Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25
شاہزین عینی کو اپنے ساتھ لے کر اس وقت ہادی کے سکول میں موجود تھا عینی ہادی کو لے کر آئی تو ہادی نے شاہزین کو دیکھ کر عینی کو ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔
ہادی یہ م۔۔۔میرے ہسبنڈ ہیں کچھ دن پہلے ہی ان سے میرا نکاح ہوا ہے ۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں ہادی کے کان کے قریب بولی۔۔۔
لیکن مجھے تو آپ نے اپنی شادی پر بلایا نہیں عینی آپی میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر ناراضی سے اونچی آواز میں بولا۔۔۔۔
اس کی اونچی آواز سن کر عینی نے آنکھیں پھیلا کر شاہزین کو دیکھا جو ان کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
ہادی سادگی سے سب کچھ ہوا تھا اس وجہ سے نہیں بلایا اور دیکھو میں اور شاہزین تمہیں نہ بلانے کے بدلے گھمانے لے کر جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کار کے قریب لائی تو شاہزین نے پچھلا دروازہ ہادی کے لیے کھولا۔۔۔۔
ہادی عینی کی بات سن کر خاموشی سے کار میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
شاہزین نے عینی کے لیے اگلا دروازہ کھولا تو عینی آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
شاہزین ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا اور کار سٹارٹ کر کے پہلے ہادی کو لنچ کروانے کے لیے کسی ریسٹورنٹ کی طرف لے گیا۔۔۔۔۔
آپ کا نام کیا ہے ؟؟
کار کی خاموشی میں اچانک ہادی کی ناراض سی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔
میرا نام شاہزین ہے اور تمھارا ؟؟؟
میرا نام حیدر دورید ہے اور میں عینی اپی کا چھوٹا بھائی ہوں
وہ معصوم سی آواز میں بولا
اور میں تمھاری اپی کا ہسبینڈ ہوں ہادی۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا
اگر آپ نے عینی اپی کو کچھ بھی کہا تو میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو دھمکی دے کر بولا تو گاڑی کی فضا میں شاہزین کا قہقہہ کا گونجا جبکہ عینی بھی ہادی کی بات سن کر مسکرا رہی تھی
بلکل چھوٹے سالے صاحب میں عینی کو کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کروں گا۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا تو ہادی نے جہاں اس کے قہقہہ لگانے پر منہ بگاڑا تھا وہاں ہی شاہزین کی بات سن کر وہ بھی مسکرا اٹھا۔۔۔۔۔
وہ انھیں قریبی موجود ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا شاہزین اور عینی نے تو پہلے ہی ناشتہ کیا ہوا تھا اس وجہ سے عینی نے صرف جوس پیا اور شاہزین نے کافی جبکہ ہادی بھر پور ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ کھانا کھانے کے بعد مال گئے تھے جہاں شاہزین نے عینی اور ہادی کو شاپنگ کروائی پہلے تو عینی شاہزین کو باربار منع کرتی جارہی تھی مگر شاہزین کی ایک غصے سے بھری گھوری سے عینی کا منہ فورا بند ہو گیا اور وہ ہچکچاتے ہوئے شاہزین کے ساتھ شاپنگ کرنے لگی۔۔۔۔۔
شاہزین بس کریں میں اتنے ڈریسز کا کیا کروں گی ؟؟؟
وہ شاہزین کے ہاتھ میں لاتعداد شاپنگ بیگز دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
یہ کونسا صرف تمھارے ہیں ان میں ہادی کے بھی تو ہیں اور ویسے بھی میں چاہتا ہوں تم میرے آفس جانے سے پہلے ایک سوٹ پہنو اور جب میں گھر واپس آؤں تو بدل کر دوسرا سوٹ پہنو۔۔۔۔
تو آپ کیا چاہتے ہیں میں سارا دن کپڑے ہی بدلتی رہوں۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر منہ بناتے ہوئے بولی اور ہادی کا ہاتھ پکڑ کر شاہزین کو دوبارہ دوسری کپڑے والی دکان میں جاتے ہوئے آگے جانے لگی تو شاہزین جلدی سے بولا۔۔۔۔
رکو اب کپڑے نہیں خریدتے کم از کم جیولری تو خرید لو ۔۔۔۔۔
اس کے معصومیت سے بولنے پر ہادی اور حور دونوں نے اپنی آنکھیں گھمائیں اور اس کے ساتھ جیولری شاپ میں چلے گئے ۔۔۔۔۔
وہ سارا دن گھومنے پھرنے کے بعد اب واپس گھر جا رہے تھے چونکہ رات ہو چکی تھی اس وجہ سے ہادی کو بھی شاہزین نے اپنے گھر لے جانے کا سوچا اور عینی سے ایک بار پوچھا تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا۔۔۔
تھکن کی وجہ سے ہادی نیند میں جھول رہا تھا جب وہ گھر میں داخل ہوئے ہادی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مسلتا ہوا کھولنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔
شاہزین اسے اوپر اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں لے گیا اور وہاں اسے لیٹا دیا اس کے سونے کے بعد عینی کمرے میں آئی تو ملازم سارے شاپنگ بیگ کمرے میں رکھ کر جا چکا تھا اور واشروم سے پانی کی گرنے کی آواز سن کر اسے پتا چلا کہ شاہزین واشروم میں ہے تو وہ جوتے سے اپنے پاؤں آزاد کرتی بیڈ سے پاؤں نیچے لٹکا کر بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گئ اور شاہزین کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔۔
شاہزین شاور لے کر آیا اور عینی کو آواز دینے لگا تو اسے سوتا دیکھ کر اپنے بال صاف کر کے اس کی ٹانگیں بیڈ پر کرکے اسے کمفرٹیبل طریقے سے بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کا سر چوم کر خود بھی دوسری طرف سے آکر بیڈ پر لیٹ گیا
چونکہ آج ہفتہ تھا تو ارقم اور علیشبہ کو یونیورسٹی سے چھوٹی تھی تو اس وجہ سے وہ آج حویلی آ گئے تھے اور اس وقت حویلی میں ہال میں رمنا بیگم اور حدید صاحب کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔
عالی بیٹا تم کتنی کمزور ہوگئی ہو اگر تم بیمار ہوگئی تھی تو تمہیں حویلی آجانا چاہیے تھا میں تمھارا اچھے سے خیال رکھتی وہاں تو کوئی خیال رکھنے والا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
رمنا بیگم عالی کو دیکھتے ہوئے بولیں وہ پہلے سے کمزور لگ رہی تھی ۔۔۔۔
امی بھائی نے میرا بہت خیال رکھا تھا اور کوئی کمزور نہیں ہوئی میں بلکل فٹ ہوں میں آپ کو ویسے ہی فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔
امی کیا آپ کو لگتا ہے میں عالی کا خیال نہیں رکھتا یہ میری اکلوتی بہن ہے میں اس کا ہی تو سب سے زیادہ خیال رکھتا ہوں۔۔۔۔
ارقم پہلے رمنا بیگم اور پھر عالی کی بات سن کر بولا۔۔۔۔
ارقم مجھے پتا ہے تم عالی کا اپنے سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہو۔۔۔۔وہ تو کمزور لگ رہی تھی صرف اس لیے میں نے کہا اور اب تم دونوں یہاں آگئے ہو تو دو دن میں میں نے تم لوگوں کو کھلا پلا کر صحت مند کر دینا ہے۔۔۔۔
اللہ امی آپ نے تو ہم دونوں کو موٹا کرنے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے۔۔۔۔
ارقم ان کی آخری بات سن کر مسکرا کر بولا۔۔جبکہ باوی سب بھی ارقم کی بات سن کر مسکرا اٹھے۔۔۔۔
ہاشم احمر کے ساتھ کار میں موجود تھا احمر کے کہنے پر وہ اس کے ساتھ حویلی جاکر اب حدید صاحب سے معافی مانگنا چاہتا تھا چہرے سے تو وہ پر سکون ہی لگ رہا تھا مگر اندر سے ڈرا ہوا تھا۔۔۔۔
حویلی کے آگے گاڑی رکی تو اس نے احمر کو ایک نظر دیکھا جو ہاشم کو حوصلہ دینے کے لیے بولا۔۔۔۔
ہاشم یار تم فکر مت کرو وہ چاچو ہیں تمھارے بس ایک بار دل سے معافی مانگ لو وہ تمھیں معاف کر دیں گے اور میں تمھارے ساتھ اندر نہیں جاؤں گا ورنہ وہ سمجھیں گے کہ میں تمھیں فورس کر کے لایا ہوں اور دوسری بات کہ یہ تمھاری فیملی کا مسئلہ ہے تمھیں خود ہی حل کرنا ہوگا۔۔۔۔
وہ گاڑی حویلی سے باہر ہی کھڑی کر کے پیدل اندر داخل ہونے لگا کہ اسے ملازم نے روک دیا۔۔۔۔
سردار صاحب نے کہا تھا جب بھی آپ آئیں آپ کو دروازے سے ہی لوٹا دیا جائے ۔۔۔۔۔
تم شاید بھول رہے ہو کس سے بات کر رہے ہو اس وجہ سے مجھ سے زیادہ فضول بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
وہ ملازم کی بات سن کر تھوڑا غصے سے بولا تو ملازم فورا پیچھے ہٹ گیا آخر کو دوردید بخت کا بیٹا تھا وہ۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا اندر داخل ہوا مگر ہال میں داخل ہونے سے پہلے وہ رک کر گہرا سانس لیتے ہوئے خود کو پرسکون کر کے اپنی ہمت بڑھانے لگا
اسے ہال سے قہقہوں اور باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔۔ وہ ہمت کرتا اندر داخل ہوا اور اونچی آواز میں حدید صاحب سے سلام لے کر سب کو اپنی جانب متوجہ کر گیا
اسلام و علیکم چچا جان !
حدید صاحب ہاشم کی آواز سن کر اس کی جانب متوجہ ہوئے جبکہ باقی سب بھی اس کی جانب ہی دیکھ رہے تھے
تمھیں اندر کس نے داخل ہونے دیا ہاشم تم بھول گئے ہو تو میں یاد دلا دوں کہ حویلی کے دروازے تم پر بندھ کردیے گئے تھے اسی وجہ سے شرافت سے یہاں سے واپس چلے جاؤ اس سے پہلے کے کوئی بدمزگی ہو۔۔۔۔
حدید صاحب کرخت لہجے میں ہاشم سے بولے تو ہاشم اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مضطرب سا بولا۔۔۔۔
چچا جان بس کچھ دیر کے لیے میری بات سن لیں میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں میں بہت بے سکون ہوں گھر جانے کا سوچ کر ہی میرا دم گھٹنے لگتا ہے و۔۔وہ حمنا نے اس نے میرے بچے کو قتل کر دیا و۔۔۔وہ مجھے برباد کر چکی ہے اس نے مجھ سے طلاق لے لی اور حور اور ہادی کا کچھ پتا نہیں چل رہا میرا دل بند ہو رہا ہے مجھے لگتا ہے میں اندھیرے کا مسافر بن جاؤ گا اگر میں نے آپ سے بات نہ کی خدارا میری مدد کریں چچا جان ۔۔۔۔
اس کے درد بھرے لہجے میں کہی گئی بات پر حدید صاحب کا دل تھوڑا نرم ہوا وہ واقعی قابلِ رحم لگ رہا تھا۔۔۔۔
ارقم نے اس کی بات سن کر صرف ہنکار بھرا اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھا کہ وہ تکلیف میں ہے یا نہیں وہ جتنے لوگوں کے ساتھ غلط کر چکا تھا یہ سب اس کا مکافات عمل ہی تھا جو اج وہ بے سکون تھا رمنا بیگم کا دل بھی ہاشم کی ایسی حالت دیکھ کر نرم پڑ گیا تھا جبکہ علیشبہ کو ہاشم کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوئی وہ کمرے میں بھاگ جانا چاہتی تھی خود کو کہیں بند کر لینا چاہتی تھی تاکہ اس ستمگر کی یہ ٹوٹی بکھری حالت نہ دیکھ سکے مگر وہ لب کاٹتی پھر بھی ہال میں سب کے ساتھ کھڑی رہی ۔۔۔۔
خود کو سنبھالو ہاشم اور یہاں آکر بیٹھو ۔۔۔۔
حدید صاحب ہاشم کو اپنے پاس بلاتے ہوئے بولے۔۔۔۔
ہاشم ان کی بات سن کر تیزی سے ان کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے ان کے گلے لگ گیا ۔۔۔۔
چچا جان پلیز مجھے معاف کر دیں میں بہت برا ہوں میں نے سب کے ساتھ غلط کیا اب یہ زندگی مجھ پر تنگ ہو رہی ہے مجھے آپ کی ضرورت ہے چچا جان مجھے معاف کر دیں پلیز چچا جان ۔۔۔۔۔۔
ہاشم صبر سے کام لو سب ٹھیک ہو جائے گا اور جہاں تک بات معاف کرنی کی ہے تو میں صرف تم سے ناراض تھا کہ تم اپنی بیوی کا منہ بند نہ کرواسکے جب وہ ہمارے خاندان کی عزت کی دھجیاں اڑا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس کے گرد اپنے بازو پھیلاتے ہوئے تحمل سے بولے۔۔۔۔۔
وہ میری بیوی نہیں رہی چچا جان اس کے خیال میں میرے جیسے جاہل گنوار کے ساتھ وہ اب زندگی گزارنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر علیحدہ ہو کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔
مگر وہ تو تم سے محبت کرتی تھی پھر اس نے ایسا کیوں کہا تم سے۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے ہاشم سے پوچھا۔۔۔۔۔
وہ اب اپنے کزن کو پسند کرنے لگ پڑی تھی اور مزید میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
وہ رمنا بیگم کی طرف مڑ کر بولا۔۔۔۔
بیگم ہاشم کے لیے کچھ کھانے پینے کو منگواؤ ہم یہ باتیں بیٹھ کر تفصیل سے کرتے ہیں اور ہاشم تم بیٹھ جاؤ اور ساری باتیں تفصیل سے بتاؤ۔۔۔۔
حدید صاحب پہلے رمنا بیگم سے بولے اور پھر ہاشم سے کہا تو وہ ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور انھیں ساری تفصیل بتانے لگا جبکہ ارقم اور عالی اس دوران خاموش ہی رہے تھے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
