Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32
ارقم آج اپنے اور علیشبہ کے بارے میں حدید صاحب سے رمنا بیگم سے بات کرنے آیا تھا اس نے ہاشم سے ایک بار حدید صاحب سے بات کرنے کے بعد بات کرنے کا سوچا تھا ۔۔۔۔
وہ اس وقت ان دونوں کے کمرے میں خاموش بیٹھا ہوا تھا جبکہ رمنا بیگم اور حدید صاحب اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
ارقم بچے کوئی بات کرنی ہے ؟؟؟
رمنا بیگم نے پوچھا۔۔۔۔۔
جی امی مجھے آپ سے اور بابا سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولا
ہاں تو بولو ہچکچا کیوں رہے ہو ؟؟؟،
حدید صاحب سنجیدگی سے بولے۔۔۔
بابا میری بات تحمل سے سنیے گا۔۔۔۔۔ کچھ دن پہلے ہاشم مجھ سے ملنے آیا تھا وہ علیشبہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ میں پہلے تو راضی نہیں تھا پھر میں نے سکون سے سوچا بابا وہ عالی کی محبت ہے میری عالی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں مجھے امید ہے آپ بھی عالی کی خوشی کو دیکھتے ہوئے ہاشم سے اس کی شادی پر راضی ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ مجھے پتا ہے ہاشم شرمندہ ہے اور اب کافی سدھر بھی گیا لیکن میں کیو اس کی شادی اپنی بیٹی سے کراؤں ؟؟؟
بابا وہ عالی کی محبت ہے اور اگر اس نے عالی کو کوئی بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں اس کی حالت بگاڑ دوں گا۔۔۔۔۔
وہ حیدید صاحب کی بات سن کر بولا۔۔۔۔
بے شک وہ محبت کرتی ہے مگر وہ اپنی یک طرفہ محبت کے سہارے تو ساری زندگی نہیں سکتی کم از کم ان میں اعتماد کا رشتہ بھی ہونا چاہیے اور ہاشم تو ویسے بھی کانوں کا کچا ہے بقول تمھارے۔۔۔۔۔
وہ آخری والی اسی کی بات اس کو یاد دلاتے بولے جو اس نے پہلی دفعہ کہی تھی جب ہاشم ان سے معافی مانگنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔
بابا عالی اسے خود ہی سنبھال لے گی اور ابھی آپ نے ہی تو کہا ہے کہ وہ سدھر گیا ہے پھر آپ ہی یہ بات کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔
برخودار تم سمجھ نہیں رہے انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی !!!
بابا وہ بھی آپ کے ہی بھائی کا خون ہے وہ بس راہ بھٹک گئے تھے اب انھیں سہی راہ دکھی یے مجھے یقین ہے عالی ہاشم کے ساتھ خوش رہے گی۔۔۔۔۔
وہ ان کو یقین دلانے والے انداز میں بولا تو حدید صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔
ہاشم مجھ سے اور رمنا سے پہلے ہی بات کر چکا تھا اور میں نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ تم سے ایک بار بات کر لے اگر تم نے مجھے راضی کر لیا تو میں مان جاؤ گا اور دیکھو تم نے مجھے ہاشم کے لیے منا ہی لیا مگر میں ایک بات تم سے کہنا چاہتا ہوں اب عالی کی تو شادی ہم اس سے کر دیں گے۔۔۔۔۔۔
اب تم بھی اپنا غصہ ہاشم سے ختم کر دو اور وہ تم سے بڑا ہے اس کو تمیز سے بلایا کرو غلطیاں ہر انسان سے ہوتی ہے اس نے اپنی غلطیوں کو سدھارا ہے اور ابھی تک حور اور ہادی کو بھی ڈھونڈ رہا ہے اگر اللہ نے چاہا تو وہ دونوں بھی جلد ہی مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم بھی بولیں
جی ماما میں ہاشم بھائی سے بات کر لوں گا۔۔۔۔۔
وہ بات کم اور اسے دھمکانے وغیرہ کا زیادہ سوچ رہا تھا
ہمم۔۔۔۔۔ بہت اچھے۔۔۔۔۔۔کیا تم نے کچھ اور بھی کہنا ہے۔۔۔؟؟؟؟
حدید صاحب نے اس سے پوچھا جو بار بار کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتا اور بند کر رہا تھا۔۔۔۔۔
امی بابا وہ مجھے ایک اور بات کرنی تھی ۔۔۔۔۔وہ نروس سا مسکرا کر بولا عالی کی بات تو اس نے آرام سے کر لی تھی مگر اپنی بات کرتے ہوئے وہ ڈر رہا تھا
ہاں بولو ہم سن رہے ہیں ۔۔۔۔۔ رمنا بیگم نے اس سے کہا
مجھے ایک لڑکی پسند ہے وہ عالی کی دوست ہے اور میں چاہتا ہوں آپ لوگ پلیز اس کے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں ۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے تو جلدی سے بولا پھر آخر میں منت کرنے والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
کون ؟؟ کہیں تم وہ کیا نام ہے۔۔۔۔۔ ہاں شفق کی بات کر رہے ہو نہ ۔۔۔۔
رمنا بیگم سوچتے ہوئے بولیں علیشبہ نے ایک بار ان کی بات شفق سے کروائی تھی
جی امی وہ ہی ہے ۔۔۔۔ مجھے پسند ہے آپ لوگ پلیز اس جمعہ کو میرا رشتہ لے کر جائیں۔۔۔۔۔
وہ مضبوط لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے تم اپنے بابا سے پوچھ لو۔۔۔۔۔
رمنا بیگم مسکرا کر اپنے بیٹے کی آدھی پریشانی دور کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔
بابا آپ ؟؟؟
اگر وہ اچھے لوگ ہیں تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔
حدید صاحب نے اب کی بار اس کی ساری پریشانی ختم کر دی تھی۔۔۔۔۔
شکریہ امی اور بابا۔۔۔
وہ خوشی سے اٹھ کر ان کے پاس جاتا ہوا بولا اور پہلے حدید صاحب کے گلے لگا پھر رمنا بیگم سے پیار لیا وہ بے حد خوش تھا کیونکہ اس کے دونوں کام ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔
******************
تیمور صاحب نے آج شاہزین کو آفس سے جانے سے پہلے ہی روک لیا۔۔۔۔
کہاں جا رہے ہو شاہزین ؟؟؟
ڈیڈ میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
وہ صفائی سے جھوٹ بولا
آہاں۔۔۔۔ مجھے دراصل فلیٹ کی تم سے چابی چاہیے تھی میرے ایک دوست کو اپارٹمنٹ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔
بابا وہ اپارٹمنٹ تو میں نے پہلے سے ہی اپنے ایک دوست جو دیا ہوا ہے۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر پہلے تو گڑبڑا گیا مگر پھر سنبھل کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ مجھے بھی پتا چلا ہے کہ تمھارے دو دوست اتنے اچھے ہیں کہ تم روز صبح وہاں سے ناشتہ کرتے ہو اور پھر ڈنر بھی وہاں سے ہی کر کے آتے ہو ۔۔۔۔واہ ایسے دوست اللہ سب کو دے۔۔۔۔۔
تیمور صاحب نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا تو شاہزین شرمندگی سے نظریں جھکا کر بولا۔۔۔۔
ڈیڈ وہ واپس نہیں آنا چاہتی گھر میں اور نہ ہی موم سے ملنے چاہتی تھی اسی وجہ سے آپ کو بھی نہیں بتایا۔۔۔۔
تم کم از کم مجھے تو بتا ہی سکتے تھے نہ پتا ہے میں کتنا پریشان تھا تمھارے لیے
تیمور صاحب سنجیدگی سے بولے انھیں کبھی بھی حور اور ہادی کے بارے میں پتا نہیں چلتا اگر وہ اپنے ایک بندے کو اس کے پیچھے نہ لگاتے ۔۔۔۔۔
سوری ڈیڈ ۔۔۔۔۔۔
وہ شرمندگی سے بولا۔۔۔۔۔
اب جاؤ صبح آفس میں ہی تم سے تفصیل سے بات کروں گا۔۔۔۔۔
وہ اسے جانے کا بولا کر خود بھی اس کے آفس سے چلے گئے ۔۔۔۔
شاہزین ان کی بات سن کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا یوا باہر چلا گیا تھا اب اس کی صبح تیمور صاحب نے سہی معنوں میں بینڈ بجانی تھی۔۔۔۔۔
آج اس کا ارادہ حور اور ہادی کو باہر ڈنر کروانے کا تھا اس لیے وہ جلدی جلدی آفس سے نکل رہا تھا ہادی اب تقریبا کافی ٹھیک ہو چکا تھا جس سے حور اور شاہزین دونوں ہی پر سکون ہوگئے تھے ورنہ ان کو ڈر تھا کہ کوئی میجر پروبلم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔
******************
تیمور صاحب گھر آئے تو سحر بیگم ان کا انتظار کر رہی تھیں وہ چار دنوں سے ان سے بلکل بھی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ سحر بیگم اگر بات کرتی بھی تو تیمور صاحب صرف ہوں ہاں میں ہی جواب دیے رہے تھے
تیمور میں نے آپ سے معافی مانگ تو لی ہے اب غصہ ختم کر کے مجھ سے بات کر لیں ۔۔۔۔۔
وہ منت بھرے انداز میں بولیں ۔۔۔۔
میں نے تو صرف تم سے دو دن بات نہیں کی تو تمھارا یہ حال کیا تم نے سوچا ہے کہ شاہزین اور حور کی کیا حلات ہوئی ہوگی جب تم نے اپنی خود غرضی کے لیے انھیں الگ کیا اور میں نے خود عشا سے بات کی ہے وہ شاہزین سے شادی نہیں کرنا چاہتی وہ کسی اور کو چاہتی ہے لیکن تمھاری بہن اسے مجبور کر رہی ہے اس لیے بہتر ہے کہ اگر تم چاہتی ہو کہ میں تم سے بات کرؤں تو سب سے پہلے تو تم اپنی بہن کو کال کر کے صاف انکار کرو کہ شاہزین کا رشتہ ہم کبھی نہیں کریں گے پھر میرے پاس آنا۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بول کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔۔
جبکہ سحر بیگم صرف غصے سے اپنے لب ہی بھینچ سکیں انھیں بلکل امید نہیں تھی کہ عشا تیمور صاحب کو صاف انکار کرے گی حالانکہ وہ جب بھی عشا سے بات کرتی تو وہ خوشی سے اس سے بات کرتی اب انہیں لگ رہا تھا عشا جو ان سے خوشی سے بات کرتی تھی تو وہ بھی صرف شمائلا کی وجہ سے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
