Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18

عینی کی آنکھ رات تین بجے کھولی تو شاہزین کو اپنی گود میں سر رکھے دیکھ اور اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں دیکھ کر اس نے ایک نظر ٹائم دیکھا اور شاہزین کو اٹھانے کا سوچا مگر اسے سمجھ نہ آئے وہ کیسے اسے اٹھائے ۔۔۔۔۔
عینی نے آہستہ سے اس کے بازو کو پکڑ کر ہلایا تو شاہزین نے دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو پکڑا اور اپنی آنکھیں کھول کر اسے نیچے کی طرف کھینچا تو اب عینی اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی
عینی نے پیچھے ہونا چاہا تو شاہزین نے اس کا ایک ہاتھ سے بازو پکڑا اور دوسرا ہاتھ عینی کے سر کے پیچھے لے جا کر اس کا چہرہ اپنے قریب لیا اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
عینی نے جب تھوڑی اور مزاحمت کی تو شاہزین نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اپنے اتنا قریب کرلیا کہ عینی کا سر اس کے ہونٹوں سے تھوڑے سے فاصلے پر رہ گیا تھا عینی آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی
شاہزین نے اس کا سر تھوڑا اور نیچے کر کے اس کے سر کو چوما تو عینی کی دھیمی آواز اس کو سنائی دی۔۔۔۔
پ۔۔پلیز اب چلے جائے ورنہ کسی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو میرے لیے اک نئی مشکل کھڑی ہوجائے گی او۔۔۔۔۔۔۔
باقی کے الفاظ شاہزین نے اپنے لبوں سے قید کر لیے۔۔۔۔۔
عینی آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی اور خود کو اس سے دور کرنے کی کوششیں کرنے لگی تو شاہزین نے اس کے لبوں کو آزاد کرتے ہوئے اسے دیکھا جو سرخ چہرے کے ساتھ اب گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنی گرفت سے آزاد کر کے اٹھا اور اپنا موبائل جیب سے نکال کر ٹائم دیکھا اور بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
آئندہ کے بعد مجھے جانے کا مت کہنا ورنہ اب تو کچھ نہیں کہا اگلی بار جو کروں گا وہ تم سوچ بھی نہیں سکوں گی سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
وہ اپنی شرٹ ٹھیک کرتا عینی سے بولا جس نے اپنا سر ہلا کر اس کو جواب دیا تو وہ ایک نظر سر جھکائے بیڈ پر بیٹھی عینی کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کھڑکی سے باہر کود گیا اور اپنے اردگرد ایک نظر دیکھ کر کہ کسی نے دیکھا تو نہیں اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
ہاشم رات کے ایک بجے سڑکوں کی خاک چھان کر گھر واپس آیا اور اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور لان کی طرف دیکھا تو اسے ایک آواز سنائی دی۔۔۔
بھیا آپ بھی ہمارے ساتھ کھیلیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ کو پتا ہے آج پھر ہادی نے مجھے ہرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔
بھیا آپ صرف آج ہمارے ساتھ کھیل لیں۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر ان آوازوں کو روکنے کی کوشش کی
وہ اپنا سر جھٹک کر اندر داخل ہوا اور اپنی ڈھیلی ہوئی ٹائی کو اتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
حمنا کو سکون سے سوتے دیکھ کر اس کے تن بدن میں شرارت سے بھرنے لگے کیونکہ حمنا نے اسے بتایا تھا کہ وہ حویلی سہی سلامت جاچکے ہیں ۔۔۔۔۔
ہاشم اپنے کمرے سے نکل کر کچن میں گیا اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا ایک جگ بھر کر اس میں برف کے کیوبز ڈال کر کمرے میں آیا اور حمنا کے چہرے پر ٹھنڈا پانی گرایا ۔۔۔۔۔
حمنا جو سکون سے سو رہی تھی خود پر ٹھنڈا پانی گرتے دیکھ کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور ہاشم کو خود پر ٹھنڈا پانی گراتے دیکھ وہ چیخی۔۔۔۔
ہاشم پاگل ہوگئے ہو تم یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے سارا پانی اس پر گرایا اور حمنا سے غصے سے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔
کہاں ہیں ہادی اور عینی مجھے فورا جواب چاہیے اگر تم نے جھوٹ بولا تو یاد رکھنا بہت برا انجام ہوگا تمھارا۔۔۔۔
ک۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو ہاشم مجھے اٹھا کر تم نے یہ پوچھنا تھا اور وہ دونوں اس وقت حویلی میں آرام سے سوئے ہوں گے مگر تم نے میری نیند ضرور خراب کرنی تھی۔۔۔۔
ہاشم نے اس کے جھوٹ پر آگ بگولہ ہوتے ہوئے اس کے بالوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتا ہوا دھاڑا۔۔۔۔
مجھے پتا ہے وہ حویلی نہیں گئے اب مجھے سچ سچ بتا دوں ان دونوں کو تم نے کہا بھیجا ہے اس سے پہلے کہ میرا ضبط ختم ہوجائے۔۔۔۔
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو تم شاید بھول گئے ہو میں یاد دلا دوں تم نے انھیں گھر سے نکالا تھا اور جب تم نے مجھ سے پوچھا تو مجھے لگا وہ حویلی چلے گئے ہوں گے اب مجھے کیا پتا تمھاری بہن اور بھائی کہاں ہیں ؟؟ ہاں شاید تمھاری بہن اپنے کسی عاشق کے پاس چلی گئی ۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
تم گھٹیا عورت تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے بارے میں گندے الفاظ استعمال کرنے کی وہ تمھاری طرح نہیں جو شوہر کے ہوتے ہوئے بے حیا عورتوں کی طرح چھوٹے کپڑے پہنے کلب میں مردوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہیں۔۔۔۔۔
جاہل انسان اب بڑی تمھیں اپنی بہن یاد آرہی جب تم اسے گھر سے نکال رہے تھے تب کیوں نہ اس کا احساس ہوا اور میں بے حیا ہوں تو یہ جان لو تم نے بھی مجھے ان چھوٹے چھوٹے کپڑوں میں دیکھ کر ہی پسند کیا تھا اور اب تمھیں میں بے حیا لگنے لگی ہوں بلکہ میں بتاتی ہوں تم جتنے مرضی بڑے بزنس مین بن جاؤ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمھاری سوچ وہی دقیانوسی جاہل گنواروں جیسی ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ہزیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
ہا۔۔۔ہا۔۔ہا تمھیں کیا لگتا ہے تم بہت موڈرن ہو اور تمھاری سوچ بہت اچھی تو میں تمھیں بتا دوں کہ لوگ جب تمھیں دیکھتے ہیں نہ تو ان کے ذہن میں تمھیں دیکھ کر وہ تمہیں پڑھی لکھی فحاشہ بولتے ہوں گے اور تم نے ہی مجھے پھنسایا تھا اپنے اس مکار چہرے پر معصومیت دکھا کر اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم ایسی ہوگی تو کبھی تمھارے طرف دیکھتا بھی نہ ۔۔۔۔
وہ دوسرا تھپڑ حمنا کو مارتے وہ طنزیہ ہنستے ہوئے بولا
چھوڑو مجھے جاہل انسان نہیں رہنا اب مجھے تمھارے ساتھ بلکہ مجھے تم سے طلاق چاہیے سنا تم نے مجھے تم سے طلاق چاہیے وہ بھی ابھی اور اسی وقت کیونکہ میں تمھارے جیسے گنوار کے ساتھ مزید اپنی زندگی برباد نہیں کرسکتی۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی ویسے بھی اسے موقع چاہیے تھا ہاشم سے الگ ہونے کا۔۔۔
کبھی سوچنا بھی مت کہ میں تمھیں آزاد کروں گا تم اسی گھر میں ساری عمر سڑتی رہو گی ۔۔۔۔۔
وہ اس کے بال چھوڑ کر اس کے بازو کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا اسے کمرے سے گھسیٹ کر ساتھ والے کمرے میں لایا جبکہ حمنا مسلسل اس سے اپنا بازوں چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ہاشم نے اسے کمرے ہر لا کر زمین پر پھینکا اور جلدی سے کمرے سے نکل دروازے کو لاک لگا کر اپنے کمرے میں آیا اور شاور لینے چلا گیا۔۔۔۔۔
شفق علیشبہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر باتیں کر رہیں تھیں۔۔۔۔
عالی کیسا ٹائم گزرا تمھارا حویلی میں مزا آیا اپنے موم ڈیڈ سے مل کر تمھیں ؟
ہاں بہت مزا آیا کافی دنوں بعد ملی تھی امی اور بابا سے ۔۔۔۔امی اور بابا کے ساتھ میں نے ڈھیروں باتیں کیں۔۔۔۔۔
علیشبہ نے چاکلیٹ کھول کر کھاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔
ایک بات بتاؤ شفی تمھارے اور بھائی کی کوئی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ پہلے تو پھر تم لوگ ایک دوسرے سے لڑ لیتے تھے اب تو بلکل اگنور کرنے لگے ہو۔۔۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں جیسا تم سمجھ رہی ہو مجھے بس اچھا نہیں لگتا تمہارے بھائی سے لڑنا تو بس اسی وجہ سے بات نہیں کرتی۔۔۔۔
شفق نے مسکرا کر جواب دیا مگر علیشبہ اس کے جواب سے مطمئن نہ ہوسکی۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ چپ ہوگئی۔۔۔
ارقم اپنی کلاس سے نکلا تو اسے دور شفق اور عالی بیٹھی ہوئیں نظر آئیں ۔۔۔ شفق کے چہرے پر ہلکی ہلکی سورج کی روشنی پڑ رہی تھی جس سے اس کا چہرہ دور سے بے حد خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
ارقم نے بہت سوچنے کے بعد شفق سے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لیے وہ شفق کے ساتھ اکیلے بات کرنا چاہتا تھا مگر عالی کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہ تھا اپنے دوست کی آواز سن کر اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اور اپنے دوست سے بات کرنے لگا۔۔۔۔
شفق کی نظر کچھ دور کھڑے کالے شلوار قمیض پہنے ارقم پر گئی تو ایک بھرپور نظر اس پر ڈال کر وہ اپنی نظروں کا رخ موڑنے لگی کہ اسی وقت ارقم نے دوبارہ مڑ کر شفق کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ٹکرائیں تھیں ایک کی نظروں میں شکوے تھے تو دوسرے کی نظریں معذرت خواہ تھیں ۔۔۔۔
شفق نے اسے خود کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی نظروں کا رخ موڑا اور عالی کی بات سننے لگی جو کوئی بات کر رہی تھی۔۔۔۔
ارقم نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اپنے دوست کے ساتھ اپنی دوسری کلاس میں چلا گیا۔۔۔۔
عینی کچن میں سبزی بنا رہی تھی کیونکہ رزیہ کی اماں کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی اور وہ ایک ہفتے کی چھٹیاں لے کر اپنے گاؤں چلی گئی تھی جس وجہ سے عینی ہی صبح سے سارے کام کر رہی تھی۔۔۔۔
سحر بیگم اسے کام سونپ کر اپنی دوست سے ملنے گئی ہوئیں تھیں۔۔۔۔
وہ پوری توجہ سے کاونٹر کے قریب کھڑی اپنا کام کر رہی تھی جب کسی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے پیچھے کی طرف کھینچا۔۔۔۔
عینی جو اپنے کام میں مگن تھی اس اچانک افتاد پر اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔۔۔
جب اس نے پیچھے دیکھا تو شاہزین اسے اپنے سینے کے ساتھ لگائے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ی۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں کوئی آگیا ت۔۔۔تو وہ کیا س۔۔سوچے گا ۔۔۔ آپ پ۔۔۔پلیز تھوڑے فاصلے پر ہوجائیں
وہ اپنے لب کاٹتی سوچ کر بولی۔۔
اس کی بات سن کر شاہزین نے اس پر اپنی گرفت اور مضبوط کی تو عینی کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
میں تمھیں کتنی بار کہو مجھے دور جانے کا مت بولا کرو نکاح کیا ہے میں نے جب میرا دل کیا میں تمھارے قریب آؤں گا سنا تم نے۔۔۔۔
وہ غصے سے غرایا ۔۔۔۔
شروع سے ہی غصے میں وہ کچھ بھی کرجاتا تھا تبھی جب وہ اسے غصہ دلاتی تھی تو وہ اسے ضرور تکلیف پہنچاتا تھا
عینی اس کے غصے سے بھری آواز سن کر ہلکا ہلکا کانپنے لگی۔۔۔
س۔۔۔سوری۔۔۔۔
وہ اتنی ہلکی آواز میں منمنائی کہ اگر شاہزین اس کے قریب نہ ہوتا تو اسے کبھی سنائی نہ دیتا ۔۔۔۔۔
مجھے غصہ مت دلایا کرو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
وہ اسے کانپتے ہوئے محسوس کر کے اس کی گال پر لب رکھتا بولا تو اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔۔۔۔
چلو اب یہ سب چھوڑو اور میرے لیے کچھ اچھا سا بنا دو مجھے بھوک لگی ہوئی ہے۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر اپنا ہلکا سا سرخ چہرہ اٹھا کر اسے بے بسی سے دیکھا جس نے اسے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں تم نے جو بنانا ہے وہ ایسے ہی بناؤ۔۔۔
وہ مسکرا کر اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر بولا تو عینی بے بسی سے اپنے لب کاٹتی اس کے ساتھ لگے ہی ساری چیزیں کیبن اور فریج سے نکال کر کاؤنٹر پر ایک جگہ رکھتی اس کے لیے ٹوسٹ اور املیٹ بنانے لگی ۔۔۔۔
وہ اپنے دونوں بازؤں سے اس کے گرد حصار بنا کر کھڑا تھا۔۔۔۔
عینی نے جلدی سے ناشتہ بنا کر پلیٹ میں رکھا اور اس کی طرف پھر دیکھا تو شاہزین اس کے گال کو چھو کر کچن میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
عینی نے اس کے سامنے ناشتے رکھا اور اس کے پاس ہی کھڑی ہوگئی تاکہ پھر نہ شاہزین کو غصہ آجائے ۔۔۔۔
شاہزین اسے پاس کھڑا دیکھ کر مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے لگا اور ناشتہ کرکے وہ عینی کے سر کو چومتا یوا کچن سے چلا گیا تو عینی نے سکون کا سانس لیتے ہوئے برتن دھوئے اور جلدی سے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *