Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12

عینی کچن میں کھڑی ناشتہ کر رہی تھی جب رزیہ کچن میں داخل ہوئی اور اسے آکر بولی۔۔۔
عینی شاہزین سر کہہ رہے تھے کہ تمھیں کہوں کہ ان کے کمرے میں کافی بنا کر دے جاؤ۔۔۔۔
عینی جو نوالہ منہ میں ڈال رہی تھی وہ رزیہ کی بات سن کر حلق میں ہی پھنس گیا اور وہ زور زور سے کھانسنا شروع ہوگئی
عینی نے جلدی سے اپنے سامنے پڑے گلاس کو اٹھا کر منہ سے لگایا جب کھانسی روکی تو رزیہ کو خود کو دیکھتے پا کر وہ سنبھل کر بولی۔۔۔
ٹھیک ہے میں بنا دیتی آپ پلیز سر کے کمرے میں دے آئیے گا۔۔
بلکل بھی نہیں شاہزین سر نے کہا ہے کہ اسے کہنا وہ خود دے کر جائے۔۔۔۔
رزیہ اس کی بات سن کر جھٹ سے بولی تو عینی نے گہرا سانس لے کر اپنا سر ہلایا اور جلدی سے ناشتہ ختم کرکے شاہزین کے لیے کافی بنانے لگی۔۔۔۔۔
وہ ہمت کرتے ہوئے شاہزین کے کمرے کا دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی اور اسے نہ پاکر جلدی سے کافی میز پر رکھ کر جانے لگی جب اسے شاہزین کی آواز بالکنی سے سنائی دی
حور مجھے ادھر کافی پکڑا کر جاؤ۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو کافی پکڑانے کے لیے بالکونی میں گئی اور اسے کافی پکڑانے کے لیے اپنا کافی والا ہاتھ آگے کیا تو شاہزین نے پہلے عینی کو ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھا تو عینی کو اس پر شدید غصہ آیا
شاہزین نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کافی کا مگ پکڑنے کی بجائے اس کا ہاتھ پکڑلیا جب کہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ موجود تھی
عینی نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت میں دیکھا تو اپنے ہاتھ میں موجود کافی کا مگ چھوڑ دیا جس سے گرم کافی شاہزین کے چپل میں موجود پیروں پر گری اور ساتھ ہی تھوڑی کافی عینی کے پاؤں پر بھی گری
آہ۔۔۔۔
شاہزین نے اپنے پیروں پر کافی گرنے کی وجہ سے جلن محسوس کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت ہلکی کی تو عینی نے اس کو دھکا دے کر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
اب دیکھنا میں تمھارا کیا حشر کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ رہتی تو تم میرے ہی گھر میں ہونا اب مجھ سے تم بچ کر دکھانا
جبکہ اپنے پیچھے شاہزین کی غصے سے بھرپور آواز سن کر وہ ڈر گئی تھی۔۔۔۔
شاہزین جلدی سے واشروم میں گیا اور اپنے پیروں پر پانی گرایا جو سرخ ہوچکے تھے۔۔۔اور اب تو جیسے اس پر عینی کی زندگی حرام کرنا فرض ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
علیشبہ بیڈ پر بیٹھی آج پھر اپنی سوچوں میں گم تھی گھر والوں کے سامنے تو وہ بلکل ٹھیک تھی مگر وہ اس واقعہ کے بعد اندر سے ٹوٹ چکی تھی
جب ہاشم اس کے حق میں لفظ بھی نہ بولا تو اسے اس وقت ہاشم سے محبت پر خود سے بے حد نفرت محسوس ہوئی جو اپنی بیوی کو چپ نہیں کروا سکا
کتنی سبکی محسوس ہوئی تھی اس کے باپ کو مگر انھوں نے اسے کچھ بھی نہیں لیکن اسے چپ ہوئے کہ عالی سے کم ہی بات کرتے اور وہ خود بھی کمرے میں بند رہتی تھی تاکہ اپنے باپ کی نظروں میں خود کے لیے نفرت نہ دیکھ سکے
مگر احد صاحب نے تو کبھی اس سے نفرت کی ہی نہیں تھی وہ تو بس اس واقعہ کے بعد عالی کا سوچ کر خاموش ہوگئے تھے رمنا بیگم اور ارقم نے اس عرصے کے دوران اس کا بہت ساتھ دیا تھا اور سب سے بڑی بات اسے کسی چیز کا طعنہ نہیں دیا تھا
اس واقعہ کے بعد اس نے وہ ڈائری کا ایک ایک صفحہ خود اپنے ہاتھوں سے جلایا تھا تاکہ ہاشم کے لیے اپنے دل میں موجود محبت ختم کرسکے مگر ضروری تو نہیں جیسا ہم چاہیں ویسے ہو جائے
وہ خود بھی جانتی تھی کہ کچی عمر کی محبت جلدی ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ اور اس کی محبت تو تھی بھی بے لوث و خالص۔۔۔۔۔۔
عینی شاہزین کے کمرے سے نکل کر سیدھا کچن میں آئی ابھی وہ اپنے پیر کو دیکھ رہی تھی جہاں اسے جلن ہورہی تھی کہ اسے شاہزین کی آواز سنائی دی جس سے اس کے دل کی دھڑکن ڈر سے تیز ہوگئی تھی
شاہزین اپنے پیروں پر پانی گرا کر اپنے کمرے سے باہر نکل کر ریلنگ پر کھڑے ہو کر نیچے والے فلور پر جھانکتے ہوئے اونچی اونچی آواز میں سحر بیگم کو پکارنے لگا۔۔۔۔۔۔
موم ۔۔۔۔
موم۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر سحر بیگم اپنے کمرے سے باہر آئیں اور شاہزین کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے شاہزین کیوں پکار رہے ہو ؟
آپ کو پتا ہے وہ مہارانی حور میرے کمرے میں کافی گرا کر غائب ہوگئی ہے آپ جانتی ہے مجھے گندے کمرے سے سخت نفرت ہے اسے میرا کمرہ صاف کرنے کے لیے فوری بھیجیں۔۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر سحر بیگم بولیں ۔۔۔۔
تو تم سیدھا اسے ہی بولا لیتے مجھے بلانا ضروری تھا ۔۔۔۔
جی کیونکہ میں چاہتا ہوں آپ اسے سبق سکھا کر میرے کمرے میں بھیجیں تاکہ آئندہ وہ غلطی نہ کرے ۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر سحر بیگم عینی کو آوازیں دینے لگی
حور ۔۔۔۔فورا باہر آؤ
عینی جو کچن میں کھڑی ان کی باتیں سن کر ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی سحر بیگم کی غصے سے بھری آواز سن کر اس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کانپتے ہوئے باہر آئی
ادھر میرے سامنے آکر کھڑی ہو۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے اپنے سامنے کھڑے ہونے کا کہا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے پاس گئی
چٹاخ۔۔۔۔۔
عینی جیسے ہی سحر بیگم کے سامنے کھڑی ہوئی سحر بیگم نے اسے زور سے تھپڑ مارا ۔۔۔۔۔۔جس سے اس کا دماغ ایک پل کو سن ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونا شروع ہوگیا عینی نے اپنے سرخ گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھندلی نظروں سے سحر بیگم کو دیکھا جو غصے سے بول رہی تھی۔۔۔
ایک کام تم سے ڈھنگ سے نہیں ہوتا کیا کر کے آئی ہو شاہزین کے کمرے میں اور پھر بجائے اس کا کمرہ صاف کرنے کے تم یہاں آرام فرما رہی ہو اس سے پہلے میں تمھارا منہ تھپڑوں سے سرخ کرو فورا شاہزین کے کمرے کی صفائی کرو جا کر دفعہ ہوجاؤ اب
عینی ان کی بات سن کر جلدی سے صفائی کا سامان لینے چلے گئی جبکہ شاہزین اوپر کھڑا اس کو تھپڑ پڑتے دیکھ نجانے کیوں بے چین ہوگیا تھا جبکہ اس نے تو اسی وجہ سے سحر بیگم سے کہا تھا وہ اپنا سر جھٹک کر حور کی سزا کے بارے میں سوچنے لگا
شاہزین نے کمرے میں آکر بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کی ڈبی اٹھائی اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر ڈبی کو واپس رکھا اور لائٹر سے اسے سلگا کر وہ بیڈ پر بیٹھ کر سیگریٹ پینے لگا
عینی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے سڑھیاں چڑھ کر شاہزین کے کمرے کی طرف گئی اور اس کے کمرے کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے ڈرتے ڈرتے ہوئے دروازہ ناک کیا اسے اندر سے شاہزین کی آواز سنائی دی تو وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور شاہزین کو دیکھے بغیر بالکونی کی طرف بڑھ گئی
شاہزین کی نظروں نے اس کا بالکونی تک پیچھا کیا وہ سگریٹ کے کش لیتا ہوا مسلسل عینی کو ہی گھور رہا تھا جو صفائی کر رہی تھی
عینی اس کی نظریں محسوس کرتی اپنے ہاتھ جلدی جلدی چلانے لگی جبکہ شاہزین کے ساتھ اکیلے میں سوچ کر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے جلدی سے ٹوٹے ہوئے مگ کے ٹکرے اٹھا کر فرش صاف کیا اور باہر جانے لگی تو شاہزین نے اسے چپ چاپ جانے دیا یہ سوچ کر کے وہ بعد میں اس سے بدلہ لے گا۔۔۔۔
ہاشم گھر آفس سے گھر واپس آیا تو حمنا کو تیار دیکھا تو اس کے ماتھے کی تیوری چڑھ گئ۔۔۔۔
اس نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے حمنا سے پوچھا جو اب جیولری پہن رہی تھی
کہاں جارہی ہو ؟۔۔۔۔
میری ایک دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے وہاں جا رہی ہوں تم اس وقت تھکے یوئے ہوتے ہو اس وجہ سے میں نے پوچھا نہیں اگر پوچھ بھی لیتی تو تم نے انکار ہی کرنا تھا۔۔۔۔
حمنا اس کا سوال سن کر جلدی سے تفصیل سے بولی
اس کی بات سن کر ہاشم کے ماتھے پر مزید لکریں نمودار ہوئی اور وہ حمنا سے سرد آواز میں بولا
تم اس وقت کہیں نہیں جارہی جاکر اپنے کپڑے بدلو اور میرے لیے ڈنر لگواؤ
میں میڈ سے کہہ دیتی ہو وہ ڈنر لگا دیتی ہو اور میں ضرور جاؤ گی اتنی محنت سے میں تیار ہوئی ہوں اور تمھارے خراب موڈ کی وجہ سے میں اپنی نائٹ کم از کم سپوئل نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔
حمنا جواباً ہاشم سے بولی تو وہ جو صوفے ہر بیٹھا تھا غصے سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے بازو سے پکڑ کر اس رخ اپنی طرف کیا اور غصے سے دھاڑا۔۔۔۔
میری بات مزاق میں لینے کی کوشش بھی مت کرنا اور چپ چاپ جا کر کپڑے بدلو اگر آئندہ کے بعد میری بات نہ مانی تو میں تمھارا جو حال کروں گا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔ اور سب سے ضروری بات آئندہ تم میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا ابھی صرف تم نے میری اچھائی دیکھی مجھے تم پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوگی اور اب واشروم میں دفعہ ہو جاؤ اس سے پہلے کے میں مزید تمھیں کچھ کردوں۔۔۔۔
حمنا اس کے غصے سے بھری آواز اور اس کی فولادی گرفت اپنے بازو ہر محسوس کرکے اس سے ڈر گئی جب ہاشم نے بات مکمل کرکے اسے واشروم کی جانب دکھا دیا تو وہ جلدی سے واشروم میں چلی گئی
شام کے وقت شاہزین اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا تو عینی پرسکون ہوگئی وہ رزیہ کے ساتھ کام کروانے کے بعد انیکسی میں اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے اپنی آنکھوں سے لینز اتارے اور شاور لینے چلی گئی
وہ شاور لے کر آئی اور اپنے بالوں کو سکھانے لگی اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تو اس کی آنکھیں رونے اور لینز کی وجہ سے سرخ ہوئی پڑی تھیں
اس نے اپنے ہاتھ سے اس گال کو چھوا جو سحر بیگم کے تھپڑ کی وجہ سے ہلکا سا سوجا ہوا تھا
وہ آج کے دن کے بارے میں سوچتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی
شاہزین اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر واپس گھر آیا تو اس کا دھیان انیکسی کی طرف گیا کچھ سوچ کر وہ عینی کے کمرے کی طرف چل دیا
چونکہ کمرے کا دروازہ بند تھا وہ کمرے کی کھڑکی کی طرف گیا اور اسے کھولنے کے لیے کوشش کرنے لگا تو کھڑکی کا لاک کھولا ہوا ہی تھا بس کھڑکی ویسے ہی بند تھی
کھڑکی کو کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو حور کو سوتے پاکر وہ آہستہ سے بیڈ کی جانب بڑھ گیا اور اپنے موبائل کی لائٹ جلا کر سامنے دیوار کی طرف اس کا رخ کیا تو کمرے میں تھوڑا اندھیرا کم ہوا اور اسے عینی کی صورت دکھائی دی
اس نے عینی کو دیکھتے ہوئے بےخودی کی کیفیت میں ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھایا اور اس کے چہرے کے نقوش کو ہلکا ہلکا چھونے لگا
عینی گہری نیند میں تھی جب اسے لگا کہ کوئی اسے چھو رہا ہے ۔۔۔۔۔
شاہزین نے جب عینی کو ہلتے دیکھا تو جلدی سے اپنا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹالیا اور اس کے کان کے قریب جھک کر دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔۔
تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔اور جلد ہی تم میری بیوی بنوگی پھر میں تمھارا جینا حرام کروں گا ۔۔۔۔۔
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ایسے بولا جیسے عینی سب سن رہی ہو مگر وہ تو خوابوں کی دنیا میں گم تھی
وہ اہستہ سے اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *