Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03

سفید شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ پہنے کالی آنکھوں پر چشمہ لگائے وہ ایک شان سے اپنی کار سے باہر نکلا اور حویلی میں داخل ہوا تو سامنے ہی رمنا بیگم بیٹھی تسبیح کر رہی تھیں اس نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا اس کی آواز سن کر رمنا بیگم نے فورا اس کی طرف دیکھا اور تسبیح سامنے میز پر رکھے خوشی سی اسے اپنے گلے لگایا
ارقم میرے بچے کیسے ہو ؟ اور آج حویلی کی یاد کیسے آگئ ؟ ویسے تو تمہیں یونیورسٹی سے فرصت ہی نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔
اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد رمنا بیگم اس سے بولیں اور ساتھ ہی آخر میں شکوہ بھی کر ڈالا
امی آپ کے سامنے ہی ہوں دیکھ لیں کیسا لگ رہا ہوں اور میں پہلے آنا چاہ رہا تھا مگر ایک کام کی وجہ سے آ نہ سکا اور پھر میرے پیپر شروع ہو گئے تھے اس وجہ اب آیا ہوں۔۔۔
ارقم ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
اچھا ٹھیک ہے یہ بتاؤ کھانا کھا کر آئے ہو یا لگواؤں ؟
رمنا بیگم نے ارقم سے پوچھا جسے ملازمہ ابھی پانی کا گلاس دے کر گئی تھی
کھانا میں کھا کر آیا ہوں امی بس تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے میں عالی سے ملنا چاہتا ہوں
ارقم نے پانی پی کر گلاس میز پر رکھتے رمنا بیگم کو جواب دیا
اچھا ٹھیک ہے مل لو اپنے کمرے میں ہی ہے اور پھر آرام کر لینا رات کو کھانے پر بات ہو گی ۔۔۔۔۔
رمنا بیگم بولی تو ارقم اٹھ کر علیشبہ کے کمرے کی طرف چلا گیا اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو عالی بیڈ پر بیٹھی کوئی کتاب پڑنے میں مصروف تھی
دروازہ کھلنے کی آواز پر علیشبہ نے سامنے دیکھا تو ارقم کو دیکھ کر جلدی سے کتاب سائیڈ پر رکھی اور اس کے گلے جا لگی
عالی کیسی ہو ؟ اور کبھی کمرے سے بھی باہر نکل آیا کرو جب حویلی آتا ہوں تو تم سے ملنے کمرے میں ہی آنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
ارقم نے علیشبہ سے کہا تو وہ اس سے الگ ہو کر اس کی بات سن کر ہلکا سا مسکرائی اور بولی
اگلی دفعہ آپ آئیں گے تو میں دروازے میں کھڑی ہو کر پھولوں کا ہار ہاتھوں میں لیے آپ کا انتظار کروں گی تاکہ آپ دوبارہ شکایت نہ کریں
واہ کیا دن ہو گا جب تم ایسا کرو گی ۔۔۔۔۔۔ ورنہ اب تو تم مجھے اپنی عالی کم اور کھنڈروں میں رہنے والی چوڑیل لگ رہی ہو اپنی آنکھوں کو تو دیکھو کیا حال کیا ہوا ہے تم نے لگتا ہے سوتی بھی نہیں ہو تم۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ بھی مسکرا اٹھا مگر اس کی آنکھوں کے نیچے موجود ہلکے جو اس کے رتجگے کا بتا رہے تھے انھیں دیکھ کر وہ بولا
یہ سب چھوڑیں یہ بتائیں میرے لیے شہر سے کیا لائے ہیں
عالی نے اس کی چوڑیل والی بات کو نظرانداز کر کے کہا
تم نے بتایا ہی نہیں اور مجھے بھی تمھارے لیے کچھ لانا یاد نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے عالی کی بات سن کر پریشانی سے کہا
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی جب میں نہیں کہتی تھی تب بھی تو لاتے تھے نہ میرے لیے کچھ نہ کچھ۔۔۔۔۔۔
عالی نے معصوم منہ بنا کر کہا اس کے ایسا کرنے پر ارقم کو اس پر بے اختیار پیار آیا
مزاق کر رہا ہوں لایا ہوں تمھارا فیورٹ کیک ملازم نے فریج میں رکھ بھی دیا ہوگا کھالینا میں اب تھوڑی دیر آرام کرنے لگا ہوں تن سے بعد میں ملوں گا اور وہ بھی تمھارے کمرے سے باہر۔۔۔
ارقم اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے بولا
ٹھیک ہے بھائی آپ آرام کرلیں بعد میں بات ہوگی ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے کہا تو ارقم اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں چلا گیا
سلیولیس شارٹ اور تنگ شرٹ پہنے ساتھ تنگ پاجامہ پہنے وہ بنا دوپٹے کے ایک کٹی پارٹی سے واپس آئی ہی تھی کہ اپنے کمرے میں موجود صوفے پہ بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھ کر اس کی طرف آئی اور اس کے گال پر بوسہ دے کر بولی
ہاشم آج اتنی جلدی آگئے تم مجھے پتا ہوتا کہ تم نے جلدی آنا ہے تو میں جاتی ہی نہ۔۔۔۔
ہاشم نے اس کی بات سن کر ایک ناگوار نظر اس کے کپڑوں پر ڈالی اسے بلکل بھی پسند نہ تھا وہ ایسے کپڑے پہن کر لوگوں کے لیے دعوتِ نظارا بنے مگر ہاشم کو اس سے محبت تھی تبھی کبھی اسے ڈریسنگ بدلنے کا نہ کہا وہ جو پہنتی اسے پہن لینے دیتا۔۔۔۔۔
فکر مت کرو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں تم بتاؤ تمھارا دن کیسا گزرا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے حمنا کے گرد اپنے بازؤں کا حصار ڈالتے ہوئے محبت سے پوچھا
صحیح تھا مسز حمدانی ملی تھی آج ان سے بات ہوئی تھی بتا رہی تھیں کہ ان کی بیٹی تمھارے آفس کام کرتی ہے انٹرن شپ پر ۔۔۔۔۔ مگر تم نے مجھے بتانا بھی پسند نہ کیا
اس نے اپنی نقلی پلکوں کی جھالر کو اٹھاتے اور گراتے ہوئے معصومیت سے پوچھا جبکہ اس کے لہجے میں موجود زہر کو ہاشم محسوس نہ کرسکا
ڈارلنگ یاد نہیں رہا بتانے کا اور ویسے بھی وہ سیکنڈ فلور پر رہتی ہے اور میرا آفس فورتھ فلور پر ہے ۔۔۔۔۔
اس نے پیار سے حمنا سے کہا
حمنا کو بہت غصہ آیا تھا جب مسز حمدانی نے اسے اپنی بیٹی کا بتایا کیونکہ ہاشم نے جو نہ بتایا تھا مگر اس نے مسز حمدانی کو یہ ہی شو کروایا کہ اسے پتا تھا اس کا دل کیا تھا کہ وہ ان کی بیٹی کو ہاشم کے آفس سے فورا باہر پھنکوا دے مگر ہاشم کی نظروں میں بری نہیں بنبا چاہتی تھی حمنا نے ہاشم کے گال پر اپنے سرخ رنگے ہونٹوں سے دوبارہ بوسہ لیا اور بولی
مجھے لگ ہی رہا تھا کہ تمھیں یاد نہیں ہوگا ورنہ تم مجھے بتانا کبھی نہ بھولتے اور چھوڑو اس بات کو میں شاور لے کر آتی ہوں پھر ساتھ ڈنر کرتے ہیں
اپنی بات مکمل کر کے وہ شاور لینے چلی گئی اور ہاشم اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا
شاہزین تمھارے طبیعت تو ٹھیک ہیں ؟؟
سحر بیگم نے شاہزین سے پوچھا جو آج صبح صبح ناشتے کے لیے ان کے ساتھ بیٹھا تھا
جی موم میں بلکل فٹ فیٹ ہوں مجھے کیا ہونا ہے ؟
اس نے بریڈ پر بٹر لگاتے ہوئے پوچھا
میں اس لیے پوچھ رہی تھی کہ آج تم ٹائم پر ناشتے کے لیے موجود ہو ورنہ نو دس بجے اٹھتے ہو
سحر بیگم بولی تو شاہزین جو ان کو جواب دینے لگا تھا اس سے پہلے ہی تیمور صاحب بول پڑے
سحر آپ نے بتایا تھا کہ کسی لڑکی نے آنا ہے آج شفق کی دیکھ بھال کے لیے ۔۔۔۔۔ اگر وہ آپ کو اچھی لگی تو رکھ لیجیے گا میں نہیں چاہتا میری بیٹی کو کوئی مشکل پیش آئے
جی شائستہ بتا تو رہی تھی کہ اچھی لڑکی ہی لائے گی میں دیکھ لوں گی آپ فکر مت کریں
سحر بیگم نے تیمور صاحب کو جواب دیا تو تیمور صاحب ان کی بات سن کر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولے
ٹھیک ہے آپ دیکھ لیجیے گا میں اب آفس چلتا ہوں ۔۔۔۔۔
تیمور صاحب جب چلے گئے تو شاہزین جو ان کی باتیں سن رہا تھا سحر بیگم سے بولا
موم آپ نے بتایا نہیں کہ کوئی لڑکی رکھ رہی ہیں شفی کے لیے ۔۔۔۔۔
یاد نہیں رہا تمہیں بتانے کا اور تم یونیورسٹی جاؤ جب آؤ گے تب پوچھنا ۔۔۔۔۔
سحر بیگم اسے بولتے ہوئے اٹھیں۔۔۔۔۔اور اپنے کمرے کی طرف چلے گئیں
عینی ہادی کو اماں جنت کے گھر چھوڑ کر اماں جنت کی بتائی گئی عورت شائستہ کے ساتھ کام کے لیے چلی گئی
شائستہ اسے ایک بڑے سے گھر میں لے کر آئی وہ شائستہ کے پیچھے پیچھے گھر کے اندر داخل ہوئی اور شائستہ اسے لے کر ایک کمرے کی طرف گئی اور دروزہ ناک کیا اندر سے اجازت ملتے ہی عینی شائستہ کے ساتھ اندر داخل ہوئی
سحر بیگم نے شائستہ اور اس کے ساتھ موجود لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کے بعد شائستہ کو جانے کا کہا اور عینی کو اپنے سامنے کھڑا ہونے کا کہا عینی چپ چاپ ان کے سامنے کھڑی ہوگئ جبکہ نظریں اس کی نیچی ہی تھیں
کیا نام ہے تمھارا لڑکی۔۔۔۔۔ سحر بیگم نے کرخت لہجے میں پوچھا
حورالعین ہے میم ۔۔۔۔۔ عینی نے دھیمی آواز میں جوب دیا
کیا کرتی ہو گھر میں کون کون ہے اور کہاں رہتی ہو سب بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے اس کا نام سن کر اس سے مزید پوچھا
پرائیویٹ پڑھتی ہوں اورمیں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتی ہوں ماں باپ کا کچھ دیر پہلے انتقال ہو گیا تھا اور شائستہ باجی کے گھر کے قریب ہی رہتی ہوں
عینی نے جواب دیا تو سحر بیگم نے ایک نظر اس کو دوبارہ دیکھا جو سرخ و سفید رنگت کی مالک خوبصورت لڑکی تھی اور یہی خوبصورتی انھیں کھٹکی تھی
ویسے تو مجھے تمھیں رکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں مگر تمھیں اپنا یہ سفید رنگ چھپانا ہوگا میں نہیں چاہتی تم اپنی خوبصورتی کا استعمال کر کے میرے جوان بیٹے کو اپنی اداؤں کے جال میں پھنساؤ۔۔۔
سحر بیگم کرخت لہجے میں بولی تو ان کی آخری بات سن کر اس کا مرنے کو دل کیا اتنی زلت ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسے اس کام کی ضرورت تھی اپنی آنا کو ایک طرف رکھ کر وہ مضبوط لہجے میں بولی
اگر میری خوبصورتی کی وجہ سے آپ مجھے یہ کہہ رہی ہیں تو آپ فکر مت کریں میں میک اپ سے اسے چھپا دو گی مگر مجھے اس کام کی بہت ضرورت ہے میم ۔۔۔۔۔
بس ٹھیک ہے سب سے پہلے تو اپنا یہ رنگ کالا کرنا اور اپنی یہ سبز آنکھوں پر بھی لینز لگا کر کل آنا پھر میں تمہیں دیکھ کر بتاؤ گی کہ تم یہ کام کرسکتی ہو یا نہیں اب جاؤں یہاں سے
سحر بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولی ان کی بات سن کر عینی ان کے کمرے سے باہر چلی گئیں
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *