Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34
حدید صاحب رمنا بیگم اور علیشبہ کے ساتھ اس وقت شفق کے گھر موجود تھے وہ اس وقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے سامنے ہی سحر بیگم بیٹھی ہوئیں تھی اور ساتھ تیمور صاحب بیٹھے ہوئے تھے شاہزین اس وقت گھر نہیں تھے مگر تیمور صاحب نے اسے کال کر دی تھی جس وجہ سے اس نے بھی تھوڑی دیر میں آجانا تھا۔۔۔۔۔
آج ہم ایک اہم کام کی وجہ سے آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔۔
رمنا بیگم نے سحر بیگم سے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی ان کی جانب متوجہ ہوئیں
ہم اپنے بیٹے ارقم کے لیے آپ کی بیٹی شفق کا رشتہ لے کر آئے ہیں ہمیں امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔۔۔۔
رمنا بیگم نے شائستہ لہجے میں بات مکمل کی۔۔۔۔۔۔
ہمیں تھوڑا وقت چاہیے سوچنے کے لیے پھر ہم آپ کو جواب دیں گے۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے تیمور صاحب کو ایک نظر دیکھ کر رمنا بیگم سے کہا۔۔۔۔
جی جی آپ نے جتنا وقت لینا ہے لے لیں ۔۔۔۔۔۔ اور اگر آپ شفق کو ایک بار بلا دیں میں اسے ایک بار ملنا چاہتی ہوں
رمنا بیگم نے کہا ۔۔۔۔۔
بلکل ابھی میں بلاتی ہوں اسے۔۔۔۔۔
سحر بیگم اٹھتے ہوئے بولی اور باہر جاکر رزیہ سے شفق کو ڈرائنگ روم میں بھیجنے کا کہا۔۔۔۔
شفق جو بے چینی سے اپنے کمرے میں چکر لگا رہی تھی کہ رزیہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تو اس نے لب کاٹتے ہوئے رزیہ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔
میم نے آپ کو ڈرائنگ روم میں بلوایا ہے۔۔۔۔۔
رزیہ کی بات سن کر وہ سر ہلاتی ہوئی باہر نکلی اور روم کی طرف جانے لگی کہ راستے میں ہی اسے شاہزین مل گیا جو خود ڈرائنگ روم کی طرف جا رہا ہے۔۔۔۔۔
کون آیا ہوا ہے شفی ؟؟
شاہزین نے شفق کو تنگ کرنے کے لیے پوچھا تو وہ جواب دینے کی بجائے بس منہ بسور کر رہ گئی۔۔۔۔
ارے شفی تم نے جواب نہیں دیا ؟؟
اللہ بھائی جب ہم اندر داخل ہوں گے تو آپ کو پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی کہ شاہزین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔
وہ دونوں ڈرائنگ روم میں اکٹھے داخل ہوئے تو سب ان کی جانب متوجہ ہوگئے ۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم !
شاہزین اور شفق نے یک زبان سلام کیا۔۔۔۔
یہ میرا بڑا بیٹا شاہزین ہے اور یہ میری بیٹی شفق ہے۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے ان دونوں کا تعارف کروایا تو شاہزین حدید صاحب سے گلے مل کر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جبکہ شفق مسکراتی ہوئی رمنا بیگم اور علیشبہ سے ملنے لگی۔۔۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو شفق۔۔۔۔۔
علیشبہ نے شفق سے کہا تو وہ صرف مسکرا ہی سکی۔۔۔۔
وہ ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی تھوڑی دیر شفق اور باقی سب سے بات کر کے حدید صاحب رمنا بیگم اور علیشبہ واپس چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
اب تیمور صاحب شاہزین اور سحر بیگم کے ساتھ ہال میں بیٹھے تھے جبکہ شفق اپنے کمرے میں جاچکی تھی۔۔۔۔۔
شاہزین میں چاہتا ہوں کہ تم ان کے بارے میں ساری معلومات نکالو ان کے بیٹے کے بارے میں بھی سب کچھ پتا کرواؤ اور اپنی ماں سے کہو کہ شفق سے ایک بار پوچھ لے اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض تو نہیں پھر ہی ہم بات آگے بڑھائیں گے ویسے مجھے وہ لوگ کافی پسند آئے ہیں۔۔۔۔
تیمور صاحب پہلے شاہزین سے بولے اور پھر سحر بیگم کو بلانے کی بجائے شاہزین کو ہی سحر بیگم سے بولنے کا کہا وہ اب تک سحر بیگم سے سہی سے بات نہیں کر رہے تھے حالانکہ وہ ان سے دو تین بار معافی مانگ چکی تھیں۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے برہمی سے تیمور صاحب کی طرف دیکھا جو ان کی طرف بلکل متوجہ نہیں تھے۔۔۔۔۔
ڈیڈ میں ان کے بارے میں آپ کو پتا کروا دوں گا آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔
شاہزین نے جواب دیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا فلحال وہ خود بھی سحر بیگم سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
تیمور میں آپ سے کتنی بار معافی مانگ چکی ہوں اب آپ ناراضگی ختم کر دیں اور آپ کہ کہے کے مطابق میں نے شمائلا کو بھی رشتے کے لیے منع کردیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ منت بھرے انداز میں بولیں تو تیمور صاحب نے انہیں دیکھ کر ایک گہرا سانس خارج کیا اور پھر بولے۔۔۔۔۔
سحر بات معافی کی نہیں بات تمھیں اپنے کیے پر شرمندگی کی ہے تم نے جو کیا اس پر تم زرا سی بھی پشیماں نظر نہیں آرہی ہو ۔۔۔۔۔۔
تیمور میں واقع پچھتا رہی ہو آپ پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے کہا تو تیمور صاحب ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔۔۔۔
ٹھیک ہے مان لیا تو شرمندہ ہو اور پچھتا رہی ہو لیکن جب بھی حور اور ہادی ملیں گے تمھیں ان سے بھی معافی مانگنی ہو گی ۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کی بات سن کر وہ کشمکش کا شکار ہوگئیں وہ تو ان سے مشکل سے معافی مانگ رہی تھی کجا کہ حور سے معافی مانگنا ۔۔۔۔ پھر اچانک سحر بیگم کہ ذہن میں خیال آیا کہ حور کونسا ابھی ملی ہے جب ملے گی تب وہ سوچیں گی اس بارے میں۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تیمور آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی بس اب آپ ناراضگی ختم کریں۔۔۔۔
وہ تیمور صاحب سے بولیں تو تیمور صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا۔۔۔۔
************************
شاہزین نے ان کے بارے میں سب کچھ پتا کروالیا تھا اور ایک بار وہ سحر بیگم اور تیمور صاحب کے ساتھ حویلی بھی ہو آئے تھے اور ارقم سے بھی مل آئے تھے انھیں یہ رشتہ پسند آیا تھا اور سب سے بڑی بات شفق اس کے لیے راضی تھی تو اس وجہ سے انھوں نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی تھی۔۔۔۔
حدید صاحب نے انھیں بتایا تھا کہ وہ علیشبہ کا نکاح اگلے مہینے کر رہے ہیں اور اس سے اگلے دن وہ لوگ ارقم کا نکاح بھی کرنا چاہتے ہیں جس پر پہلے تو تیمور صاحب اتنی جلدی شادی کے لیے تیار نہیں تھے مگر صرف نکاح کا سوچ کر وہ بھی راضی ہو گئے تھے۔۔۔۔
ایک مہینہ کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا آج علیشبہ کا نکاح تھا اور اس وقت علیشبہ کو پالر والی لڑکی تیار کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے سفید شارٹ کرتی کے ساتھ سفید ہی شرارہ پہنا ہوا تھا اور ساتھ سرخ دوپٹہ تھا جو فلحال ابھی پالر والی اس کا میک اپ اور بال بنانے کے بعد سیٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اس نے خود ہی ڈارک میک اپ نہیں کروایا تھا کیونکہ اسے پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
علیشبہ کی بڑی خواہش تھی کہ شفق بھی آج کے دن اس کے ساتھ ہوتی مگر شفق کا چونکہ کل نکاح تھا اس وجہ سے وہ نہیں آئی تھی مگر اس کے گھر سے باقی سب لوگ آئے تھے۔۔۔۔
وہ مکمل تیار ہوچکی تھی جب رمنا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔
ماشااللہ میری بیٹی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔۔۔
رمنا بیگم علیشبہ کو ساتھ لگاتی اس کا سر چوم کر بولیں تو علیشبہ نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اپنی بیٹی کے چہرے پر زندگی سے بڑپور مسکراہٹ دیکھ کر دل میں اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اس کی بیٹی کی زندگی میں دوبارہ خوشیاں شامل کردیں تھیں۔۔۔۔۔
امی آپ بھی بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔۔
علیشبہ رمنا بیگم کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بات بدلنے کے لیے بولی تو رمنا بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔
رمنا بیگم علیشبہ سے تھوڑی دیر بات کر کے دوبارہ باہر مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔۔۔۔۔
ہاشم اس وقت حویلی باہر موجود لان میں بیٹھا تھا جہاں سارے انتظامات کیے گئے تھے اس کے ساتھ احمر بھی موجود تھا مگر پتا نہیں کیوں ہاشم کو بڑی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
یار تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو فکر مت کرو ارقم تمھارا کم از کم نکاح والے دن منہ نہیں توڑے گا۔۔۔۔۔
احمر نے ہاشم کو تسلی دی تو ہاشم اس کے الفاظ سن کر صرف اسے گھور ہی سکا۔۔۔۔۔
تجھ جیسا کمینہ دوست اللہ کسی کو نہ دے۔۔۔۔
ہاشم کے غصے بھری آواز سن کر اس نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے مزید کہا۔۔۔۔
لو بھئی بھلائی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں ہے ایک تو تم لڑکی کی طرح گھبرا رہے ہو میں نے تو تمھیں تسلی دی مگر نہیں تم تو مجھ پر ہی غصہ کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
بکواس نہ کرو احمر میں نے تمھارے دانت توڑ دینے ہیں۔۔۔۔
اچھا اچھا اپنا منہ بند کر لے ارقم اس طرف ہی آرہا تھا۔۔۔۔۔
احمر ارقم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بولا تو ہاشم نے منہ بندھ کر کے اسے گھورا۔۔۔۔
احمر بھائی کیا آپ دومنٹ ہمیں اکیلا وقت دے سکتے ہیں مجھے ہاشم بھائی سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
ہاں ہاں ضرور ۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر احمر فورا بولا اور ان سے تھوڑی دوع چلا گیا۔۔۔۔۔
ہاشم بھائی نکاح بس شروع ہونے والا ہے میں بس آپ کو یاد دلانے آیا تھا کہ اگر آپ نے عالی کے ساتھ کچھ بھی غلط کیا تو آپ جانتے ہیں نہ میں آپ کیا کروں گا۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بول رہا تھا تاکہ ارد گرد موجود لوگوں کو لگے کہ وہ کوئی اچھی بات ہی کر رہا ہے۔۔۔۔۔
بلکل میرے ہونے والے سالے صاحب مجھے یاد ہے اور اب میرا بی پی لو کرنے کی بجائے جاکر نکاح شروع کروا دو اس کے بعد مجھے دھمکیاں دیتے رہنا۔۔۔۔۔
ہاشم بھی مسکرا کر بولا تو ارقم صرف ہنکار بھرتا مولوی صاحب کو لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ہی ہاشم اور علیشبہ کا نکاح ہوچکا تھا نکاح نامے پر سائین کرتے ہوئے علیشبہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر پھر اپنے سر پر حدید صاحب کا شفقت بھرا ہاتھ محسوس کر کے اس نے سائین کیے تھے وہ اتنا جانتی تھی کہ اس کے گھر والے کبھی بھی اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔
شاہزین تیمور صاحب کے ساتھ ابھی ہاشم اور ارقم کو مبارک باد دے کر پیچھے ہٹا ہی تھا کہ اس کے فون پر عینی کی کال آئی جسے دیکھ کر وہ فورا ایک سائیڈ پر جاکر کال سننے لگا۔۔۔۔
فون کے دوسری جانب سے ہادی کی روتی ہوئے آواز سن کر اس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ آ۔۔۔آپی کو پ۔۔پتا نہیں کیا ہوا ہے وہ اٹھ نہیں رہیں۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے ہادی ٹھیک سے بتاؤ۔۔۔۔
وہ آپی کی صبح سے طبیعت نہ ٹھیک تھی ابھی میں تھوڑی دیر پہلے ان کے کمرے میں آیا ہوں تو وہ زمین پر بے ہوش پڑی ہیں اٹھ نہیں رہیں۔۔۔۔۔
ہادی نے اسے ساری بات بتائی تو شاہزین نے پریشانی سے اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے جکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
ہادی حور کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارو جلدی سے۔۔۔۔۔
ہادی شاہزین کی بات سن کر جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ کے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اس میں سے تھوڑا پانی عینی کے چہرے پر گرایا تو عینی کو ہلکا ہلکا ہوش آنے لگا ہادی نے جلدی سے پانی کے اور چھینٹے عینی کے چہرے پر مارے تو وہ ہوش میں آچکی تھی۔۔۔
ہ۔۔۔ہادی مجھے پانی لا کر دو ۔۔۔۔۔۔
عینی نے آنکھیں بمشکل کھول کر ہادی سے کہا تو ہادی فون عینی کے پاس رکھتا فورا کچن میں پانی لینے بھاگا۔۔۔۔۔
حور۔۔۔حور تم ٹھیک تو ہو ؟؟؟
عینی نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے موبائل کو پکڑا کر اپنے کان سے لگایا اور نقاہت بھری آواز میں بولی۔۔۔۔
ج۔۔جی ٹھیک ہوں۔۔۔۔
تم نے مجھے صبح کیوں نہیں بتایا کہ تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کا جواب تو میں بعد میں تم سے لوں گا فلحال تم پانی پی کر اور کچھ کھا کر ریسٹ کرو میں ایک گھنٹے تک تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا اور فون بند مت کرنا۔۔۔۔
ہادی عینی کے لیے پانی لے کر آیا تو عینی نے پانی پی کر شاہزین کو جواب دیا۔۔۔۔۔
آپ ابھی رہنے دیں میں اب بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔
بلکل نہیں حور مجھے ابھی کوئی فضول بحث نہیں کرنی میں جلد ہی تمھارے پاس پہنچ رہا ہوں ۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر صرف ہوں میں ہی جواب دیا اور ہادی کو اپنے ساتھ لگا کر اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے اور اپنی آنکھیں موند لیں
شاہزین تیمور صاحب سے بات کر کے انھیں سب کچھ بتا کر جلدی سے یہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ وہ بس جلد از جلد عینی کے ہاس پہنچنا چاہت تھا۔۔۔۔۔۔
********************
ہاشم نکاح کے بعد سب لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ ایک بار علیشبہ سے ملنا چاہتا تھا مگر ارقم کسی ناگ کی طرح اس کے راستے میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اسے پہلے ہی ارقم سے صلح کر لینی چاہیے تھی چونکہ رخصتی ایک مہینے بعد علیشبہ کے امتحانات کے بعد تھی اس وجہ سے وہ صرف ایک بار اس سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس نے ارقم کے جگہ رمنا بیگم سے بات کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔
اب تقریبا بہت سے مہمان جاچکے تھے صرف قریبی لوگ ہی موجود تھے وہ ایکسکیوز کر کے سب کے درمیان سے اٹھ کر حویلی کے اندر داخل ہوا تو پیچھے ہی ارقم بھی اس کے ساتھ ہی حویلی میں داخل ہوا۔۔۔۔
خیریت بھائی۔۔۔۔ کہیں جانا ہے آپ کو۔۔۔۔۔
ارقم نے ہاشم سے طنزیہ مسکراہٹ سے پوچھا۔۔۔۔۔
مجھے چچی جان سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
وہ ارقم سے بولا۔۔۔۔۔
ہمم آپ تو بڑے چالاک ہیں امی سے بات کرکے عالی سے ملنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتا دوں امی کبھی بھی آپ کو ملنے نہیں دے گیں۔۔۔۔۔
ارقم ہاشم کی چالاکی سمجھ کر بولا۔۔۔۔
تمھارا بھی کل نکاح ہے نہ ۔۔۔۔ اگر تم نے مجھے آج علیشبہ سے ملنے نہ دیا تو یاد رکھنا کل تمہیں میں کسی بھی حال میں شفق سے ملنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر اس نے منہ بسورا۔۔۔۔۔۔
ہم ایک ڈیل کرتے ہیں آپ کو میں علیشبہ سے آج ملنے دوں گا مگر کل کو آپ میری ملاقات شفق سے کروائیں گے ۔۔۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر ہاشم کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔
ضرور ۔۔۔۔۔ اب چلو جلدی سےمجھے علیشبہ سے ملوا دو مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔
ہاشم کی بےچین آواز سن کر ارقم نے اپنی آنکھیں گھمائیں اور علیشبہ کے کمرے میں جا کر وہاں موجود دو تین لڑکیوں کو پہلے تو باتوں میں الجھا کر باہر نکالا اور پھر عالی کے قریب جاکر بولا۔۔۔۔۔
ہاشم تم سے بات کرنا چاہتا ہے عالی وہ بس ابھی میرے جاتے ہی تم سے بات کرنے آئے گا گھبرانا مت میں کمرے کے باہر ہی موجود ہوں۔۔۔۔۔
وہ عالی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے سر ہلانے پر باہرچلا گیا اور ہاشم کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
عالی نے ایک نظر سفید شلوار قمیض اور براؤن شال میں ملبوس ہاشم کو دیکھا لیکن اسے اپنی جانب متوجہ پاکر فورا اپنی نظریں جھکا لی۔۔۔۔۔
ہاشم دھیمی چال چلتا اس کے قریب آیا ۔۔۔۔۔
میں نے ماضی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں جنہیں میں ٹھیک کرنے کی ابھی تک کوشش کر رہا ہوں لیکن کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں نے کسی پچھتاوے میں آکر تم سے شادی کی ہے یا اپنے کسی مطلب کے لیے تم سے شادی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تم اچھی لگتی ہو اسی وجہ سے میں نے تم سے شادی کی ہے مجھے ابھی تم سے محبت نہیں ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ تم آہستہ آہستہ مجھے تم سے محبت کرنے پر مجبور کر دو گی۔۔۔۔۔
اور میں تمھیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا بس تم میرا ساتھ ضرور دینا ۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے اپنی بات مکمل کر کے علیشبہ کے قریب آکر جھک کر عقیدت سے اس کے سر کو چوما۔۔۔۔۔۔
تو علیشبہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس ستمگر کا پہلا عقیدت بھرا لمس محسوس کیا تھا اسے یقین تھا کہ وہ ہاشم کو خود سے محبت کروا دے گی بس اسے تھوڑا صبر سے کام لینا تھا۔۔۔۔۔
ہاشم کا سر چوم کر ایک نظر اس پر ڈال کر کمرے سے چلا گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
