Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05

ڈیڑھ مہینے بعد :
عینی کو شفق کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ڈیڑھ مہینہ ہو گیا تھا اس کے پاس جو پیسے پڑے ہوئے تھے اس سے اس نے ہادی کا ایڈمیشن ایک بورڈنگ سکول میں کروا دیا تھا کیونکہ اسے چوبیس گھنٹے شفق کے ساتھ ہی رہنا ہوتا تھا وہ اتوار کو جا کر ہادی سے مل آتی تھی مگر اسے ہادی کی بہت یاد آتی تھی ہادی بھی اسے بہت یاد کرتا تھا مگر اس کے بورڈنگ سکول میں نئے دوست بن گئے تھے اس وجہ سے وہ عینی کو یاد کر کے دکھی نہ ہوتا ۔۔۔۔۔
اس ڈیڑھ مہینے میں سحر بیگم نے اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی تھی عینی کی شفق سے اچھی بات چیت ہوجاتی تھی اور جو سب سے اچھی بات ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ عینی کا سامنا شاہزین سے نہ ہوا تھا کیونکہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے گیا ہوا تھا مگر پھر بھی سحر بیگم اسے اکثر بولتی تھیں کہ جب میرا بیٹا واپس آجائے اس سے دور ہی رہنا اور وہ بچاری جس نے ان کے بگڑے سپوت کو دیکھا بھی نہ تھا ان کی بات سن کر اپنا سر خاموشی سے ہلا دیتی ۔۔۔۔۔۔
وہ شفق کے لیے دودھ لینے کچن میں آئی تھی جب اسے رزیہ (کھانا بنانے والی ) ملی وہ بھی اسی کے ساتھ ہی اس گھر میں کام کرتی تھی شائستہ صفائی کر کے چلی جاتی تھی جبکہ رزیہ گاؤں سے تعلق رکھتی تھی اور گھر کے پیچھے بنی انیکسی میں رہتی تھی عینی نے اس سے کافی کچھ بنانا بھی سیکھ لیا تھا اکثر جب سحر بیگم شفق کے پاس ہوتی تو اسے رزیہ کے ساتھ کام کروانے کے لیے کچن میں بھیج دیتی تھیں۔۔۔۔۔۔
عینی نے شفق کے لیے دودھ گرم کیا اور اس کے کمرے میں لے گئی شفق بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھی سامنے موجود ایک آی ڈی پر مووی دیکھ رہی تھی اس نے دودھ کا گلاس سائیڈ پر رکھا اور شفق کی دوائی نکالنے لگی عینی نے شفق کو بلایا تو شفق نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا اور برا سا منہ بنا کر اس کےہاتھ سے دوائی لے کر اور پانی کے ساتھ کھا لی تو عینی نے شفق کو دودھ پکڑایا اور پوچھا۔۔۔۔
میم آپ کو اور کوئی کام تو نہیں یا میں کچن میں چلی جاؤں ۔۔۔۔۔
نہیں تم چلی جاؤ میں بس مووی دیکھ کر تھوڑی دیر بعد سو جاؤں گی اور ہاں میرے لیے رات کے کھانے میں کچھ اچھا سا بنانا اپنے ہاتھوں سے بنانا رزیہ کے ہاتھوں کا کھانا مجھے بلکل بھی نہیں پسند ۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق عینی کو دیکھتے ہوئے بولی اور دودھ جلدی سے ختم کر کے گلاس اسے پکڑا دیا اب شفق کافی حد تک ٹھیک ہو چکی تھی اور جلد ہی اس نے اپنی یونیورسٹی سٹارٹ کرنی تھی۔۔۔۔۔
عینی گلاس پکڑ کر خاموشی سے کمرے سے نکل آئی اور کچن میں شفق کے لیے کچھ بنانے چلی گئ شفق کے لیے رزیہ کی مدد سے کھانا بنانے کے بعد وہ ایک نظر شفق کو اس کے کمرے میں دیکھنے کے بعد انیکسی میں موجود اپنے کمرے میں گئی اور جلدی سے شاور لے کر اپنا حولیہ بدل کر وہ باہر نکلی اور شفق کے کپڑے جو استری کرنے والے رہتے تھے وہ کرنے چلی گئ
حالانکہ اس کا کام صرف شفق کا خیال رکھنا ہی تھا مگر سحر بیگم نے آہستہ آہستہ شفق کے سارے کام اس کے سپرد کر دیے اس نے دیکھا تھا کہ سحر بیگم شفق کے اور تیمور صاحب کے سامنے اسے پیار سے پیش آتی مگر ان کی غیر موجودگی میں اس سے برا سلوک کرتی تھیں۔۔۔۔۔
تھوڑے دنوں پہلے کی بات تھی کہ عینی سے ان کے ایک مہنگے برتنوں کے سیٹ کی ایک پلیٹ غلطی سے ٹوٹ گئ تھی جس کی وجہ سے سحر بیگم نے اس کو دو تھپڑ مارے تھے
وہ جان گئی تھی کہ سحر بیگم کتنی دوغلی عورت ہیں جو اپنے گھر والوں کے سامنے تو نیک دل اور دوسروں کا خیال رکھنے والی ہیں مگر اصلیت میں وہ کیسی ہیں یہ صرف عینی اور اس گھر میں کام کرنے والے ملازم ہی جانتے تھے
عالی کی آواز اب ہر وقت حویلی میں سنائی دیتی تھی وہ واپس اپنی زندگی جینے لگی تھی اسے نئے پرندے دیکھنے کا بہت شوق تھا وہ ہر ہفتے دو خوبصورت سے پرندے منگواتی اور انھیں آزاد کر دیتی اس کے خیال میں پرندے آزاد ہی اچھے لگتے تھے
وہ رمنا بیگم کے ساتھ بیٹھی ان سے اپنے بالوں میں تیل لگواتے ہوئے ان سے مسلسل باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ بات ہی کر رہے تھے کہ پریشان سے حدید صاحب حویلی میں داخل ہوئے اور آکر حال میں موجود صوفے پر بیٹھے
انھیں پریشان دیکھتے ہوئے رمنا بیگم نے ان سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا کچھ پریشان دکھ رہے ہیں سب خیریت تو ہے ؟
گاؤں میں بس کچھ مسئلہ چل رہے ہیں اسی کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہوں ۔۔۔۔۔ اور ایک کپ چائے بنوا دیں میں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں
حدید صاحب نے جواب دیا اور اٹھتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چل دیے۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے جلدی سے عالی کے بال سمیٹے اور اپنے ہاتھ دھو کر حدید صاحب کے لیے چائے بنا کر کمرے میں لے گئ جہاں وہ بیڈ پر بیٹھے ان کا ہی انتظار کر رہے تھے رمنا بیگن نے انھیں چائے پکڑائی اور ان کے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
حدید صاحب نے رمنا کو پاس بیٹھے دیکھ کر اپنی بات کا آغاز کیا
مجھے پتا چلا ہے کہ ہاشم نے حورالعین اور حیدر کو دو مہینوں پہلے گھر سے نکال دیا تھا اور وہ اب پتا نہیں کہاں ہیں اور کس حال میں ہے کسی کو نہیں پتا ۔۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم ان کی بات سن کر اپنا دل تھام گئی وہ بھی تو ان کے بچے ہی تھے ہاشم کی وجہ سے ہی وہ لوگ حورالعین اور حیدر سے دور ہوئے تھے اور اس کم بخت نے بھی انہیں دربدر کر دیا
اب کیا ہو گا آپ پتا لگوائیں کے وہ کہاں ہے میں اپنی مرحوم بہن کو کیا جواب دوں گی کہ ان کے بچوں کی حفاظت بھی نہ کر سکی اور وہ دونوں تو ابھی خود بچے خدا جانے کس حال میں ہوں گے ہم نے اچھا نہیں کیا ناراضگی تو ہاشم سے تھی ہماری اور ہم لوگوں نے حورالعین اور ہادی کو بھی نہ پوچھا
وہ اپنے آنسوؤں کو روکتی دکھ سے بولیں
میں پتا لگوا رہا ہوں کچھ دنوں تک انشاءاللہ پتا چل جائے گا آخر میرے بھی تو بھائی کے بچے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔
حدید صاحب نے رمنا بیگم کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا جو اب آنسو بہانا شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
حمنا تیار ہو کر ہاشم کا انتظار کر رہی تھی ہاشم کے ساتھ آج اس نے ڈنر پر جانا تھا اپنے ہونٹوں کو رنگ کر ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگی اس نے کال دیکھی تو اس کے کزن جہانزیب کی تھی کسی زمانے میں وہ اس کو پسند کرتی تھی مگر پھر وہ یو ایس چلا گیا اور اس کی پسند ہاشم بن گیا
وہ کال اٹینڈ کر کے اپنی آواز میں شیرینی گھول کر بولی
ہیلو زیبی کیا بات ہے آج آپ کو اتنے دنوں بعد ہماری یاد کیسے آگئی۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔ بس تمھاری یاد آرہی تھی تو سوچا بات کر لوں ویسے میں پاکستان آیا ہوا ہوں کہیں باہر ملتے ہیں پلین بنا کر پھر تفصیلی بات ہو گی
فون کی دوسری جانب سے زیبی کی آواز سنائی دی
بلکل جناب ضرور کسی دن ملتے ہیں مگر آج میں ہاشم کے ساتھ باہر ڈنر پر جا رہی ہوں پھر کل کا پلین بنا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔
حمنا اس کی بات سن کر بولی
واہ ویسے تم بور نہیں ہوئی ابھی تک ہاشم جے ساتھ رہتے ہوئے میں نے تو سنا تھا تم ایک چیز سے جلدی بور ہو جاتی ہو۔۔۔۔۔۔
زیبی بولا تو حمنا قہقہہ لگا کر بولی
ہاہاہا۔۔۔۔۔بلکل میں جلد ہی ایک چیز سے بور ہوجاتی ہوں مگر ہاشم چیز نہیں میرا شوہر ہے ۔۔۔۔
حمنا ابھی اور کچھ بولتی اسے ہاشم کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور زیبی کو بعد میں بات کرنے کا کہہ کر کال کاٹ دی اور دوبارہ لپ سٹک نکال کر اپنے ہونٹ رنگنے لگی ۔۔۔۔
ہاشم کمرے میں داخل ہوا تو اسے حمنا شیشے کے سامنے کھڑی مکمل تیار نظر آئی اپنا بیگ صوفے پر رکھ کر وہ حمنا کے پاس آیا اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا اور اس کی گال کو چومتا ہوا بولا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو کہ تمھیں باہر لے جانے کا دل ہی نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاہا۔۔۔۔ میں تو ہمیشہ ہی خوبصورت لگتی ہوں اور جلدی تیار ہوجاؤ کیونکہ میرا ڈنر پر جانے کا ارادہ ہے
وہ اپنی تعریف سن کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی اور اسے تیار ہونے کے لیے زبردستی پکڑ کر الماری کے پاس چھوڑ کر آئی وہ برا سا منہ بناتا ہوا اپنے کپڑے لے کر شاور لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *