Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27

شاہزین آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب عینی ہادی کو تیار کروا کر کمرے میں داخل ہوئی شاہزین آفس جانے سے پہلے ہادی کا ایڈمیشن کروانے جا رہا تھا اس وجہ سے ہادی کو اپنے ساتھ لے جا رہا تھا جبکہ عینی ان کے ساتھ نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
حور یار ایک کام تو کرو میرا کوٹ تو مجھے پہنا دو۔۔۔۔۔۔
اس نے عینی سے کہا تو عینی نے بیڈ پر پڑا کوٹ اٹھایا اور شاہزین کو کوٹ پہنانے میں مدد کی۔۔۔۔۔۔
میں ہادی کا ایڈمیشن کروا کر اسے واپس چھوڑ جاؤں گا فکر مت کرنا اور اگر موم کچھ کہیں تو ان کی باتوں کو نظر انداز کر دینا دل پر لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ہاں میرے آنے سے پہلے اچھا سا تیار ہو جانا ۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولتا اس کا سر چوم کر ہادی کو اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔۔
****************
حمنا کو جب ہوش آیا تو اس کے ماں باپ نے اس سے کینسیو نہ کرنے والی بات چھپا لی ۔۔۔۔ مگر آخر کب تک یہ بات چھپی رہ سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی جب نرس اور اس کو اپنی موم کی آوازیں سنائی دیں جب اس نے نرس کو کہتے سنا کہ اب وہ کینسیو نہیں کر سکتی تو فورا اس نے اپنی آنکھیں کھول کر اپنی ان لوگوں کی طرف دیکھا جبکہ اس کی موم نرس کو خاموش کروا رہی تھیں۔۔۔۔۔
م۔۔۔۔موم ک۔۔کیا یہ سچ کہہ رہی ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں ؟؟؟؟
حمنا میری جان ابھی تم آرام کرو ورنہ تمھاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔
موم میں آپ سے پوچھ رہی ہوں کیا یہ سچ کہہ رہی ہے ؟؟؟ ہاں یا نہیں میں جواب دیں۔۔۔۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں یہ سچ بول رہی ہے ۔۔۔۔یہ سب ہماری غلطی ہے ہمیں تمہیں اکیلے گھر چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔
وہ آخر روتے ہوئے سچ بول ہی پڑیں۔۔۔۔۔
ج۔۔۔۔۔۔جھوٹ بول رہی ہیں نہ آپ یہ کیسے ہو سکتا ہے ن۔۔۔۔نہیں بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے ن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔
وہ مسلسل سر نفی میں ہلاتی بول رہی تھی یہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا تھا اس نے تو ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا اسے ایک دم خود سے وحشت سی محسوس ہوئی اس نے بھی تو اپنی پہلی اولاد کو ناحق قتل کیا تھا یہ اس کا ہی مکافات عمل تھا کہ اب وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی اس نے تو حور اور ہادی کے ساتھ بھی تو برا کیا تھا پھر اس کے ساتھ کیسے برا نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔
آنسو اب اس کی آنکھوں سے روانی سے بہنے لگے تھے نرس نے اس کی حالت دیکھ کر جلدی سے اسے بے ہوشی کا انجیکشن لگا دیا تھا تاکہ وہ پر سکون ہو سکے۔۔۔۔۔
••••••••••••••••••••
ہاشم کو صبح ہی احمر سے حمنا کے ساتھ ہوئے واقعہ کا پتا چلا تھا حمنا کے ماں باپ کا گھر چونکہ احمر کے گھر سے دو گھر آگے تھا تو وہاں کی ملازمہ سے تقریبا سب کو اس کے ساتھ ہوئے واقعہ کا پتا چلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے حمنا کے بارے میں سن کر دکھ بلکل نہ ہوا ہاں ۔۔۔۔ مگر افسوس ضرور ہوا تھا۔۔۔۔۔
اسے اپنے دوست سے پتا چلا تھا کہ آخری دفعہ ہادی اور حور کئی مہنے پہلے ایک پارک میں دیکھے گئے تھے اس کے بعد کہاں گئے کسی کو نہیں پتا تھا اس نے یہاں تک کہ ہر یتیم خانہ میں بھی چیک کر والیا تھا مگر ناکامی ہی اس کی قسمت میں تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ ہر روز بے سکونی کی نیند ہی سوتا تھا وہ جانتا تھا وہ سکون سے تب ہی جی سکے گا جب وہ ہادی اور حور کو ڈھونڈ لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے رہ رہ کر اپنا ہادی کو تھپڑ مارنا یاد آتا تھا وہ سوچتا تھا کہ کاش وہ وقت پیچھلے لے جاسکتا تو کبھی ہادی کو تھپڑ نہ مارتا اور نہ ہی ان دونوں کو گھر سے نکالتا۔۔۔۔۔۔
******************
وقت اپنی پوری رفتار سے گزر رہا تھا شاہزین کو آفس جاتے ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا ہادی بھی باقاعدگی سے سکول جارہا تھا عینی بھی شاہزین کے کہنے پر اپنے امتحانات کی تیاری کر رہی تھی اس نے جو پرائیویٹ ایڈمیشن لیا تھا اب اس کے پیپر ہونے والے تھے سحر بیگم وقفے وقفے سے اسے باتیں سنا کر تکلیف پہنچانا نہ بھولتیں تھیں۔۔۔۔
شفق اور ارقم بھی ایک دوسرے کو چاہنے لگے تھے وہ دونوں اپنے احساسات کے بارے میں جانتے تھے مگر ایک دوسرے کو ابھی دونوں نے ہی نہیں بتایا تھا لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کے احساسات اور جزبات سے بھی بخوبی واقف تھے علیشبہ تو پہلے ہی جان گئی تھی کہ ان دونوں میں ضرور کوئی کونیکشن ہے اور ویسے بھی اسے ارقم کی پسند اور اپنی دوست سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔۔
مگر اس وقت کے دوران کچھ لوگوں کی زندگی رک گئی تھی جیسے ہاشم صبح آفس جاتا تو رات کو گھر آتا اسے تو اب اپنے ہی گھر سے وحشت ہوتی تھی اس گھر میں اکیلے رہنے سے اسے خاموشی کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی وہ چار پانچ دفعہ حویلی بھی ہو کر آگیا تھا اس کی علیشبہ سے اس دوران صرف ایک بار ہی ملاقات ہوئی تھی لیکن اس کے بعد اس کی سوچوں میں اب علیشبہ بھی شامل ہوگئی تھی وہ جانتا تھا کہ حدید صاحب اور ارقم کبھی بھی اس کا رشتہ علیشبہ سے طے نہیں کریں گے وہ جتنا اس کی سوچوں کو جھٹکتا اتنا ہی وہ اس کی سوچوں پر قابض تھی یہاں تک کہ وہ مجبور ہوتا ایک دن ارقم اور علیشبہ جس جگہ رہ رہے تھے اس علاقے میں گیا مگر گھر میں داخل ہونے کی بجائے وہ باہر ہی گاڑی میں بیٹھا رہا پھر تھوڑی دیر بعد اسے ارقم علیشبہ کو گیٹ کے باہر چھوڑتا دکھائی دیا اس وقت ارقم نہ پہچان لے اس لیے وہ فوری سیٹ میں نیچے کی طرف جھک گیا تھا جس کی وجہ سے وہ علیشبہ کا چہرہ صحیح سے دیکھ نہ سکا۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ علیشبہ کو دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔۔۔۔
علیشبہ کی زندگی بھی بے کیف گزر رہی تھی بس ایک بار اس ستمگر کو دوبارہ حویلی دیکھ لیا تھا اس کے بعد اس سے مل نہیں پائی تھی جس وجہ سے اس کا دل ہاشم سے دوبارہ ملنے کو بے قرار تھا اسے پتا تھا کہ وہ یہ غلط کر رہی ہے مگر اس کے دل کو کون سمجھتا جو اسے دوبارہ دیکھنے پر بضد تھا۔۔۔۔۔۔
حمنا کی حالت بھی اب کافی بہتر تھی وہ ٹھیک ہوکر گھر آچکی تھی جبکہ شاہزیب تو اس کے دوبارہ ماں نہ بننے کی خبر سن کر اس سے رخ موڑ گیا تھا اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس میں اور ہاشم میں کیا فرق ہے اگر ہاشم کی موجودگی میں یہ سب ہوتا تو وہ اسے اپنے ہاتھوں کا چھالہ بنا کر رکھتا مگر اب وہ کیا کرسکتی تھی اس نے خود شاہزیب کے بہکاوے میں آکر ہی ہاشم سے طلاق لی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ دن بہ دن ڈیپریشن میں جا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے والدین اس کے لیے بے حد پریشان رہنے لگے تھے لیکن وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی اور اب تو اس نے پروپر دوائی لینا شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے اس کی حالت کافی بہتر ہوگئی تھی
آج اتوار کا دن تھا اور شاہزین ، عینی ، ہادی اور شفق ہال میں بیٹھے لڈو کھیل رہے تھے اور ساتھ باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔
شفق آپی آپ چیٹنگ کر رہی ہیں میں نے ابھی خود دیکھا دو نمبر آئے اور آپ نے تین نمبر چلائے ۔۔۔۔۔
ہادی نے شفق مس چیٹنگ کرتے دیکھا تو فورا بول پڑا پہلے والی گیم بھی وہی جیتی تھی اس وجہ سے وہ اس پر خاص نظر رکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
ہادی جھوٹ مت بولو میں نے بھی دو ہی چلائے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے آنکھیں دکھاتی بولی۔۔۔۔
ہائے اللہ آپی آپ مجھے ڈرانے کی کوشش بلکل مت کریں میں اتنا بھی ڈرپوک نہیں ہوں کہ آپ کو چپ چاپ چیٹنگ کرتے دیکھوں تو چپ رہوں۔۔۔۔۔
وہ سیانوں کی طرح بولا تو عینی اور شاہزین اس کی بات سن کر مسکرا اٹھے جبکہ شفق نے اس کی بات پر منہ بگاڑا۔۔۔۔
ابھی وہ مزید ہادی سے لڑتی کہ تیمور صاحب ہال میں داخل ہوتے شاہزین سے بولے۔۔۔۔۔
شاہزین کل اسلام آباد ایک کلائنٹ سے میٹنگ ہے میں چلا جاتا مگر یہاں بھی ایک ضروری میٹنگ ہے جس میں میرا ہونا بہت ضروری ہے تو میری جگہ تم چلے جاؤ گے۔۔۔۔۔
جی ڈیڈ میں چلا جاؤں گا آپ فکر مت کریں میں وہاں سب کچھ سنبھال لوں گا۔۔۔۔۔
اگر تم چاہو تو عینی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ جب سے تم دونوں کی شادی ہوئی ہے تم لوگ تو گھومنے بھی نہیں گئے۔۔۔۔
ڈیڈ میں اسے اپنے ساتھ ضرور لے جاتا مگر اس کا پرسوں پیپر ہے اس وجہ سے اس بار تو یہ میرے ساتھ نہیں جا پائے گی مگر حور کے پیپر ہوتے ہی ہم ضرور کہیں گھومنے جائیں گے۔۔۔۔۔
وہ تیمور صاحب کی بات ضرور مان لیتا مگر جانتا تھا کہ حور کا پرسوں پیپر ہے اسی وجہ سے فورا انھیں انکار کر دیا جبکہ حور اس کے جانے کا سن کر اداس ہوگئی تھی اسے شاہزین کے ساتھ رہنے کی اتنی عادت ہوگئی تھی کہ اب تو اس کا شاہزین کو دوسرے شہرے بھیجنے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••
شاہزین کہ آج صبح آٹھ بجے کی فلائٹ تھی اور وہ اب تیار ہوچکا تھا عینی نے اس کی ساری پیکنگ رات کو ہی کر دی تھی اسی وجہ سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اب وہ عینی کو اپنے ساتھ لگائے کھڑا تھا جو اس کے جانے پر اداس تھی۔۔۔۔
شا۔۔۔شاہ پتا نہیں کیوں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ پ۔۔پلیز اپنا دھیان رکھیے گا اور وہاں پہنچتے ہی کال کر دیجیے گا۔۔۔۔۔
پتا نہیں کیوں آج صبح سے ہی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ برا ہونے والا ہے اس وجہ سے وہ کافی پریشان تھی
تم فکر مت کرو میں تمھیں وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے کال کروں گا اور اپنا دھیان رکھنا میں نے ویسے بھی دو دنوں تک واپس آہی جانا ہے۔۔۔۔
وہ اس کا سر چوم کر بولا تو عینی نے اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔
عینی اسے دروازے تک چھوڑنے گئی تھی جہاں ڈرائیور پہلے ہی شاہزین کو ائرپورٹ لے جانے کے لیے کھڑا تھا شاہزین آخری بار عینی کا سر چومتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا اور گھر سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
وہ معمول کے مطابق سب کے ساتھ ناشتہ کرکے اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے پیپر کی تیاری کر رہی تھی تیمور صاحب اپنے آفس جاچکے تھے جبکہ شفق اپنی یونیورسٹی چلی گئی تھی اور ہادی اپنے سکول چلا گیا تھا۔۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب اسے ہادی کے سکول سے کال آئی ان کے مطابق ہادی سکول کی سڑھیوں سے گر گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا سر بری طرح پھٹ چکا تھا سکول انتظامیہ اسے ہوسپٹل لے کر جا رہی تھی اور اسے بھی فورا پہنچنے کا کہا وہ دھڑکتے دل کے ساتھ جلدی سے اپنی رزیہ کو بتا کر اپنی چادر لے کر گھر سے نکلی جبکہ وہ ساتھ اپنا بیگ لینا نہیں بھولی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل پہنچ کر ہادی کے بارے میں ریسیپشن سے پوچھ کر آئی سیو کی طرف گئی جہاں اس کے سکول کی ٹیچر موجود تھیں اس نے عینی کو بتایا تھا کہ اس کے اتنی شدید چوٹ لگی ہے کہ وہ بار بار ہوش میں آر بے ہوش ہو رہا ہے اس کے سر کے مخصوص حصے میں خون جمنے کا خطرہ ہے جس وجہ سے وہ لوگ اس کا سٹی سکین کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے اپنا موبائل نکال کر شاہزین کو کال ملائی مگر اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا اس نے تیمور صاحب کو کال ملائی تو وہ بھی فون نہیں اٹھا رہے تھے کیونکہ آج ان کی سارے سٹاف کے ساتھ ایک بہت ضروری میٹنگ تھی اور اس کے بعد ان کی ایک کلائنٹ سے میٹنگ تھی اس نے آخر مایوس ہو کر کال ملانا چھوڑ دی اور ہادی کے لیے دعا کرنے لگی بے شک اللہ کبھی بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر تھوڑی دیر بعد باہر آیا اور عینی کو بتایا کہ ہادی کا آپریشن کرنا پڑے گا اس کے لیے پیسے جمع کر وا دے اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ دے سکتی شاہزین اور تیمور صاحب اس کا فون نہیں اٹھا رہے تھے اس نے پھر کچھ سوچتے ہوئے گھر فون کیا رزیہ نے فون اٹھایا تو اس نے رزیہ کو سحر بیگم کو فون دینے کا بولا۔۔۔۔
کیا بات ہے لڑکی کیوں فون کر رہی ہو۔۔۔۔
م۔۔۔میم مجھے پیسو کی ضرورت ہے ہادی کے آپریشن ہونا ہے کوئی میرا فون نہیں اٹھا رہا پ۔۔۔پلیز آپ دے دیں۔۔۔۔
وہ پہلے عینی کو انکار کرنے لگی تھیں کہ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
میں تمھیں پیسے ابھی بھجوا دوں گی مگر میری ایک شرط ہے جو تمھیں ماننی پڑے گی ۔۔۔۔
ج۔۔۔جی جو بھی شرط ہے میں ماننے کو تیار ہوں۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں پیسے لے کر ہوسپٹل پہنچ رہی ہوں وہاں ہی بات ہوگی۔۔۔۔
عینی نے پیسے کو انتظام ہوتے ہی تھوڑا سکون کا سانس لیا اور دور شریف پڑھنے لگی۔۔۔۔
سحر بیگم تھوڑی دیر بعد ہوسپٹل پہنچ چکی تھیں اور انھوں نے پیسے بھی جمع کر وا دیے تھے ۔۔۔۔۔
اب چونکہ میں نے پیسے جمع کروا دیے ہیں تو تمہیں میری شرط ماننی پڑے گی ۔۔۔۔
ج۔۔۔جی کیا شرط ہے۔۔۔۔
وہ لب کاٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔
اب تم گھر میں واپس قدم رکھنے کی کوشش بھی مت کرنا میں چاہتی ہوں کہ تم آپریشن کے فورا بعد ہادی کو لے کر یہاں سے چلی جاؤ اور یہ رہے مزید پچاس ہزار روپے میں اب تمھیں اپنے گھر اور برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
اور نہ کرنے کی جرت بھی مت کرنا اگر تمھارے بھائی کا آپریشن کروا سکتی ہوں تو اسے رکوانے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گی۔۔۔۔۔
عینی کو مجبورا ان کی بات ماننے پڑی اور اس نے سحر بیگم سے ہادی کو یہاں سے لے جانے کا وعدہ کر دیا تو سحر بیگم واپس گھر چلی گئیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *