Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes

شفق یونیورسٹی میں اپنی کلاس لے کر اپنے کلاس فیلو لڑکے اسامہ سے بات کر رہی تھی چونکہ عالی آج نہیں آئی تھی تو وہ اکیلی ہی تھی اسامہ اس سے کوئی نوٹس مانگ رہا تھا جب دور سے ارقم نے یہ منظر دیکھا جو اسے شدید ناگوار گزرا
وہ کافی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ شفق اسے اگنور کر رہی ہے مگر یہ سوچ کر کہ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ بھی شفق کو اگنور کر دیتا مگر آج اسے کسی لڑکے سے بات کرتے دیکھ اس کو شدید غصہ آیا اور وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا شفق کے قریب گیا
شفق مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
شفق جو اسامہ کو نوٹس کل دینا کا بتا رہی تھی اپنے پیچھے اچانک ارقم کی آواز سن کر وہ ڈر گئی
اسامہ جس کی بات شفق سے ہوگئی تھی وہ جانے والا تھا کہ ارقم کو دیکھ کر اپنی جگہ پر جم گیا جبکہ ارقم مسلسل اسامہ کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
ج۔۔۔جی کیا بات کرنی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔
شفق نے ارقم سے پوچھا
یہاں نہیں پرسنل بات کرنی ہے اس وجہ سے اکیلے میں بات کرنی اگر تم فارغ ہوگئی ہو تو میرے ساتھ چلو۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر شفق نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
آپ نے جو بات کرنی ہے یہاں ہی کر لیں ۔۔۔
شفق کی بات سن کر اسے شدید غصہ آیا مگر ضبط کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھیچنے کے انداز میں لے جانے لگا شفق جو اس سب کے لیے تیار نہ تھی مجبوراً اس کے کھیچنے پر منہ بگاڑتے ہوئے ساتھ چلنے لگی۔۔۔۔۔
ارقم نے اسے تھوڑی دور ایک جگہ جہاں رش کم تھا لا کر اس کا ہاتھ چھوڑا تو شفق نے اس سے جھٹ پوچھا۔۔۔
کیا " پرسنل " بات آپ نے کرنی ہے ؟
وہ پرسنل پر خاصہ زور دیے بولی۔۔۔۔
علیشبہ نے کہا تھا کہ تم سے نوٹس لیتا آؤ آج کے کام کے۔۔۔۔
ارقم نے جواب دیا ۔۔۔
تو اس میں " پرسنل " بات کیا ہوئی آپ مجھ سے اسامہ کے سامنے بھی تو لے سکتے تھے یہاں ہیرو کی طرح میرا ہاتھ کھینچ کر لانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
ارقم نے اسے غصے سے گھورا تو اس کی گھوری کو نظر انداز کیے وہ ویسے ہی اس کے سامنے سراپاِ سوال بنی کھڑی رہی ۔۔۔۔۔
پرسنل بات یہ ہے کہ مجھے قطعاً پسند نہیں کہ میری بہن کی جس سے دوستی ہو وہ لڑکوں سے بات کرتی پھرے
اس کی بات سن کر شفق نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی اور دھیمی آواز میں غرائی۔۔۔
اپنی حد میں رہیں اگر آپ سے تمیز سے بات کرتی ہوں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے کردار پر انگلی اٹھائیں مجھے قطعاً ان لڑکیوں کی طرح مت سمجھیں جو اپنے کر دار پر بات سن کر خاموش رہتی ہیں میں ہر اس شخص کا منہ توڑ دوں گی جو میرے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرے گا اور یہ مت سوچیے گا کہ میں علیشبہ کی وجہ سے آپ کو کچھ نہیں کہوں گی مجھے اس وقت آپ سے شدید نفرت محسوس ہو رہی ہے اور آئندہ کے بعد مجھ سے بات کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے اس کا کوئی بھی جواب سنے بغیر وہ اس سے دور چلی گئی جبکہ ارقم اب بھی اپنی جگہ کھڑا اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا اس کی بات کا یہ مطلب تو نہیں تھا اس نے بس جلدی جلدی میں جو سوچا وہی اسے بول دیا تھا مگر اب شفق کی بات سن کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
عینی کی صبح آنکھ کھولی تو خود کو زمین پر سویا پا کر وہ اٹھی رات کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہے تھے جبکہ زمین پر سونے کی وجہ سے اس کی کمر اکڑ گئی تھی اور رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی درد کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر اور اپنا حولیہ صحیح کر کے گھر کے اندر گئی چونکہ رزیہ ابھی نہیں آئی تھی تو اس نے ہی ناشتہ تیار کرنا تھا
اس نے سب کو سوائے شاہزین کے ناشتہ کروایا تو شفق یونیورسٹی چلی گئی اور تیمور صاحب آفس اور سحر بیگم اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں مگر جاتے جاتے اسے سارے کام کرنے کا بول کر گئی تھی
وہ اب دوپہر کے لیے سبزی بنا رہی تھی جب کچن میں شاہزین داخل ہوا اس کے حولیے سے ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ ابھی نیند سے جاگا ہو۔۔۔۔۔
اس نے شاہزین کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ کر اپنے سر پر دوپٹہ صحیح کیا شاہزین اس کے قریب آکر حکم دینے والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
میرے لیے ایک اچھی سی کافی بناؤ اور ساتھ کچھ بنا کر دو۔۔۔۔۔
عینی اس کی بات سن کر جلدی سے اس کے لیے کافی بنانے لگی جبکہ شاہزین اس کے قریب کاؤنٹر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا عینی اس پر دھیان دیے بغیر اپنا کام کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے کافی بنا کر شاہزین کے قریب کاؤنٹر پر رکھی تو شاہزین نے کافی اٹھا کر اچانک سے اس کے بائیں ہاتھ کو پکڑ کر اس کی دو انگلیوں کو کافی میں ڈبویا تو عینی جو اس آفت کے لیے تیار نہ تھی اس نے اپنے دوسرے ہاتھ کو اپنی چیخ روکنے کے لیے منہ پر رکھا
شاہزین اس کی انگلیاں کافی سے نکال کر پانی کے نیچے کر کے اسے سرد لہجے میں بولا۔۔۔
پہلے بھی تمھیں کہا تھا کہ مجھے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی مت کرنا لگتا ہے تم بھول گئی تھی مجھے امید ہے اس کے بعد بھولنے کی کوشش بھی نہیں کرو گی۔۔۔۔۔
اب مجھے اگنور کرنے کی کوشش کرو گی۔۔۔۔ جواب دو مجھے۔۔
عینی اس کی بات سن کر کانپتی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *