Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17

حمنا آج کافی دنوں بعد گھر سے نکل کر اپنی دوستوں سے ملنے جارہی تھی ہاشم سے اس نے بس ایک بار پوچھ لیا تھا جس نے اسے اجازت دے دی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پہلے اپنی دوستوں سے ملنے ریسٹورنٹ گئی جہاں پر اس نے اپنی دوستوں کے ساتھ تصویریں کھینچ کر ہاشم کو بھیجیں اور اپنی دوستوں کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھ کر ایمرجنسی کام بول کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔
دراصل آج وہ شاہزیب سے ملنے جا رہی تھی وہ واپس آچکا تھا مگر ہاشم کی وجہ سے وہ اس سے ملنے نہ جاسکی ۔۔۔۔۔
شاہزیب نے اسے ہوٹل کے ایک کمرے میں بولایا تھا وہ بھی حمنا کے کہنے پر وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی جاننے والا اسے شاہزیب کے ساتھ دیکھ کر ہاشم کو بتائے۔۔۔۔۔
اس نے کالی چست شرٹ کے ساتھ تنگ سا پجامہ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ہوٹل میں داخل ہوئی اور شاہزیب کے بتائے گئے کمرے کے باہر آکر اس نے دروازہ ناک کیا تو باتھ روب پہنے شاہزیب نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
شاہزیب نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اور حمنا کے چہرہ کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے حمناکو اندر داخل ہونے دیا تو حمنا مزے سےجاکر بیڈ پر بیٹھ گئی جبکہ چہرے سے مسکراہٹ اس کے ایک منٹ کے لیے بھی غائب نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔
کچھ کھانے کے لیے منگواؤ تمھارے لیے حمنا ۔۔۔۔۔۔
شاہزیب نے بالوں میں پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
نہیں فلحال میں صرف تم سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔۔اور زیبی تم وہاں کیوں کھڑے ہو یہاں آکر میرے ساتھ بیٹھو ۔۔۔۔۔میں نے تمہیں ان دنوں بہت یاد کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹ کر مسکرا کر بولی تو شاہزیب بھی مسکرا کر اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہاں بولو حمنا تم نے کیا بات کرنی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔۔۔۔
میں بس یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ تم نے بتایا تھا کہ تمھیں کوئی لڑکی پسند آگئی ہے اگر تم کہو تو میں اس سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکھ کر بولی۔۔۔۔
آہاں ۔۔۔۔ تم جانتی ہو اسے جسے میں پسند کرتا ہوں۔۔۔۔
شاہزیب نے جب حمنا کو اپنا ہاتھ کھینچتے نہ دیکھا تو اسے اور شہ مل گئی اور اس نے اس کے ہاتھ لو اپنے لبوں سے ہلکا سا چھوا۔۔۔۔
کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟۔۔۔۔ کیا وہ لڑکی میں ہوں ؟۔۔۔۔۔
اس نے اپنی مسکارے سے بھری پلکیں اٹھاتے گراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں بلکل ۔۔۔۔ وہ تمہی ہو مگر پتا نہیں تمہیں آخر کیا جلدی تھی جو تم نے اتنی جلدی ہاشم سے شادی کروا لی۔۔۔۔؟ تھوڑے سال میرا انتظار کیا ہوتا تو آج ہم ساتھ ہوتے ؟۔۔۔
تم خود ہی مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے ورنہ میں کیوں اس جاہل گوار سے شادی کرتی ہنہ۔۔۔۔ اتنا بڑا بزنس مین وہ بن چکا ہے مگر پھر بھی اس کی سوچ میڈل کلاسوں والی ہے ۔۔۔ میرا بس چلے تو میں ایک منٹ نہ لگاؤں اس سے الگ ہونے سے۔۔۔۔۔
وہ نخوت سے ہاشم کے بارے میں بولی حالانکہ وہ خود جانتی تھی کہ ہاشم کو اس نے خود اپنی خوبصورتی کے جال میں پھنسایا تھا مگر اب وہ پابندیاں لگانے لگا ہے تو پہلے جو وہ اسے بے حد پسند تھا اب اس سے ہی نفرت کرنے لگی تھی
کیا واقعی تم اسے علیحدگی لے لو گی ؟؟۔۔۔۔
ہاں بلکل اگر تم میرا ساتھ دو تو میں اس سے علیحدگی لے لوں گی مگر یاد رکھنا میرا ہاتھ پھر تمہیں تھامنا پڑے گا۔۔۔۔۔
حمنا کی بات سن کر اس نے اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیوں نہیں میں تمھارا ہاتھ کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا اور تمھیں میرے ساتھ مکمل آزادی بھی حاصل ہوگی۔۔۔۔
سچی ۔۔۔۔۔ واہ پھر تو میں جلد ہی کوئی بہانہ بنا کر اس سے علیحدہ ہو جاؤ گی۔۔۔۔۔
وہ پاگل اس کی مکروہ مسکراہٹ دیکھے بغیر بولی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم اپنے آفس میں بیٹھا صبح سے حویلی فون کر کے ہادی اور حورالعین سے ایک بار بات کرنا چاہتا تھا مگر اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ دو بار فون ملا کر کاٹ چکا تھا ۔۔۔۔
علیشبہ جو آج حویلی رمنا بیگم اور حدید صاحب سے ملنے آئی تھی اور حال میں موجود صوفے پر بیٹھی تھی کونے میں پڑے ٹیلی فون کو دو بار بجتے دیکھ اپنی جگہ سے اٹھی مگر جب بھی وہ قریب جاتی فون بند ہو جاتا۔۔۔۔
آخر تنگ آکر اب وہ فون کے پاس ہی کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔احد صاحب حویلی میں داخل ہوئے تو عالی کو فون کے پاس کھڑے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
عالی بیٹا کسی کا فون آنا ہے جو آپ یہاں کھڑی ہو ؟؟؟؟۔۔۔
نہیں بابا وہ کسی کا دو بار فون آچکا ہے جب بھی اٹھ کر ریسور اٹھانے لگتی ہوں تو بند ہوجاتا ہے اور آپ کو پتا ہے اس فون پر بہت کم ہی لوگ کال کرتے ہیں تو میں نے سوچا کسی کی ضروری کال نہ ہو۔۔۔۔
ابھی وہ بات کر رہی تھی کہ فون دوبارہ بج اٹھا ۔۔۔۔ عالی نے فون فورا اٹھا کر بولی۔۔۔۔
اسلام و علیکم !۔۔۔۔۔
کون بات کر رہا ہے ؟؟؟ اور آپ کو کس سے بات کرنی ہے ؟؟؟
عالی کو دوسری جانب سے جواب نہ ملا تو وہ مزید بولی تو دوسری طرف ہاشم جس نے کال اٹھانے کے بعد کسی کی خوبصورت دھیمی آواز سنی تو اسے پہچاننے میں تھوڑی دیر لگی کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ علیشبہ کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ع۔۔علیشبہ ۔۔۔۔
وہ ہمت کرتا بولا تو دوسری جانب سے جانی پہچانی آواز میں اپنا نام سن کر اسے فورا پتا چل گیا تھا کہ اس ستمگر کا فون ہے اس نے بغیر کچھ بولے احد صاحب جو قریب ہی بیٹھے تھے انھیں ریسور پکڑایا اور جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
کیا کچھ یاد نہ آیا تھا اسے اس ستمگر کی وجہ سے اس کے زخم اور درد بھری یادیں جنہیں بھولنے کی وہ روزانہ کوشیش کرتی تھی مگر اس کی آواز سن کر دوبارہ وہ سب کچھ اسے یاد آگیا تھا۔۔۔۔
احد صاحب نے ریسور پکڑ کر کان سے لگایا اور اپنی روعب دار آواز میں سلام کرتے ہوئے کون بات کر رہا ہے پوچھا۔۔۔۔۔
تو ہاشم نے ان کی آواز سن کر اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر جواب دیا۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام چچا جان ہاشم بات کر رہا ہوں ؟؟؟
کون ہاشم ؟؟! میں کسی ہاشم کو نہیں جانتا جسے جانتا تھا وہ ڈیڑھ سال پہلے ہی مر چکا ہے ۔۔۔۔
وہ انجان بنتے ہوئے بولے تو ہاشم کو ان کے انجان بننے پر تکلیف محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
چچا جان ایک منٹ میری بات سنیں فون مت رکھیے گا پلیز ایک دفعہ میری بات ہادی اور حور سے کروادیں ۔۔۔۔
وہ جو فون رکھنے لگے تھے ہاشمکی بات سن کر ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔ اور آخری بات جان کر بولی
کیامطلب تمھارا ؟؟ حور اور ہادی حویلی میں موجود نہیں ہے وہ تو تمھارے ساتھ تھے نہ ؟؟
چچا جان آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں مجھے خود حمنا نے بتایا تھا کہ حور اور ہادی حویلی میں آپ کے پاس ہیں ؟؟؟
کیا بکواس کر رہے ہو تم کیا انھیں حویلی کا راستہ پتا تھا جو وہ یہاں آتے ہاشم ؟؟ اور ایک بات میں تمھیں بتا دوں دو مہینے پہلے مجھے پتا چلا تھا کہ تم نے انہیں گھر سے نکال دیا ہے اور تب سے میں اور ارقم انھیں ڈھونڈ رہے ہیں مگر ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا اگر انھیں کچھ بھی ہوا تو اس سب کے تم زمہ دار ہو گے اور اپنی بیوی پر جتنا تم نے اندھا اعتماد کیا تھا نہ اس نے تمہیں اتنا ہی برباد کر دیا ہے اور اب دوبارہ یہاں فون کرنے کی ہمت بھی مت کرنا۔۔۔
اللہ نگہبان !
احد صاحب نے اپنی بات مکمل کر کے کال بند کر دی جبکہ دوسری جانب حور اور ہادی کے حویلی نہ موجود ہونے کے انکشاف نے اور احد صاحب کے الفاظ نے اسے جھنجوڑ دیا تھا وہ بے اختیار اپنی کرسی سے اٹھا اور اپنے آفس سے نکل گیا اسے نہیں معلوم وہ کتنی دیر گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی خاک چھانتا رہا بس اس کے کانوں میں باربار احد صاحب کے الفاظ گونج رہے تھے کہ وہ حویلی میں نہیں ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینی جب سے شاہزین کے کمرے سے واپس آئی تھی اسے بس ایک ہی فکر ستا رہی تھی کہ شاہزین اسے آج نہیں چھوڑے گا وہ جانتی تھی اگر اس نے کہا ہے کہ وہ رات کو اس کے کمرے میں آئے گا تو وہ ضرور آئے گا ۔۔۔۔۔
وہ چاہتی تھی کہ کچھ ایسا ہوجائے کہ شاہزین اس کے کمرے میں نہ آسکے وہ بس یہی دعا کر رہی تھی کہ وہ آج رات کسی ضروری کام سے کہیں چلا جائے ۔۔۔۔۔
اس نے رزیہ کے ساتھ سب کو ڈنر کروایا تو شاہزین بھی آج سب کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا اور شفق کے ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب کھانے کے بعد سب اپنے کمرے میں چلے گئے تو وہ بھی مردہ قدموں سے انیکسی کی جانب اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے شاور لیا اور اپنے بال تولیے سے ہلکے سے سکھا کر دروازے کو لاک لگا کر جلدی سے سونے کے لیے لیٹ گئی کہ جب شاہزین اس کے کمرے میں آنے کی کوشش کرے اور شاید آ بھی جائے تو وہ اسے سوئی ہوئی ملے ۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھیں بند کر کے سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی اس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو گیارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے اس نے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کر کے سونے کی کوشش کی مگر نیند تو جیسے آج اس سے روٹھ گئی تھی
تھوڑی دیر بعد اسے دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی تو اس نے اپنی آنکھیں اور زور سے میچ لیں
شاہزین جو سب کے سونے کے بعد انیکسی کی طرف عینی کے کمرے میں آیا تھا دروازے کو لاک لگا دیکھ کر ہلکا سا بجایا مگر اندر سے جب کوئی جواب نہ سنائی دیا تو وہ اس کمرے کی دوسری جانب موجود کھڑکی کی طرف گیا اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا ہی تھا کہ وہ اسے کھولی ہوئی ملی۔۔۔۔
بڑی آئی دروازہ لاک کرنے والی ایک کھڑکی کو بند نہ کرسکی ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
جب عینی کو دوبارہ دروازہ بجنے کی آواز سنائی نہ دی تو اس نے پر سکون سانس خارج کیا اور اپنی آنکھیں کھول کر بیٹھنے لگی کہ اپنے سامنے شاہزین کو کھڑے دیکھ کر وہ ڈر سے چیخ مارنے لگی کہ شاہزین نے اگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتے ہوئے اس کی چیخ کو روک دیا ۔۔۔۔
جبکہ عینی اس کی جسارت پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی اور سمجھ آنے پر کہ کیا ہو رہا ہے اسے جلدی سے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی کہ شاہزین پہلے ہی پیچھے ہٹ گیا اور مسکرا کر اس کے سرخ چہرے کو دیکھا جو اس کے چھوڑنے پر گہرے گہرے سانس لے رہی تھی
افسوس تم کھڑکی بند کرنا بھول گئی تھی ویسے تم کیا سمجھی میں واپس چلا گیا ہوں۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر گھٹنہ ٹیکے اس پر جھکا ہوا تھا جبکہ وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
عینی کادل اس کی بات سن کر خود کو ایک تھپڑ لگانے کا کیا جو کھڑکی بند کرنا بھول گئی تھی
ویسے چاند کی روشنی میں اور بھی خوبصورت لگتی ہو مسز۔۔۔۔
وہ اس پر جھکا اس کے گال کو لب سے چھو کر بولا تو عینی نے فورا اپنے ہاتھ سے دونوں گالوں کو اس کے لمس سے محفوظ رکھنے کے لیے چھپانے کی ناکام کوشش کی تو شاہزین اس کی معصوم حرکت دیکھ کر مسکرایا اور بے ساختہ اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔۔۔
اس بار عینی نے شاہزین کے پیچھے ہٹتے ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا تو شاہزین مسکراتا ہوا بیڈ پر چڑھ کر اس کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
عینی کا دل اس کا نرم گرم لمس محسوس کرکے زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ ستمگر تو اس وقت کوئی اور ہی معلوم ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اپنی گو میں وزن محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کی نظریں سیدھی اس کے گود میں سر رکھے شاہزین سے ٹکرائیں جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ی۔۔۔یہ آ۔۔۔آپ ؟؟۔؟
میرا سر دباؤ درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔
شاہزین اس کی بات کاٹ کر بولا تو وہ اس کے سر کو ہلکا ہلکا دبانے لگی۔۔۔۔۔ جبکہ شاہزین نے اس کے ہاتھ کا لمس اپنے سر پر محسوس کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
تم اپنا چہرہ کالا کیوں کرتی ہو حور ؟؟؟
شاہزین نے اچانک آنکھیں کھول کر اس سے پوچھا ۔۔۔۔
و۔۔وہ س۔۔سحر میم نے بولا تھا کہ ایسا کروں گی تو ہی وہ نوکری دیں گی۔۔۔۔۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
شاہزین نے اس کی بات سن کر اس کا چہرہ دیکھا جہاں جھوٹ کا کوئی آثار نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ خاموشی سے دوبارہ آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *