Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode

سحر بیگم کے کہنے پر وہ اس وقت تیار ہونے اپنے روم میں آئی تھی کیونکہ تھوڑی دیر تک سب نے آجانا تھا وہ اپنا سوٹ الماری سے نکال کر فریش ہونے چلی گئی تھی۔۔۔۔
وہ فریش ہوکر آئی تو اس نے جلدی سے اپنے بال سکھا کر انھیں خوبصورت سے انداز میں بنایا اور شاہزین کے آنے کا سوچ کر اس کے کپڑے الماری سے نکال کر بیڈ پر رکھے اور خود ہادی کو اٹھانے دوسرے کمرے میں چلی گئی جو سکول سے آکر سو گیا تھا۔۔۔۔۔
ہادی ہادی۔۔۔۔شاباش اٹھو اور فریش ہو کر کپڑے بدلو مہمان آنے والے ہیں۔۔۔۔
عینی نے ہادی کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے جگایا۔۔۔۔۔
آپی پلیز تھوڑی دیر اور سونے دیں۔۔۔۔
ہادی نے بند آنکھوں سے ہی معصومیت سے کہا
بلکل نہیں ہادی جلدی سے اٹھو اور فریش ہو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو شاہزین کو تمھاری شکایت لگاؤں گی پھر وہ جب تمہیں ایک ہفتے تک کرکٹ کھیلنے اور ٹی وی دیکھنے نہیں دے گا تو پھر مجھے مت کہنا۔۔۔۔۔
عینی نے اسے دھمکایا تو وہ فورا ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
عینی آپی آپ بہت ظالم ہیں ۔۔۔۔۔
ہادی نے بیڈ سے اترتے ہوئے عینی کو کہا جو اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔
*****************
تھوڑی دیر بعد رمنا بیگم حدید صاحب ارقم ہاشم اور علیشبہ سب ان کے گھر موجود تھے حور اور ہادی سے وہ لوگ مل چکے تھے حور سلام دعا کے علاوہ کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ کم از کم آج ان سے مسکرا کر بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔
حور چندا کیسی طبیعت ہے اب تمھاری۔۔۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے حور کو مسکراتے دیکھ پوچھا۔۔۔۔۔
الحمداللہ چچی جان اب میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔اور علیشبہ آپی آپ کو نکاح کی بہت مبارک ہو ۔۔۔۔۔
حور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا وہ مزید بدمزگی نہیں چاہتی تھی اب وہ سکون سے شاہزین کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی جس میں کوئی پچھتاوا نہ ہو۔۔۔۔۔
شکریہ حور تمھیں بھی مبارک ہو ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے حور سے کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔۔
آپ لوگ بیٹھے میں زرا ہادی کو دیکھ کر آتی ہوں کب سے اسے میں نے کہا تھا فریش ہو جاؤ لگتا ہے دوبارہ سوگیا ہے۔۔۔۔
***************
شفق علیشبہ کے ساتھ بیٹھی تھی جب اسے خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوئیں اس نے دیکھا تو ارقم اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نکاح کے بعد وہ ایک بار بھی مل نہیں سکے تھے لیکن فون پر بات ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔
ارقم نے سب کو ایک نظر دیکھا جو باتوں میں مصروف تھے اور ایک نظر شفق کو دیکھ کر جلدی سے آنکھ ماری جو آنکھیں پھیلائے اس کی حرکت پر جلدی سے اپنا رخ موڑ گئی تھی۔۔۔۔
بس کرو ارقم اسے نظروں سے مارنے کا ارادہ ہے دیکھو بیچاری کیسے ڈر رہی ہے۔۔۔۔ اور اپنی یہ نظریں تھوڑی قابو میں رکھو یہ نہ کہ کوئی دیکھ لے اور پھر تمھاری خوب عزت افزائی ہو۔۔۔۔
ہاشم نے اس کی حرکت دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
اللہ کا نام لیں بھائی میں کب دیکھ رہا ہوں اور آپ بھی تو اپنی منکوحہ کو تب سے گھور ہی رہے ہیں یہ مت سوچیے گا کہ کوئی دیکھ نہیں رہا اور میں نے آپ کی نکاح والے دن عالی سے ملاقات کروائی تھی آج آپ میری ملاقات شفق زے کروائیں ۔۔۔۔۔۔
ارقم نے ہاشم سے کہا ۔۔۔۔۔
لو بھئی یہ کام تو تمھاری بہن ہی کر سکتی ہے پہلے حور سے بات کرلیں پھر جانے سے پہلے ایک بار تمھیں شفق سے ملوا دیں گے ۔۔۔۔۔
ہاشم نے اسے کہا تو وہ صرف منہ بنا کر ہی رہ گیا۔۔۔۔
اگر آپ نے مجھے آج شفق سے نہیں ملوایا تو پھر عالی کی رخصتی تین ماہ بعد کرواؤں گا۔۔۔۔۔
تم جیسا کمینہ سالا میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ارقم۔۔۔۔۔
ہاشم ارقم کی بات سن کر اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
آپ کو مجھ جیسا سالہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا تھا۔۔۔۔۔
وہ بتیسی دکھاتا ہوا بولا۔۔۔۔تو ہاشم نے اپنا سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنا رخ شاہزین کی طرف کیا جو کوئی بات کر رہا تھا
******************
خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کے بعد سب اس وقت لان میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔۔۔۔
حور ہم نے تمھارے ساتھ اور ہادی کے ساتھ جو کیا ہم اس پر شرمندہ ہیں ہم نے تمھیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی مگر ناکامی کے علاوہ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوسکا مجھے امید ہے کہ تم ہمیں اپنی ساتھ کی گئی زیادتیوں کے لیے معاف کر دو گی۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اچانک حور سے کہا تو سب ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔۔۔
چچی جان سب کچھ بھولنا اتنا آسان نہیں ہے لیکن پھر بھی میں نے آپ سب لوگوں کو دل سے معاف کر دیا ہے۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔۔
حور بچے مجھے معاف کر دو یقین کرو مجھے اس وقت سچائی کا علم نہیں تھا مجھے بس اتنا ہی پتا تھا کہ تم لوگ حویلی چلے گئے ہو میں جانتا ہو کہ میں ایک اچھا بھائی نہیں بن سکا مگر تم نے پھر بھی ہمیشہ میرا خیال رکھا اور میں نے ہی تمھیں دربدر کر دیا۔۔۔۔۔
ہاشم شرمندگی سے عینی کے پاس آکر بولا جس نے اپنے لب کاٹتے ہوئے اسے دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔
میں نے آپ کو معاف کیا ہاشم۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔
بہت شکریہ بچے تمھارا دل بہت بڑا ہے کاش میں بھی اپنا دل اتنا بڑا کر لیتا تو تم لوگ کے ساتھ کبھی ایسا نہ ہوتا اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ ہادی کو اب تم ہمارے پاس بھیج دو۔۔۔۔۔
ہاشم بولا تو حور غصے سے بولی۔۔۔۔
میں نے بے شک آپ کو معاف کر دیا ہے لیکن ہادی کو کبھی بھی میں آپ لوگوں کے حوالے نہیں کروں گی اور جو شخص ایک بار ہمیں گھر سے نکال سکتا ہے وہ دوسری بار پھر ہادی کو گھر سے نکال سکتا ہے مجھے آپ پر بلکل بھی بھروسہ نہیں ہے اور میں نے صرف اس وجہ سے آپ کو معاف کیا ہے تاکہ میں خود سکون سے رہ سکوں۔۔۔۔
ٹھیک ہے حور جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا ہادی تمھارے پاس ہی رہے گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے حور کی بات سن کر مایوسی سے کہا۔۔۔۔۔
ہاشم بھائی میں نے اسے بہن کم ماں زیادہ بن کر پالا میں اسے خود سے دور نہیں کر سکتی۔۔۔۔
حور نے دھیمی آواز میں کہا تو ہاشم نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
تم بلکل سہی کہہ رہی ہو ہادی کو تم ہی اپنے پاس رکھنے کی حق دار ہو ۔۔۔۔
اس کے بعد سب ہی خوش ہو گئے تھے کیونکہ سارا ماحول ہی بدل گیا تھا پہلے پھر بھی سب میں تھوڑا تناؤ تھا مگر اب وہ بھی ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
************
مجھے پانی پینا ہے آنٹی کیا آ بتائیں گی کچن کس طرف ہے۔۔۔۔
ارقم نے عالی اور شفق کے کچن میں جانے کے تھوڑی دیر بعد پوچھا
رکو بیٹا اگر میں پانی منگوا دیتی ہوں ۔۔۔۔
سحر بیگم نے کہا۔۔۔۔
ارے نہیں آنٹی کوئی بات نہیں آپ بتا دیں میں چلا جاتا ہوں۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے کچن کا راستہ بتایا جو وہ پہلے ہی کھاتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ وہ آرام سے ہاشم کو دانت دکھاتا اٹھا اور اندر چلا گیا۔۔۔۔۔
اہم اہم۔۔۔۔
ارقم نے کچن میں آکر ہلکا سا کھانسا تو عالی اور شفق دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں ۔۔۔۔
علیشبہ ارقم کا اشارہ دیکھتے ہی کچن سے چلی گئی ۔۔۔۔
نکاح مبارک ہو شفی ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر بولا۔۔۔۔
جانتا ہوں تھوڑا لیٹ بولا ہے مگر میں تمھیں خود مل کر کہنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس کے بولنے پر شفق کے چہرہ پر حسین مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔
ارقم حدید بخت آپ کو بھی نکاح کی بہت مبارک ہو۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولی۔۔۔۔تو ارقم نے مسکراتے ہوئے جھک کر اس کا گال چوما جو سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔
شفق نے اپنی گال پر رکھتے ہوئے آنکھیں جھپک جھپک کر اسے دیکھا تو ارقم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اس کے دوسرے گال پر بھی مسکراتے ہوئے لب رکھے۔۔۔۔
تم اس وقت اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ دل کر رہا ہے کہ ابھی اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔۔۔
وہ اس کے کان کے قریب جھک کر بولا اور اس کی کان کی لو پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔
ارقم جائیں کوئی اندر آجائے گا۔۔۔۔
شفق اس کا لمس محسوس کر کے ساری کی ساری سرخ ہوچکی تھی
جا رہا ہوں مسز ارقم حدید بخت ۔۔۔۔
وہ اس کے سر کو چوم کر بولا اور ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالتے ہوئے سیٹی بجاتے ہوئے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
**************
ایک مہینے بعد :
وہ دولہن بنی سجی سنوری اس وقت ہاشم کے کمرے میں بیٹھی تھی آخر وہ وقت آ ہی گیا جس کا اس نے سالوں انتظار کیا تھا ۔۔۔۔۔
آج وہ اپنی محبت پاچکی تھی اس کا ستمحر محبوب آج اس کا محرم بن چکا تھا اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی محبت کو منزل مل گئی ہے کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی محبت مل جائے ۔۔۔۔۔
ہاشم کمرے میں داخل ہوا تو علیشبہ نظریں جھکائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے مضبوط قدم اٹھتا عالی کے پاس آیا جو اس کی موجودگی محسوس کر کے گھبراہٹ سے اپنے لب کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
وہ عالی کے قریب بیٹھتا ہوا اپنی جیب سے ڈبی نکال کر جس میں انگوٹھی موجود تھی اسے باہر نکالا اور اپنا ہاتھ عالی کے سامنے بڑھایا جس نے بنا جھجھک کے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔۔۔۔
ہاشم نے انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے اسے چوما۔۔۔۔۔
ہاشم کا لمس محسوس کر کے اس نے ہاشم کی طرف دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ دونوں ہی خاموش تھے ان کے پاس کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔۔۔۔ کمرے کی خاموشی میں بس دونوں کی دھڑکنیں رقص کر رہی تھیں۔۔۔۔
ہاشم نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔
تم میری پہلے نہیں مگر آخری محبت ضرور بنو گی اور یاد رکھنا محبت سے کئی زیادہ میں تمھارا احترام کرتا ہوں۔۔۔۔
ہاشم نے اس کا دوپٹہ پنوں سے آزاد کروا کر اس کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھے تو وہ کانپ کر رہی گئی۔۔۔۔
ہ۔۔۔۔ہاش
ابھی وہ ہاشم کو پکارتی کہ ہاشم نے اس کے باقی لفظ اس کے گداز ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے کر روک دیے ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اس سے دور ہوا اور اس کے چہرے پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔
عالی نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر کے ہاشم کا لمس محسوس کر کے خود کو اس کے حوالے کر دیا۔۔۔۔
****************
ارقم بمشکل اپنے دوستوں سے جان چھڑوا کر کمرے میں داخل ہوا جہاں شفق اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
کمرے میں موجود بھینی بھینی گلابوں کے پھولوں کی خوشبو ماحول کو خوابناک بنا رہی تھی۔۔۔۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا شفق کے پاس گیا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے پہلے جھک کر شفق کا سر چوما۔۔۔۔۔
یار یہ کہیں میں دوسرے کمرے میں تو نہیں آگیا یہ میری بیوی اتنی خوبصورت کب سے ہوگئی۔۔۔۔
ارقم نے شفق کے پاس لیٹنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شفق نے اسے خشمگی نظروں سے دیکھا تو ارقم نے ہنستے ہوئے اس کا دوپٹہ پکڑ کر اسے آہستہ آہستہ کھیچتے ہوئےکہا۔۔۔۔
یار ایسی نظروں سے نہ دیکھو نکاح والے دن تم نے دیکھا تھا تو پھر تم سے ملاقات بھی نہیں ہو پائی تھی۔۔۔۔
وہ مسکین صورت بنا کر اسے مزید تنگ کرتے بولا۔۔۔۔
ارقم اگر آپ نے مجھے تنگ ہی کرنا ہے تو بتا دیں میں کپڑے بدل کر سوجاؤ۔۔۔۔
وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی بیڈ سے اترنے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی
نہ میری جان مجھ پر ایسا ظلم مت کرنا ابھی تو میں نے تمھیں سہی سے دیکھا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
وہ جلدی سے اس کا دوپٹہ چھوڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا جو سیدھا اس کے اوپر آکر گرگئی تھی۔۔۔۔
ارقم نے جلدی سے شفق کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اس کی دور ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔۔۔۔
ا۔ ۔ارقم چھوڑیں۔۔۔آپ بس یہاں ۔۔۔۔۔
ارقم نے جھک کر اس کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوا تو شفق کی زبان کو بریک لگی۔۔۔۔۔
ارقم نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھ کر جھک کر شدت سے اس کے دونوں گال چومے۔۔۔۔
اور اپنا ایک ہاتھ اہنی جیب سے نکال کر اس میں سے سونے کی چین نکالی اور شفق کی گردن میں چین ڈال کر اس کی گردن کو چوما۔۔۔۔۔
شفق نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپالیا جبکہ ارقم اب آہستہ آہستہ اس پر اپنا حصار تنگ کرتا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
****************
عینی اس وقت چھت پر جارہی تھی کیونکہ شاہزین نے اسے چھت پر بلایا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی ساڑھی سنبھالتی آہستہ آہستہ سڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی اور ٹیرس کا دروازہ کھول کر اوپر آئی تو ٹھنڈی ہوا اس کے جسم سے ٹکرائی جس سے وہ ہلکا سا کپکپا گئی تھی۔۔۔۔
وہ ٹیرس پر آگے بڑھی جہاں اندھیرا تھا وہ تھوڑا آگے بڑھی کہ اچانک چھوٹی چھوٹی لائٹوں سے راستہ بنا ہوا تھا وہ مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ کر آگے بڑھ رہی تھی کہ آگے جاکر اسے شاہزین پھول پکڑے کھڑا ملا۔۔۔۔۔
شاہزین نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ٹیبل کے پاس لایا جو پھولوں کی پتیوں سے سجایا ہوا تھا اس کے اوپر ایک کیک پڑا ہوا تھا جس پر ہیپی برتھ ڈے حورالعین لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
عینی نے خوشی سے کیک کو دیکھا اور اپنے پنجوں کے بل اٹھتے ہوئے شاہزین کی گال پر لب رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
مجھے تو بھول ہی گیا تھا کہ آج میری سالگرہ ہے آپ کا بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے اور اسے اتنا حسین بنانے کے لیے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولتی کیک کی طرف مڑی اور شاہزین کا ہاتھ پکڑ کر کیک کاٹا۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
شاہزین نے اس کے منہ میں کیک ڈال کر اس کے گال پر لب رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عینی نے مسکراتے ہوئے کیک اس کے منہ میں ڈالا اور تھوڑا سا کیک اس کی ناک پڑ لگا کر ہنس پڑی۔۔۔۔
ایسے اچھے لگ رہے ہیں آپ۔۔۔۔
شاہزین نے اپنی ناک اس کی گال پر پھیر کر کیک صاف کیا تو عینی نے اس کی حرکت پر منہ بسورا لیکن شاہزین کو مسکراتے دیکھ خود بھی مسکرا پڑی
شاہزین نے عینی کو کمر سے تھام کر اپنے ساتھ لگایا اور اپنے قریب پڑے ریموٹ سے ہلکا ہلکامیوزک چلایا اور عینی کے بازوں اپنی گردن میں ڈال کر ڈانس کرنے لگا۔۔۔۔
شاہزین نے جھک کر اس کی خوبصورت معصومیت سے بھری آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا۔۔۔۔
تمھارے ساتھ میں زندگی گزار نہیں جی رہا ہو جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میری زندگی کا ایک نیا مقصد مجھے مل گیا ہے ۔۔۔۔ میں تم سے بے حد اور بے انتہا محبت کرتا ہوا۔۔۔۔۔
وہ جھک کر ہلکے سے اس کے لبوں کو چھو کر بولا اور جھک کر اس کی گردن پر بوسہ لے کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے ہلکا ڈانس کرنے لگا۔۔۔۔
****************
آٹھ سال بعد :
زیان فورا ادھر آؤ تم نے بیا ( علیشبہ اور ہاشم کی بیٹی ) کو کیوں مارا ہے۔۔۔۔
شفق نے چیخ کر اپنے بیٹے کو بلاتے ہوئے پوچھا
مما اس نے مجھے دھکا دیا تھا میں نے بھی اسے دھکا دے دیا۔۔۔۔۔
زیان نے آرام سے شفق کو بتایا۔۔۔۔
یار شفی جانے دو بچہ ہے اور بیا کو تم معصوم مت سمجھو ضرور اس نے ہی پہلے کچھ کہا ہوگا۔۔۔۔۔
علیشبہ نے شفق سے کہا۔۔۔۔
عالی تم نہیں جانتی یہ دن با دن بتمیز ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔
شفق نے تپ کر اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہا جو بیا کو منہ چڑھا رہا تھا۔۔۔۔
پھوپھو میرے دوست کو مت ڈانٹیں ایسی شرارتیں تو سب کرتے ہیں۔۔۔۔
عاشر ( شاہزین اور عینی کا بیٹا ) نے شفق سے کہا۔۔۔
عاشر تم تو چپ ہی رہو پتا نہیں کیوں ہر وقت سب کے ابا بنے پھرتے ہوئے۔۔۔۔۔
عینی نے اپنے بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے کہا
موم میں ایک عقلمند بچہ ہوں اسی وجہ سے سہی کا ساتھ دیتا ہوں۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
افف بس کرو اور جاکر اپنی ایمان کو دیکھو کہاں ہے ؟؟
عینی نے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولا
موم آپ جانتی ہے وہ زیادہ تر نعمان ( علیشبہ اور ہاشم کا بڑا بیٹا ) کے پاس ہی پائی جاتی ہے۔۔۔
پھوپھو ایمان کو بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دیں۔۔۔۔
ابھی عینی اسے کہتی کہ کمرے سے نعمان کی آواز اسے سنائی دی۔۔۔۔
نعمان جب بھی ایمان سے ملتا تھا تو اسے اپنے ساتھ ساتھ ہی رکھتا تھا
عاشر جا کر دیکھو ہادی کو کچھ چاہیے تو نہیں ابھی بچارا تھکا ہوا یونیورسٹی سے آیا۔۔۔
عینی نے کچن میں جاتے ہوئے عاشر سے کہا تو وہ ہادی کے پاس چلا گیا جبکہ شفق اور عالی اپنے اپنے بچوں کو سنبھالنے لگی تھیں جو اب تقریبا ایک دوسرے کے منہ نوچنے تک آگئے تھے۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت حویلی موجود تھے تبھی سب بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیل اور لڑ رہے تھے۔۔۔۔
*******************
چار سال پہلے ہی حمنا کی شادی ڈاکٹر حمزہ سے ہوگئی تھی وہ اپنی زندگی میں بے حد خوش اور مطمئن تھی۔۔۔۔۔
مما مما۔۔۔۔ دیکھیں بابا نے میرے سارے بال خراب کر دیے ہیں۔۔۔۔۔
عنایہ اپنے بال حمنا کو دیکھاتے ہوئے بولی جو ابھی واشروم سے باہر آئی تھی۔۔۔۔۔
حمنا نے اس کے بالوں کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپائی اور حمزہ کو مصنوعی گھورا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں تم ادھر آؤ میں جلدی سے بال بنا دیتی ہوں اور تم نے ناشتہ کرلیا ہے۔۔۔۔
حمنا نے جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھا کر اس کے بالوں میں پھرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
جی مما بابا نے ناشتہ کروا دیا ہے۔۔۔۔
حمنا نے جلدی سے عنایہ کے بال بنائے تو وہ اپنا بیگ لیتی باہر چلی گئی جہاں ڈرائیور اسے سکول لیجانے کے لیے کھڑا تھا۔۔۔۔
جان دن بہ دن حسین ہوتے جارہی ہو۔۔۔۔
حمزہ حمنا کے قریب آکر اس کا بھرا بھرا وجود اپنی باہوں میں بھر کر اس کے گال پر لب رکھتا بولا۔۔۔۔
وہ سات مہینے کی پریگننٹ تھی چار سال بعد آخر اللہ نے اسے اولاد سے نواز ہی دیا تھا وہ شکر کرتے نہیں تھکتی تھی کہ اس کی زندگی میں حمزہ جیسا ہمسفر آیا جس نے اسے قبول کر کے اس کی زندگی کو سنوار دیا تھا۔۔۔۔۔
حمزہ مجھے نہ بہت بھوک لگی ہے پلیز کیا ہم ناشتہ کرنے چلیں۔۔۔۔
وہ حمزہ کی طرف مڑتی مسکرا کر بولی جس نے اب اس کے دوسرے گال پر لب رکھے تھے۔۔۔۔
اچھا تو میرے بےبی کی اماں اور بےبی کو بھوک لگ گئی ہے ۔۔۔۔چلو پھر جلدی سے ناشتہ کریں پھر تمھیں ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھے مسکرا کر بولا اور اسے اپنے ساتھ باہر لے کر چلاگیا۔۔۔۔۔
**************
وہ سب لوگ اس وقت ایک ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے جبکہ بچے کھیل رہے تھے۔۔۔۔
شاہزین میں بہت خوش ہوں کہ میں نے آپ کی بات مان کر سب کو معاف کر دیا ۔۔۔۔
عینی سب کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھ کر دھیمی آواز میں اپنے ساتھ بیٹھے شاہزین سے بولی جو محبت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش تھے غلطیاں سب سے ہوتی ہیں جو انسان وقت پر اپنی غلطیاں سدھار لے اس کی زندگی آسان ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *