Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23

وہ اپنے کام میں مصروف ہو کر اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا مگر پھر بھی اسے سکون نہیں ملا تھا وہ جھنجھلا کر اپنے بالوں میں انگلیاں پھساتے ہوئے کرسی سے اپنا کوٹ اٹھا کر اپنالیپ ٹاپ بند کرتا کچھ سوچتا ہوا اٹھا اور اپنے آفس سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھ کر اپنے دوست احمر زمان سے ملنے چلا گیا حمنا کی وجہ سے ان کی دوستی ختم ہوگئی تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ہاشم نے اس سے دوستی ختم کردی یہاں تک کہ اس کی کمپنی کو ڈبونے کی بھی کوشش کی تھی مگر پھر بھی وہ اسے اپنی دوستی کا احساس دلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اب وہ صرف اس کے پاس جاکر ہی اپنے دل کی ساری باتیں کرنا چاہتا تھا حور اور ہادی کا کچھ بھی پتا نہیں چل رہا تھا وہ ایک بار اس سے بھی پوچھنا چاہتا تھا کہ شاید اسے پتا ہو۔۔۔۔
اس نے احمر کے آفس کے سامنے گاڑی روکی اور اندر داخل ہوا تو اس کی سیکرٹری جو اس کے آفس کے باہر بیٹھی تھی اسے احمر کے آفس میں موجودگی کا پوچھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے آفس کا دروازہ ہلکا سا ناک کرتا اندر داخل ہوا جہاں احمر اپنی کرسی پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا کسی کے اندر آنے پر اس نے اپنی آنکھیں اٹھائی تو ہاشم کو بکھری حالت میں دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔۔۔
ہاشم شرمندگی کے ساتھ اس کے قریب گیا اور اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تو احمر بھی بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا جو کچھ بولنے کی بجائے مسلسل ٹیبل کو گھور رہا تھا جیسے اسی کام کے لیے آیا ہو۔۔۔۔۔
و۔۔۔۔وہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔ اس نے میرے بچے کو مار دیا۔۔۔۔ میں نے حور اور ہادی کو کھو دیا حویلی میں کوئی میری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا م۔۔مجھے بہت گھٹن ہو رہی احمر مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔۔۔۔
وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتا کھوئے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
تم نے حمنا کو چھوڑ دیا ؟؟ کب اور کیسے ہوا یہ سب ؟؟ اور ہادی اور حور کہاں ہیں ؟؟
وہ حویلی والی بات جانتا تھا اسی وجہ سے باقی باتیں کچھ ناسمجھ آنے والے انداز میں پوچھیں۔۔۔۔۔
میں نے اسے کچھ دن پہلے طلاق دے دی وہ بھی یہی چاہتی تھی اس کے مطابق میں گاؤں کا جاہل گنوار ہوں جس کے ساتھ اب وہ مزید نہیں رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
اور حور اور ہادی کو میں نے کچھ ماہ پہلے گھر سے نکال دیا حمنا نے چھوٹا گرنے کا ناٹک کیا اور میرے بچے کو مارنے کا جھوٹا الزام عینی پر لگایا تھا اور اسی کی وجہ سے میں نے انہیں گھر سے نکال دیا ۔۔۔۔۔۔
وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔
تو تم نے اپنی رضامندی سے اسے طلاق دی تھی تو اب کیوں مجنو بنے پھر رہے ہو ؟ اور حور اور ہادی سے ہم حویلی جاکر مل آئیں گے اور میں ان دونوں کو تمھاری خاطر منا بھی لوں گا ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے آخر میں حوصلہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔
وہ حویلی میں موجود نہیں ہے وہ کہیں چلے گئے ہیں کسی کو نہیں پتا کہ وہ کہاں گئے ہیں میں نے جب انھیں نکالا تھا تو مجھے لگا کہ وہ حویلی چلے گئے ہوں گے اس وجہ سے میں نے کبھی ان کی خبر ہی نہ لی ۔۔۔۔۔۔
وہ بولتا ہوا آخر میں اذیت سے مسکرایا۔۔۔۔۔
تم پاگل تھے وہ تمھارے بہن بھائی تھے تم ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو جانتے ہو نہ کہ حور اور ہادی ابھی خود چھوٹے ہیں وہ کہاں جائیں گے اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہوگیا تو تم ہی ذمہ دار ہو گے مگر مجھے امید ہے وہ ٹھیک ہوں گے میں انھیں ڈھونڈنے میں تمھاری مدد کروں گا۔۔۔۔۔
وہ پہلے تو اس کی بات سن کر تھوڑا غصے سے بولا مگر پھر اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیتا ہوا بولا۔۔۔۔
تم اتنے اچھےکیوں ہو ؟؟ تم بھی باقی لوگوں کی طرح مجھ سے نفرت کیوں نہیں کر رہے ؟؟
کیونکہ میں کوئی اور نہیں تمھارا دوست ہوں اور میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میں ہر مشکل وقت میں تمھارے ساتھ ہوں گا اس وجہ سے اب اپنی حالت درست کرو اور رات کو میرے گھر ڈنر پر آؤ۔۔۔۔
وہ اس کا موڈ درست کرنے کے لیے ہلکے پھلکے لہجے میں بولا۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر ہلکا سا مسکرایا یقینا وہ ایک بہترین دوست تھا جو ہر مشکل وقت میں اس کے ساتھ تھا اور اب بھی وہ اس کے ساتھ تھا جب ہر کوئی اس سے دور تھا ۔۔۔
شفق تیمور صاحب کی بات سن کر کمرے میں آئی اور فریش ہونے چلی گئی وہ اب تک حیران تھی کہ عینی اتنی خوبصورت ہے اور شاہزین اسے پسند کرتا ہے بہرحال اسے عینی سے کوئی مسئلہ تھا اور شاہزین کی بیوی بننے کے بعد اس کا مقام بھی اس گھر میں بدل گیا تھا۔۔۔۔۔۔
فریش ہو کر وہ واپس کمرے میں آئی تو اس کا فون بج رہا تھا اس نے نمبر دیکھا تو ارقم کا نام کالر آئی ڈی پر دیکھ کر اس نے کچھ سوچتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔۔۔
ہیلو شفق ؟؟
جی ؟ کوئی کام تھا آپ کو ؟؟؟
اس نے ارقم کی آواز سن کر پوچھا۔۔۔
ہاں وہ ایک کام تھا اگر تم بزی نہ ہو تو کیا تم وہ کام کرسکتی ہو ؟؟
آپ کام بتائیں اگر کرنے والا ہوا تو ضرور کروں گی۔۔۔۔۔
علیشبہ کو بخار ہو گیا ہے وہ اب مزید دو دن یونیورسٹی نہیں آ پائے گی تو کیا تم اس کے لیے نوٹس بنا دو گی ؟؟! اور آج والے اگر ابھی بنا کر دے دو ورنہ کل بنا دینا کوئی پروبلم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ دراصل اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر پھر علیشبہ کی طبیعت کو بہانہ بناتے ہوئے اس نے اس سے بات کرنے کا سوچا اور جو منہ میں آتا گیا وہ اس سے بول گیا ۔۔۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے میں آج رات کو بنا کر کل آپ کو دے دوں گی اور کوئی بات کرنی ہے آپ کو ؟؟
میں علیشبہ کو بتا دوں گا اور تم کیا کر رہی تھی ؟؟
وہ اس سے مزید بات کرنے کے لیے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
میں بس فریش ہو کر تھوڑی دیر آرام کرنے لگی تھی اور آپ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
میں اس وقت بالکونی میں کھڑا چائے پی رہا ہوں پھر مجھے تمھاری یاد آئی تو تم سے بات کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔
وہ آخری بات بنا دھیان دیے بول گیا پتا اسے بعد میں چلا۔۔۔۔۔
اس کی بات پر شفق کے دل کی دھڑکن اچانک ہی تیز ہوگئی اور وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو کوئی کام نہیں تو م۔۔۔میں آپ سے پھر بعد میں بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
کیا تمھیں میرا فون کرنا اچھا نہیں لگا تو مجھے بتا دو آئندہ میں نہیں کروں گا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
ن۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں وہ تو میں بس ایسے ہی کہہ رہی تھیں ۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے پھر تم آرام کرلو میں صبح بات کروں گا۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر جواب دیتا بولا ۔۔۔۔
ج۔۔جی صحیح ہے مگر آپ نے برا تو نہیں مانا ؟؟
نہیں کل بات کریں گے اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔
وہ اس کو بول کر کال کاٹ گیا تو شفق نے اس کی بات سن کر پرسکون سانس خارج کرتے ہوئے اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنے ماں باپ کے گھر موجود تھی حمنا مے خود کو مظلوم ظاہر کرتے یوئے من گھڑت کہانی اپنے والدین کو سنائی جن پر یقین انھیں حمنا کے منہ پر تھپڑ مارنے کو وجہ سے سوجن دیکھ کر ہو گیا۔۔۔۔۔
وہ ہاشم پر کیس کرنے لگے تھے مگر حمنا نے انھیں بڑی مشکل سے منا کر روک دیا ۔۔۔۔۔
اس کے والدین اپنی بیٹی کا گھر اجڑنے پر جہاں ہریشان تھے وہاں حمنا کی بتائی گئی باتوں کو سوچ کر مطمئن ہوگئے تھے کیونکہ حمنا نے کہا تھا کہ اب وہ اسے آئے دن مارنا شروع ہو گیا تھا اس وجہ سے انہیں ہاشم کا اسے چھوڑنا زیادہ پریشان نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ اب مجبورا اپنے گھر والوں کی وجہ سے عدت میں تھی مگر شاہزیب سے فون پربات روزانہ کرتی تھی اور شاہزیب نے اسے عدت کے ختم ہوتے ہی شادی کا بولا تھا کہ وہ اس کی عدت ختم ہوتے ہی اس سے شادی کر لے گا۔۔۔جس پر حمنا بھی خوش تھی
وہ صوفے پر بیٹھی شاہزین کا انتظار کر رہی تھی جو کھانا لینے باہر گیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
شاہزین آدھا کھانا شفق کو دے گیا اور آدھا اپنے کمرے میں لے گیا وہ باہر سے کھانا لایا تھا کیونکہ آج کوئی بنانے والا جو نہ تھا۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں کھانے کی ٹرے لے کر داخل ہوا اور عینی کے سامنے میز ٹرے رکھتے وہ واپس کچن میں گیا اور پانی کا جگ لے کر واپس آیا تو عینی کو ویسے ہی بیٹھے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
حور تم نے کھانا کیوں نہیں کھانا شروع کیا ابھی تک ؟؟؟
وہ اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا تھا کہ عینی اپنی جگہ سے زرا بھی ہل نہیں سکتی تھی چونکہ وہ صوفے کے کونے میں بیٹھی تھی
و۔۔۔وہ میں آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ نظریہ جھکاے دھیمی آواز میں بولا تو شاہزین کے لب مسکرا اٹھے۔۔۔۔
ایسی بات ہے تو پھر اب تم میرے ساتھ ہی میری پلیٹ میں کھاؤ گی ۔۔۔۔۔
وہ پلیٹ میں چاول ڈالتا بولا اور اس میں دو چمچ رکھ کر عینی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جو اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر جھجھکتے ہوئے اس کے ساتھ کھانے لگی تھی
وہ کھانا کھانے کے بعد برتن اٹھا کر ٹرے میں رکھ کر باہر جانے لگا تو عینی اسے روکتے ہوئے بولی۔۔۔۔
آپ رہنے دیں میں برتن رکھ آتی ہوں۔۔۔۔۔
نہیں تم آرام کرو مجھے ایک کام بھی ہے۔۔۔
وہ جھک کر اس کا گال چوم کر بولا اور اس کے چہرے پر سرخی دیکھتے ہوئے مسکرا کر سیٹی بجاتے ہوئے ٹرے اٹھا کر باہر چلا گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *