Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06
شاہزین اپنے دوستوں کے ساتھ ڈیڑھ مہینے گھومنے کے بعد واپس آچکا تھا وہ گھر میں داخل ہوا تو اسے سامنے حال میں سحر بیگم میگزین دیکھتی ملیں
ہیلو مام۔۔۔۔۔
وہ سحر بیگم کے قریب آکر بولا وہ جو اپنے ہی دھیان میں بیٹھی میگزین دیکھ رہی تھیں شاہزین کو آتے نہ دیکھ سکی جب اسں کی آواز سنائی دی تو وہ ڈر گئی مگر جلد ہی خود پر قابو کر خوشی سے شاہزین کو گلے لگا کر بولیں
شکر ہے تم واپس تو آئے ورنہ تمھارے ڈیڈ نے تو روز مجھے تمہارے بارے پوچھ پوچھ کر کہ تنگ کر دیا تھا
اف موم پلیز ڈیڈ کو سمجھایں ابھی تو میں نے اپنی زندگی جینا شروع کی ہے مجھے سکون سے اینجوائے کرنے دیں میں بچہ نہیں رہا اب تو میری ڈگری بھی مکمل ہوگئ ہے تو میں کھل کر اپنے دوستوں کے ساتھ جینا چاہتا ہوں موج مستیاں کرنا چاہتا ہوں اور ڈیڈ سے کہیں کہ مجھے اپنے اچھے اور برے کا اچھی طرح پتا ہے اس لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں
وہ ان سے الگ ہوتا چڑتا ہوا بولا
اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ ٹھیک ہے میں کہہ دوں گی اب جاؤں فریش ہو جاؤ میں تمھارے لیے کچھ کھانے پینے کو بجھواتی ہوں۔۔۔
سحر بیگم شاہزین کاموڈ بگڑتا دیکھ کر جلدی سے بولیں شاہزین ان کی بات سن کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چل دیا
سحر بیگم کچن میں داخل ہوئی تو رزیہ کی جگہ عینی کو کام کرتے دیکھا تو اس کے قریب جاکر بولیں۔۔۔۔
بات سنو لڑکی ۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔میم
عینی نے ان کی بات سن کر دھیمی آواز میں بولی
یہ رزیہ کہاں ہے اور تم یہاں کیا کر رہی ہو شفق کے سارے کام مکمل کر دیے جو رزیہ کے کر رہی ہو۔۔۔۔
سحر بیگم نے کرخت لہجے میں پوچھا
و۔۔۔وہ ان کی طبیعت خراب تھی ت۔۔۔تو میں نے سوچا ک۔۔۔۔کہ میں آج کھانا بنا دیتی ہوں وہ آرام ک۔۔کر لیں
عینی ان کی کرخت آواز سن کر اٹکتے ہوئے بولی
اگر سب کو آرام ہی کرنا ہے تو اپنے گھر چلی جائیں کام کیوں کرنے آتی ہیں اور تم اپنی اوقات میں رہو نوکرانی ہو نوکرانی ہی بن کر رہو مالکن بننے کی کوشش بھی مت کرنا اور ایک گلاس جوس اور ساتھ کچھ کھانے کو لے کر میرے بیٹے کو دے کر آؤ اور یاد رکھنا ٹرے اس کے کمرے میں رکھ کر فورا نکل آنا اس سے بات کرنے کی کوشش بھی مت کرنا اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جلدی سے ٹرے میں کھانا رکھو اور دفع ہو جاؤ اور آکر رزیہ کو بلانا وہ یہ کام کرے اور تم میرے سارے کپڑے استری کرنا بڑا شوق ہے نہ تمھیں دوسروں کے کام کرنے کا ہنہ۔۔۔۔
سحر بیگم نے غصے سے دھیمی آواز میں دھاڑتے ہوئے کہا تاکہ ان کی آواز شاہزین نہ سن لے
عینی ان کی بات سن کر جلدی سے اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے ٹرے میں جوس اور سینڈوچ جو اسنے تھوڑی دیر پہلے شفق کے لیے بنائے تھے وہ رکھے اور ہلکی آواز میں منمناتے ہوئے پوچھا
م۔۔۔۔میم س۔۔سر کا کمرہ کونسا ہے۔۔۔۔
اوپر والے فلور پر دائیں طرف دوسرا کمرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم نخوت سے جواب دیتی اپنے کمرے میں چلی گئیں
وہ مردہ قدموں سے چلتے ہوئے اوپری منزل پر گئی اور دائیں طرف موجود دوسرے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر ایک گہرا سانس لیا اور ایک ہاتھ سے ٹرے پکڑتے دوسرے ہاتھ سے اپنا دوپٹہ سر پر ٹھیک کیا اور دروازہ ناک کیا
شاہزین جو ابھی فریش ہو کر بیڈ پر لیٹا اپنے دوست سے بات کر رہا تھا دروازہ بجنے کی آواز پر دروازے کی طرف ایک نظر دیکھا اور اندر آنے کی اجازت دی
عینی اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوئی اور ٹرے میز پر رکھ کر جلدی سے واپس پلٹنے لگی کہ شاہزین جس نے پہلے اسے گھر میں کبھی نہ دیکھا تھا اسے روکا
روکو لڑکی ۔۔۔۔۔
عینی اس کی آواز سن کر اس کی طرف مڑی اور کانپتی آواز میں بولی جبکہ نظریں جھکی ہوئیں تھی
ج۔۔۔جی سر
نئی آئی ہو ؟ کیا نام ہے تمھارا ؟ ۔۔۔۔۔
شاہزین نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جو سوٹ میں اور سنولی سی رنگت میں ڈری ہوئی لگ رہی تھی
ح۔۔۔۔۔حورالعین نام ہے اور شفق میم کا خ۔۔۔خیال رکھتی ہوں
عینی نے نظریں جھکا کر ڈرتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا جبکہ شاہزین نے اس کو ڈرتے دیکھا تو عجیب سا سکون محسوس کیا اور اس کا نام سن کر طنزیہ بولا
ہمم۔۔۔ ویسے شکل تمھاری حوروں جیسی تو بلکل بھی نہیں ہے مگر نام حورالعین واہ ۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر ایک نظر اٹھا کر شاہزین کی طرف دیکھا شاہزین کی شکل دیکھ اسے کچھ یاد آیا تھا جسے سوچ کر اس کا رنگ ہی اڑ گیا تھا جبکہ اس کے چہرے کا رنگ اڑتے دیکھ کر شاہزین کو لگا کہ یہ اس کی بات کا اثر ہےمگر اصل بات تو صرف عینی ہی جانتی تھی لیکن شاہزین کے چہرے پر کوئی شناسائی کی رمق نہ دیکھ کر وہ جلدی سے خود پر قابو پاتی بولی
س۔۔۔سوری سر م۔۔۔میم کو مجھ سے ک۔۔۔کام تھا اس لیے مجھے ج۔۔۔۔جانے دیں۔۔۔پ۔۔۔۔پلیز
اس کی بات سن کر اس نے اپنا سر ہلایا اور اسے جانے کا کہا جب کے اس کا جواب سن کر عینی فورا کمرے سے باہر نکل گئ اور تیزی سے سڑھیوں کی جانب بڑھ گئی
اس نے انیکسی میں موجود اپنے کمرے میں آکر گہرا سانس لیا اور چار مہینے پہلے ہوئے واقعہ کو سوچنے لگی
چار مہینے پہلے :
عینی ایک ریسٹورینٹ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ لنچ کرنے آئی تھی وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی
جب چار لڑکوں کا ایک گروپ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا ان میں سے ایک شاہزین تھا وہ لوگ ان کے ساتھ والے ٹیبل پر آکر بیٹھے اور سگریٹ پیتے ہوئے باتیں کرنے لگی
جب شاہزین اور اس کے دوستوں نے اپنے ساتھ والے ٹیبل پر عینی کے گروپ کو دیکھا اور ان پر کومینٹس پاس کرنے لگے
تب شاہزین کی نظر بلیک جینز کے ساتھ سفید کرتا پہنے عینی پر پڑی دوپٹہ اس نے گلے میں مفلر سٹائل میں لیا ہوا تھا اور اپنے بالوں کی اونچی پونی کی ہوئی تھی ساتھ ہلکے ہلکے میک اپ سے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
عینی اور اس کی دوستوں نے بھی اپنے ساتھ بیٹھے ان کے گروپ کو خود پر کومینٹس پاس کرتے دیکھا تو انھیں غصہ تو بہت آرہا تھا مگر وہ انھیں کچھ کہہ کر خود کو مشکل میں نہ ڈالنا چاہتی تھیں اس وجہ سے انھوں نے اہنے ارد گرد موجود کسی خالی ٹیبل کی تلاش میں نظریں دوڑائیں لیکن سب ٹیبلز تقریبا فل ہی تھے مجبورا وہ انھوں نے مشورہ کر کے یہاں سے قریبی دوسرے ریسٹورنٹ میں جانے کا سوچا اور چونکہ انھوں نے ابھی تک کھانا آرڈر نہیں کیا تھا اس لیے وہ اپنے بیگز اٹھا کر اپنے ٹیبل سے اٹھیں اور ریسٹورنٹ سے باہر جانے لگیں
شاہزین نے عینی کو اہنی جگہ سے اٹھتے دیکھ کر اپنے قریب کھڑے ایک ویٹر سے پین پکڑا اور ٹیشو پیپر پر اپنا نمبر لکھا جبکہ اس کے دوست لڑکیوں کو اٹھ کر جاتے دیکھ سخت بدمزا ہوئے اور اب وہ شاہزین کو نمبر لکھ کر اپنی سیٹ سے اٹھتا دیکھ رہے تھے
شاہزین اٹھا اور عینی اور اس کی دوستوں کے پیچھے جلدی سے گیا وہ ابھی پارکنگ لاٹ میں ہی موجود تھی جب شاہزین تیزی سے عینی کے قریب گیا اور س ک ہاتھ پکڑ کر اس پر ٹیشو پیپر رکھا
جبکہ عینی جو اپنے دھیان میں کھڑی دوستوں کی باتیں سن رہی تھی اچانک شاہزین کے ہاتھ پکڑنے اور ٹیشو پیپر رکھنے پر ڈر گئ اور اس کی دوستیں بھی شاہزین کو دیکھ کر اس کی جانب متوجہ ہوئیں
شاہزین نے جب ہاتھ چھوڑا تو اس نے ٹیشو پیپر کھول کر دیکھ اور اس میں موجود اس لوفر کا نمبر دیکھ کر عینی نے ایک زور دار تھپڑ اس کے جڑ دیا اسے بلکل بھی اس کاچھونا اور ایسی چھچھوری حرکت کرنا پسند نہ آیا تھا اس لیے جلدی سے اسے تھپڑ مارنے کے بعد وہ اپنی دوستوں کے ساتھ شاہزین کے کچھ بھی بولنے سے پہلے بیٹھ گئ تھی
شاہزین جسے تھپڑ کی بلکل توقع نہ تھی تھپڑ کھا کر وہ دومنٹ ساکت رہ گیا اور جب تک وہ سنبھلا تب تک عینی اپنی دوستوں کے ساتھ گاڑی میں تھی
میں تمہیں چھوڑو گا نہیں ایک بار تم دوبارہ ملو مجھے تمہارے ساتھ وہ کروں گاکہ دوبارہ کسی لڑکے کو تھپڑ مارنے کی کوشش بھی نہیں کرو گی
شاہزین نے غصے سے چیختے ہوئے عینی سے کہا جو اپنی دوستوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی پارکنگ لاٹ سے نکل رہی تھی اس کی بات سن کر عینی ڈر گئی تھی اور دوبارہ اس سے کبھی نہ ملنے کی اس نے بہت سہ دعائیں کیں تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا وہ آج چار مہینے بعد اسی کے گھر موجود تھی وہ بھی ایک نوکرانی کی حیثیت سے ۔۔۔۔۔۔
اپنی بری قسمت پر اسے بے حد رونا آیا اگر ممکن ہوتا تو وہ وقت میں واپس جاکر کبھی اپنی دوستوں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں نہ جاتی اور نہ ہی شاہزین سے کبھی ملتی
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
