Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31
شاہزین اور حور ڈنر کرنے کے بعد ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے جب عینی کو کچھ دن پہلے کا واقعہ یاد آیا ۔۔۔۔۔
کچھ دن پہلے :
وہ پریشانی کی حالت میں ہاسپٹل میں تھی جب اسے ہاشم کا دوست احمر زمان اپنی بیوی کے ساتھ ملا وہ اپنی بیوی کا چیک اپ کروا کر واپس جانے لگا تھا جب اسے عینی ملی تھی ۔۔۔۔۔
عینی جب اس سے ملی تو احمر نے اس سے پوچھا کہ وہ ہاسپٹل کیوں ہے تو اس نے ساری بات احمر کو بتا دی جس نے اس کا ساتھ دیتے ہوئے اسے اور ہادی کو اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا ۔۔۔۔۔
عینی نے اسے سختی سے ہاشم کو اپنے بارے میں بتانے سے منا کیا تھا ورنہ اس نے احمر کو دھمکی دی تھی کہ وہ یہاں سے چلی جائے گی اسی وجہ سے احمر نے کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔
شاہزین نے دو دن بعد خود سکون سے اور تفصیل سے عینی کو ڈھونڈنے کا سوچا اور سب سے پہلے ہادی کے سکول گیا جہاں سے اس نے اس دن کے کیمرے کی ویڈیو نکلوائی ۔۔۔۔
اس نے ویڈیو میں ہادی کے سر سے خون نکلتے دیکھا تھا پھر جو اس نے ہاسپٹل انتظامیہ کی جھوٹ بولنے پر بےعزتی کی وہ تو الگ مگر اس ٹیچر کو بھی اچھا خاصا سنایا جس نے اس سے جھوٹ بولا تھا پھر اسے پتا چلا تھا کہ سحر بیگم نے انہیں جھوٹ بولنے کا کہا تھا اور اس ٹیچر سے ہی اسے ہادی کے ہاسپٹل کا پتا چلا تھا ۔۔۔۔
اس نے گھر میں اس بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا پھر اس نے ہاسپٹل کے کیمرے وغیرہ چیک کروائے اور ہادی کی ساری ڈٹیل لی اس نے جب عینی کو احمر کے ساتھ جاتے دیکھا تو وہ احمر کو پہچان گیا تھا اس کی احمر سے ملاقات چند روز پہلے ہی ہوئی تھی۔۔۔۔
پھر شاہزین نے احمر کے گھر جاکر عینی کے بارے میں احمر سے پوچھا تو صاف مکر گیا مگر جب اس نے احمر کو ساری بات بتائی تو پھر احمر نے عینی کو اس سے ملنے دیا تھا۔۔۔۔۔
عینی کو دیکھتے ہی اس نے عینی کو خود میں بھینچا تھا جبکہ عینی کو اس کی بکھری حالت دیکھ کر بہت برا لگا لیکن شاہزین تو بے حد خوش تھا کہ عینی اسے دوبارہ واپس مل گئی تھی عینی سے اسے سب کچھ پتا چل گیا تھا اور عینی نے ہی اسے سحر بیگم کو کچھ بھی کہنے سے منع کرتے ہوئے اس نے اس کے ساتھ واپس گھر جانے پر بھی منع کر دیا تھا پھر شاہزین نے اسے اپارٹمنٹ میں رہنے کا بتایا تو وہ مان گئی تھی۔۔۔۔
لیکن اس نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا وہ صبح جلدی گھر سے نکل کر عینی پاس آتا تھا اور ناشتہ کرکے آفس چلا جاتا تھا اسی طرح ہی وہ رات کو آتا تھا اور عینی کے پاس تھوڑی دیر رک کر چلا جاتا تھا۔۔۔۔۔
حال :
حور کیا سوچ رہی ہو تم ؟؟؟
شاہزین اس کی کنپٹی کو اپنے لبوں سے چھوکر بولا۔۔۔۔۔
میں یہ سوچ رہی تھی اگر میں آپ کو نہ ملتی تو آپ کیا کرتے ؟؟؟؟
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔۔
میں تمھیں تب تک ڈھونڈتا جب تک تم مجھے مل نہیں جاتی وہ دو دن میری زندگی کے سب سے برے دن تھے تمھارے بغیر مجھے لگ رہا تھا کہ میری سانسیں بند ہو جائیں گی۔۔۔۔
وہ اس کے سر کو عقیدت سے چوم کر بولا۔۔۔۔۔
کیا آپ اتنی محبت مجھ سے کرتے ہیں ؟؟؟
وہ اس کی طرف دیکھتی ٹرانس کی کیفیت میں پوچھنے لگی۔۔۔۔
مجھے تم سے جتنی محبت ہے اس کا اندازہ تم کبھی نہیں لگا سکتی ہاں مگر میری سانسوں کی ضمانت اب تمھاری سانسوں کے ساتھ چلنے پر ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں کی ایک لٹ کو پکڑ کر زرا سا کھنچتا ہوا بولا۔۔۔۔۔۔
عینی نے ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھ کر مسکرا کر شاہزین کو دیکھا یہ وہ شخص تھا جس نے کبھی اس کی راتوں کی نیندوں اور دن کے سکون و چین سب برباد کر دیا تھا مگر اب وہی شخص اس کے سکھ و چین کا مرکز بن گیا تھا اگر شاہزین نے کچھ دن اس کے بغیر بے آرامی سے گزارے تھے تو اس کے دن بھی شاہزین کے بغیر اداس ہی گزرے تھے۔۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ ؟؟ مجھے کبھی چھوڑیے گا مت آپ میرے ساتھ ہیں تو مجھے کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا آپ کے ساتھ مجھے میری زندگی بہت خوبصورت لگتی ہے مجھے لگتا ہے اللہ نے میرے صبر کا انعام مجھے آپ کی محبت کی صورت میں عطا کیا ہے۔۔۔۔
وہ اس کے ماتھے سے بالوں کو پیچھے کرتی جھک کر اس کا ماتھا محبت ، عقیدت اور احترام سے چھو کر بولی تو شاہزین کو اپنے اندر ڈھیروں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
یہ سوچنا بھی مت کہ میں کبھی تمھیں خود سے دور جانے دو گا یا تمہیں چھوڑ دوں گا تم میری زندگی کا وہ سکون ہو جسے میں نے دوسری چیزوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنے حصار میں لیتا اس کے بالوں پر لب رکھتا بولا تو عینی نے سکون سے اپنا سر اس کے سینے کر رکھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
********************
ارقم نے ہاشم کے جانے کے بعد علیشبہ سے اب تک کوئی بات نہیں کی تھی وہ اب یونیورسٹی جانے سے پہلے علیشبہ سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ علیشبہ کے کمرے میں داخل ہوا جو یونیورسٹی کے لیے تیار ہو کر اپنا بیگ اٹھا رہی تھی۔۔۔
علیشبہ نے ارقم کو اپنے کمرے میں دیکھا تو اس کی جانب اپنا رخ کیے پوچھا۔۔۔۔
اسلام و علیکم! بھائی کوئی کام تھا آپ کو ؟؟؟
ہاں مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
وہ علیشبہ کے پاس جا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تو علیشبہ نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جبکہ اس کے دل کی دھڑکن معمول سے تیز رفتار پر چل رہی تھیں اسے کچھ کچھ اندازہ تھا کہ ارقم ہاشم کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے اسی وجہ سے وہ تھوڑا ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔
دیکھو علیشبہ مجھے پتا ہے کہ تم ہاشم سے پہلے محبت کرتی تھی مگر میں پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم اب بھی اس سے محبت کرتی ہو ؟؟ جھوٹ مت بولنا سچ سچ بتا دینا میں نے پوری رات اس بارے میں سوچا ہے یہ تمھاری زندگی ہے اور اس کا فیصلہ بھی تمھیں ہی کرنا اگر تمھارا جواب ہاشم کے لیے مثبت ہوا تو میں خود بابا سے بات کروں گا تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
ارقم نے سنجیدگی سے پوچھا تو علیشبہ نے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
جو آپ کا فیصلہ ہوگا وہی مجھے منظور ہے بھائی۔۔۔۔
بلکل نہیں زندگی تمھیں گزارنی ہے مجھے نہیں یہ فیصلہ تم کرو گی یہ تم پر منحصر کرتا ہے کہ تم اپنے حق میں فیصلہ کرتی ہو یا نہیں اور یہ فیصلہ تمھیں ابھی کرنا ہوگا ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
ارقم اس کی بات سن کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
ب۔۔۔بھائی میں و۔۔۔وہ ہاشم نے مجھ سے بات کی تھی اور م۔۔۔مجھے ان سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر میں بابا اور آپ کی رضامندی سے کرنا چاہتی ہوں میں چاہتی ہوں میری زندگی کے سب سے بڑے فیصلے میں آپ لوگ کی بھی خوشی شامل ہو۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
ہم سب کو تمھاری خوشیاں بہت عزیز ہے عالی تم نے جو مشکل وقت گزارا ہے اب اس سب کے بعد تمھیں بھی خوش رہنے کا حق ہے میں ایک بار دوبارہ ہاشم سے بات کر کے بابا سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔
وہ محبت سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا جس نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
**********************
شفق رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح لیٹ اٹھی تھی تو اس وجہ سے وہ اپنی یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ جلدی جلدی تیار ہو کر یونیورسٹی روانہ ہوگئی تھی گاڑی میں اس نے اپنے موبائل سے ایک بار اپنی آنکھوں کو دیکھا جو رات کافی دیر رونے کی وجہ سے ہلکی ہلکی سوجی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔
یونیورسٹی پہنچ کر چونکہ وہ اپنے پہلے لیکچر کے لیے لیٹ ہوگئی تھی اس وجہ سے اس نے لیکچر نہ لینے کا سوچتے ہوئے کینٹین جانے کا سوچا کیونکہ وہ جلدی میں ناشتہ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔
ارقم جو کب سے شفق کے آنے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اس سے پوچھ سکے کہ وہ کل کیوں نہیں آئی اب اس کے ڈپارٹمنٹ سے اپنے ڈپارٹمنٹ میں جا رہا تھا مگر جب اس نے شفق کو کینٹین کی طرف جاتے دیکھا تو فورا اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
شفق ۔۔۔۔۔
شفق۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔
ارقم نے اس کے قریب جاکر اسے پکارا جو نظریں جھکائے اپنی سوچوں میں غلطاں چل رہی تھی۔۔۔۔۔
شفق نے اچانک اپنے ساتھ کسی کو چلتے محسوس کر کے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ارقم کو اپنی جانب ہی دیکھتے پایا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ؟؟؟ اور یہ تمھاری آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہیں ؟؟؟
وہ اس کی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر پریشان سا بولا۔۔۔۔
آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ میں ٹھیک ہو یا نہیں بہتر ہے کہ اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں غراتی بولی تو ارقم کے ماتھے پر سلوٹیں نمودار ہوئیں اور زبردستی شفق کا ہاتھ پکڑ کر کینٹین سے دوسری طرف تھوڑی سنسان جگہ پر لے گیا۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے فورا میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں اس سے بولی تاکہ اردگرد موجود لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں
ارقم نے اس کا ہاتھ ایک جگہ جاکر چھوڑا جہاں اردگرد بس دو تین ہی لوگ موجود تھے۔۔۔۔۔
شفق کیا بات ہے تم ایسے بات کیوں کر رہی ہو ؟؟ اگر رات کو میرے غصے سے فون پر بولنے کی وجہ سے ایسا کر رہی ہو تو میں تمھیں بتا دوں کہ میں نے کالر آئی ڈی نہیں دیکھی تھی اس وجہ سے غصے میں بول گیا تھا۔۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے شفق سے کہا جو مسلسل زمین کو گھور رہی تھی
مجھے فلحال آپ سے کوئی بات نہیں کرنی اس لیے مجھے جانے دیں۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔
جب تک تم بتاؤ گی نہیں کہ کیا بات ہے جو تم ایسے کر رہی ہو تب تک میں تمھیں یہاں سے ہلنے بھی نہیں دوں گا۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھتے بولا۔۔۔۔
کیا جاننا چاہتے ہیں آپ ؟؟ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتوار کو میرے لیے رشتہ آرہا ہے اور جلد ہی میری شادی کردی جائے گی اور آپ صرف مجھ پر غصہ ہی نکالتے رہ جائیں گے۔۔۔۔ پتا ہے آپ جیسے مردوں کا یہی کام ہوتا ہے غصے کسی اور پر اور اتارتے کسی اور پر ہیں آپ اپنے غصے کا شغل فرمائیں میں تب تک آپ کو اپنی شادی کا کارڈ بھیج دوں گی پھر اسے دیکھتے ہوئے غصے کرتے رہیے گا ۔۔۔۔۔
غصے سے بولنا شروع ہوئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔۔
میرے ساتھ یہ فضول گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے شفق اور تم خود جانتی ہو کہ تم نے پہلے کبھی اپنی شادی کی بات نہیں کی اور مجھے بھی لگ رہا تھا کہ کم از کم تم اپنی پڑھائی مکمل کر لو تو پھر میں اپنے والدین سے تمھارے لیے بات کروں گا مگر اب تم نے بتا دیا ہے تو جمعہ کو امی بابا تمھارے گھر ہوں گے اور اب یہ رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بتاؤ کیا تم نے صبح ناشتہ کیا ہے ؟؟؟
وہ سنجیدگی سے شفق سے بولا جو اس کی بات سن کر تھوڑی پرسکون ہوگئی تھی۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں وہ میں لیٹ ہوگئی تھی اس وجہ سے ناشتہ نہیں کر پائی۔۔۔۔
شفق دھیمی آواز میں بولی تو ارقم اسے اپنے ساتھ کینٹین میں لے گیا۔۔۔۔۔
******************
وہ تیمور صاحب کے ساتھ مجبورا آج جلدی گھر آگیا تھا اور ان کے ساتھ ان کے کمرے میں جا رہا تھا کیونکہ تیمور صاحب نے اسے کوئی فائل دینی تھی ۔۔۔۔۔
ابھی تیمور صاحب دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے لگے تھے کہ سحر بیگم کی اندر سے آتی آواز نے انھیں دروازے میں ہی منجمد کر دیا۔۔۔۔
افف ۔۔۔ میں کیا کرو شمائلا ( سحر بیگم کی بہن ) میں نے تو اس لڑکی کو گھر سے بھی نکال دیا ہے پھر بھی شاہزین اس کے پیچھے مجنوں بنا پھر رہا ہے کہتا ہے اب شادی نہیں کروں گا اس سے اچھا تھا کہ وہ کسی حادثے میں ہی مر جاتی پتا نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جو میں نے اسے اپنے گھر کام کے لیے رکھ لیا۔۔۔۔
ہاں ہاں اس کے بھائی کے ہی چوٹ لگی تھی اور اسے پیسوں کی ضرورت نہیں تھی اسی وجہ سے میں نے اسے پیسے دے کر موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اسے شاہزین کی زندگی سے دودھ میں مکھی کی طرح نکال دیا ۔۔۔۔۔
سحر بیگم ابھی مزید بولتیں کہ تیمور صاحب نے غصے سے کمرے میں داخل ہو کر ایک زوردار تھپڑ سحر بیگم کو مارا جو اس افتاد پر بوکھلا گئیں تھیں۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
تمہیں زرا بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ معصوم کہاں گئی ہو گی مجھے پتا ہوتا کہ تمھاری سوچ اتنی دقیانوسی اور پست ہے تو میں ایک پل کو بھی اس دن عینی کو یہاں اکیلا نہ چوڑتا تمھیں کوئی فکر بھی ہے کہ تمھارے بیٹے کی کیا حالت ہے لیکن نہیں تمھیں تو صرف اپنی پرواہ ہے اور اپنے سٹیٹس کی مگر یہ مت بھولو جہ جس سٹیٹس پر تم اتنا اترا رہی ہو یہ صرف میری وجہ سے ہے ایک منٹ بھی نہیں لگے گا مجھے تمھیں آسمان سے زمین پر پٹھکنے کے لیے۔۔۔۔
تیمور صاحب دھاڑتے ہوئے بولے جبکہ شاہزین خاموش سا ان کے پیچھے کھڑا تھا وہ چپ چاپ ان کے کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل کر عینی کے پاس اپارٹمنٹ میں چلا گیا
اس کا تو دل ہی بند ہونے کو تھا عینی کے بارے میں سحر بیگم کی باتیں سن کر اسے یہ تو پتا تھا کہ وہ عینی کو پسند نہیں کرتیں مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس سے اتنی نفرت کرتی ہیں کہ اس کے مرنے کی دعائیں مانگتی ہیں۔۔۔۔۔۔
اس نے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے عینی کو خود میں زور سے بھینچا جبکہ مختلف احساس اور جزبات کی وجہ سے وہ ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔۔۔۔
شاہزین آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔۔
وہ پریشان سی اس کی کمر پر ہاتھ پھیر کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں اور آج رات میں یہاں ہی رکوں گا اور ہادی کہاں ہے ؟؟؟
وہ تھوڑی دیر بعد خود پر قابو پاتے ہوئے اس کے سر کو چوم کر بولا۔۔۔۔۔
ہادی کیچن میں بیٹھا کھانا کھا رہا ہے صبح سے اپ کا ہی پوچھ رہا تھا کہہ رہا تھا کہ بور ہو رہا ہوں بھائی کے ساتھ گیم کھیلنی ہے۔۔۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی اسے بتاتی اپنے ساتھ کیچن میں لے گئی جہاں ہادی کھانا کھا رہا تھا وہ شاہزین کو دیکھ کر خوش ہوتا اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے گلے لگا ۔۔۔۔
بھائی میں نے آپ کو بہت مس کیا آج میں آپ کے ساتھ ڈھیر ساری گیمز کھیلوں گا۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے کہا تو شاہزین اور عینی دونوں ہی ہنس پڑے اور پھر شاہزین نے باقی کا وقت ہادی کے ساتھ واقع گیم کھیلتے ہوئے گزارا جبکہ عینی دونوں کو بیچ بیچ میں لڑتے دیکھ کر خوب لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
