Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07
ڈیڑھ ہفتے بعد :
عینی شفق کے ساتھ لان میں واک کر رہی تھی اب شفق بلکل ٹھیک ہو گئی تھی اور کل ہی اپنی یونیورسٹی سٹارٹ کرنے والی تھی
جبکہ عینی کو شاہزین نے نا پہچانہ تو وہ کافی حد تک پر سکون ہو گئی تھی ویسے بھی اس کا سامنا شاہزین ست کم ہی ہوتا تھا
ابھی شفق واک کر کے کرسی پر بیٹھی تھی جب شاہزین اپنی انگلی پر گاڑی کی چابی گھماتے ہوئے شفق کے پاس آیا اور اس کے سر پر بوسہ لے کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا جبکہ عینی شفق کے قریب ہی کھڑی تھی شاہزین کو آتا دیکھ اس نے اپنی نظریں جھکا لی تھیں اوراپنے چہرے کے آگے ہلکا سا دوپٹہ کر لیا تھا
کیا کر رہی تھی شفی ؟؟
شاہزین نے ایک نظر عینی کو دیکھ کر شفق سے پوچھا جو کرسی پر بیٹھی اپنا موبائل استعمال کر رہی تھی
بس بھائی ابھی واک کر کے بیٹھی تھی۔۔۔اور آپ کہاں سے آرہے ہیں گھر میں تو آپ اب کم ہی پائے جاتے ہیں
شفق اپنا موبائل میز پر رکھ کر شاہزین کی طرف متوجہ ہوتی بولی ۔۔۔
بس دوستوں کے ساتھ گیا تھا ایک ضروری کام تھا ۔۔۔۔اور تم حورررر میرے لیے جوس لے کر آؤ بعد میں یہاں کھڑی ہو کر زمین کو گھورتے ہوئے ہماری باتیں سن لینا ۔۔۔۔۔
شاہزین پہلے شفق کو جواب دیتے ہوئے بعد میں عینی کے نام پر زور دے کر عینی سے بولا
عینی اس کی بات سن کر جلدی سے جوس لینے چلی گئ اس کا دل کر ریا تھا کہ وہ شاہزین کا منہ توڑ دے اور ہادی جو لے کر یہاں سے دور چلی جائے ۔۔۔۔۔
وہ کچن میں جانے لگی تو راستے میں سحر بیگم رزیہ سے کوئی بات کر رہی تھیں چہرے کے تاثرات سے صاف پتا چل رہا تھا کہ انھیں رزیہ نے جو بات ان سے کہی ہے وہ انھیں بلکل پسند نہ آئی تھی
لڑکی کدھر جا رہی ہو۔۔۔۔۔ سارا دن گھر میں گھومتی پھرتی رہتی ہو کوئی کام بھی کر لیا کرو۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے عینی کو گزرتے دیکھ نخوت سے کہا
وہ ش۔۔۔۔۔شاہزین سر نے جوس مانگا تھا وہی کچن سے لینے جارہی تھی
عینی نے ان کی آواز سن کر دھیمی آواز میں جواب دیا
تم شاہزین کے پاس کیا کر رہی تھی۔۔۔۔ خبر دار جو میرے بیٹے پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
سحر بیگم اس کی بات سن کر غصے سے بولیں
و۔۔۔وہ شفق میم کے ساتھ باہر تھی میں جب سر باہر سے آئے اور مجھے جوس لانے کا کہا۔۔
ان کی بات سن کر عینی کو جی بھر کر رونا آیا اور آنسوؤں کا ایک گولہ اس کے حلق میں پھس گیا وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی
ہنہ۔۔۔۔ ٹھیک ہے مگر اس سے دور ہی رہا کرو اب جاؤ اپنا کام کرو ۔۔۔۔
سحر بیگم نخوت سے بولیں اور دوبارہ پاس کھڑی رزیہ سے بات کرنے لگیں
عینی نے رزیہ کے سامنے یہ بات سن کر بھرائی آنکھوں سے اسے دیکھا جو اسے آنکھوں سے تسلی دے رہی تھیں عینی ان کی بات سن کر خاموشی سے کچن کی طرف چلی گئی اسے اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت سحر بیگم سے محسوس ہوئی جو جب دیکھو اس کے کردار پر الزام لگاتیں تھیں اگر اس کا بس چلتا تو وہ انھیں ان کے ہر الزام کا قرارا سا جواب دیتی۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے جوس لے کر باہر لان میں گئی جہاں شاہزین اور شفق کسی بات پر ہنس رہے تھے اس نے خاموشی سے گلاس اس کے قریب کیا
شاہزین نے گلاس پکڑ کر چھوڑ دیا جس سے سارا جوس اس کے جوتوں پر گرا یہ اس نے جان بوجھ کر کیا تھا اب وہ عینی کی آنکھیں دیکھ رہا تھا جو جوس کو گرتے دیکھ پھیل گئیں تھیں
تمہیں زرا سی بھی عقل نہیں کیسے جوس پکڑا رہی تھی ابھی میں نے گلاس اٹھایا بھی نہ تھا اور تم نے ٹرے ہٹا لی ۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں شیطانی چمک لیے مصنوعی غصے سے بولا
س۔۔۔۔سوری سر پتا نہیں کیسے ہو گیا م۔۔۔میں نیا جوس لا دیتی ہوں
عینی ہلکی آواز میں منمنائی حالانکہ وہ جانتی تھی غلطی شاہزین کی تھی
عینی زرا ہوش میں رہ کر کام کیا کرو دیکھو تم نے بھائی کے کتنے مہنگے شوز خراب کر دیے ہیں
شفق جو شاہزین کے مصنوعی غصے کو محسوس نہ کر سکی تھی عینی کو دیکھتے ہوئے بولی
اب میرا منہ کیا دیکھ رہی جاؤ اور جا کر کوئی چیز لاؤ اور میرے جوتے صاف کرو ۔۔۔۔
شاہزین اس کا ڈر محسوس کرتا ہوا پرسکون سا بولا جبکہ عینی کا سبکی سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ اسے ڈھیروں سکون محسوس ہوا
ج۔۔۔۔جی ک۔۔۔کیا ؟
عینی اس کی بات سن کر بولی
بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟ بعد میں شوزدے دیجیے گا وہ صاف کر دے گی اور عینی جلدی سے بھائی سے معافی مانگو اور جاکر اپنا دوسرا کام کرو۔۔۔۔۔
شفق کو شاہزین کی بات سخت ناگوار گزری تھی جو بھی تھا اگر عینی سے غلطی ہوگئ تھی پھر بھی یہ کام کروا کر اس کی عزت کو مجروح کرنا اسے بلکل پسند نہ آیا تبھی وہ پہلے شاہزین سے اور پھر عینی سے بولی
س۔۔۔۔سوری سر آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں ہو گی ۔۔۔۔
عینی اپنی جان بچتی دیکھ جلدی سے شاہزین سے بولی
جبکہ شاہزین جو عینی سے کام کروانا چاہتا تھا شفق کی بات سن کر اس نے عینی کی طرف دیکھا جو شفق کی بات سن کر پرسکون ہوگئ تھی اور جلدی سے اس سے معافی مانگی چکی تھی اسے بعد میں تنگ کرنے کا سوچ کر شاہزین نے اس کی معافی سن کر اپنا سر ہلایا اور جسے دیکھ کر عینی جلدی سے گھر کے اندر چلی گئی اور وہ بھی شاور لینے چلا گیا
حمنا اس وقت شاہزیب کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی وہ تقریبا چار سال بعد اس سے مل رہی تھی
اور زیبی تم ویسے اتنے سالوں بعد واپس کیسے آگئے تم نے تو جاتے ہوئے کہا تھا کہ اب واپس نہیں آؤ گے ۔۔۔۔
حمنا ایک ادا سے شاہزیب کو دیکھتے ہوئے بولی
شاہزیب تو بس حمنا کو ہی دیکھ رہا تھا وہ چار سالوں میں گرو کر کے خوبصورت ہوگئ تھی پہلے وہ اتنی خوبصورت نہیں لگتی تھی لیکن اب تو اس سے آنکھیں ہٹھانے کو بھی اس کا دل نہ کر رہا تھا
ہمم۔۔۔۔ بس دل کیا تو واپس آگیا سوچا یہاں پر بزنس سٹارٹ کروں ویسے بھی جو بات پاکستان میں ہے وہ دوسرے ملکوں میں کہاں ۔۔۔۔
شاہزیب حمنا کی بات سن کر اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا
صحیح اور زیبی کوئی لڑکی تمھیں ابھی تک پسند نہیں آئی۔۔۔۔۔
حمنا نے شاہزیب سے پوچھا
ابھی تک کوئی ایسی لگی نہیں جو میرے لیے بنی ہو ویسے لگتا ہے اب جلد ہی مل جائے گی
شاہزیب حمنا کو دیکھتا ہوا معنی خیز بولا
جبکہ حمنا نے اس کی بات سن کر اس کی طرف دیکھا پتا نہیں کیوں شاہزیب کی بات سن کر اسے جلن محسوس ہوئی حالانکہ شاہزیب کے جانے کے بعد وہ موو اون کر گئی تھی لیکن اس کی وجاہت دیکھ کر اب دوبارہ وہ مرعوب ہوگئ تھی جبکہ ہاشم بھی شاہزیب جیسا ہی خوبصورت تھا
اچھا مجھے بھی اپنی پسند سے ملوانا ۔۔۔۔۔
وہ اپنے ہونٹوں پر نقلی مسکراہٹ سجا کر بولی
بلکل سب سے پہلے تم سے ہی ملواؤ گا ۔۔۔۔۔
وہ حمنا کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا اور کھانا کھانے لگا۔۔۔
حدید آپ کو پتا چلا کہ حورالعین اور ہادی کہاں ہیں ؟
رمنا بیگم نے حدید صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
نہیں میں نے اصغر کو بھیجا ہوا ہے ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کسی کو نہیں پتا وہ گھر سے کدھر چلے گئے میں تو خود بہت پریشان ہوں کہ حور پتا نہیں کس حال میں حیدر کے ساتھ کہاں ہو گی بس اللہ اسے اپنی امان میں رکھے اور آپ فکر نہ کریں ہم جلد ہی انھیں ڈھونڈ لیں گے ۔۔۔۔۔
حدید صاحب جو خود بہت پریشان تھے مگر رمنا بیگم کو تسلی دیتے ہوئے بولے
کب تک آپ انھیں ڈھونڈے گے اگر خدانخواستہ وہ کسی غلط ہاتھوں میں چلے گئے تو کیا ہوگا
رمنا بیگم پریشان سی بولیں ۔۔۔۔
آپ ہم پر یقین رکھیں وہ جلد ہی حویلی میں ہوں گے اور ارقم کو بھی میں نے بتایا ہوا ہے وہ بھی پوری کوشش کر رہا ہے اور عالی کو ابھی اس بارے میں کچھ مت بتائیے گا
حدید صاحب رمنا بیگم کو دیکھتے ہوئے بولے اور اٹھ کر حویلی سے باہر نکل گئے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
