Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22
تیمور صاحب جو میٹنگ میں بیٹھے ہوئے تھے سحر بیگم کی کال آتے دیکھ پہلے تو انہوں نے اگنور کرنے کا سوچا پھر کچھ ضروری کام نہ ہو اس وجہ سے ایکسکیوز کر کے باہر آکر انھوں نے کال اٹھائی تو دوسری جانب سے سحر بیگم کی غصے سے بھری آواز انھیں سنائی دی۔۔۔۔
تیمور آپ فوری گھر آئیں آپ کے لاڈلے بیٹے نے گھر کی کام والی سے شادی کر لی ہے۔۔۔۔
تیمور صاحب جو شاہزین کو اپنا لاڈلہ بیٹا کہے جانے پر ابھی حیران تھے کہ ان کی اگلی بات پر تو صدمے میں ہی چلے گئے۔۔۔۔
کیا مطلب شاہزین نے رزیہ سے شادی کرلی یے ؟؟
ان کی بات سن کر سحر بیگم جو اپنا غصہ کم کرنے کے لیے پانی پی رہی تھیں ان کو پانی پیتے اچھو لگ گیا۔۔۔۔۔
افف۔۔۔۔ تیمور اس نے عینی سے نکاح کر لیا ہے وہ تو ہمیں کبھی نہ بتاتا میں نے ہی اسے آج رنگے ہوتھوں پکڑا ہے۔۔۔۔ اور آپ باقی باتیں گھر آکر کریں نواب زادہ میرے کنٹرول میں بلکل بھی نہیں آرہا۔۔۔۔۔
یہ تمھاری ڈھیل کا ہی نتیجہ ہے اب بھگتو ویسے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔
تیمور ۔۔۔۔ آپ فورا گھر آئیں مجھے فون پر اب مزید کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔
وہ غصے سے تیمور صاحب کو جواب دے کر فون بند کر گئی۔۔۔۔
جبکہ تیمور صاحب کے چہرے پر فکر کے کوئی تاثرات نہ تھے بلکہ وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہے تھے وہ واپس میٹنگ روم میں گئے اور میٹنگ ختم کرتے ہوئے گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔۔۔۔
شاہزین کمرے میں داخل ہوا تو عینی کمرے میں بے چینی سے چکر لگا رہی تھی جبکہ اس کے چہرے پر خوف صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو دیکھ کر ایک جبگہ رک گئی اور اپنا منہ جھکائے انگلیاں مڑوڑنے لگی۔۔۔۔۔
تو شاہزین اس کے قریب آیا اور اس کو پکڑ کر اپنے حصار میں لیا جو ہلکا ہلکا خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔
میں تمھیں تمھارے کمرے سے ایک ڈریس لاکر دیتا ہوں تب تک تم شاور لے کر اپنا میک اپ وغیرہ صاف کر لو ڈیڈ بس تھوڑی دیر تک آجائیں گے اور تم فکر مت کرو میں تم پر کوئی الزام نہیں لگنے دوں گا ویسے بھی یہی حقیقت ہے کہ میں نے ہی تم سے زبردستی شادی کی تھی۔۔۔۔
وہ اسے خود سے الگ کرتا اس کے ماتھے کو چھوتا بولا ۔۔۔۔۔۔
تو عینی نے معصومیت سے اس کی طرف دیکھ کر سر ہلایا اور شاور لینے چلی گئی۔۔۔۔۔
تیمور صاحب گھر میں داخل ہوئے تو سحر بیگم غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ ہال میں صوفے پر بیٹھی اپنا پاؤں جھلا رہی تھی جو ان کی عادت تھی۔۔۔۔
تیمور صاحب کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور جلدی سے ان کو اپنے قریب آتے دیکھ وہ فورا بولی۔۔۔۔
میں آپ کو بتا رہی ہوں تیمور فورا اس لڑکی کو اپنے اس گھر سے دفعہ کرنا ہے مجھے وہ ہر گز اپنی بہو کے روپ میں منظور نہیں۔۔۔۔
ہممم ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے آپ شاہزین کو اور اس کی بیوی کو میرے سٹڈی روم میں بھیجیں میں ان سے اکیلے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
نہیں جو بھی بات آپ کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے کریں ۔۔۔۔۔
بسس۔۔۔میں نے ایک بار کہہ دیا ہے فورا دونوں کو سٹڈی میں بھیجو ۔۔۔
شاہزین جو اپنے کمرے سے باہر نکل کر گرل پر کھڑا نیچے تیمور صاحب کی باتیں سن رہا تھا ان کی بات مکمل کرنے کے بعد وہ روم میں گیا جہاں عینی پیلا سوٹ پہنے کھلتا ہوا پھول لگ رہی تھی اس نے دوپٹہ نفاست سے اوڑھا ہوا تھا
وہ سحر بیگم کے بتانے سے پہلے ہی عینی کو حوصلہ دیتا اپنے ساتھ لے کر سڑھیاں اتر کر تیمور صاحب کے سٹڈی روم میں لے جانے لگا تو ہال میں بیٹھی سحر بیگم نے حقارت بھری نظروں سے عینی کو دیکھا جو سر جھکائے شاہزین کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی جبکہ اس کا ایک ہاتھ شاہزین نے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سحر بیگم کی نظروں کو نظر انداز کیے عینی کے ساتھ سٹڈی روم میں ناک کر کے داخل ہوا ۔۔۔۔
تیمور صاحب جو کرسی پر بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے ان دونوں کو اندر آتے دیکھ وہ تھوڑا سیدھا ہو کر بیٹھے شاہزین کے ساتھ لڑکی کو دیکھ کر انھوں نے ناسمجھی سے شاہزین کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
وہ ڈیڈ یہ حورالعین ہی ہے بس پہلے اپنی رنگت کو چھپانے کے لیے میک اپ کرتی تھی اور وہ بھی موم کے کہنے پر ۔۔۔۔۔
ان کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہ بولا تو تیمور صاحب نے اب کی بار غور سے عینی کو دیکھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
غور سے دیکھنے پر انھیں صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ عینی ہی ہے۔۔۔۔۔
ہاں جی ۔۔۔۔ بقول میری بیگم کے میرے لاڈلے بیٹے اس سب کی وضاحت دو ۔۔۔۔۔
مجھے حور پسند تھی میں جانتا تھا کہ موم اسے کبھی قبول نہیں کریں گی اسی وجہ سے آپ سب لوگوں سے چھپ کر میں نے اس سے (زبردستی ) نکاح کر لیا۔۔۔۔۔
وہ ” زبردستی” لفظ منہ میں ہی دبا کر بولا۔۔۔۔۔
تو تم پہلے سے عینی کو جانتے تھے ؟؟ اور اس کی اصل رنگ و روپ سے بھی واقف تھے۔۔۔۔
جی ۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ایک بار ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ ( اور وہاں حور کا ہاتھ پکڑا تھا جس کے بدلے میں مجھے تمغہ تھپڑ سے نوازا گیا )
وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولا اور آخری باتیں دل میں سوچیں کیونکہ اونچا بول کر وہ تیمور صاحب سے جوتے نہیں کھانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
تو عینی بچے آپ بھی راضی تھے نکاح کے لیے یا میرے ” لاڈلے بیٹے ” نے زبردستی نکاح کیا آپ کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں جو سچ بات ہے وہ بتا دو کیونکہ میں اپنے لاڈلے بیٹے سے اس چیز کی توقع بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔
تیمور صاحب نے اس کی بات سن کر سیدھا سوال عینی سے کیا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی مگر ان کی بات سن کر اس نے اپنی سہمی معصوم آنکھوں سے انھیں دیکھا اسے لگ رہا تھا کہ وہ بھی سحر بیگم کی طرح اسے برا بھلا کہیں گے۔۔۔۔۔
جبکہ ان کے اچانک عینی سے پوچھنے پر شاہزین گڑبڑا گیا اور عینی کی طرف دیکھ کر اس کی جگہ جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ تیمور صاحب کی زبردست گھوری سے فورا اس نے اپنا منہ بند کر کے اپنے لب بھینچ لیے۔۔۔۔
و۔۔وہ سر ش۔۔شاہ نے مجھ سے ز۔۔۔زبردستی نکاح نہیں کیا تھا شاہ نے مجھ سے سیدھا نکاح کے لیے پ۔۔۔۔پوچھا تھا ت۔۔۔تو میں نے ہاں میں جواب دے دیا تھا۔۔۔۔
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا وہ بلکل نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے شاہزین اور ان کے درمیان کسی بھی طرح کی لڑائی ہو اس لیے اس نے صفائی سے جھوٹ بولنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔۔۔
اس کی شاہزین کو بچانے کی کوشش پر تیمور صاحب نے ہلکا سا مسکرائے جو شاہزین کے دیکھنے سے پہلے ہی ان کے چہرے سے غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ شاہزین نے عینی کا جواب سن کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اس کا دل کر رہا تھا کہ عینی کا منہ چوم ڈالے یہ بات سن کر۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ شاہزین اگر تم عینی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہو میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔
تیمور صاحب نے ایک نظر شاہزین کو دیکھ کر مزید کہا۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ تم اب میرے ساتھ بزنس جوائن کرو اور انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ویسے مجھے عینی پوری طرح قبول ہے مگر اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔
انھوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہزین کو لگام ڈالنے کا سوچا ۔۔۔۔۔
اوکے ڈیڈ میں آفس جوائن کر لوں گا مگر اگلے ہفتے سے۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر جلدی سے بولا ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے پھر اگلے ہفتے سے تم میرے ساتھ آفس جاؤ گے۔۔۔۔ اور سحر کی فکر مت کرو میں اسے سمجھا دو گا۔۔۔۔
وہ شاہزین سے بولے تو شاہزین مسکراتا ہوا عینی کو لے کر چلا گیا۔۔۔۔۔
سحر بیگم بے چینی سے ان کے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھی وہ بس عینی کو اس گھر سے باہر نکال کر اپنے بیٹے سے دور کرنا چاہتی تھیں کیونکہ ان کے مطابق شاہزین کی بیوی بننے کا حق صرف عشا ( ان کی بہن کی بیٹی ) کا ہی تھا۔۔۔۔۔
شاہزین اور عینی کو مسکراتے باہر آتے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دیکھ ان کی تو آنکھوں میں مرچیں چھبنے لگیں وہ غصے سے قریب آتی عینی پر جھپٹی اور اسے برا بھلا کہنے لگیں مگر شاہزین نے انھیں عینی کے قریب بھی نہیں جانے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔
تم چالاک لڑکی مجھے پہلے ہی تمھیں دیکھ کر سمجھ جانا چاہیے تھا تم جیسے لڑکیاں بس امیر لڑکوں کو پھسانے کے لیے ہی بڑے گھروں میں میں کام کرتیں ہیں چھوڑو مجھے شاہزین۔۔۔۔
وہ اپنا آپ شاہزین سے چھڑاتی ہوئی بولیں جو ان کو پکڑ کر کھڑا تھا جبکہ عینی اپنی جگہ کھڑی خوف سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔
بس کریں ۔۔۔۔ موم اس نے کچھ بھی نہیں کیا میں نے اسے پسند کر کے نکاح کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم اس کی بات کو مظر انداز کر کے اسے دور دھکیل کر عینی کی طرف بڑھی۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
وہ عینی کو کھینچ کر تھپڑ مارنے لگیں کہ شاہزین فورا اس کے سامنے آگیا جس سے تھپڑ سیدھا اس کے گال پر لگ کر اسے سرخ کر چکا تھا۔۔۔
گھر میں داخل ہوتی شفق نے یہ منظر دیکھا تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر شاہزین کے سرخ چہرے اور ایک لڑکی کو اس کے پیچھے کھڑا ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔۔
جبکہ سحر بیگم نے شاہزین کا سرخ گال دیکھ کر کچھ کہنا چاہا تو شاہزین ان کی بات کاٹتا سرخ آنکھوں سے بولا۔۔۔۔
آئندہ کے بعد حور پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا موم اب وہ اس گھر میں کام نہیں کرتی بلکہ اب وہ میری بیوی کی حیثیت رکھتی ہے اور مجھے بلکل گوارا نہیں کہ کوئی اسے ہلکی سی بھی تکلیف پہنچائے۔۔۔۔
تیمور صاحب جو شور سن کر باہر آئے تھے شاہزین کی بات سن کر قریب آئے تو اس کے چہرے پر سرخ نشان دیکھ کر انھیں ساری بات سمجھ آگئی۔۔۔۔
تیمور صاحب نے ایک نظر سحر بیگم کو دیکھا جو شاہزین کی بات پر کان دھرے بغیر اس کا سرخ گال دیکھ رہی تھیں
سحر فوری سے پہلے کمرے میں چلی جاؤ میں تو تمہیں پڑھی لکھی اور سمجھدار عورت سمجھتا تھا تم کب جاہل لوگوں کی طرح دوسروں پر ہاتھ اٹھانے لگی یا شاید میں نے تمھیں آج یہ سب کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔
عینی بچے کیا انھوں نے پہلے آپ کو کبھی مارا ہے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں یہاں موجود ہوں یہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گی۔۔۔۔
انھوں نے شاہزین کے پیچھے چھپی کانپتی اور آنسو بہاتی عینی سے پوچھا جو شاہزین کی شرٹ پیچھے سے اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچے کھڑی تھی۔۔۔۔
عینی نے ان کی بات سن کر ڈرتے ڈرتے اپنا سر ہاں میں ہلایا تو تیمور صاحب غصے سے سحر بیگم کی طرف مڑے تیمور صاحب نے اپنے باپ کو بچپن میں اپنی ماں کو مارتے پیٹتے دیکھا تھا مگر کبھی کچھ نہ کر پاتے تھے اسی وجہ سے انہیں مار پیٹ بلکل پسند نہیں تھی ۔۔۔ انھوں نے سحر بیگم کو دیکھا جو اب انہی کو ڈرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
ت۔۔تیمور۔۔۔
اگر مجھے پہلے پتا چل جاتا کہ تم اس کو یا دوسروں کو مارتی پھرتی ہو تو یقین مانو اسی دن تم پر بھی ہاتھ اٹھانے سے میں گریز نہ کرتا تم نے ان کو خریدا نہیں ہوا کہ جب دل کیا کسی کو بھی مارنا شروع کر دیا اور ابھی میری نظروں سے دور ہوجاؤ اس سے پہلے میں تمھیں کچھ کر دوں۔۔۔۔۔
سحر بیگم ان کی آخری بات سن کر جلدی سے اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔۔
شفق کو اب کچھ کچھ سمجھ آگیا تھا شاہزین عینی کو کمرے میں لے کر جاچکا تھا وہ اندر آئی اور تیمور صاحب کے پاس صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
شاہزین کانپتی ہوئی عینی کو اپنے حصار میں لیے کمرے میں لے کر آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھایا جو اس نے پکڑ کر آدھا پی لیا تھا ۔۔۔۔
تم فکر مت کرو ڈیڈ اب خود ہی موم کو سمجھا دیں گے وہ اب کبھی بھی تمہیں کچھ بھی نہیں کہیں گی اور چلو شاباش اب چپ ہو جاؤ ویسے تھپڑ مجھے پڑا ہے اور رو تم رہی ہو۔۔۔۔
عینی نے اپنے آنسو روکتے ہوئے شاہزین کو دیکھا جس کا ایک گال سرخ تھا
س۔۔سوری میری وجہ سے آپ کو تھپڑ لگا ۔۔۔۔
وہ اپنی آنسوؤں سے تر پلکوں کی جھالر کو اٹھاتے گراتے ہوئے معصومیت سے بولی تو شاہزین نے مسکراتے ہوئے بے اختیار اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اپنی جانب کیا اور اس کی آنکھوں کو جھک کر اپنے لبوں سے چھوا جب کے اس کا لمس محسوس کر کے عینی کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا
مجھے تمھاری ان آنکھوں میں آنسو بلکل اچھے نہیں لگتے ۔۔۔
وہ اب اس کے چہرے پر جھک کر اس کے دونوں سرخ گالوں کو چومنے لگا۔۔۔۔
مجھے تمھارے یہ سرخ گال بت حد پسند ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ بول کر اب اس کے ناک کو چوم کر ٹھوڑی کو چوما ۔۔۔۔
تمھارے چہرے کی معصومیت میرے دل کی دھڑکنیں منتشر کر دیتیں ہیں۔۔۔۔
وہ جو اس کے چہرے کو اپنے لمس سے معتبر کر رہا تھا اس کا چہرہ شرم سے پورا سرخ ٹماٹر بن گیا تھا اس کی باتیں عینی کی دھڑکنیں بھی بڑھا رہیں تھی وہ شروع سے محبت اور توجہ کی عادی تھی جو اسے ہمیشہ اپنے والدین سے ملی مگر ان کے جانے کے بعد تو کبھی اس نے وہ محبت محسوس نہ کی ۔۔۔۔۔
شاہزین نے اب اس کے چہرے پر جھک کر اس کے لبوں کو ہلکا سا چھوا ۔۔۔۔
مجھے تمھاری مسکراہٹ سب چیزوں کے آگے ماند لگتی ہے۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر بولا اور اسے دوبارہ اپنے حصار میں لیا جو شرم و حیا سے سرخ پڑتی اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا رہی تھی جبکہ کچھ دیر پہلے کا واقعہ اس کو شاہزین نے بھلا دیا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
