ سے چھپائی جا رہی ہے لیکن میں بھی مہر سکندر ہوں پتا لگا کر رہوں گی” پھر کچھ خیال آنے پر مہر کی آنکھیں چمکی تھیں اور جلدی سے وہ نیچے جانے کیلئے بھاگی تھی۔
*******************
داؤد کو نیند نہیں آرہی تھی تو نیچے لان میں چلا آیا تھا۔ ویسے بھی دو تین دن سے اسے ٹھیک سے نیند نہیں آتی تھی۔ اسکا دل و دماغ اسکے قابو میں نہیں تھے اور دل جو کچھ اسے باور کروا رہا تھا وہ اسکا دماغ ماننے کو تیار نہیں تھا۔
ابھی اسے آئے تھوڑا ہی وقت ہوا تھا کے سارہ کی کال آگئی اور وہ کل آفس میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں کچھ پوچھ رہی تھی جس کے بارے میں داؤد نے بتایا اور فون بند کردیا۔
اب داؤد لان میں موجود کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھا اپنا فون یوس کررہا تھا کے مہر وہاں آئی۔
“او ہو مہر بہت سلو سپیڈ ہے تماری۔۔۔۔۔۔۔
نیچے آنے میں اتنا وقت لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔ کال تو بند ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اب کیسے پتا کروں کے کس سے بات کررہا تھا یہ کھڑوس” مہر نے داؤد کو کرسی پر بیٹھے دیکھ خود سے سرگوشی کی۔
“کال پر نہیں کررہے بات تو کیا ہوا فون پر ضرور اسی سے میسیجنگ کر رہے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔ایک بار چیک کرنے میں کیا حرج ہے؟۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی داؤد کے پیچھے جا کر کھڑی ہوگئی اس کے سر سے جھانک کر دیکھنے ہی والی تھی کے داؤد ٹیک چھوڑ کر سیدھا ہوا اور مہر فوراً نیچے بیٹھ گئی۔
آنکھیں ٹیری کر کے دیکھا تو داؤد ویسے ہی ٹیک چھوڑ کر بیٹھا تھا۔ مہر نے دونوں ہاتھ نیچے گھاس پر رکھے اور اب ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے واپس جانے لگی۔(کیونکہ اب وہ کیسے دیکھے گی اس لیے اس جن کی نظروں میں آنے سے پہلے ہی بھاگنا چاہتی تھی)۔
ابھی وہ تھوڑا ہی آگے بڑھی تھی کے گھاس پر نظر چپل بند پیروں پر پڑی تو وہیں فریز ہوگئی پھر آہستہ سے آنکھیں اٹھائیں تو سامنے ہی داؤد دونوں ہاتھ سینے پر باندھ آئی برو سوالیہ اٹھائے مہر کو گھور رہا تھا۔ مہر نے تھوک نگلا۔
“یہاں نیچے کیا کر رہی ہو؟” داؤد نے پوچھا۔
“وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں وہ شام کو میرے پیسے ادھر گر گئے تھے وہ ہی ڈھونڈ رہی تھی” ایک دم کوئی جواب نا بن پایا اس لیے جو منہ میں آیا کہہ گئی۔ داؤد کو اسکی بات پر ہنسی آئی لیکن ضبط کرگیا۔
“اوو آئی سی” داؤد نے کہا اور پھر اپنا ہاتھ آگے کیا۔ مہر نے اس کے ہاتھ کو نظر انداز کیا اور خود اٹھ کر کھڑی ہوئی اور اپنے کپڑے جھاڑے۔
*********************
