Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36

ہاشم حور اور ہادی کے پاس جا کر ان سے بات کرنا چاہتا تھا مگر رمنا بیگم نے آکر اسے منع کر دیا اور اسے گھر جا کر بات کرنے کا کہا تو وہ بس گہری سانس ہی بھر کر رہ گیا رمنا بیگم کے چہرے سے اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
حور تم ٹھیک ہو ؟؟ اگر ویکنس ہورہی ہے تو میں ڈیڈ سے بات کرتا ہوں پھر گھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔
شاہزین نے حور سے کہا جو تھکی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں شاہزین۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شاہزین سے بولی تو شاہزین نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔
تم دو منٹ انتظار کرو میں تمھارے اور ہادی کے لیے کھانا ٹیبل پر لگواتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ حور کا ہاتھ دبا کر اپنی جگہ سے اٹھا تو حور بس سر ہی ہلکا سکی۔۔۔۔۔
وہ اور ہادی اکیلے بیٹھے تھے کیونکہ کھانا کھل چکا تھا تو اس وقت سب کھانے میں مصروف تھے۔۔۔۔
علیشبہ حور کو اکیلا دیکھ کر اس کے پاس آکر بیٹھی ۔۔۔۔۔
عینی کیسی ہو تم ؟؟ ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم ۔۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔
ایک لفظ میں جواب دیا گیا ۔۔۔۔
اور ہادی تم کیسے ہو چھوٹو۔۔۔۔
وہ جیسا بھی آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
حور نے سنجیدگی سے علیشبہ کو جواب دیا جو اپنی جگہ شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔
حور تم ایسا کیوں کر رہی ہو یار ہم سب تمھارے لیے بہت پریشان تھے۔۔۔۔۔۔
علیشبہ کی بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا شاہزین کے واپس آتے ہی علیشبہ مایوسی سے حور کے قریب سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد رمنا بیگم نے سحر بیگم سے بات کی کہ وہ لوگ ان کے گھر جانا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں ضروری بات کرنی ہے سحر بیگم ان کی بات سن کر اپنی رضامندی دی اور سٹیج پر پہلی بار حور کے قریب گئیں ورنہ وہ تب کی بس ادھر ادھر ہی مصروف تھیں۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب بیٹھی تو حور نے ایک نظر انھیں دیکھ کر دوبارہ اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
شاہزین تم نے مجھے بتایا نہیں کہ حور تمہیں کب ملی ؟؟؟
سحر بیگم نے دھیمی آواز میں شاہزین سے پوچھا۔۔۔۔۔
آپ فکر مت کریں موم حور میرے ساتھ اپارٹمنٹ میں جائے گی آپ کے گھر نہیں۔۔۔۔
شاہزین نے سحر بیگم کو جواب دیا۔۔۔۔
شاہزین میرا یہ مطلب نہیں تھا اور اب حور اور ہادی ہمارے ساتھ گھر جائیں گے بس اب مزید کوئی بحث نہیں ہوگی۔۔۔۔۔
سحر بیگم کی بات سن کر شاہزین نے ان کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہی تھیں۔۔۔۔
شاہزین نے سر جھٹک کر حور کو دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی وہ اس کی خاموشی کی وجہ اچھے سے جانتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ ایک بار وہ اپنے گھر والوں سے مل لے۔۔۔۔
****************
سب لوگ اس وقت گھر کے لاؤنچ میں بیٹھے تھے عینی نے شاہزین سے کہہ کر ہادی کو کمرے میں بھجوا دیا تھا کیونکہ وہ تھک گیا تھا اور اسے نیند آرہی تھی۔۔۔۔
اس وقت لاؤنچ میں سب لوگ موجود تھے سوائے ہادی کے۔۔۔۔۔
حورالعین بچے ہمیں تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔
اچانک حدید صاحب نے عینی سے کہا تو سب اس کی جانب متوجہ ہوگئے جبکہ سحر بیگم ، شفق اور تیمور صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
یہ میری بہن کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔اور حدید کے بھائی کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے ان کی سوالیہ نظروں کا جواب دیا تو سحر بیگم ، شفق اور تیمور صاحب نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ اور میں آپ کو نہیں جانتی ؟؟؟ کون ہیں آپ کوگ ؟؟؟
عینی نے مضبوط آواز میں ان سے پوچھا جبکہ شاہزین اس کا ہاتھ پکڑے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔۔۔۔
حور ہماری بات تو سن لو ایک بار۔۔۔۔۔
ہاشم نے اس بار حور سے کہا۔۔۔۔۔۔
کونسی بات ؟؟ مجھے آپ لوگوں کی کوئی بات نہیں سننی ؟؟
عینی نے کہا۔۔۔۔۔ سب لوگ اس کی طرف ہی متوجہ تھے جو اپنے لبوں کو بھینچے انھیں جواب دے رہی تھی۔۔۔۔
میں مانتا ہوں حور میری غلطی ہے تم میری غلطی کی سزا چچا چچی کو مت دو ۔۔۔۔۔
ہاشم نے حور سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
کونسے چچا چچی ؟؟ وہ جنہوں نے مجھے اور ہادی کو آپ کی بیوی کی غلطی کی وجہ سے حویلی سے بے دخل کر دیا یا وہ میرا چچا زاد بھائی جسے میں نے مشکل وقت میں مدد کے لیے پکارا تو مجھے صاف انکار کر گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی بولی پہلے تو سب نے نظریں جھکائی پھر سب کی نگاہیں ارقم کی جانب اٹھیں۔۔۔۔۔
ارقم کیا حور کا تمھیں فون آیا تھا ؟؟
رمنا بیگم نے ارقم سے پوچھا
امی میری بات سنیں۔۔۔۔۔
ہاں یا نہ میں جواب دو ۔۔۔۔
رمنا بیگم نے ارقم سے پوچھا جو مضطرب سا کھڑا تھا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
مجھے بلکل امید نہیں تھی کہ تم بھی ہاشم جیسے ہو گے آخر کیسی بھول گئی تم دونوں تو ایک دوسرے کا عکس ہو بدلہ ضرور لیتے ہو۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اسے غصے سے کہا جو اب شرمندگی سے لب بھینچے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔۔جبکہ سب انھیں کی جانب متوجہ تھے
حور چندا ہمیں اس بارے میں بلکل نہیں پتا تھا ورنہ میں کبھی تمھیں ایسے بھٹکنے نہ دیتی ۔۔۔۔۔ بس ہمیں ایک موقع دو ہم تمھیں اور ہادیکو کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گے۔۔۔
رمنا بیگم نے کہا
حور بچے پلیز مجھے بھی ایک موقع دو میں تمھاری اور ہادی کی ہر تکلیف کا مداوا کر دوں گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے عینی سے کہا جو خاموشی سے انھیں دیکھ رہی تھی مگر ہاشم کی بات سن کر وہ تیزی سے اس کی جانب آئی اور چیختے ہوئے بولی۔۔۔۔
کیا آپ در بدر کی ٹھوکریں کھاسکتے ہیں ؟؟ جب آپ لوگ اپنے گھروں مزے سے آرام کر رہے تھے تب میں نے لوگوں کے گھروں میں کام کیا ان کی مار کھائی ہے کیا آپ میری جگہ یہ سب کریں گے ؟؟؟ کیا آپ میری جگہ رہ سکتے ہیں جہاں مسلسل میں اپنی عزت کے خطرے میں رہتی تھی ؟؟ کیا آپ سوکھی روٹی کھا سکتے ہیں ؟؟ کیا آپ ہماری جگہ بھوکے رہ سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ ہادی کی جگہ سڑھیوں سے گر سکتے ہیں ؟؟ جب آپ اپنی دوسری شادی کی تیاری میں تھے تب میں ہوسپٹل میں ہادی کے ساتھ تھی جانتے ہیں کیسا لگتا ہے جب اپنا کوئی مر رہا ہو اور آپ کے پاس کوئی مدد کا وسیلہ نہ ہو اور آپ کے جان سے پیارے بھائی کی سانسیں لمحہ بہ لمحہ ختم ہو رہی ہوں کہاں تھے آپ جب مجھے اور ہادی کو آپ کی ضرورت تھی جواب دیں ۔۔۔۔۔
وہ بولتی ہوئی سحر بیگم ، شاہزین اور وہاں موجود ہر شخص کو شرمندہ کر گئی تھی
میں آپ کو بتاتی ہوں جب میں اور ہادی گرم تپتی ہوا میں دن رات گزارتے تھے تب آپ اے سی والے کمرے میں ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ جب ہم مشکل میں تھے تب آپ اپنی پارٹیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگ پڑی تھی ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں اس وقت مجھ سے آپ ایک موقع کیوں چاہتے ہیں ؟؟؟ چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں آپ بے سکون ہیں آپ کو سکون نہیں ملتا راتوں کو جاگتے ہوں گیں کیونکہ آپ کا ضمیر آپ کو سونے نہیں دیتا ہو گا لیکن یہ جو آپ میرے سامنے کھڑے میری فضول باتوں کو سن رہے ہیں یہ بھی اپنے مطلب کے لیے ۔۔۔۔۔
وہ بولتی ہوئی اب ہانپنے لگی تھی شاہزین نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور جلدی سے ملازمہ سے پانی کا گلاس منگوایا۔۔۔۔۔
اس نے عینی کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا۔۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔ خود کو سنبھالو حور۔۔۔۔۔
عینی نے تھوڑا سا پانی پینے کے بعد اپنا چہرہ شاہزین کے سینے میں چھپا لیا اور زور و شور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے پشیمانی اور دکھ سے حور کو دیکھا جبکہ اسے روتے دیکھ سب کی آنکھیں ہی نم ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔
ش۔۔۔۔شاہزین یہ س۔۔۔سب اپنے م۔۔۔مطلب کے لیے آئے ہیں انھیں مجھ سے اور ہادی سے کوئی واسطہ ن۔۔۔۔نہیں ہے ی۔۔۔یہ سب مطلب پ۔۔۔پرست ہیں۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے شاہزین کو بتا رہی تھی جس نے مضبوطی سے اسے خود میں بھینچا یوا تھا جبکہ ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا عینی کے آنسو دیکھ کر اسے شدت اپنے دل میں درد اٹھتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اچانک عینی شاہزین کے باہوں میں بے ہوش ہو کر جھول گئی تھی۔۔۔۔
حور ۔۔۔۔حور۔۔۔۔
شاہزین نے اس کا گال تھپتھپا کراسے اٹھانا چاہا۔۔۔
کسی لیڈی ڈاکٹر کو بلائیں ڈیڈ ۔۔۔۔
وہ پریشانی سے حور کو اٹھاتا چیختے ہوئے بولا جبکہ سب حور کو بےہوش دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
*****************
میری بیوی اب کیسی ہے ڈاکٹر ؟؟
ڈاکٹر چیک کر کے باہر آئی تو شاہزین نے فورا پوچھا
آپ کو پتا ہے ان کو ایسی کنڈیشن میں سٹریس لینا ان کے اور بےبی کے لیے کتنا خطرناک ہے میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ ان کو کافی ویکنس ہے اس لیے انھیں کسی بھی طرح کی پریشانی سے دور رکھیے گا۔۔۔
ڈاکٹر برہمی سے بولی۔۔۔۔
آپ پلیز یہ بتائیں اب وہ کیسی ہے ؟؟
شاہزین نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پوچھا جبکہ سب حیرانی سے شاہزین کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔کیونکہ اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا۔۔۔۔
میں نے انھیں انجیکشن لگا دیا ہے وہ اب کافی بہتر ہیں تھوڑی دیر انھیں آرام کرنے دیں اور انہیں ہر طرح کی پریشانی سے دور رکھیں اور یہ کچھ میڈسنز میں نے لکھ دی ہیں یہ انھیں ٹائم پر دے دیجیے گا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے بتایا تو شاہزین نے جلدی سے ملازمہ کو گارڈ سے بول کر دوائیاں منگوانے کا کہا اور تیزی سے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
عینی کے قریب جاکر اس نے محبت سے اس کا ماتھا چوما اس کی آنکھوں پر آنسوؤں کے میٹے میٹے نشان دیکھ کر اس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی اور اس کی آنکھوں کو چوما۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹا اور عینی کے اوپر کمفرٹر صحیح کرکے باہر چلا گیا جہاں سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
شاہزین تم بتانا پسند کرو گے ڈاکٹر کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
تیمور صاحب نے شاہزین کے باہر آتے ہی اس سے پوچھا ۔۔۔
ڈیڈ مجھے خود کل پتا چلا تھا میں آپ کو صحیح وقت پر بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور آپ لوگ پلیز اب حور سے مت ملیے گا جب اس کا دل کرے گا میں آپ لوگوں کو اس سے ملنے کے لیے بلا لوں گا ابھی اسے تھوڑا وقت دیں وہ ٹھیک ہوجائے گی ابھی وہ غصے میں ہے اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے دیں اس نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں۔۔۔۔۔
شاہزین پہلے تیمور صاحب سے پھر خاموش کھڑے ہاشم اور دوسرے لوگوں سے بولا کو پشیمانی سے نظریں جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر ہم چلتے ہیں دوبارہ ملنے آئیں گے۔۔۔۔
رمنا بیگم بولی اور پھر سب سے مل کر وہ لوگ واپس چلے گئے۔۔۔
شاہزین اتنی بڑی خوشی کی خبر تم نے ہم سے کیوں چھپائی۔۔۔۔
سحر بیگم نے خوشی سے شاہزین کی طرف دیکھ کر پوچھا
اگر بتا دیتا تو کیا آپ میری بیوی کو قبول کر لیتی موم ؟؟ یا پھر اسے تھپڑ مارتیں ؟؟ یا پھر اسے زلیل کرتیں ؟؟؟
اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا تو سحر بیگم شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔
شاہزین میں اسے کبھی نہیں کروں گی مجھے لگتا تھا کہ وہ تمھیں مجھ سے چھین رہی ہے اسی وجہ سے میں اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتی تھی۔۔۔۔۔
موم آپ کو وہ شروع سے ہی پسند نہیں تھی جبکہ اس نے کبھی آپ کو کچھ نہیں کہا تھا آپ نے ایک مظلوم پر ظلم کیا ہے ۔۔۔۔۔
موم فلحال ابھی میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ صبح بات کریں گے۔۔۔۔
سحر بیگم کی بات سن کر وہ سنجیدگی سے بولا اور واپس اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ سحر بیگم بھی شرمندہ سی تیمور صاحب کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
شاہزین نے کمرے میں آکر فریش ہوکر عینی کا سارا زیور اتار کر سائیڈ پر رکھا اور اسے اپنے حصار میں لیے لیٹ گیا۔۔۔۔
*****************
ایک ہفتے بعد :
موم میں بور ہو رہی ہوں میں آپ کی مدد کروا دوں ۔۔۔۔
عینی لجاجت سے سحر بیگم سے بولی۔۔۔۔
بلکل نہیں حور فورا جاکر آرام سے لاؤنچ میں بیٹھو۔۔۔۔۔ میں جوس بھیجتی ہوں تم وہ پیو۔۔۔۔
سحر بیگم نے اس سے کہا۔۔۔۔
لیکن میں فارغ ہوں آپ مجھے کوئی کام دے دیں میں وہ کر لوں۔۔۔۔
عینی نے پھر سے سحر بیگم سے کہا تو انھوں نے اسے ایک گھوری سے نوازا ۔۔۔۔۔
جاؤ شاباش باہر جاکر بیٹھو اگر شاہزین نے تمھیں اسے گرمی میں کیچن میں کھڑے دیکھ لیا تو گھر آسمان پر اٹھا لے گا۔۔۔۔۔
اوکے موم جانی۔۔۔۔
وہ باہر آکر پھر بور ہونے لگ پڑی تھی۔۔۔۔۔
اس ایک ہفتے میں اس نے خود کو سنبھال لیا تھا سحر بیگم نے اس کے ریسپشن کے اگلے دن ہی اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی جب اس نے اپنا دل بڑا کر کے انھیں معاف کر دیا تھا وہ تب سے ہی اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہی تھیں اس نے ابھی تک اپنے گھر والوں سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی دوبارہ ملی تھی مگر پھر آج اس نے دوبارہ سب سے ملنے کا سوچا تھا ۔۔۔۔
اسی وجہ سے سحر بیگم کچن میں مصروف دعوت کا انتظام کروا رہی تھیں کیونکہ آج سب نے ان کے گھر آنا تھا۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ سب کو معاف کر دے گی مگر ہادی کو اپنے ساتھ ہی رکھے گی اسے کسی کے پاس نہیں بھیجے گی جس میں اس کا ساتھ شاہزین بھی دے رہا تھا
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *