Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29

عینی کو غائب ہوئے دو دن ہوگئے تھے اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا شاہزین نے ہر اس جگہ عینی کو ڈھونڈ لیا تھا جہاں اس کے ہونے کا امکان تھا مگر ناکامی کے علاوہ اسے کچھ حاصل نہ ہوا۔۔۔۔۔
وہ تھکا ہارا بکھرے حولیہ میں رات کے بارہ بجے گھر واپس آیا تو تیمور صاحب اسی کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ بکھری حالت میں ان کے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
ڈیڈ پلیز اسے ڈھونڈ کر لادیں مجھے اس مے بغیر م۔۔۔۔۔میرا سانس بند ہو رہا ہے پلیز ڈیڈ وہ خود تو چلی گئی ہے ساتھ میرا سکون ، چین اور خوشیاں سب کچھ لے گئی ہے ۔۔۔۔۔
میں ک۔۔کیا کروں اسے کہاں ڈھونڈوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ وہ بہت معصوم ہے ڈیڈ میں نے اس کے ساتھ بہت برا کیا و۔۔۔۔وہ پتا نہیں کس حال میں ہوگی مجھے اپنا موبائل چارج رکھنا چاہیے تھا پتا نہیں اس نے آخری بار مجھ سے کیا بات کرنی تھی یہ ساری میری غلطی ہے مجھے اسے چھوڑ کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔
شاہزین سنبھالو خود کو ہم انھیں جلد ہی ڈھونڈ لیں گے۔۔۔۔۔
اس کی درد بھری آواز سن کر انھوں نے ضبط سے شاہزین کو ٹوکا۔۔۔۔۔
م۔۔۔۔میں نے تو ابھی اسے یہ بھی نہیں بتایا تھا ڈیڈ کہ میں اس سے م۔۔۔۔۔محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔ ایسے کیسے وہ مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہے میں اسے ڈھونڈوں گا اور تب تک ڈھونڈتا رہوں گا جب تک وہ مجھے مل نہیں جاتی اور پھر میں اسے قید کر لوں گا کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑتا ہوا نم آنکھوں کے ساتھ ضبط کی انتہا پر تھا۔۔۔۔۔۔وہ بول کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا
جبکہ پیچھے سے تیمور صاحب اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے
••••••••••••••••••••••••••
حمنا کو دن بدن ڈپریشن میں جاتے دیکھ کر اس کے والدین نے اس کے لیے شہر کا سب سے مشہور ماہر نفسیات حمزہ ابراہیم سے اسے ریگولر سیشن دلوانے کا سوچا۔۔۔۔
وہ آج ڈاکٹر حمزہ کے پاس موجود تھی وہ یہاں آنا نہیں چاہتی تھی مگر اپنے موم ڈیڈ کی درخواست سن کر آہی گئی ۔۔۔۔۔
وہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی جب اسے ایک پانچ سال کے قریب بچی اپنی طرف آتے دکھائی دی وہ کہیں سے بھاگتی ہوئی آرہی تھی وہ بچی آکر اس کے قریب بیٹھ گئی تھی حمنا نے حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا کاش وہ اپنے بچے کو نہ مارتی تو آج خود ایک بچے کی ماں ہوتی۔۔۔۔۔
آنٹی میری مدد کریں چھپنے میں ۔۔۔۔۔
وہ حمنا سے بولی تو حمنا نے اسے کو دیکھا
بیٹا آپ کی مما کہاں اور آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟؟
میری مما تو اللہ جی کے پاس ہیں آنٹی۔۔۔۔
وہ اداسی سے بولی
تو پھر آپ یہاں کس کے ساتھ آئی ہو ؟؟
حمنا کو اس کی اداسی پسند نہیں آئی اس وجہ سے بات بدل کر پوچھا۔۔۔۔
وہ میں اپنے بابا کے ساتھ آئی ہوں اور میرا نام عنایہ ہے اور آپ کا نام کیا ہے آنٹی۔۔۔۔
وہ معصوم آواز میں بولی جبکہ اس کا چہرہ بھاگ کر آنے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا
حمنا نے بے ساختہ جھک کر اس کے چہرے کو چوما۔۔۔۔
واہ عنایہ آپ کا نام تو بہت پیارا ہے میرا نام حمنا ہے۔۔۔۔
آپ کا نام بھی بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولی حمنا ابھی مزید اسے کچھ کہتی کہ پیچھے سے کسی کو عنایہ کو آواز دیتے سنا تو اس نے رخ پھیر کر آنے والی کو دیکھا
عنایہ میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں اگر سر کو پتا چل گیا کہ آپ ایسے بھاگ رہی ہیں تو وہ آپ کے ساتھ مجھے بھی ڈانٹیں گے۔۔۔۔
عنایہ کی کئیر ٹیکر بولی تو عنایہ برا سا منہ بناتی حمنا کے گال پر بوسہ لے کر اٹھی اور دھیمی آواز میں اس سے بولی۔۔۔۔
آنٹی میں کل آپ سے ملوں گی۔۔۔۔۔
وہ بول کر اپنی کئیر ٹیکر کا ہاتھ تھام کر چلی گئی
عنایہ کے جانے کے تھوڑی دیر بعد نرس نے اسے اندر جانے کا کہا تو وہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی
اسلام و علیکم مس حمنا تشریف رکھیے۔۔۔۔
وہ سر کے خم سے سلام کا جواب دے کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اگر آپ سلام کا جواب اونچی آواز میں دیتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر حمزہ ابراہیم نے پرسکون لہجے میں کہا تو حمنا جو ان کی طرف دیکھے بغیر کرسی پر بیٹھ گئی تھی اپنی نظریں اٹھا کر انھیں دیکھا۔۔۔۔اور دھیمی آواز میں انھیں جواب دیا
وعلیکم السلام !
میں چاہتا ہوں آپ مجھے اپنا ایک اچھا دوست سمجھ کر اپنی باتیں مجھ سے شیئر کریں ایسی باتیں جو آپ دوسروں کو نہیں بتا سکتیں آپ بے فکر ہو کر مجھے کچھ بھی بتا سکتی ہیں آپ کے اور میرے درمیان ہونے والی باتیں اس کمرے سے باہر کسی کو نہیں پتا چلیں گیں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر حمزہ نے شائستہ لہجے میں کہا تو حمنا اپنے انگلیوں سے کھیلتی ہوئی بولنے لگی۔۔۔۔۔
م۔۔میں جب بھی اپنی ماضی میں کی گئی غلطیوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرا دم گھٹتا ہے م۔۔۔مجھے نیند نہیں آتی ساری ساری رات میں بس یہ ہی سوچتی رہتی کہ اگر میں سہی وقت پر سنبھل جاتی تو آج میں پر سکون زندگی جی رہی ہوتی ۔۔۔اب میں اپنی زندگی سے بے زار ہوچکی ہوں مجھے بھوک نہیں لگتی کچھ کھانے کو دل نہیں کرتا میں کسی سے بات بھی نہیں کرتی مجھے خود سے عجیب بزاریت اور وحشت سی ہوتی ہے
کیا آپ نماز پڑھتی ہیں ؟؟؟ اللہ کا ذکر کرتی ہیں ؟؟
ن۔۔نہیں ۔۔۔۔
وہ شرمندگی سے بولی ۔۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے اللہ کو یاد کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے آپ کی سب پریشانیاں دور ہو جاتیں ہیں۔۔۔۔ آپ باقاعدگی سے نماز پڑھنا شروع کریں قرآن پاک پڑھیں اللہ کا ذکر کثرت سے کریں اور فارغ مت رہا کریں کوئی نیا مشغلہ تلاش کریں جیسے کوکنگ ہوگئی سلائی وغیرہ کچھ بھی جو بھی آپ کو پسند ہو وہ کریں اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور کم سے کم اپنے ماضی کو یاد کریں کیونکہ گزرا وقت واپس نہیں آسکتا مگر جو وقت اب آپ کے پاس موجود ہے آپ اسے بہترین طریقے سے استعمال کر سکتیں ہیں۔۔۔۔۔
وہ شائستگی سے بولے تو حمنا ان کے لہجے اور باتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔۔۔۔۔
میں نے خود اپنے ب۔۔۔۔بچے کو مار دیا اور اب اللہ نے جب مجھ سے یہ نعمت ہمیشہ کے لیے چھین لی ہے تو مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے کتنا بڑا گناہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔
میں بہت گناہگار ہوں میں نے بہت سے لوگوں کے ساتھ برا کیا اور سب سے زیادہ تو خود کے ساتھ برا کیا۔۔۔۔
اب اس نے اصل بات کھل کر بتائی تھی جو اسے جینے نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
انسان خطا کا پتلا ہے ہر کسی سے گناہ سر زد ہوجاتا ہے مگر آپ کو علم ہے کہ ہمارا رب کتنا عظیم ہے کتنا رحمان اور رحیم ہے وہ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اگر آپ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گی تو یہ جان لیں وہ اپنے بندے کو معاف کر دیتا ہے انسان جلدی معاف نہیں کرتا مگر وہ رب بہت جلدی معاف کر دیتا ہے۔۔۔۔
آپ اپنا تعلق رب سے جوڑ لیں یقین مانیں آپ کی ساری بے سکونی دور ہوجائے گی اور اپ کو اپنی زندگی سے بھی پیار ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں دنیا میں معجزے ہوتے ہیں کیا پتا اللہ کو آپ کی کونسی نئی ادا پسند آجائے اور وہ آپ کو دوبارہ اس نعمت سے نواز کر معجزہ کر دے۔۔۔۔۔
آپ اللہ سے مانگیں وہ آپ کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا اور نہ ہی کبھی مایوس کرے گا آپ اپنا ایمان مضبوط کریں اور اللہ سے تعلق جوڑیں۔۔۔۔
فلحال آپ کا ٹائم ختم ہوا اگلے ہفتے آپ سے دوبارہ ملاقات ہوگی میری باتوں پر غور کریں اور عمل بھی ضرور کریں پھر میں سے اگلے ہفتے کو پوچھوں گا۔۔۔۔
حمنا جو ابھی تک ڈاکٹر کی باتوں کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی ہلکا سا اپنا سر ہلایا اور اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔
************************
علیشبہ کل سے صرف ہاشم کی باتوں کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی اس کا دل کا ایک کونہ خوش تھا تو دوسرا کونے میں عجیب سا ڈر بیٹھا ہوا تھا جیسے اگر ارقم اور حدید صاحب نہ مانے تو۔۔۔۔۔
وہ اس سے آگے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی وہ خود غرض ہونا چاہتی تھی اپنی محبت کو پا لینا چاہتی تھی مگر وہ یہ کبھی بھول نہیں سکتی تھی کہ اس کے مشکل وقت میں ارقم اور حدید صاحب نے اس کا کتنا ساتھ دیا۔۔۔۔۔
اور صرف ان کی خاطر وہ دوبارہ اپنی محبت کو چھوڑ سکتی تھی ویسے بھی ہاشم سے زیادہ بڑا مقام اور مرتبہ اس کے دل میں حدید صاحب اور ارقم کا تھا۔۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ جو فیصلہ اس کے بابا کریں گے وہ خاموشی سے اس پر اپنا سر خم کر دے گی ۔۔۔۔۔اور کبھی ان کے فیصلے کے خلاف نہیں جائے گی۔۔۔۔
اس نے آج پھر یونیورسٹی سے چھوٹی کی ہوئی تھی کیونکہ دو راتوں سے وہ سہی سے سو نہیں سکی تھی اس وجہ سے صبح اس کے سر میں شدید درد تھا ۔۔۔۔
اپنے فون پر کسی کی کال آتے دیکھ اس نے کالر آئی ڈی چیک کی اور حویلی سے کال آتے دیکھ اس نے کال اٹھائی اور رمنا بیگم سے بات کرنے لگی۔۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••
ہاشم علیشبہ سے بات کر کے اور اس کا جواب سن کر کافی مطمئن ہوگیا تھا۔۔۔۔
اب صرف ایک مسئلہ تھا اور وہ تھا ارقم کو پہلے منانا اور پھر حدید صاحب سے بات کرنا اس سلسلے میں اس نے کسی دن ارقم کے گھر جا کر اس سے ملنے کا سوچا۔۔۔۔
اندر سے وہ ڈر بھی رہا تھا مگر پھر بھی اس نے ہمت کرکے اس سے بات کرنے کا سوچا وہ جانتا تھا کہ علیشبہ اس کی زندگی کو خوبصورت بنا دے گی اور سب سے بڑی بات وہ علیشبہ کی محبت چاہتا تھا جو وہ اس سے کرتی تھی تاکہ اس کی محبت سے اس کے سلگتے دل کو راحت پہنچ سکے۔۔۔۔۔
***********************
شفق اپنی کلاس سے باہر نکلی تو ارقم باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اس کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
شفق اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی ارقم بھی سیدھا ہوتا مسکرایا اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔۔۔۔۔
شفق لائبریری کی طرف جا رہی تھی ارقم بھی اس کے ساتھ ہی لائبریری میں آگیا شفق نے اپنی اسائنمنٹ کے لیے کچھ کتابیں یہاں سے ڈھونڈ کر اس کا میٹریل کاپی کرنا تھا وہ جیسے جیسے کتابیں اٹھا رہی تھی ارقم ویسے ویسے اس سے کتابیں لے کر خود پکڑ رہا تھا۔۔۔۔
شفق نے مسکراتے ہوئے جلدی سے باقی مطلوبہ کتابیں ڈھونڈ کر ارقم کو پکڑائیں اور لائبریری کے کونے میں موجود ٹیبل پر ارقم کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
اس نے اپنا کام شروع کیا تو ارقم نے بور ہوتے یوئے اسے دیکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنے بیگ سے پین اور رجسٹر نکال کر اس پر عجیب و غریب چہرے بنانے لگا اور شفق مو دکھانے لگا جسے دیکھ کر شفق نے مشکل سے اپنی ہنسی روکتے ہوئے اسے آنکھیں دکھائیں کہ اسے اس کا کام کرنے دے مگر ارقم بھی خاصا ڈھیٹ ثابت ہوا اور ایک مرچ بنا کر اس پر شفق کا نام لکھا تو شفق نے تلملاتے ہوئے وہ کاغذ رجسٹر سے پھاڑ کر اس کی طرف پھینکا اور ٹیبل کے نیچے سے زور سے اپنا پاؤں اس کو مارا تو ارقم نے بمشکل اپنی چیخ روک کر اسے گھورا۔۔۔۔
شفق نے اپنا کام چھوڑ کر کاغذ پر بینگن بنایا اور اس پر ارقم کا نام لکھا تو ارقم نے اسے گھورتے ہوئے کاغذ کو پھاڑ دیا ۔۔۔۔
اب وہ دونوں سبزیاں بنا کر ایک دوسرے کا نام لکھ رہے تھے اور کاغذ پھاڑ رہے تھے کہ لائبریرین جو کب سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی آخر تنگ اکر انھیں لائبریری سے نکال دیا۔۔۔۔۔
تم دونوں فورا لائبریری سے باہر نکلو۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں لائبریرین کی آواز سن کر جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھے اور لائبریری سے باہر آگئے۔۔۔۔
لائبریری سے باہر آکر دونوں ہنسنے لگے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *