Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09

آج کا اتوار کا دن تھا تو عینی سحر بیگم سے چھوٹی لے کر ہادی سے ملنے جارہی تھی وہ ہر دو ہفتوں بعد اس سے ملنے جاتی تھی اس نے اپنا منہ دھویا اور نقاب کرکے گھر سے نکلی جبکہ اپنا میک اپ بیگ میں رکھنا نہیں بھولی تھی
اس نے شکر ادا کیا تھا کہ شاہزین اس وقت گھر نہ تھا ورنہ مجبورا اسے میک اپ کرکے جانا پڑتا وہ ہادی سے ملنے ہاسٹل گئی اور ہادی کو اپنے ساتھ لیا اور قریبی پارک میں لے کر گئ ایک بینچ پر بیٹھ کر اس نے ہادی کو بھی اپنے ساتھ بٹھایا اور اس کا ماتھا چوم کر بولی ۔۔۔۔
ہادی سکول میں کوئی پریشانی تو نہیں تمھیں یا کوئی لڑکا تمھیں تنگ تو نہیں کرتا۔۔۔۔۔
نہیں عینی آپی میرے تو دو دوست بھی بن گئے ہیں آپ کو پتا ہے وہ میرے کلاس میں ہی ہیں اور ہاسٹل میں بھی میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔۔۔۔ بس آپ کی یاد آتی ہے آپی۔۔۔۔
ہادی نے جواب دیا اور آخر میں اداسی سے بولا
بس تھوڑی دن پھر ہم جلدی دوبارہ ساتھ ہوں گے میں فلحال تمھیں وہاں رکھ نہیں سکتی نہ اور میں آپ کی ٹیچر سے بات کروں گی وہ آپ کی مجھ سے فون پر بات کروادیا کریں گی
عینی اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی
اچھا ٹھیک ہے لیکن آپ روز بات کیا کریں گی نہ ؟
ہادی نے خوش ہوتے ہوئے ایک امید سے پوچھا
ہاں بلکل روز کیا کروں گی اور چھوڑو یہ سب باتیں آؤ ہم لنچ کرنے چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
عینی ہادی کو اپنے ساتھ کھڑا کرتی ہوئی بولی اور قریب ہی ایک سستے سے ریسٹورنٹ کی طرف ہادی کو لیے چل دی
عینی اور ہادی نے جب لنچ کر لیا تو عینی اسے ساتھ لیے ریسٹورنٹ سے نکل گئ جبکہ دو آنکھوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا
شاہزین اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا جبکہ ان کا ایک دوست ایک دوکان سے سگریٹ کا پیکٹ لینے گیا تھا شاہزین جو کھڑکی کی طرف بیٹھا تھا شیشے سے باہر اس کی نظر اچانک سامنے چھوٹے سے ریسٹورنٹ سے نکلتی عینی پر پڑئ
عینی نے چونکہ صرف دوپٹہ لیا ہوا تھا اور اس کا رخ بھی ان کی گاڑی کی طرف تھا تو شاہزین نے اسے غور سے دیکھا تو اسے یہ کہیں دیکھی ہوئی لگی مگر کہاں دیکھا تھا یاد نہیں آرہا تھا تب تک اس کا دوست واپس گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر لی مگر عینی کا چہرہ یاد کرنے کی پوری کوشش کی تھی کہ اسے کہاں دیکھا
اپنے دوست علی کی بات سن کر اس کی سوچوں کا ارتکاز ٹوٹا اور اپنے دوستوں سے باتیں کرنے لگا۔۔۔
عینی ہادی کو چھوڑ کر اماں جنت سے ملنے گئ تھی ان سے مل کر اس نے انکے گھر میں ہی میک اپ دوبارہ کیا اور واپس چل دی
وہ گھر میں داخل ہو کر جلدی سے انیکسی میں گئی اور وہاں پر جاکر جلدی سے شاور لیا اور اپنا حولیہ ٹھیک کر کے گھر کے اندر کام کرنے گئ جہاں سحر بیگم نے اس کے لیے سارے گھر کے کپڑے دھلوانے کے لیے رکھے ہوئے تھے
عینی اپنا کام کرنے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرنے کی غرض سے اپنے کمرے میں گئی تھی اسے کام کرتے ہوئے شام ہی ہوگئی تھی آرام کرنے کے بعد وہ کچن میں رزیہ کے ہاس گئی
وہ رزیہ کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا رکھ رہی تھی جب شاہزین گھر میں سیٹی بجاتے ہوئے داخل ہوا اور سیدھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اسے جاتے دیکھ کر عینی نے پر سکون سی سانس خارج کی اور جلدی جلدی اپنے ہاتھ چلانے لگی
شاہزین ٹیبل پر آکر شفق کے ساتھ بیٹھا ہی تھا کہ تیمور صاحب طنزیہ بولے
ٹائم مل گیا آپ کو گھر میں موجود رہنے کا برخوردار ؟
ڈیڈ کم از کم کھانا تو مجھے سکون سے کھالینے دیں بعد میں بات کریں گے
شاہزین ان کی بات سن کر بولا
ہاں ضرور کھاؤ میں نے کونسا تمھارا ہاتھ تھاما ہوا ہے جو تم کھا نہیں سکتے ۔۔۔۔
تیمور صاحب کی بات سن کر اس نے ایک نظر سحر بیگم کو دیکھا تو سحر بیگم نے تیمور صاحب کو بولیں
تیمور آپ بعد میں بات کر لیجیے گا فلحال اسے کھانا کھانے دیں۔۔۔
تیمور صاحب نے ان کی بات سن کر ایک غصیلی نظر ان پر ڈالی جو اپنے بیٹے کو سدھارنے کی بجائے بگاڑ رہی تھیں اور غصے سے دھاڑے
کیا بعد میں بات کروں اس سے گھر میں یہ موجود نہیں ہوتا ابھی ملا ہے تو ابھی بولو گا نہ آپ کا یہ نواب زادہ یونیورسٹی سے پاس ہو کر بھی اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ پھرتا رہتا ہے جبکہ میرے سارے دوستوں کے بیٹے اب بزنس سنبھال رہے ہیں ایک میری اولاد ہی نالائق اور نکمی ہے جو میری مدد کرنے کی بجائے عیاشیاں کر رہا ہے
یہ میری زندگی ہے ڈیڈ میں اسے اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتا ہوں اور اگر آپ کو اتنا ہی دوسرے لوگوں کے بیٹوں سے پیار ہیں انھیں لے آئیں
شاہزین بھی اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے غصے سے بولا اور اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
جبکہ تیمور صاحب نے ایک ناگوار نظر شاہزین کی پشت پر ڈالی اور وہ بھی اپنے کمرے کی جانب اٹھ کر چلے گئے
جبکہ اس سب کے دوران شفق خاموش ہی رہی تھی وہ خود بھی شاہزین کی عادتیں پسند نہیں کرتی تھی اور تیمور صاحب کی باتوں سے متفق تھی وہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
سحر بیگم نے رزیہ کو برتن سمیٹنے کا کہتے ہوئے خود بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں
شاہزین نے اپنے کمرے میں آکر اپنا غصہ کم کرنے کے لیے سگریٹ سلگایا اور بالکونی میں جاکر پینے لگا تھوڑی دیر بعد اسے عینی انیکسی کی طرف جاتے ہوئے دکھی
وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا جب اسے دوپہر والی لڑکی یاد آئی کہ اس کے ذہن میں اچانک جھماکہ ہوا اس یاد آیا کہ اس لڑکی نے اسے چار مہینے پہلے تھپڑ مارا تھا
وہ جب بھی عینی کو دیکھتا تھا تو اسے وہ پہلے سے کہیں دیکھی ہوئی لگتی تھی مگر اس نے جب دونوں کا موازنہ کیا تو اس لڑکی اور عینی میں اسے صرف رنگ کا فرق لگا
اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے عینی کے بارے میں پتا کرنے کا سوچا
ماضی :
زارا بیگم کی وفات کے ایک سال بعد حدید صاحب اور رمنا بیگم کے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام انھوں نے علیشبہ رکھا
علیشبہ کے پیدا ہونے کے دو سال بعد رمنا بیگم کی بیوہ بہن ردا اپنی چند ماہ کی بیٹی حورالعین کے ساتھ حویلی رہنے آئی تو ہاشم ان کے ساتھ اٹیچ ہونے لگا اور ان کے ساتھ ساتھ ہی رہتا اور پہلے کی طرح ہونے لگا جبکہ وہ اب دوبار ہ سے ارقم سے بھی گھلنے ملنے لگا تھا
ہاشم کی ردا بیگم کو لے کر پسندیدگی دیکھتے ہوئے حدید صاحب نے دورید صاحب کو ردا بیگم سے شادی کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے ردا بیگم سے شادی کرلی وہ ہاشم کو اپنے بیٹے کی طرح ہی پیار کرتی تھیں ہاشم نو سال کا تھا جب ردا بیگم اور دورید صاحب کی شادی ہوئی ہاشم حورالعین کو اپنی بہنوں کی طرح چاہنے لگا تھا اور اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتا تھا
چھ سال بعد ردا بیگم اور دورید بخت کا ایک بیٹا پیدا ہوا جن کا نام انھوں نے حیدر رکھا جب ہاشم اٹھارہ سال کا ہوا تو دورید صاحب نے اسے پڑھنے شہر بھیج دیا تھا
ہاشم جب بائیس سال کا ہوا تو ہاشم سے ملنے شہر آتے ہوئے دورید صاحب اور ردا بیگم جس گاڑی میں آرہے تھے وہ گاڑی حادثے کا شکار ہوگئ تھی اور وہ دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے اس وقت حیدر صرف سات سال کا تھا جبکہ حورالعین تیرہ سال کی
حال :
ہاشم بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کوئی کام کر رہا تھا جب بیڈ کی دوسری طرف حمنا بیٹھی اور اپنے ہاتھوں پر لوشن لگاتے ہوئے ہاشم سے بولی
ہاشم کیا تم مجھ سے ناراض ہو ؟
نہیں تو تمھیں ایسا کیوں لگا ۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ہاشم نے پوچھا جب کہ نظریں ہنوز لیپ ٹاپ کی سکرین پر ہی جمی ہوئیں تھیں
مجھ ایسا محسوس ہوا کہ تم مجھ سے ناراض ہو بات بھی مجھ سے سہی سے نہیں کر رہے اور اب بھی لیپ ٹاپ پر لگیے ہو میری بات نہیں سن رہے تم۔۔۔۔۔
وہ ہاشم کی طرف اپنا رخ موڑتی ہوئی معصومیت سے بولی
نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس آج کل کام کا سٹریس زیادہ ہے تو ٹائم نہیں مل رہا اور ابھی ایک ای میل چیک کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہاشم اس کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تمھاری بات مان لیتی ہوں ۔۔۔۔
وہ اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے بولی
تم سوجاؤ ابھی مجھے تھوڑا کام ہے میں سٹڈی روم میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔
ہاشم حمنا کو بولتا ہوا اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سٹڈی روم میں چلا گیا۔۔۔۔
ہاشم نے میز پر اپنا لیپ ٹاپ رکھا تو اس کا فون بجنے لگا اس نے کال اٹھائی تو دوسری جانب سے آواز گونجی
سر میں پچھلے ایک ہفتے سے میم کا پیچھا کر رہا ہوں وہ کس سے ملیں اور کہاں گئیں سب کی میں نے رپورٹ تیار کر لی اگر آپ چاہیں تو صبح آپ کے آفس میں آکر دکھا دو گا
ٹھیک ہے تم صبح مجھے میرے آفس میں ملنے آنا اور اپنا نام میری سیکرٹری کو بتانا میں اسے تمھارا بتا دوں گا وہ تمھیں مجھ سے ملنے دے گی۔۔۔۔
ہاشم نے اس کی بات سن کر کہا اور فون بند کر کے اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالا اور سگریٹ سلگاتے ہوئے دوبارہ اپنا کام کرنے لگا۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *