Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13
شفق کینٹین میں عیشبہ کے ساتھ بیٹھی چپس کھا رہی تھی جب اسے سامنے سے ارقم کسی لڑکی سے مسکرا کر بات کرتا ہوا نظر آیا وہ جو بڑے مزے سے چپس کھا رہی تھی اسے لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اس حلق تر کڑوا ہو گیا
اس نے اپنی نظروں کا رخ اپنے سامنے بیٹھی علیشبہ کی طرف کیا جو اس سے کچھ کہہ رہی تھی
سوری۔۔۔۔ عالی میں نے سنا نہیں تم کیا کہہ رہی تھی
میں کہہ رہی تھی کہ کل جو اسائنمنٹ جمع کروانی ہے تم نے وہ بنا لی یا ابھی بنانی ہے۔۔۔۔
علیشبہ نے جوس پیتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں میں نے بنالی ہے بس آخر سے تھوڑی رہتی ہے۔۔۔۔۔
شفق نے ایک نظر ارقم کو دیکھ کر عالی سے کہا جو اب اس لڑکی کے ساتھ اس سے کچھ دور ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا
پیچھے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔
عالی پیچھے دیکھتے ہوئے بولی تو شفق ایک پل کو گڑبڑا گئی اور عالی کے پیچھے دیکھنے سے پہلے ہی بول پڑی ۔۔۔
کچھ نہیں ویسے ہی دیکھ رہی تھی تم بتاؤ تم نے اسائنمنٹ بنا لی۔۔۔۔۔
شفی ابھی بتایا تو ہے بنالی ہے۔۔۔۔۔
عالی کی بات سن کر وہ کچھ بولنے لگی کہ ارقم کو اپنے ٹیبل کی طرف آتا دیکھ اس نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالا اور ارقم کے علیشبہ کے پاس پہنچتے ہی وہ اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
عالی مجھے یاد آیا سر معظم نے مجھے بلایا تھا میں ان کی بات سن کر آتی ہوں۔۔۔۔
عالی نے حیران نظروں سے شفق کو دیکھا کیونکہ وہ پورا وقت شفق کے ساتھ ہی تھی اسے نہیں پتا چلا کہ کسی سر نے اسے بلایا بھی تھا مگر اپنے پیچھے ارقم کو دیکھ کر وہ کچھ کچھ بات سمجھ چکی تھی
ارقم جو عالی سے بات کرنے آیا تھا اس کے اچانک اٹھنے پر اس نے شفق کو ایک نظر دیکھا جو اپنی بات کرکے جاچکی تھی
عالی میں اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی ریسٹورنٹ میں جارہا ہوں میرے اگلے لیکچر فری ہیں جب تم فری ہوگی مجھے میسج کر دینا میں تمھیں لینے آجاؤں گا۔۔۔۔۔
اوکے بھائی میں میسج کردوں گی ۔۔۔۔ عالی بھی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی
ارقم اسے بتا کر اپنے دوستوں سے ملنے کینٹین سے باہر چلا گیا جہاں اس کے دوست کھڑے انتظار کر رہے تھے۔۔۔
عینی آج سحر بیگم سے اجازت لے کر ہادی سے ملنے جارہی تھی اس کی ٹیچر کا فون آیا تھا کہ اسے بخار ہے وہ پریشان سی گھر سے نکلی اور ہادی کے ہاسٹل اس سے ملنے چلی گئی جبکہ ہادی کی فکر سے اس کی خود کی حالت بھی خراب ہو رہی تھی
وہ ایسی ہی تھی ہادی جب بھی بیمار ہوتا تو اس کی فکر سے اس کی خود کی بھی حالت خراب ہوجاتی تھی وہ ہادی سے بے پناہ محبت کرتی آخر کیوں نہ کرتی وہ محبت ہادی نے سارا بچپن اس کے ساتھ ہی گزارا تھا اس نے اسے بہن نہیں ماں بن کر پالا تھا وہ چھوٹا سا تھا جب ان کے والدین کی وفات ہوئی شاید اسے وہ لوگ یاد بھی سہی طرح نہیں رہتے اگر عینی اسے دورید صاحب اور ردا بیگم کی تصویریں نہ دکھاتی رہتی ۔۔۔۔
ہاسٹل کے باہر پہنچ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اندر داخل ہوئی اور ہادی کے کمرے میں گئی وہ نڈھال سابیڈ پر لیٹا ہوا تھا اس کا رنگ بھی سرخ ہوا پڑا تھا
وہ تیزی سے اس کے قریب گئی اور اس کے سر کو چوما پھر ہاتھ سے اس کا بخار چیک کیا اس کا ماتھا بخار کی شدت سے جل رہا تھا۔۔۔۔
ہادی نے اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
عینی اپی میں اپ کو ہی یاد کر رہا تھا۔۔۔۔
اس کی کمزور سی آواز سن کر اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا ۔۔۔۔۔
ہادی میری جان آپی بھی تمھیں بہت یاد کر رہی تھی اور چلو شاباش اٹھو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔۔
اپی۔۔۔۔۔ میری اٹھنے میں مدد کریں۔۔۔۔۔
ہادی نے اپنی باہیں پھیلا کر کہا تو اس نے جلدی سے اسے اپنے ساتھ لگاتے سہارا دے کر کھڑا کیا اور باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
رکشے میں بیٹھ کر اس نے قریبی کسی ہوسپٹل یا کلینک میں اسے لے جانے کا کہا جبکہ ہادی اس کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے بیٹھا تھا اور عینی نے اس کے گرد اپنا بازو پھیلایا ہوا تھا
قریبی سرکاری ہسپتال کے قریب رک کر اس نے ہادی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے رکشے سے اتارا اور اسے اندر لے گئی
ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ ہادی کو ایک سو سے اوپر بخار تھا وہ جانتی تھی کہ ہادی کو اتنا ہی بخار ہو گا اس کا ماتھا جو تپ رہا تھا
ڈاکٹر نے اسے دوائیں لکھ کر دیں تو اس نے ایک نرس سے کو پیسے دے کر دوائیں منگوائی اور اس کے ہاسٹل کال کرکے بتایا کہ وہ ہادی کو اپنے ساتھ لے جارہی ہے۔۔۔۔۔
وہ ہادی کو اپنے ساتھ گھر لے گئی اور اسے انیکسی میں موجود اپنے کمرے میں لے گئی عینی مے اسے لیٹنے کا کہا اور جلد سے کچن سے جا کر ہادی کے لیے جو راستے سے بیسکٹ اور دودھ وغیرہ لائی تھی اسے برتنوں میں ڈال کر نیم گرم کیا جبکہ رزیہ بھی کچن میں ہی تھی
عینی دودھ گرم کر کے ہادی کے پاس لائی اور اسے اٹھاتے ہوئے بیسکٹ دودھ میں ڈبو کر کھلانے لگی بیسکٹ کھلانے کے بعد اس نے ہادی کو دوائی دی اور باقی دودھ پلا کر برتن سائیڈ پر رکھ کر اسے لیٹا کر اس کے چہرے سے بال ہٹا کر سر پر بوسہ دیا اور جلدی سے کچن سے ٹھنڈا پانی لے کر آئی اور تھوڑی دیر اس کی پٹیاں کی جب اسے لگا کہ ہادی کا بخار ہلکا ہوگیا ہے تو وہ اس کے قریب سے اٹھی جو سویا ہوا تھا اور باہر سحر بیگم کے کپڑے استری کرنے چلی گئی جو انھوں نے اسے شام تک کر کے دینے کو کہا تھا۔۔۔۔۔
وہ کپڑے استری کر کے دو گھنٹے بعد فارغ ہوئی اور ہادی کو ایک نظر کمرے میں دیکھنے گئی وہ ہر آدھے گھنٹے بعد ہادی کو ایک نظر دیکھنے جاتی تھی کہ کہیں وہ اٹھ نہ گیا ہو یا اسے کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔۔۔۔
ہادی کو دیکھ کر وہ رزیہ کے پاس گئی جس نے اسے شاہزین کے کمرے میں کباب اور کافی دینے جانے کا کہا تو وہ پہلے انکار کرنے لگی مگر رزیہ کو خود کو گھورتے پا کر وہ جلدی سے ٹرے پکڑ کر شاہزین کے کمرے کی جانب چل دی جب کہ صبح کی بھاگ دوڑ سے اب اسے تھکاوٹ ہونے لگی تھی
وہ دل میں بس یہی دعا کر رہی تھی کہ شاہزین کمرے میں نہ ہو ۔۔۔۔وہ کمرے کا دروازہ ناک کرکے اندر داخل ہوئی تو شاہزین کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر اس کا دل حلق کو آگیا وہ اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتی اندر داخل ہوئی اور ٹرے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھی
شاہزین نے اسے آتا دیکھ اپنے دوست کو میسج کر کے موبائل میز پر رکھا اور اس کی طرف دیکھا جو نظریں زمین پر جھکا کر اس کی طرف دیکھے بنا ٹرے رکھے واپس جانے کے لیے مڑنے لگی کہ شاہزین نے تیزی سے اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
اسے ہاتھ پکڑتا دیکھ عینی ڈر گئی اور اس سے ہاتھ چھوڑا نے کے لیے دوسرے ہاتھ سے اس کے کندھے پر مکے مارنے لگی
شاہزین نےاس کی ناکام کوشش دیکھی تو ہلکا سا قہقہہ لگایا
تم کبھی بھی میری گرفت سے آزاد نہیں ہو سکتی۔۔۔۔جلد ہی میں تمھیں اپنے پاس قید کرلوں گا اور تمھیں کہیں نہیں جانے دو گا سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر عینی نے اپنی خوف سے پھیلی آنکھوں سے اسے دیکھا اور رندھی ہوئی آواز میں منمنائی۔۔۔
پ۔۔۔پلیز ج۔۔۔۔جانے دیں۔۔۔۔۔م۔۔۔میرا ہ۔۔۔ہاتھ چھوڑ دیں۔۔۔۔آپ کو خدا کا واسطہ۔۔۔۔۔م۔۔۔میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔
شاہزین نے اس کی کانپتی آواز سن کر اس کا ہاتھ چھوڑنے کی بجائے اس پر گرفت اور مضبوط کر دی۔۔۔۔۔
کبھی سوچنا بھی مت کہ شاہزین تمھیں جانے دے گا اور یہ ہاتھ میں جلد ہی ہمیشہ کے لیے تھام لوں گا
اس کے ہاتھ کو آخری بار دبا کر چھوڑتا وہ واپس صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔۔
عینی اس کی بات کا مطلب سمجھے بنا اس کی گرفت سے رہائی پاتے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
شفق یونیورسٹی سے آئی تو اس کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا بار بار سامنے ارقم اور اس لڑکی کی تصویر آرہی تھی جس کے ساتھ ارقم مسکرا رہا تھا
پتا نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے میرے سامنے تو کبھی ہلکا سا بھی نہیں مسکرایا بس ہر وقت منہ میں انگارے ہی چبائے پھیرتا ہے ۔۔۔۔۔اور دوسروں کے ساتھ کیسے مسکرا مسکرا کر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
شفق اپنے سامنے نوٹس رکھے ارقم کو برا بھلا کہہ رہی تھی وہ ارقم کے خیالات کو جھٹک کر دوبارہ اپنے نوٹس کی طرف متوجہ ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی آخر تھک ہار کر وہ نوٹس بند کرکے اٹھی اور باہر لان میں چلے گئی مگر جاتے ہوئے رزیہ سے چائے کا کہنا نہیں بھولی۔۔۔۔
ہادی کب سے جاگ کر عینی کا انتظار کر رہا تھا اس کا بخار اب تقریباً اتر ہی گیا تھا آخر انتظار کرنے کے بعد تنگ آکر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور انیکسی کے دروازے کی طرف بڑھنے لگا کہ اسی وقت عینی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور اسے اٹھتے دیکھ کر اس کے قریب آئی۔۔۔۔
ہادی میری جان اب کیسا محسوس کر رہے ہو۔۔۔۔
عینی اپی اب میں ٹھیک ہوں بس تھوڑی دیر کے لیے باہر گارڈن میں جانا چاہتا ہوں
وہ معصومیت سے بولا تو عینی نے اسے بےبسی سے جواب دیا
ہادی آپ کو بخار ہے نہ آپ شاباش لیٹ کر آرام کرو۔۔۔۔
نہیں اپی مجھے باہر جانا۔۔۔۔۔
ہادی ضد سے بولا
اچھا ٹھیک ہے لیکن تم انیکسی کے سامنے ہی رہو گے پورے گارڈن میں نہیں گھومو گے اور اگر کوئی کچھ کہے تو فورا واپس کمرے میں آجانا میں بس تمھیں دیکھنے آئی تھی مجھے ابھی واپس کام کرنے اندر جانا ہے۔۔۔۔
عینی ہادی کے بال اس کے ماتھے سے پیچھے کر کے اپنے ہاتھ سے اس کا درجہ حرارت چیک کیا اور ہلکے سے اس کے ماتھے کو چوم کر بولی۔۔۔۔
اوکی اپی میں جلد ہی واپس آجاؤں گا ۔۔۔۔۔
ہادی بولتے ہی عینی کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر کی طرف سے کھنچتے ہوئے بولا عینی اس کے ساتھ چلتی ہوئی باہر آئی اور اسے لان میں چھوڑ کر واپس گھر کے اندر چلی گئی
شفق جو گھر کے گرد موجود سارے لان میں واک کر رہی تھی انیکسی کے سامنے ایک چھوٹے بچے کو بیٹھا دیکھ کر اس کے قریب آئی
ہادی گھاس پر بیٹھا اسے اپنے انگھوٹے سے ہلکا ہلکا خرچ رہا تھا کہ اپنے سامنے کسی لڑکی کو کھڑے دیکھ کر اس نے اپنی متجسس آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
کون ہو تم ؟۔۔۔۔
شفق اس کے قریب بیٹھتے یوئے بولی ویسے بھی وہ اپنا دھیان ارقم سے ہٹانا چاہتی تھی اسی وجہ سے اس نے ہادی کا انٹرویو لینے کا سوچا۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔اممم۔۔۔ میں ایک انسان ہوں۔۔۔۔
ہادی پہلے اپنی طرف اشارہ کر کے پھر سوچتے ہوئے شرارت سے بولا تو شفق نے اس کی بات سن کر ہلکا سا مسکرائی اور بولی۔۔۔۔
میرا مطلب تھا کہ نام کیا ہے تمھارا اور یہ پیارا بچہ ہمارے گھر کیا کر رہا ہے ؟
میرا نام حیدر یے لیکن پیار سے سب ہادی کہتے ہیں اور میں عینی اپی کے ساتھ آیا ہوں۔۔۔۔
ہادی نے اسے جواب دیا تو شفق نے حیرت سے اس گورے چٹے بچے کو دیکھا اور پھر ذہن میں سنولی سی حور کا چہرا آیا۔۔۔۔
کیا تم اس کے بھائی ہو ؟!۔۔۔۔
او ہو ابھی تو بتایا نہ کہ وہ میری اپی ہے اس کا مطلب یہی ہوا کہ میں ان کا بھائی ہوں
شفق کی بات سن کر اس نے ماتھے پر ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوئے سیانوں کی طرح بولا تو شفق اس کی یہ ادا دیکھ کر مسکرا اٹھی۔۔۔۔
اچھا تو تم یہ بتاؤ کہ آج تم یہاں کیا کر رہے ہو ہادی پہلے کہاں رہتے تھے؟!
میں پہلے ہوسٹل میں رہتا ہوں آج مجھے بخار تھا تو اپی اپنے ساتھ یہاں لے آئی اور آپ مجھ سے سوال پوچھے جا رہی ہیں اپنے بارے میں نہیں بتا رہیں کہ آپ کا کیا نام ہے۔۔۔۔۔
اچھا سہی تبھی تم آج یہاں موجود ہو اور میرا نام شفق ہے اور یہ میرا ہی گھر ہے۔۔۔۔
شفق نے مسکرا کر جواب دیا اور ہادی کے ساتھ بیٹھ کر مزید باتیں کرنے لگی پھر مغرب کی اذان پر اس کے قریب سے اٹھی اور اسے بھی واپس کمرے میں بھیج کر خود نماز ادا کرنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
