Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19
ہاشم صبح اٹھ کر آفس کے لیے تیار ہوا اور جاتے ہوئے میڈ سے حمنا کے کمرے کا دروازہ کھولنے سے سختی سے منع کرتے ہوئے اسے کچھ بھی کھانے پینے کے لیے نہ دینے کا کہا اور آفس چلا گیا اس نے آفس جا کر سب سے پہلے اپنے ایک دوست کو فون کرلے کسی بھی طرح حور اور حیدر کے بارے میں اسے معلوم کرنے کا کہا۔۔۔۔
اس کے بعد وہ پورا دن اپنے کام میں مصروف ہو گیا لیکن اس کو باربار ہادی اور حور کی باتیں یاد آرہی تھیں۔۔۔۔
شفق یونیورسٹی سے گھر آکر تھوڑی دیر لان میں واک کرنے کے بعد تھوڑی دیر لیٹ گئی
اسے امید تھی کہ آج شاید ارقم اس سے معافی مانگ لے مگر اس کے کچھ نہ کہنے کی بجائے اگنور کرنے پر وہ من ہی من میں کلس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
وہ شام میں سب کے ساتھ ڈنر کرکے واپس اپنے کمرے میں آکر تھوڑی دیر اپنی کوئی اسائنمنٹ جو نامکمل تھی اسے مکمل کرنے لگی
تھوڑی دیر وہ اپنا کام کرکے سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔۔۔
وہ نیند میں تھی جب اسے لگا کوئی اس کے کمرے میں موجود ہے کسی نے اس کے قریب آکر اس کو ہلکا سا ہلایا اس نے اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھول کر شاہزین کو دیکھا اور پھر سونے لگی کہ اس کے کانوں میں شاہزین موم اور ڈیڈ کی آواز گونجی۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈئیر شفق ۔۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی اور سب کو حیرت اور خوشی سے دیکھا کیونکہ وہ اپنا برتھ ڈے بھول گئی تھی۔۔۔۔
شفق نے سامنے ٹیبل پر کیک پڑا دیکھا تو اٹھ کر اس کے پاس آئی اور سب کے ساتھ کیک کاٹا اس کے بعد سب سے پہلے تیمور صاحب نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا اور سر ہر پیار دے کر اس کا گفٹ دیا اس کے بعد سحر بیگم اور پھر آخر میں شاہزین نے شفق کو گفٹ دیا ۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر سب کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہی پھر سب اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی خوش ہوتی لیٹ گئی۔۔۔۔
صبح ناشتے کے وقت تیمور صاحب نے اسے بتایا تھا کہ رات کو اس کے برتھ ڈے کی خوشی میں اور ایک نیا پروجیکٹ ملنے کی وجہ سے ہوٹل میں پارٹی ارینج کی گئی ہے اور اس کے انتظامات وہ پہلے ہی کرواچکے ہیں۔۔۔۔۔ جانتے تھے کہ ان کا نکامہ بیٹا کسی کام کا نہیں۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر بے حد خوش تھی اسے شروع سے ہی اپنی برتھ ڈے پارٹی کو اینجوائے کرنے کا بڑا مزا آتا تھا۔۔۔
شاہزین ٹی وی لاؤنچ میں سحر بیگم کے پاس آکر بیٹھا تو سحر بیگم نے عینی کو تھوڑی دیر بعد آواز دے کر بلایا۔۔۔
عینی میری بات سنو باہر آکر۔۔۔۔
عینی ان کی آواز سن کر جلدی سے باہر آئی اور ان کے ساتھ بیٹھے شاہزین کو دیکھ کر اس نے اپنے لب کاٹتے ہوئے سحر بیگم سے پوچھا۔۔۔۔
جی میم ؟؟
ہاں ادھر آؤ میرے قریب ۔۔۔۔۔ سحر بیگم نے اسے دور کھڑے دیکھ کر اپنے پاس بلایا۔۔۔۔
وہ ڈرتے ڈرتے ان کے پاس گئی تو سحر بیگم نے ٹیبل پر سائیڈ پر پڑے کچھ پیسے اٹھا کر عینی کی طرف بڑھائے تو وہ ناسمجھی سے سحر بیگم کی طرف دیکھنے لگی جبکہ شاہزین بھی ان کی طرف ہی متوجہ تھا
آج شفق کی سالگرہ تھی تو ہم اس کا صدقہ وغیرہ نکال کر مستحق لوگوں کو دیتے ہیں پہلے تو یہاں رزیہ ہوتی ہے اب وہ نہیں یے تو تم رکھ لو۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے شاہزین کے سامنے اس کی حیثیت دکھانے کے لیے پیسے اس کو دینے کا سوچا تھا ۔۔۔۔
عینی نے ان کی بات سن کر ایک شکوہ کن نظر شاہزین پر ڈال کر پیسے ان کے بڑھائے ہوئے ہاتھ سے پکڑ لیے اور واپس کچن میں چلی گئی پیسوں کو اس نے اپنی بند مٹھی میں جکڑا ہوا تھا جبکہ اس کا دل کیا ہاشم کو مار دے جاکر جس کی وجہ سے لوگ اب اسے مستحق سمجھتے ہیں یہ تو وہی جانتی تھی کہ پیسے پکڑتے ہوئے اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔
شاہزین ابھی تک حیران تھا کہ سحر بیگم نے ایسا کیوں کیا کیونکہ اسے نہیں یاد کے سحر بیگم نے کبھی صدقہ بھی دیا ہو اسے عینی کی شکوہ کن نظر یاد آئی تو وہ ناگواری سے سحر بیگم سے بولا۔۔۔۔
موم آپ کو اسے دینے کی ضرورت نہیں تھی کسی اور ضرورت مند کو دے دیتی۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو وہ ضرورت مند ہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ناگواریت سے ان کی بات سن کر ان کے پاس سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا اور عینی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے نکل گیا۔۔۔۔
شفق سفید پیروں کو چھوتی فراک پہنے تیار کھڑی خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی لائٹ میک اپ کے ساتھ ہلکی پھلکی جیولری پہنے وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتی تھی۔۔۔۔۔
وہ خود پر ایک تنقیدی نظر ڈالے کمرے سے نکل کر باہر چلی گئی جہاں سحر بیگم نفیس سی نیلے رنگ کی ساڑھی پہنے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
شفق کو دیکھ کر سحر بیگم نے مسکرائی اور اسے اپنے ساتھ لیے باہر چلی گئی جہاں ڈرائیور گاڑی کے ساتھ اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
شاہزین سحر بیگم کے جانے کے بعد گھر داخل ہوا اور تیزی سے اپنے کمرے میں جاکر فریش ہونے چلا گیا وہ بیس منٹ بعد تیار ہوچکا تھا وہ جلدی سے اپنے ساتھ لیا ہوا شاپنگ بیگ اٹھا کر انیکسی کی جانب چلا گیا ۔۔۔۔
عینی نہا کر نکلی اور اپنے بال کو کنگھی کرکے وہ بیڈ پر بیٹھی جلدی سونے کی تیاری میں تھی کیونکہ سب لوگ تو چلے گئے تھے اس وجہ سے گھر میں کوئی کام نہ تھا۔۔۔۔
حور۔۔۔ جلدی سے دروازہ کھولو۔۔۔۔
شاہزین نے عینی کے کمرے کے دروازے پر زوردار دستک دی اور عینی کو پکارا تو وہ جو سونے کی تیاری میں تھی اس کی آواز سن کر اپنی جگہ سے اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر وہ دروازے کی جانب گئی اور دروازہ کھولا تو شاہزین جلد سے اسے سائیڈ کرتا کمرے میں داخل ہو کر عینی سے بولا۔۔۔۔
مجھے وہ پیسے دو جو موم نے تمہیں دیے تھے اور کوئی فضول بکواس سننے کے موڈ میں میں بلکل بھی نہیں ہوں۔۔۔
وہ عینی کو منہ کھولتا دیکھ کر آخری بات بولا۔۔۔تو عینی اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر جلدی سے پیسے نکال کر لائی اور اسے پکڑا دیے۔۔۔۔۔
شاہزین نے وہ پیسے پکڑ کر اپنی جیب میں ڈالے اور اپنے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگ اس کی طرف بڑھایا تو عینی نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اس میں تمھارے لیے ڈریس موجود ہے میں چاہتا ہوں تم یہ ڈریس پہن کر ایک گھنٹہ تک تیار ہوجانا میں ایک گھنٹے کے بعد تمھیں لینے آؤں گا۔۔۔۔
شاہزین نے بیڈ پر بیگ رکھا اور اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر کمرے سے نکل گیا تو عینی منہ بناتے ہوئے شاپنگ بیگ کے اندر موجود ڈریس نکال کر دیکھنے لگی۔۔۔
شفق کو سحر بیگم اپنے ساتھ لیے ہی کھڑی تھیں جب شفق کو دور سے علیشبہ ہال میں داخل ہوتے دکھائی دی
وہ سحر بیگم کو بتا کر علیشبہ کے قریب گئی جس نے کالے رنگ کی نفیس سی شورٹ فراک اور ساتھ پجامہ پہنا ہوا تھا وہ لائٹ سے میک اپ کیے بے حد حسین لگ رہی تھی اس نے دوپٹہ اپنے ایک کندھے پر پھیلا کر لیا ہوا تھا۔۔۔۔
علیشبہ شفق کے پاس آتے ہی اس کے گلے لگی اور اس سے دور ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔
شفی تم بے حد حسین لگ رہی ہو اس فراک میں یار اگر میں لڑکا ہوتی تو ضرور تم سے شادی کرتی ۔۔۔۔۔
ہاہا۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔
جھوٹ کم بولو مجھے تو لگتا ہے آج پارٹی میں سب نے تمہیں ہی دیکھنا ہے ۔۔۔۔
اس کی نظریں ہال میں داخل ہوتے ارقم پر پڑی جو سفید شلوار قمیض پہنے بے حد وجیہ لگ رہا تھا تو وہ علیشبہ سے بولی۔۔۔
عالی تمھارا بھائی ارقم شاید تمھیں ڈھونڈ رہا ہے ۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر اس نے پیچھے دیکھا تو ارقم اسے دیکھے اس کے قریب ہی آرہا تھا ارقم نے اس کے قریب آکر عالی کو ایک چھوٹا گفٹ پیک پکڑایا ۔۔۔۔۔
جبکہ نظروں کا رخ اپنے سامنے کھڑی پری پیکر پر تھا شفق نے اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے پہلو بدل کر رہ گئی۔۔۔
عالی یہ تم گاڑی میں ہی بھول گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسے پکڑاتا بولا تو عالی جو شفق کا گفٹ کار میں بھول گئی تھی ارقم کو شکریہ کہتے وہ گفٹ اس نے شفق کی طرف بڑھا دیا تھا۔۔۔۔
عالی میں اپنے دوستوں کے ساتھ اسی ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں موجود ہوں جب فارغ ہوجاؤ گی تو بتا دینا میں لینے آجاؤ گا ۔۔۔۔
وہ جانے یہ بات عالی کو سنا رہا تھا یا شفق کو وہ خود نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔
اوکے بھائی آپ کو بتا دوں گی۔۔۔۔
وہ علیشبہ کا جواب سن کر ایک بھر پور نظر شفق پر ڈال کر چلا گیا۔۔۔۔
شفق نے ارقم کے جاتے ہی ایک گہرا سانس لیا اور علیشبہ کے ساتھ پارٹی اینجوائے کرنے لگی۔۔۔
شفق نے شاہزین کے آتے ہی سب کے ساتھ کیک کاٹا اور سب کو کھلانے کے بعد وہ علیشبہ کے ساتھ باتیں کرنے لگی جبکہ سحر بیگم اپنی دوستوں کے ساتھ مصروف تھی اور شاہزین ایک گھنٹہ رک کر واپس چلا گیا تھا جبکہ تیمور صاحب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھے ۔۔۔۔۔
شفق عالی کو بتا کر واشروم استعمال کرنے گئی مگر یہ واشروم فل ہونے کی وجہ سے وہ دوسری طرف موجود واشروم میں چلی گئی وہ شیشے میں اپنا میک اپ دیکھ کر باہر نکلی تو اسے ایک لڑکا دیوار کے ساتھ ٹیک لگائت کھڑا ملا وہ لڑکا اسے پارٹی میں بھی دو تین بار اپنی طرف دیکھتا ہوا ملا تھا۔۔۔۔۔
وہ اسے نظر انداز کیے اس کے قریب سے گزر کر جانے لگی کہ اس نے شفق کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
شفق جو اس اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھی اچانک سے اس کے ہاتھ پکڑنے پر گھبرا گئی اور اپنے ارد گرد دیکھا جہاں کوئی بھی موجود نہ تھا ۔۔۔اور اپنا ہاتھ اس سے چھڑانے لگی مگر اس لڑکے نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت اور مضبوط کر لی۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بتمیزی ہے ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔۔۔
ابھی تو میں نے پکڑا ہے ابھی کیسے چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔میں کب سے انتظار کر رہا تھا کہ تم مجھے کہیں اکیلی مل جاؤ۔۔۔۔۔
وہ لڑکا شیطانی مسکراہٹ سے بولا تو شفق کو اس سے خوف محسوس ہوا
لیکن خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے انگلیاں اس کی آنکھوں میں مارنے کی ناکام کوشش کی مگر اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا
شفق نے اب کی بار غصے سے اپنا پاؤں اٹھا کر سیدھا اسے مارا ۔۔۔۔۔ شفق نے جو ہیل پہنی تھی وہ سیدھی اس کی ٹانگ کی ہڈی میں بجی جس کی وجہ سے اس کی گرفت ڈھیلی ہو تو شفق نے جلدی سے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور تیزی سے دوسری جانب جانے لگی وہ جو بھاگ رہی تھی اس کا فراک پاؤں کے نیچے آگیا جس سے وہ اوندھے منہ نیچے گرنے لگی کہ کسی نے اس کے گرد اپنا حصار بناتے ہوئے اسے نیچے گرنے سے بچایا۔۔۔۔۔
شفق نے جلدی سے اس کا چہرہ دیکھا تو ارقم کو دیکھ کر وہ تھوڑا پر سکون ہوئی مگر اپنی پوزیشن کا خیال کرتے ہوئے وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی
کیا ہوا ہے تمھیں اور یہ اتنی تیزی سے کہاں بھاگ رہی تھی اور سب سے بڑی بات تم اس حصے میں کیا کر رہی ہو پارٹی تو ہوٹل کے دوسری سائیڈ پر ہے۔۔۔۔۔
ارقم نے اسے گھبرایا ہوا دیکھ کر پوچھا
و۔۔وہ میں اس طرف واشروم میں آئی تھی و۔۔۔وہ وہاں ایک لڑکے نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑا تو میں اسے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس طرف بھاگ آئی۔۔۔۔
اس نے ارقم کو ساری بات سچ سچ بتا دی تو ارقم نے غصہ سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
کہاں ہے وہ لڑکا آؤ میرے ساتھ مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے اس طرف لے جانے لگا تو اس نے فورا ارقم کو روک کر بولا۔۔۔۔
ن۔۔نہیں میں اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتی آپ مجھے دوسری طرف چھوڑ آئیں مجھے بس واپس پارٹی میں جانا ہے۔۔۔۔۔
ارقم نے اپنے غصے پر قابو کیا اور اسے دوسری طرف ہال میں لے جانے لگا وہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔۔۔۔۔
سوری ۔۔۔۔۔ وہ اس دن مجھے تمہیں وہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی مگر میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا جو تم سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولا مگر شفق کے ناسمجھ والے تاثرات دیکھ کر اس نے وضاحت کی تو شفق نے بس اپنا سر ہلانے پر اکتفا کیا فلحال اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ ارقم نے اس سے معافی مانگ لی۔۔۔۔
ہاشم تیمور صاحب کے ساتھ کھڑا بات کر رہا تھا وہ دراصل پارٹی میں لیٹ ہو گیا تھا اور ابھی پہنچا تھا مگر وہ دیر سے آنے کی معزرت وہ تیمور صاحب سے کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ ام سے بات کر رہا تھا جب اس کی نظریں ایک کونے میں اکیلی کھڑی لڑکی پر پڑی اس نے اس پر ایک نظر ڈال کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ ہی تھا کہ شناسائی کی رمق کی وجہ سے اس نے دوبارہ اس سمت دیکھا ۔۔۔۔۔۔
کالے نفیس سے فراک میں کھڑی علیشبہ کو پہچاننے میں اسے ایک منٹ لگا تھا وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی یا شاید کبھی وہ اتنا تیار نہ ہوئی تھی یا شاید اس نے کبھی اسے غور سے نہ دیکھا تھا
تیمور صاحب اس سے اکسکیوز کر کے کسی اور سے ملنے گئے تو اس نے ایک تفصیلی نظر پھر علیشبہ پر ڈالی جو اس کا ایک بار دل دھڑکا گئی تھی ۔۔۔۔۔
علیشبہ جو شفق کے جانے کے بعد اکیلی کھڑی تھی خود پر مسلسل کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے اپنی نظریں اٹھا کر ارد گرد دیکھا تو اس کی نظریں خود کو گھورتے ہوئے ہاشم سے ٹکرائیں جو بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس اس کی دھڑکن کو روک گیا۔۔۔۔۔
ہاشم نے علیشبہ کو اپنی جانب دیکھتے ہوئے بھی اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائیں تھیں۔۔۔۔۔۔
علیشبہ نے اس پر ایک شکوہ کن نظر ڈال کر اپنی نظروں کا رخ بدلا وہ کیسے بھول گئی تھی یہ شخص تو پہلے ہی کسی اور کا ہو گیا تھا اب وہ اس کا کچھ نہیں لگتا تھا وہ ستمگر اس کا کبھی اس کا محبوب ہوا کرتا تھا جسے دیکھنے کے لیے وہ دن گنتی تھی اس کے حویلی آنی کی دعائیں کرتیں تھی۔۔۔
مگر اب وہ بس اس کی محبت اپنے دل سے ختم ہو جانے کی دعا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے اس کی ایک آخری نظر میں ہزاورں شکوے محسوس کر کے اپنے لب بھینچے اور اس پر ایک آخری نظر ڈال کر اپنے قریب کھڑے لوگوں سے بات کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
شاہزین پارٹی اٹینڈ کر کے ایک گھنٹے بعد ہی تیمور صاحب سے ضروری کام کا کہہ کر گھر واپس چلا گیا ۔۔۔۔۔
وہ گاڑی باہر کھڑی کر کے انیکسی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
اس نے دروازہ ہلکا سا بجا کر عینی کو پکارا تو اس کی آواز سن کر اس نے تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا تو شاہزین کا منہ اسے تیار دیکھ کر کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔۔
وہ بے حد حسین لگ رہی تھی نیلے رنگ کے پاؤں کو چھوتی فراک پہن کر وہ کھلے بالوں اور ہلکے سے میک اپ میں اس کے لیے سراپا امتحان بنی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
و۔۔۔وہ بس بال باندھنے رہ گئے پ۔۔۔۔پھر میں بس تیار ہوں۔۔۔۔۔۔
نہیں کھلے ہی رہنے دو بال اور آجاؤ چلے لیکن ساتھ اپنی ایک شال لے لو ہمارے پاس صرف دو گھنٹے ہیں اس کے بعد ہم نے واپس بھی آنا ہے۔۔۔
وہ بمشکل اس کے خوبصورت سراپے سے نظریں چرا کر اس کا سر چومتا بولا تو عینی چادر لینے چلی گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
