Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35
شاہزین اس وقت عینی کے ساتھ ہوسپٹل میں موجود تھا عینی کا چیک اپ ہو رہا تھا جبکہ شاہزین ہادی کے ساتھ بے چین سا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
وہ جب گھر پہنچا تو عینی سے نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا عینی کا زرد چہرہ دیکھ کر تو اسے ویسے ہی گھبراہٹ اور پریشانی ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔
کیسی ہے میری وائف ؟؟
ڈاکٹر کے باہر آتے ہی شاہزین نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔
ابھی ہم نے کچھ ٹیسٹ کیے ہیں اس کے رزلٹ آتے ہیں تو پھر آپ کو بتائیں گے وہ ابھی ریسٹ کر رہی ہیں آپ مل لیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر شاہزین نے اپنے سر کو ہلکا سا خم دیا اور ہادی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا جہاں عینی کمزوری کے باعث آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ !!
شاہزین نے قریب جا کر عینی کو پکارا اور اس کے سر کو ہلکا سا چوما۔۔۔۔
عینی نے اپنی آنکھیں آہستہ سے کھولیں ۔۔۔۔۔ شاہزین اور ہادی کو دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔
آپی اب آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
ہادی نے عینی سے پوچھا
ہاں میں اب بلکل ٹھیک ہوں ہادی ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولی اور تھوڑی سی جگہ بنا کر ہادی کو اپنے ساتھ بیٹھایا جبکہ شاہزین ان کے قریب ہی کھڑا تھا عینی کو ٹھیک دیکھ کر وہ اب کافی پرسکون تھا
عینی نے مسکرا کر ایک نظر شاہزین کو دیکھا جو خشمگی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
سوری ۔۔۔۔۔
عینی نے ہلکی آواز میں کہا تو شاہزین سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
آئندہ اگر تمھاری طبیعت خراب ہوگی تو تم مجھے فورا بتاؤ گی حور مجھے قطعاً منظور نہیں کہ تم مجھے خود سے بے خبر رکھو۔۔۔۔۔
عینی نے معصوم شکل بناتے ہوئے اپنا سر ہلایا تو شاہزین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہادی حور سے باتیں کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہی سو گیا تھا جب ڈاکٹر ناک کر کے کمرے میں داخل ہوئی
اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں ؟؟
شاہزین نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا جو مسکرا کر عینی کی طرف دیکھ رہی تھی
اب کافی بہتر ہوں۔۔۔
عینی نے دھیمی آواز میں جواب دیا اب وہ پہلے سے کافی اچھا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے ڈاکٹر ؟؟؟
شاہزین نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں بلکہ خوشخبری ہے آپ کی وائف ٹو ویکس پریگننٹ ہیں مبارک ہو آپ دونوں کو ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر بتایا تو شاہزین نے پہلے آنکھیں پھیلا کر ڈاکٹر کو دیکھا پھر عینی کو دیکھا جو مسکرا کر نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
شاہزین کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے جھک کر عقیدت سے عینی کا سر چوما۔۔۔۔۔
انھیں کچھ ویکنس ہے میں آپ کو کچھ ویٹامنز لکھ دوں گی اور کچھ میڈسنز جس سے یہ کافی بہتر محسوس کریں گی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے شاہزین کو بتایا اور کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔
ایک خوشی کا آنسو تھا جو ٹوٹ کر شاہزین کی آنکھ سے گرا تھا جسے عینی نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا
حور میں تمھیں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں۔۔۔۔
وہ مسکرا کر حور کا سر دوبارہ چوم کر بولا۔۔۔۔
میں بھی بہت خوش ہوں شاہزین۔۔۔۔۔
عینی نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
*******************
شفق نروس سی ہال کے برائیڈل روم میں تیار بیٹھی تھی آج اس کا اور ارقم کا نکاح تھا اس کی خوشی کی انتہا تھی کہ اس کا نکاح اس شخص سے ہو رہا تھا جسے اس نے چاہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سرخ جوڑے میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی کہ دیکھنے والا ایک بار دیکھ لے تو نظر نہیں ہٹا پائے گا۔۔۔۔
گھبراہٹ سے اسے ٹھنڈے پسینے آرہے تھے دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا تو سحر بیگم نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
سحر بیگم نے قریب آکر اس کا سر چوما۔۔۔۔
مجھے پتا ہی نہ چلا کہ میری شفی اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ آج اس کا نکاح بھی ہونے والا ہے۔۔۔۔
وہ نم لہجے میں بولیں۔۔۔۔تو شفق کو اپنی آنکھوں میں نمی تیرتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
موم ابھی تو میں یہاں ہی ہوں آج تو صرف نکاح ہی ہے۔۔۔۔
ہاں بلکل میری جان ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی بولیں۔۔۔۔
****************
اور سالے صاحب کیسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
ہاشم ارقم کے پاس جا کر مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
بہت اچھا جیجا جی ۔۔۔۔۔
وہ بھی مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
میری بیگم نظر نہیں آرہی کہیں سالے صاحب۔۔۔۔۔
ہاشم نے نے اپنی نظریں ہر جگہ گھماتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
جیجا جی وہ اس وقت میری بیگم کے پاس موجود ہے ۔۔۔۔اور آپ نے میرا کام کر دیا جو میں نے آپ سے کہا تھا۔۔۔۔۔
پہلے تو وہ بھی مسکراتے بولا لیکن آخری بات سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
آہاں ۔۔۔۔۔ تھوڑے دنوں پہلے مجھے پتا چلا تھا کہ دو لڑکیوں کو وہ ہراس کر رہا تھا پھر میں نے اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کروا کر اسے جیل بھجوا دیا ہے اب چکی پیس رہا ہوگا۔۔۔۔تم فکر مت کرو وہ اب کافی عرصہ جیل میں ہی گزارے گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے ارقم کو مسکراتے ہوئے بتایا تو اس نے سکون کا سانس لیا ارقم نے اسے کچھ دن پہلے حزیفہ کے بارے میں بتا کر اس کا کچھ کرنے کا بولا تھا وہ جانتا تھا کہ اس جیسے لڑکے جلد ہی کسی لڑکی کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے ۔۔۔۔۔
*****************
تھوڑی دیر میں سب کی موجودگی میں شفق اور ارقم کا نکاح ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
شفی تم خوش ہو نہ ؟؟؟
شاہزین نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے شفقت سے پوچھا
جی بھائی میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شاہزین سے بولی ۔۔۔۔۔
اگر تمہیں کبھی بھی کوئی بھی مشکل ہو تو تم نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو بتانا ہے۔۔۔۔ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں یہ مت سمجھنا کہ تمھارا نکاح ہوگیا ہے تو تم پرائی ہوگئی ہو۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شفق سے بولا اور اپنی فون پر میسج کی بل سن کر اسے دیکھا
بھائی ابھی میں یہاں ہی ہو اور جب بھی مجھے کوئی مشکل ہوئی میں آپ کو ضرور بتاؤں گی۔۔۔۔
اچھا شفی مجھے ایک ضروری کام ہے تم تب تک اپنی دوست سے بات کرو۔۔۔۔
وہ بولتا ہوا روم سے چلا گیا۔۔۔۔۔
نکاح مبارک ہو بھابھی جی۔۔۔۔
علیشبہ نے مسکراتے ہوئے شفق کو چھیڑا جس نے سرخ چہرے کے ساتھ اسے گھورا۔۔۔۔
شفی یار اپنی ان قاتل آنکھوں کا جادو مجھ پر مت چلاؤ بھائی پر چلانا ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے اسے مزید چھیڑا۔۔۔
تم بہت بدتمیز ہو عالی۔۔۔۔
شفق منہ بناتی بولی تو علیشبہ نے قہقہہ لگایا۔۔۔
اچھا اچھا سوری ۔۔۔۔۔
وہ شفق کو گلے لگاتے بولی۔۔۔ تو شفق بھی مسکرا اٹھی۔۔۔۔
*******************
سحر بیگم کے کہنے پر عالی شفق کو باہر لے آئی تھی جہاں سٹیج پر اسے ارقم کے ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو شفق۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں شفق سے بولا جس نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ ان کی توجہ اب تیمور صاحب کی طرف تھی جو مائک میں کچھ بول رہے تھے۔۔۔۔
لیڈیز ایندڈ جینٹل مین آج صرف میری بیٹی کا نکاح ہی نہیں بلکہ میرے بیٹے کا ریسپشن بھی ہے ۔۔۔۔ میرے بیٹے کا نکاح کچھ عرصے پہلے ہوا تھا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر فنکشن ارینج نہیں کرپائے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایوری ون ویلک مائی سن شاہزین اینڈ مائی ڈاٹر ان لا حورالعین۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کے بولتے ہی سپوٹ لائٹ اینٹریس کی طرف سب متوجہ ہوئے جہاں حورالعین گولڈن میکسی پہنے شاہزین کے بازو میں اپنا بازو ڈالے کھڑی تھی جبکہ شاہزین ڈارک بلیو پینٹ کوٹ پہنے اپنے دوسری طرف ہادی کو لیے کھڑا تھا جس نے شاہزین کے جیسا ہی سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔
سب کی توجہ اپنی جانب پاکر حور ہلکا ہلکا کانپنے لگ پڑی تھی۔۔۔۔۔
حور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔۔۔ بس تم گہرا سانس لو اور میرے ساتھ چلنا شروع کرو۔۔۔۔۔
شاہزین نے دھیمی آواز میں مسکراتے ہوئے حور سے کہا جو اس کے کہے پر عمل کر رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف سٹیج پر بیٹھے ارقم نے حیرت سے حور اور ہادی کو شاہزین کے ساتھ دیکھا جبکہ ہاشم بھی حور اور ہادی کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
رمنا بیگم ، علیشبہ اور حدید صاحب بھی حیرت سے حور اور ہادی کو شاہزین کے ساتھ دیکھ رہے تھے مگر وہ یہ سوچ کر تھوڑا پرسکون ہوگئے تھے کہ دونوں ٹھیک ہیں۔۔۔۔
حور نے گہرا سانس لے کر سامنے سٹیج کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہاشم ارقم علیشبہ اور رمنا بیگم کو دیکھ کر اسطکے چہرے پر ایک سایہ لہرایا تھا مگر اس نے جلد ہی اپنے چہرے کے تاثرات ایسے کر لیے جیسے انھیں جانتی ہی نہ ہو بلکہ اس نے ایک نظر شاہزین کو دیکھا جس نے ہلکا سا اس کا ہاتھ دبا کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔۔
اس نے پہلے ہی اپنے ماضی کے بارے میں سب کچھ شاہزین کو بتا دیا تھا اور شاہزین بھی ان سب کے بارے میں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
عینی نے ایک گہرا سانس خارج کر کے اپنے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ قائم کر کے سامنے کی طرف دیکھا جہاں سب اس کی طرف ہی متوجہ تھے اور ہھر اس نے ہادی کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے آنکھوں سے ہادی کو تسلی دی جو مسکراتے ہوئے ہی شاہزین کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔
سحر بیگم اور شفق بھی حیران تھیں کہ شاہزین کو عینی کب ملی اور اس نے انھیں کیوں نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔
حور کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر وہاں موجود سب لوگوں کو پتا چل گیا تھا کہ اس کی مسکراہٹ کیا کہہ رہی ہے وہ انھیں بتا رہی تھی کہ دیکھ لیں آپ لوگوں کے چھوڑنے کے بعد بھی میں الحمداللہ بہتر حالت میں ہوں۔۔۔۔۔
شفق اور ارقم کے ساتھ ہی سٹیج پر ایک سائیڈ پر ان کے لیے سیٹ اپ کیا گیا تھا جو پہلے انہیں نہیں پتا تھا کہ کس لیے ہے لیکن اب سب کو پتا چل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
شاہزین نے پہلے ہادی کو سٹیج پر بھیج کر پھر خود چڑھ کر عینی کو ہاتھ دے کر اوپر سٹیج پر چڑھایا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔۔۔۔۔
ان کے بیٹھتے ہی بہت سے لوگ ان کو مبارک باد دینے آنے لگے جسے حور اور شاہزین مسکراتے ہوئے وصول کر رہے تھے۔۔۔۔۔
جب سٹیج پر تھوڑا رش کم ہوا تو رمنا بیگم عینی کے قریب آئیں اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر چومنے لگیں کہ عینی نے فورا اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔۔۔
حور چندا کیسی ہو تم ؟؟؟ ہم تمھارے لیے بہت فکر مند تھے
رمنا بیگم نے آہستہ سے عینی سے پوچھا۔۔۔۔
معذرت کے ساتھ آنٹی کیا میں آپ کو جانتی ہوں ؟؟؟؟
عینی نے انجان بن کر پوچھا تو رمنا بیگم کے چہرے پر ایک سایہ لہرایا ۔۔۔۔۔ عینی اب تک بھولی نہیں تھی کہ کیسے ان لوگوں نے اسے اور ہادی کو ہاشم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے حویلی سے نکال دیا تھا۔۔۔۔
آنٹی کیا کوئی مسئلہ ہے ؟؟
شاہزین نے رمنا بیگم سے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلاتی بولی
نہیں بیٹا آپ لوگوں کو بہت مبارک ہو اللہ آپ لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔
وہ دعا دیتی اداسی سے عینی کے پاس سے اٹھ گئی جس نے ایک نگاہ غلط بھی ان میں سے کسی پر دوبارہ نہیں ڈالی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
