Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33
عینی پیچ رنگ کے چھوٹےفراک کے ساتھ پجامہ پہنے ہادی کو اپنے ساتھ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھائے شاہزین کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے پر عینی ہادی کے ساتھ اٹھی اور شاہزین کو دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔۔
شاہزین نے ان کے قریب آکر پہلے جھک کر ہادی کا سر چوما اور پھر عینی کا سر چوما۔۔۔۔۔
چلیں ؟؟؟
اس نے عینی سے پوچھا تو اس نے جلدی سے سر ہلا کر اپنے سر پر دوپٹہ لیا اور ہادی کا ہاتھ پکڑے شاہزین کے ساتھ چل دی۔۔۔۔۔
شاہزین انھیں ایک خوبصورت ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا اس نے ایک پرائیویٹ کیبن بک کروایا تھا کیونکہ وہ عینی کے ساتھ پبلک میں نہیں بیٹھنا چاہتا تھا وہ بلکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ کسی کی گندی نظر عینی پر پڑے۔۔۔۔۔
ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے انھوں نے ہلکی پھلکی گفتگو کی تھی اور ہادی کو دوبارہ کسی سکول میں ایڈمیشن کے بارے میں بھی انھوں نے بات کی تھی۔۔۔۔۔
وہ لوگ بہترین ٹائم گزار کر واپس آچکے تھے عینی ہادی کو دوسرے کمرے میں دوائی دے کر سلا چکی تھی اور اب اپنے کمرے میں آئی تھی جہاں شاہزین بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھا عینی کا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
عینی کے کمرے میں آتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف بڑھا جو شاہزین کو مسکرا کر دیکھتی اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی بالیاں اتار رہی تھی۔۔۔۔۔
شاہزین نے اسے پیچھے سے اپنی باہوں میں بڑھتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے اس کی کنپٹی کو ہلکا سا چھوا اور شیشے میں اپنے اور عینی کے عکس کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
وہ ایک دوسرے کے ساتھ بلکل مکمل لگ رہے تھے جیسے چاند اور سورج کی جوڑی ہو شاہزین نے آہستہ سے اپنے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو اس کی گردن سے پیچھے کیا اور اس پر پھونک ماری تو عینی کانپ کر رہ گئی جسے محسوس کر کے شاہزین کے چہرے پر مسکراہٹ مزید پھیل گئی۔۔۔۔
پھر شاہزین نے جھک کر اس کی گردن پر ہلکا سا بوسہ لیا اور اس کا رخ اپنی جانب کر کے اس کے چہرے پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔
ش۔۔۔۔شاہزین۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔حور آج میں تمھیں محسوس کرنا چاہتا ہوں پلیز۔۔۔۔۔
وہ جزبات سے بوجھل لہجے میں بولا اور آکر میں جان بوجھ کر پلیز بولا تو عینی صرف اپنے لب کاٹ کر ہی رہ گئی ۔۔۔۔۔
شاہزین نے اس کے کندھے سے دوپٹہ سرکایا اور وہاں پر اپنا دہکتا لمس چھوڑا اور پھر عینی کی مزحمت نہ دیکھ کر اس نے عینی کو اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا مگر عینی کا ہلکا ہلکا کانپنا وہ اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے حور کیا تمہیں لگتا ہے میں اپنی جان کو تکلیف پہنچا سکتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکتے ہوئے بولا تو عینی نے اپنی کانپتی پلکوں کی اوٹ سے شاہزین کو دیکھ کر اپنا سر ہاں میں ہلا کر اپنی رضا مندی دی۔۔۔۔۔
شاہزین نے جھکتے ہوئے اس کے سر کو دوبارہ چوما اور پھر آہستہ اس کے ایک ایک نقوش کو چھو کر اسے محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔
*************************
ارقم آج یونیورسٹی لیٹ جانے کا سوچ کر ہاشم سے ملنے اس کے آفس آیا تھا وہ گاڑی پارک کر کے گاڑی سے اترا اور ہاشم کے آفس کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
اس نے ہاشم کی سیکرٹری سے اس کے آفس میں موجودگی کے بارے میں پوچھا اور دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا جہاں ہاشم اپنے مینجر سے کچھ ڈسکس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ارقم کو اپنے آفس میں دیکھ کر ہاشم نے اپنے مینجر کو بعد میں آنے کا بولا کر جانے کا کہا تو وہ خاموشی سے چلا گیا۔۔۔۔
آؤ ارقم بیٹھو ۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا ۔۔۔۔۔
ہاشم ارقم کو اپنے سامنے موجود کرسی پر بیٹھنے کا شارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔
ارقم خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہاشم ۔۔۔۔ بھائی میں نے بابا سے بات کر لی ہے وہ راضی ہیں مگر یہ یاد رکھیے گا کہ میں نے صرف اس وجہ سے بابا کو منایا ہے کیونکہ مجھے اپنی بہن کی خوشی بہت عزیز ہے اگر آپ نے اسے کچھ بھی کہا یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا تو میں آپ کا حشر بگاڑ دوں گا۔۔۔۔۔
وہ تمیز کے دائرے میں رہتا ہوا ہاشم کو دھمکا رہا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کہ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے پیپر ویٹ گھماتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ سے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔ہا تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں پھر عالی کی شادی اپنے دوست سے کروا دوں اس نے بھی کل مجھ سے بات کی ہے اور وہ تو کنوارا بھی ہے اور اسے عالی کے ماضی سے کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ طنزیہ ہنستے ہوئے ہاشم کا سکون برباد کر گیا۔۔۔۔۔
اب کچھ نہیں ہو سکتا تم نے چچا جان سے بات کر لی ہے۔۔۔۔
کبھی بھی ایسا مت سمجھیے گا کہ بابا نے ایک بار کہہ دیا ہے تو وہ منع نہیں کر سکتے میں اگر آپ کے لیے منا سکتا ہو تو آپ کے لیے انکار کروانا میرا لیے بلکل بھی مشکل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے ہاشم کی طرف دیکھ کر بولا
علیشبہ کو میں کچھ نہیں کہو گا اور نہ ہی اس کے ساتھ برا سلوک کروں گا میں جاہل نہیں ہوں جو اسے مارتا پیٹتا پھروں۔۔۔۔۔
وہ بھی اب کی بار سنجیدگی سے بولا
مجھے امید ہے کہ آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے اور ۔۔۔۔۔اس دن کی بتمیزی کے لیے میں معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ معافی مانگتے ہوئے بلکل بھی شرمندہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
آہاں ویسے میری بھی غلطی ہے مجھے تم لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔
ہاشم سنجیدگی سے بولا۔۔۔تو ارقم نے اس کی طرف دیکھا
آپ نے اچھا نہیں کیا تھا جب تایا تائی کی ڈیتھ ہوئی تھی تو بابا بھی بے حد پریشان اور بیمار ہو گئے تھے مگر جب بابا کو آپ کی ضرورت تھی تو آپ اپنی خودغرضی کے لیے ہمیں چھوڑ کر شہر چلے آئے اور اسی خودغرضی کے لیے آپ نے حور اور ہادی کا بچپن بھی برباد کر دیا تھا۔۔۔۔۔
ارقم سنجیدگی سے بولتا اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔۔۔
ارقم وہ وقت میرے لیے بہت مشکل تھا ۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مضطرب سا بولا تو ارقم اس کی بات سن کر خاموشی سے آفس سے نکل گیا ارقم کو جاتے دیکھ ہاشم صرف گہری سانس بھر کر ہی رہ گیا۔۔۔۔۔
*******************
شفق رات سے ہی بے حد خوش تھی ارقم نے اسے کال کر کے بتا دیا تھا کہ اس کے پیرنٹس جمعہ کو آئیں گے جس وجہ سے اب وہ پرسکون سی یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بنے ایک درخت کے نیچے بیٹھی عالی سے بات کر رہی تھی علیشبہ بھی بے حد خوش تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ اب وہ جلد ہی اپنی محبت کو پالے گی۔۔۔۔۔۔
عالی کسی دن شاپنگ کا پلان بنائیں ؟؟
شفق عالی سے بولتی ہوئی اپنے موبائل کو دیکھنے لگی تو کسی نے پیچھے سے آکر اس کا ہاتھ پکڑ لیا شفق نے جلدی سے اپنا ہاتھ پکڑنے والے کی طرف دیکھا تو اسے وہ لڑکا دکھا جس نے اس کی برتھڈے پارٹی پر اس سے بدتمیزی کی تھی۔۔۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا ورنہ ابھی چیخ چیخ کر سب کو اکٹھا کر لوں گی۔۔۔۔
شفق کھڑی ہوتی ہوئی غصے سے بولی اور مسلسل اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
مجھے تمھارے ساتھ اکیلے میں بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
وہ لڑکا شفق کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
میری دوست تمھارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی ہاتھ چھوڑو اس کا ابھی ورنہ تمھارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔
شفق کی بجائے عالی نے غصے سے کہا
بکواس بند کرو اپنی تم سے کسی نے بات نہیں کی اور تم فورا چلو میرے ساتھ ورنہ گھسیٹ کر لے جاؤں گا۔۔۔۔۔
وہ لڑکا غصے سے بولا۔۔۔۔
تمہیں جو بات کرنی ہے یہاں ہی کرو اور میرا ہاتھ چھوڑو تم نے منہ سے بات کرنی ہے یا ہاتھ سے ۔۔۔۔۔
شفق سنجیدگی سے بولی تو اس نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔
میرے موم ڈیڈ کل تمھارے لیے رشتہ لے کر آئیں گے اور تم ہاں میں جواب دو گی۔۔۔۔۔
تم ہو کون اور میں کیوں تم جیسے گھٹیا شخص سے شادی کروں گی ۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی جانتی ہو تم مجھے حزیفہ نام ہے میرا تمھاری موم سے میری موم نے بات کی تھی رشتے کی اور شادی تو تمھاری مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔
ابھی وہ مزید بولتا کہ ارقم جو ابھی یونیورسٹی آیا ہی تھا اور عالی نے اسے میسج کیا تھا جسے پڑھ کر وہ فورا اس طرف آیا تھا مگر اس کی بات سن کر غصے میں ارقم نے ایک زوردار مکا اس کے منہ پر جڑ دیا۔۔۔۔۔
اور پھر یکے بعد دیگر کئی مکے اس کے منہ پر مارے۔۔۔۔
وہ صرف میری محبت ہے اور میں ہی اس سے شادی کروں گا تم جیسے لوفر اور آوارہ شخص اس کے نزدیک بھی آئے گا تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔
وہ مسلسل اسے مارتا بول رہا تھا اسے مارتے دیکھ اردگرد سٹوڈنٹ بھی ان کی جانب متوجہ ہوگئے تھے شفق اور علیشبہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر ارقم کو حزیفہ سے دور کرنے کی کوشش کی مگر وہ تو اسے چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
ارقم پلیز اسے چھوڑ دیں وہ مر جائے گا۔۔۔۔
شفق نے کانپتی آواز میں ارقم سے کہا تو اس نے گہرا سانس لے کر اپنا غصہ قابو کرتے ہوئے حزیفہ کے ایک زوردار ٹانگ ماری اور وہاں سے شفق اور عالی کے ساتھ وہاں سے چلا گیا بلکہ ان دونوں کو وہ یونیورسٹی سے ہی لے آیا تھا۔۔۔۔۔
پورے راستے ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ارقم خاموشی سے شفق کو اس کے گھر چھوڑ کر عالی کے ساتھ اپنے گھر آگیا تھا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
**********************
عینی صبح اٹھی تو خود کو شاہزین کے حصار میں پاکر رات کے سارے واقعات یاد کرتی سرخ چہرے کے ساتھ جلدی سے شاہزین کے پاس اٹھی اور الماری سے اپنا سوٹ نکال کر شاور لینے چلی گئی۔۔۔۔۔
وہ شاور لے کر آئی تو شاہزین کو بیڈ سے ٹیک لگائے دیکھ کر وہ سرخ چہرے کے ساتھ جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر اپنے بالوں کو تولیے سے آزاد کر کے انھیں کنگی کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسے دیکھ کر شاہزین کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر عینی کی طرف آنے لگا تو وہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی مگر شاہزین نے جلدی سے اسے پکڑ کر اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ کہاں جارہی ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کے گال پر اپنے لب رکھتا بولا تو عینی سرخ چہرے کے ساتھ بولی۔۔۔۔
و۔۔وہ ہادی کو اٹھانا ہے۔۔۔۔۔
آہاں مجھ سے بھاگ رہی ہو ؟؟؟
وہ اس کی دوسری گال پر لب رکھتا بولا
ش۔۔۔۔شاہزین پلیز جانے دیں۔۔۔۔
وہ ہلکی آواز میں منمنائی ۔۔۔۔۔۔
تو شاہزین نے اس کا سر چوم کر اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا تو عینی بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی جبکہ پیچھے سے شاہزین کا قہقہہ اسے ضرور سنائی دیا تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
