Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28
تیمور صاحب نے شام کو میٹنگ اٹینڈ کرکے اپنا موبائل چیک کیا تو عینی کی مس کالز دیکھ کر اسے کال بیک کی مگر دوسری طرف سے عینی کا موبائل مسلسل بند جا رہا تھا انھوں نے گھر والے نمبر پر کال ملائی تو پھر بھی کسی نے کال اٹھائی وہ میٹنگ میں جانے سے پہلے اپنا موبائل سائلنٹ پر لگا کر اپنے آفس ہی چھوڑ گئے تھے جس وجہ سے انہیں عینی کی کالز کے بارے میں پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔
وہ پریشانی سے عینی کے بارے میں سوچ کر گھر کی طرف روانا ہوئے ابھی وہ واپس ہی جا رہے تھے کہ شاہزین کی کال ان کے موبائل پر آئی۔۔۔۔۔
ڈیڈ اگر آپ گھر پر ہیں تو میری بات عینی سے کروادیں میرے موبائل کی چارجنگ ختم ہوگئی تھی اس وجہ سے حور کی کال اٹینڈ نہیں کر پایا مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے ناراض ہوگئی اسی وجہ سے اس نے اپنا فون بند کر دیا ہے۔۔۔۔۔
وہ پریشان سا بولتا ہوا تیمور صاحب کو مزید پریشان کر گیا ۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو میں گھر پہنچتے ہی تمھاری بات کروا دوں گا ۔۔۔۔۔
وہ اسے مطمئن کرتے بولے تو شاہزین نے ان کی بات سن کر گہرا سانس لیا اور ان سے مزید دو چار باتیں میٹنگ کے متعلق کر کے کال بند کر دی۔۔۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوئے تو معمول کے خلاف پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا ورنہ جب بھی وہ گھر میں داخل ہوتے تو انھیں ہادی لان میں کھیلتا ہوا ملتا یا پھر عینی کے ساتھ ہال میں موجود ہوتا۔۔۔۔
حور بچے ۔۔۔۔۔
ہادی۔۔۔۔۔
حور اور ہادی تو ان کی بات سن کر نہ آئے مگر رزیہ ضرور کچن سے باہر آگئی۔۔۔۔
رزیہ سب لوگ کہاں ہیں ؟؟؟
سر وہ سحر میم تو اپنی دوستوں کی طرف گئیں ہیں اور شفق میم آج اپنی دوست کے ساتھ لنچ پر گئی ہیں اس وجہ سے وہ تھوڑی دیر سے آئیں گی۔۔۔۔
رزیہ نے جلدی سے جواب دیا تو تیمور صاحب کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔۔
ہادی اور حور کہاں ہیں ؟؟؟ گھر میں دکھائی کیوں نہیں دے رہے ؟؟؟
سر وہ تو صبح ہی آپ سب لوگوں کے جاتے کہیں چلی گئیں تھیں پھر ابھی تک واپس نہیں آئیں اور ہادی بھی سکول سے واپس نہیں آیا ڈرائیور لینے گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ اس کی بہن پہلے ہی اسے کے گئی ہے۔۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو کہاں گئی ہے وہ اور یہ بات پہلے فون کر کے نہیں بتا سکتی پانچ بج چکے ہیں شام کے اور تم فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
سر م۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتا اور میں تھوڑی دیر پہلے انیکسی گئی تھی اس وجہ سے کال نہیں اٹھا پائی۔۔۔۔
اب جاؤ یہاں سے منہ کیا میرا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔ رکو ایک منٹ سحر کو فورا فون کر کے گھر بلاؤ۔۔۔۔
وہ بولتے ہوئے اپنی جیب سے فون نکال کر کسی کو ملانے لگے۔۔۔۔۔
عظیم مجھے تمھاری ہیلپ چاہیے میری بہو صبح سے مل نہیں رہی اور اس کا بھائی ہادی بھی سکول سے غائب ہے کیا تم پتا لگوا سکتے ہو وہ اس وقت کہاں ہیں کیونکہ ان کا فون بھی بندھ جا رہا ہے اور شاہزین بھی یہاں پر نہیں ہے اگر اسے پتا چل گیا تو وہ جانے کیا کرے گا۔۔۔۔
سر آپ فکر مت کریں میں ان کے نمبر سے ٹریس کرنے کی کوشش کرتا ہوں آپ مجھے ان کا نمبر سینڈ کریں ۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تمھیں ابھی سینڈ کرتا ہوں۔۔۔۔
انھوں نے اسے نمبر سینڈ کر کے دوبارہ عینی کو کال ملائی مگر مایوسی کے سوا آنھیں کچھ حاصل نہیں ہو رہا تھا اب انہیں یہ ہی فکر تھی کہ کہیں ان کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو گیا ہو۔۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••
شفق آج علیشبہ اور ارقم کے ساتھ باہر لنچ کرنے آئی ہوئی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔
میں واشروم سے ہوکر آئی آپ لوگ تب تک بات کریں۔۔۔۔۔۔۔
علیشبہ اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
شفق ایک بات بتاؤ تم اتنا کھاتی ہو موٹی کیوں نہیں ہوتی ؟؟؟
ارقم نے اچانک شفق سے پوچھا تو وہ منہ بگاڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
بس اب آپ نے نظر لگا دی ہے تو میں جو تھوڑی موٹی ہونے والی تھی دوبارہ پتلی ہو جاؤ گی آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔
اللہ اللہ لڑکی میں نے کب تمھارے کھانے کو نظر لگائی خدا کو مانو میں نے تو وہسے ہی کہہ دیا تھا ۔۔۔۔۔کیا تمھیں لگتا ہے کہ میری نظر تمھیں کبھی لگ سکتی ہے۔۔۔۔۔
وہ آخری بات سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
نہیں مجھے یقین یے آپ کبھی مجھے نظر نہیں لگا سکتے کیونکہ آپ تو نظر ووٹو ہیں میرے ۔۔۔۔۔ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔ہا
وہ پہلے سنجیدگی سے اور پھر آخری بات شرارت سے بول کر ارقم کے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی۔۔۔۔
ارقم نے اپنی مسکراہٹ دبا کر اسے گھورا تو شفق کی ہنسی کو بریک لگی ۔۔۔۔۔لیکن دور بیٹھے کسی وجود نے ان دونوں کو ہنستے دیکھ نفرت سے اپنا رخ پھیرا۔۔۔۔
شفق میں نے تمھارے لیے کچھ خریدا یے مجھے یقین ہے تمھیں یہ پسند آئے گا۔۔۔۔۔
وہ اپنی پاکٹ سے ایک چھوٹی سی ڈبی نکال کر بولا اور شفق کی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔
ل۔۔۔لیکن میں یہ کیسے رکھ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں بولی تو ارقم کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔۔
تم کیوں نہیں رکھ سکتی یہ گفٹ پہلے اسے کھولو کر تو دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تمہیں زیادہ مسئلہ ہے تو تم مجھے اس کے بدلے کچھ گفٹ کر دینا چلو اب اسے جلدی سے کھولو۔۔۔۔
شفق نے اس کی بات سن کر گفٹ باکس کھولا تو اس میں بریسلیٹ تھی جسے چھوٹے چھوٹے دلوں سے بنایا گیا تھا وہ ایک نفیس سی بریلیسٹ تھی جو شفق کو بے حد پسند آئی تھی۔۔۔۔
واؤ ارقم یہ بہت خوبصورت یے تھینک یو سو مچ۔۔۔۔
وہ خوشی سے چہکتے بولی تو ارقم نے مسکرا کر اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
اگر اجازت ہو تو میں پہنا دوں ؟؟
شفق نے جھجھکتے ہوئے اپنی نازک کلائی اس کے آگے بڑھائی جسے ارقم نے تھامتے ہوئے محبت سے اس میں بریسلیٹ پہنائی۔۔۔۔۔۔
*****************
وہ واشروم سے نکل کر جانے لگی تھی جب کسی نے اس کا راستہ روکا اس نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو اس کے آگے دیوار بنا کھڑا تھا۔۔۔۔
اپنے سامنے اس ستمگر کو دیکھ کر اچانک ہی اس کے دل کی دھڑکن نے اپنی پوری رفتار پکڑی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہاشم جو اسی ریسٹورنٹ میں اپنے ایک کلائنٹ سے مل کر جانے والا تھا اس کی نظر جب ایک ٹیبل سے اٹھتی علیشبہ پر پڑی تو وہ علیشبہ سے بات کرنے کے لیے اس کے پیچھے آیا اسے واشروم جاتا دیکھ وہ باہر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔
علیشبہ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
پ۔۔۔۔۔پیچھے ہٹیے بھائی میرا ا۔۔۔۔انتظار کر رہے ہوں گے م۔۔۔۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔۔۔
وہ کانپتے لہجے کے ساتھ دھڑکتے دل سے بولی۔۔۔۔۔
تمھیں میری بات سننے پڑے گی۔۔۔۔۔اور تم سنو گی بھی ۔۔۔۔
عج۔۔۔۔عجیب زبردستی ہے مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی راستہ چھوڑیے۔۔۔۔
وہ اپنا لہجہ مضبوط بناتے بولی۔۔۔۔۔
پلیز علیشبہ ایک بار میری بات سن لو مجھے پتا ہے میں نے تمھارا بہت دل دکھایا مگر مجھے ایک موقع دو میں تمھارے سارے گلے شکوے دور کر دوں گا۔۔۔۔۔
کیا آپ میرا مقام و عزت مجھے لوٹا سکتے ہیں جو آپ کی وجہ سے میں نے کھو دیا آپ کیا مجھے اس زلت سے بچاسکتے ہیں جو آپ کی وجہ سے مجھے سہنی پڑی یا پھر آپ مجھے وہ وقت لوٹا سکتے ہیں جو میں نے دنیا سے خود کو چھپانے کے لیے ایک کمرے میں بند ہو کر گزار دیا۔۔۔۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراہٹ سے سرخ چہرے کے ساتھ ضبط سے بولی تو ہاشم نے اس کی بات سن کر اپنے لب بھینچے۔۔۔۔۔
مجھے ایک موقع تو دو ۔۔۔۔۔میں تمھارے ہر دکھ کا مداوا کر دوں گا ۔۔۔۔۔
میں تو شاید آپ کو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر موقع دے ہی دو مگر بھائی اور بابا کبھی بھی آپ جیسے کانوں کے کچوں والے شخص کے ہاتھ میں میرا ہاتھ کبھی نہیں دیں گے ۔۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کرتے ہاشم سے کہا ۔۔۔۔۔
پہلے تم تو مجھے موقع دو میں انھیں خود ہی منا لوں گا۔۔۔۔۔
وہ اسکی بات سن کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مضطرب سا بولا۔۔۔۔۔
میں یہ آپ کو آخری موقع دے رہی ہوں اب اپ نے جو بات کرنی ہوئی وہ بابا اور بھائی سے ہی کریے گا دوبارہ میرا رستہ روکنے کی کوشش بھی مت کریے گا مجھے آپ کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری ہے۔۔۔۔۔
وہ بولا کر ہاشم کے سائیڈ سے گزر کر چلی گئی۔۔۔۔۔جبکہ ارقم اس کی بات سن کر مسکرا اٹھا اتنے عرصے بعد اب اسے تھوڑا سکون ملا تھا۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••
وہ مسلسل تیمور صاحب کو فون کر رہا تھا جو فون اٹھانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ان تو اسے عینی کے بارے میں سوچ کر پریشانی ہونے لگی تھی اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی واپس عینی کے پاس چلا جائے مگر اس کی فلائٹ کا ٹائم رات دو بجے کا تھا وہ مضطرب سا بے چین دل کے ساتھ بیڈ پر ڈھیر ہو گیا اور گھر جا کر اسے منانے کا سوچا۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھا اور فریش ہو کر اپنی پیکنگ کر کے ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا وہ خوشی سے پلین میں بیٹھا عینی کو سرپرائز کرنے کا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
فلائٹ کے لینڈ ہوتے ہی وہ ائیرپورٹ سے باہر نکلا جہاں پہلے ہی اس نے کال کرکے ڈرائیور کو بلالیا تھا وہ گاڑی میں داخل ہوا اور گھر کی جانب چل دیا۔۔۔۔۔
وہ خوشی خوشی گھر میں داخل ہوا اور خاموشی سے سڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا تو کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اس نے لائٹ اون کر کے بیڈ کی جانب مسکراتے ہوئے دیکھا مگر زیادہ دیر اس کی مسکراہٹ قائم نہ رہ سکی خالی بیڈ کو دیکھ کر اس کا سارا موڈ خراب ہو گیا اسے لگا کہ وہ ہادی کے کمرے میں ہوگی اس وجہ سے وہ اپنے کمرے سے نکل کر ہادی کے کمرے میں گیا اور اس کمرے کی لائٹ جلائی تو خالی کمرے کو دیکھ کر ناجانے کیوں اسے کسی انہونی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے ارد گرد کے کمرے بھی چیک کیے کہ شاید اسے تنگ کرنے کے لیے حور ہادی کو لے کر کسی دوسرے کمرے میں نہ چلی گئی ہو مگر انہیں کہیں موجود نہ دیکھ کر وہ جلدی سے دو دو سڑھیاں پھلانگتا ہوا تیمور صاحب کے کمرے کے باہر پہنچ کر اس کا دروازہ زور زور سے بجانے لگا۔۔۔۔۔۔
تیمور صاحب جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی حور اور ہادی کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے سوئے ہی تھے کہ کل صبح وہ اسے دوبارہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے مگر اپنے کمرے کا دروازہ بجتا دیکھ کر وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھے انھیں جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا شاہزین جلدی واپس آگیا تھا انھوں نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی مضطرب سا شاہزین کھڑا دکھائی دیا سحر بیگم بھی شاہزین کے دروازے بجانے سے اٹھ گئیں تھیں اور اب اسے ہی دیکھ رہی تھیں جو تیمور صاحب سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ حور اور ہادی کہاں ہیں وہ اپنے کمرے میں موجود نہیں ہیں ۔۔۔۔
شاہزین بیٹھ کر میری بات تحمل سے سنو۔۔۔۔۔
کیا بات کرنی ہے ڈیڈ مجھے کچھ نہیں سننا فلحال صرف آپ یہ بتائیں کہ حور کہاں ہے۔۔۔۔۔
وہ ضبط سے بولا جبکہ اسے تیمور صاحب کی بات سے کسی انہونی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
تیمور صاحب اس کا بازو پکڑ کر اسے ہال میں لے کر آئے اور صوفے پر بیٹھا کر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اسے ساری بات بتا دی۔۔۔۔۔
وہ آپ کی زمہ داری تھی میں انھیں آپ کے حوالے کر کے گیا تھا ڈیڈ مگر آپ تو ان کی حفاظت بھی نہ کر سکے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اٹھ کر بولا اور قریب پڑے شو پیس کو اٹھا کر دیوار میں زور سے مارا۔۔۔۔۔۔
مجھے وہ ہر حال میں صبح تک چاہیے ڈیڈ وہ جہاں بھی چھپی ہوئی ہے میں اسے ڈھونڈ لوں گا اور آپ اس میں میری مدد کریں گے۔۔۔۔۔۔
شاہزین اپنے غصے کو قابو کرو میں بھی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔۔وہ مل جائیں گے۔۔۔۔
شور کی آواز سن کر شفق بھی اپنے کمرے سے باہر آچکی تھی وہ جب واپس آئی تھی تب اسے حور اور ہادی کا پتا چلا تھا۔۔۔۔۔
شاہزین ان کی بات سن کر پاس پڑے شیشے کے ٹیبل کو زور سے ٹانگ مارتا ہوا باہر کی جانب چلا گیا اور باہر موجود ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
