Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04
عینی گھر واپس آکر ہادی کو لے کر بازار سے میک اپ کا کچھ سستہ سامان لے کر اور ساتھ ہی سستے سے لینز لے کر واپس گھر آگئی اور گھر واپسی پر گلی کی کونے والی دکان سے چاول اور کچھ سامان لے لیا تاکہ کچھ کھانے کو بنا سکے جو پیسے اس کے پاس تھے وہ انھیں احتیاط سے استعمال کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
گھر آکر عینی نے پانی پیا اور منہ ہاتھ دوھ کر تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گئ ساتھ ہی ہادی بھی لیٹ گیا وہ ہادی کے بالوں میں ہلکا ہلکا ہاتھ چلانے لگی
ہادی کے سوتے ہی وہ اٹھی اور میک اپ نکال کر اپنے منہ کا میک اپ کیا اور لینز لگانے کی کوشش کرنے لگی لینز لگانے کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا اس نے اپنی آنکھیں جھپک کر لینز کے ایڈجسٹ ہونے کے بعد خود کو شیشے میں دیکھا تو اس کا سفید رنگ اور آنکھوں کا رنگ بدلنے کی وجہ سے وہ کوئی اور ہی لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
ہادی جو واشروم جانے کے لیے اٹھا تھا عینی کو دیکھ کر پہچان نہ سکا تو چیخ اٹھا اور عینی کو آوازیں دینے لگا اسے ایسا کرتے دیکھ عینی جلدی سے بولی
ارے چپ ہو جاؤ ہادی یہ میں ہی ہوں میک اپ کیا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔ دیکھو ابھی میں تمہیں منہ دھو کر دکھاتی ہوں
اس کی بات سن کر ہادی خاموش ہو گیا اور عینی کو منہ دھوتا ہوا دیکھنے لگا جب عینی نے لینز اتار کر اپنا منہ دھویا تو ہادی نے سکون کا سانس لیا اور اس کے گلے لگ گیا اور معصومیت سے بولا
اپی آپ نے ایسا میک اپ کیوں کیا تھا آپ میک اپ کے زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ہادی ادھر آؤ میرے ساتھ بیٹھو میں تمہیں بتاتی ہوں تمہیں پتا ہے نہ میں صبح شائستہ باجی کے ساتھ کام کے لیے گئ تھی انھوں نے مجھے کہا ہے کہ میک اپ کرو گی تو ہی وہ کام دیں گی اور صبح میں ایسے ہی میک اپ کر کے جاؤں گی تاکہ مجھے کام مل جائے پھر میں اپنے ہادی کو ایک اچھے سکول میں داخل کرواؤں گی
عینی اسے اپنے ساتھ لے کر بیٹھتی ہوئی بولی اور آخر میں محبت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا وہ ہادی سے جھوٹ نہیں بولنا چاہتی تھی اسی وجہ سے اس نے اسے بتا دیا۔۔۔۔۔۔
آپی اپ کام مت کرو میں کچھ کام کر لوں گا مجھے پتا ہے آپ کو میری وجہ سے مشکل ہو رہی ہے نہ ۔۔۔۔۔
ہادی نے معصومیت سے کہا تو اس کی بات سن کر عینی کی آنکھیں نم ہوگئیں اور وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے دوبارہ اس کا ماتھے کو چومتی ہوئی بولی
ایسی بات نہیں ہے ہادی تم تو میری چھوٹی سی جان ہو اور تم کوئی کام نہیں کرو گے جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ کام بلکل بھی مشکل نہیں ہے بس ایک لڑکی کی دیکھ بھال ہی کرنی ہے اور پھر میں بھی ساتھ ساتھ پڑھوں گی پھر جب میری تعلیم مکمل ہوجائے گی ہم یہاں سے چلے جائیں گے اور میں اچھی سی جگہ نوکری ڈھونڈ لوں گی
اپی انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جب کہ ہماری غلطی بھی نہ تھی۔۔۔۔۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ہم ابھی اپنے گھر ہوتے اور ہم دونوں آرام سے پڑھ رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔
ہادی اس کی بات سن کر دکھی سا بولا
تمھیں پتا ہے ہادی اللہ نہ ہمیں مشکل حالات دے کر آزماتا ہے اور اگر ہم صبر کریں گے تو وہ رب ہمیں اس کا اجر دے گا اور یہ ہماری قسمت میں تھا اور قسمت سے جو لڑنے کی کوشش کرتا ہے اس کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرماہ بولی تو ہادی نے اس کے جواب میں پوچھا
تو اس کا مطلب ہم صبر کریں گے تو پھر ہمیں بھی انعام ملے گا ۔۔۔۔
ہاں بلکل اور یاد رکھنا انسان ساتھ چھوڑ جاتے ہیں مگر اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے اور اب اچھے بچوں کی طرح اٹھو اور منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا بنانے لگی ہوں
عینی نے جواب دیا تو ہادی اٹھتا ہوا بولا
ٹھیک ہے آپی میں یاد رکھوں گا ۔۔۔۔۔۔۔
ہادی کو جاتے دیکھ کر وہ اٹھی اور کھانا بنانے لگی۔۔۔۔۔۔۔
ارقم کتنے دنوں کے لیے روک رہے ہو حویلی ؟ ۔۔۔۔۔۔
ارقم کے والد حدید صاحب نے چائے پیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
بابا ایک ہفتے کے لیے آیا ہوں اس کے بعد واپس چلا جاؤں گا اور پھر ایڈمیشن بھی تو شروع ہوگئے ہیں عالی کا ایڈمیشن بھی کروانا ہے
ارقم نے جواب دیا ۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ صحیح میری بیٹی سے پوچھ لینا تھا کہ اس نے کس میں ایڈمیشن لینا ہے وہ جس میں چاہے گی لے دینا ۔۔۔۔۔
حدید صاحب محبت سے عالی کا سوچتے ہوئے بولے
بابا جانی آپ فکر مت کریں میں نے بھائی کو بتا دیا ہے ۔۔۔۔۔
ارقم کی بجائے جواب عالی کی طرف سے آیا جو حدید کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
تو پھر مجھے بھی بتاؤ عالی کہ کس میں آپ نے ایڈمیشن لینا ہے ۔۔۔۔۔۔
حدید صاحب نے مسکراتے ہوئے عالی سے پوچھا
بابا جانی میں نے سوچا ہے بی ایس انگلش میں کر لیتی ہوں میرے انگلش کے مارکس بھی اچھے تھے
عالی نے حدید صاحب کو جواب دیا اور اپنے ہاتھ میں موجود چاکلیٹ کھول کر کھانے لگی
ٹھیک ہے عالی کو پھر اس میں ہی ایڈمیشن لے دینا ارقم اور اپنی ہی یونیورسٹی میں لے دینا وہ کافی اچھی ہے ۔۔۔۔
جی بابا عالی کو بھی میں نے اپنی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے دینا ہے ۔۔۔۔۔
ارقم نے مسکراتے ہوئے عالی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا عالی کو دوبارہ ایک سال بعد اس نے کمرے سے نکل کر حدید صاحب سے بات کرتے اور چاکلیٹ کھاتے ہوئے دیکھا تھا وہ آہستہ آہستہ پہلے کی طرح ہو رہی تھی بے فکر اور پگلی ۔۔۔۔۔۔
ورنہ تو ایک سال پہلے ہونے والے واقعہ نے اسے خود کو مارنے پر مجبور کر دیا تھا وہ وقت ان کے لیے سب مشکل وقت تھا پھر اس کے بعد عالی تو خاموش ہوگئی ۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر حدید صاحب نے اپنا سر ہلایا اور عالی کو محبت سے دیکھنے لگے
بھائی آپ نہ اگلی دفعہ چاکلیٹ پیسٹری لائیے گا میں اب وہ کھاؤ گی ۔۔۔۔۔۔
چاکلیٹ منہ میں ڈال کر وہ ارقم سے بولی
عالی بچے پہلے چاکلیٹ تو کھالو پھر بول لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم کیچن سے نکلتے ہوئے عالی کو ایسے بولتے دیکھ کر بولیں
کچھ نہیں ہوتا امی بولنے دے جیسے بولتی ہے اور عالی اگلی دفعہ کیا میں تھوڑی دیر تک تمھیں پیسٹریز منگوا دیتا ہوں
ارقم پہلے رمنا بیگم اور پھر عالی سے بولا۔۔۔۔۔
سچی بھائی۔۔۔۔۔۔ منگوا دیں میرا کھانے کا بہت دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
عالی خوش ہوتے ہوئے چاکلیٹ منہ میں ڈالتی ہوئے بولی
اس کے دوبارہ منہ میں چاکلیٹ ڈال کر بولنے پر رمنا بیگم نے اپنا سر نفی میں ہلایا کہ اس کا کچھ نہیں ہوسکتا جبکہ عالی کو پہلے کی طرح دیکھ کر وہ بھی بہت خوش تھیں
ابھی منگوا کر دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عالی کو دیکھتا اٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
شکریہ بھائی ۔۔۔۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔۔
حدید صاحب اپنے گاؤں کے سردار ہیں اور ان کی شادی رمنا بیگم سے ہوئی ان کا بڑا بیٹا ارقم ہے جو سنہری رنگت اور کالی آنکھوں سے مقابل کو چت کر جاتا ہے۔۔۔۔ اس سے تین سال چھوٹی علیشبہ۔۔۔ جو سفید رنگ اور کالی آنکھوں سے مقابل کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔۔۔۔
سحر کیا بنا اس لڑکی کا جو آج آئی تھی ۔۔۔۔
تیمور صاحب نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سحر بیگم سے پوچھا۔۔۔۔
جی لڑکی تو مجھے اچھی لگی ہے کل سے آئے گی وہ ۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
ہمم ٹھیک ہے اور یہ شاہزین کہاں ہے؟
تیمور صاحب نے ان کا جواب سن کر پوچھا۔۔۔۔۔
کہہ رہا تھا اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا ہے اور جلدی آجائے گا ۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے جواب دیا
ہمم پتا ہے مجھے وہ کتنا جلدی آجاتا ہے دن بہ دن یہ لڑکا بگڑتا جا رہا ہے یہ ساری آپ کے بے جا پیار کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔
تیمور صاحب برہم سے بولے۔۔۔
اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ اور ویسے بھی آپ بھول رہے ہیں وہ جو کر رہا ہے وہ ہماری سوسائٹی میں یہ عام سی بات ہے۔۔۔۔۔
سحر بیگم بھی برہم سی بولیں۔۔۔۔۔
تیمور صاحب نے ان کی بات سن کر اپنا سر نفی میں ہلایا کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
